🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الجنايات-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5971
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ، فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلامِهِ وَقَالَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟" قَالَ: بَلَى، وَلا صَلاةَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی میں بات کرنا چاہتا ہے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی میں یہ بات کی کہ وہ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں دریافت کیا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے؟ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟ اس نے عرض کی: جی ہاں (پڑھتا ہے) لیکن اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں (قتل کرنے سے) مجھے منع کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5971]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم:، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5971، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6598، 16926، 16927، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24160، 24161، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 490، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 18688» «رقم طبعة با وزير 5940»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (4481 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب الجنايات - ذكر الإخبار عن تحريم الله جل وعلا دماء المؤمنين-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے مومنوں کے خون کو حرام کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5972
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ: أَتَانِي أَبُو الْعَالِيَةِ وَصَاحِبٌ لِي، فَقَالَ: هَلُمَّا، فَإِنَّكُمَا أَشَبُّ شَبَابًا، وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ، قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ حَدِّثْ هَذَيْنِ، قَالَ بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ، فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، قَالَ: فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلا شَدِيدًا، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَليَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا" ثَلاثَ مَرَّاتٍ .
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں کہ ابوعالیہ اور میرے ایک ساتھی میرے پاس آئے، ان لوگوں نے کہا: تم آؤ، تم نوجوان ہو، تمہیں مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہیں، ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم بشر بن عاصم لیثی کے پاس آئے، تو ابوعالیہ نے کہا: ان دونوں کو حدیث بیان کرو، بشر نے یہ بات بیان کی کہ سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے، وہ ان کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، انہوں نے ایک قوم پر حملہ کیا، ان میں سے ایک شخص ایک طرف ہٹ گیا، مہم میں شامل افراد میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا، اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی، اس (پہلے الگ ہونے والے شخص نے) کہا: میں مسلمان ہوں، لیکن (پیچھے جانے والے فرد نے) اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا، اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے شخص کو ملی۔ راوی بیان کرتے ہیں: ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو اس قاتل نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! اس نے یہ کلمہ صرف قتل سے بچنے کے لیے پڑھا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کو جاری رکھا، اس شخص نے دوبارہ یہی بات بیان کی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے صرف قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا، پھر اس شخص سے صبر نہیں ہوا یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے، ناراضگی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5972]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5972، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 48، 49، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8539، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15966، 18339، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17282» «رقم طبعة با وزير 5941»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر التعليق. * [سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ] قال الشيخ: وعنه ابن أبي شيبة (12/ 378 - 379). * [بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ] قال الشيخ: لم يُوَثِّقْهُ غير المؤلِّف، ولم يرو عنه ذو ثقة غير حميد - هذا -، ولذا قال ابنُ القطان: «مجهول الحال». وأشار إلى ذلك الذهبي بقوله في «الكاشف»: «وُثِّق». وأمَّا قول الحافظ: «صدوق يخطئ»!؛ ففيه نظر. لكن وقع في «طبقات ابن سعد»، و «مستدرك الحاكم»: (نصر بن عاصم)، وهو أخو (بشر بن عاصم)، وهو ثقة. وصحَّحه الحاكم والذهبي، وهو كما قالا؛ إن كان قوله: (نصر) - بالنون - محفوظا. فقد رواه الطبراني في «الكبير» (17/ 356 / 981) من طريق يونس بن عبيد، عن حميد بن هلال .. بشر بن عاصم - بالباء -. وكذلك رواه أحمد (4/ 110) - والسند إليه صحيح -؛ فهو المحفوظ. لكن قوله في آخر الحديث: «إن الله ... »؛ له شاهد بنحوه، مخرج في «الصحيحة» برقم (689). والقصَّة لها شاهد في الصحيحين من حديث أُسامَة بن زيدٍ، وهو مُخَرَّجٌ في صحيح أبي داود برقم (2375). * [حَرَّمَ] قال الشيخ: كذا الأصل! وفي «مسند أبي يعلى»: أَبَى. وكذلك هو عند كلِّ مُخَرِّجِيهِ؛ كأحمد والنسائي في «السنن الكبرى» (5/ 175 - 176)، ولفظه - وهو أتمُّ - «إِنَّ اللهَ أَبى عَلَى الَّذِي قَتَلَ مُؤمِناً».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5973
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى يُبَلِّغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے، ایک شخص نے اس اونٹ کی لگام (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) کو پکڑا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم لوگ خاموش رہے اور ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم لوگ خاموش رہے اور ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم لوگ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں قابلِ احترام ہے، خبردار! ہر موجود شخص غیر موجود تک اس کی تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات موجود شخص ایسے شخص تک اس کی تبلیغ کرے گا، جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اس حکم کو محفوظ رکھے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5973]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 67، 105، 1741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1679، وابن الجارود فى "المنتقى"، 899، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2952، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3848، 5973، 5974، 5975، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4141، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1947، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1520، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20713» «رقم طبعة با وزير 5942»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3837). تنبيه!! رقم (3837) = (3848) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب الجنايات - ذكر البيان بأن تحريم الله جل وعلا أموال المسلمين ودماءهم وأعراضهم كان ذلك في حجة الوداع قبل أن يقبض الله جل وعلا رسوله صلى الله عليه وسلم إلى جنته بثلاثة أشهر ويومين-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا نے مسلمانوں کے اموال، خون اور عزتوں کو حرام کیا، یہ حجة الوداع میں ہوا جب اللہ جل وعلا نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ماہ اور دو دن بعد جنت میں بلایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5974
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، السُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْبَلْدَةَ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلا فَلا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ"، قَالَ: فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَدْ كَانَ ذَاكَ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟ أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، ان میں سے تین آگے پیچھے آتے ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ «الْبَلْدَةُ» (شہر) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ «يَوْمُ النَّحْرِ» (قربانی کا دن) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری جانیں، تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں: میرا یہ خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس شہر میں قابل احترام ہے، عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا۔ خبردار! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات یہ بات اس شخص تک پہنچ جاتی ہے جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھتا ہے، جس نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی براہ راست) اسے سنا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: محمد نامی راوی جب اس حدیث کا ذکر کرتے تھے تو یہ کہتے تھے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، اسی طرح ہوتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5974]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 67، 105، 1741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1679، وابن الجارود فى "المنتقى"، 899، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2952، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3848، 5973، 5974، 5975، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4141، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1947، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1520، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20713» «رقم طبعة با وزير 5943»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1702): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب الجنايات - ذكر الإخبار عن استدارة الزمان في ذلك الوقت-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر کہ اس وقت زمانہ گھوم کر واپس آیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5975
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، وَالسُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، فَلا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، جس میں چار مہینے حرمت والے ہیں، ان میں سے تین مہینے آگے پیچھے (مسلسل) ہوتے ہیں: ذی القعدہ، ذوالحجہ اور محرم، جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری جانیں اور تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: تمہاری عزتیں) ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے۔ عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا۔ تو تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، خبردار! موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے، کیونکہ جس (دوسرے شخص کو بات) پہنچائی جائے گی وہ (بعض اوقات براہِ راست) سننے والے سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھے گا۔ خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5975]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 67، 105، 1741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1679، وابن الجارود فى "المنتقى"، 899، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2952، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3848، 5973، 5974، 5975، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4141، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1947، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1520، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20713» «رقم طبعة با وزير 5944»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الجنايات - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم " إن دماءكم حرام عليكم " لفظ عام مرادها خاص أراد به بعض الدماء لا الكل-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "تمہارے خون تم پر حرام ہیں" سے مراد عام لفظ ہے لیکن خاص خون مراد ہیں، نہ کہ سب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5976
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَامَ مَقَامِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" وَالَّذِي لا إِلَهَ غَيْرُهُ، لا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلا فِي إِحْدَى ثَلاثٍ: التَّارِكُ الإِسْلامَ، الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، ایسے کسی بھی شخص کا خون بہانا تین میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے: اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا شخص، شادی شدہ زانی اور جان کے بدلے میں جان۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5976]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6878، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1676، وابن الجارود فى "المنتقى"، 898، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4407، 4408، 5976، 5977، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8131، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4028 وأبو داود فى (سننه) برقم: 4352، 4353، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1402، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2534، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15944، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3691» «رقم طبعة با وزير 5945»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4390). تنبيه!! رقم (4390) = (4407) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الجنايات - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر لم يسمعه الأعمش عن عبد الله بن مرة-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر اعمش نے عبد اللہ بن مرة سے نہیں سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5977
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لا يَحِلُّ دَمُ مُسْلِمٍ إِلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کسی بھی مسلمان کا خون تین میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے: جان کے بدلے میں جان، شادی شدہ زانی اور اپنے دین کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5977]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6878، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1676، وابن الجارود فى "المنتقى"، 898، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4407، 4408، 5976، 5977، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8131، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4028 وأبو داود فى (سننه) برقم: 4352، 4353، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1402، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2534، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15944، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3691» «رقم طبعة با وزير 5945/*»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب الجنايات - ذكر الخبر الدال على أن قوله صلى الله عليه وسلم " إن أموالكم حرام عليكم " أراد به بعض الأموال لا الكل-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "تمہارے اموال تم پر حرام ہیں" سے مراد بعض اموال ہیں، نہ کہ سب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5978
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَحِلُّ لامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ"، قَالَ ذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر حاصل کرے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کی شدت کی وجہ سے یہ بات بیان کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5978]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5978، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11658، 19707، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24092، 24093، والبزار فى (مسنده) برقم: 3717، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 6632، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2822» «رقم طبعة با وزير 5946»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1459).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الجنايات - ذكر نفي اسم الإيمان عن القاتل مسلما بغير حقه-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر اس بات کی نفی کہ بغیر حق کے مسلمان کو قتل کرنے والے پر ایمان کا نام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5979
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهَا الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ، وَلا يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَإِيَّاكُمْ، إِيَّاكُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چور چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، زانی زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو بھی شخص لوگوں کے سامنے سرعام چیز لوٹتا ہے وہ اسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور کوئی بھی شخص کسی کو قتل کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، تو تم لوگ (ان تمام کاموں سے) بچنے کی کوشش کرو، بچنے کی کوشش کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5979]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2475، 5578، 6772، 6810، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 57، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 186، 4412، 4454، 5172، 5173، 5979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4885، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4689، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2625، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3936، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7438، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1162» «رقم طبعة با وزير 5947»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3000): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب الجنايات - ذكر إيجاب دخول النار للقاتل أخاه المسلم متعمدا-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر کہ اپنے مسلمان بھائی کو قصداً قتل کرنے والے کے لیے جہنم میں داخلہ واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5980
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ، إِلا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا، أَوْ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا" .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ہر گناہ کے بارے میں (یہ امید کی جا سکتی ہے) کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ماسوائے اس شخص کے جو مشرک ہونے کے عالم میں فوت ہو یا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5980]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5980، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8124، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4270، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15962، 15965، والبزار فى (مسنده) برقم: 2729، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9228» «رقم طبعة با وزير 5948»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (511).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں