صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. باب القصاص - ذكر الحكم في القود عن المسلمين وأهل الذمة أو بعضهم مع بعض-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر حکم کہ قصاص کا اطلاق مسلمانوں اور اہل ذمہ پر یا ان کے بعض پر بعض کے ساتھ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 5991
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک ہار کی وجہ سے ایک لڑکی کو قتل کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یہودی کو) قتل کروا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5991]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1672، وابن الجارود فى "المنتقى"، 904، 905، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4055، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4527، 4528، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1394، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2665، 2666، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11568، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3347، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12863» «رقم طبعة با وزير 5959»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (5665 - 5666).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عبد الله بن سابور
21. باب القصاص - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن القود لا يكون إلا بالسيف أو الحديد-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ قصاص صرف تلوار یا لوہے سے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 5992
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، قَتَلَهَا بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا، وَبِهَا رَمَقٌ، قَالَ لَهَا: أَقَتَلَكِ فُلانٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لا، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو ہار کی وجہ سے قتل کر دیا، اس نے پتھر کے ذریعے اسے قتل کیا۔ اس لڑکی کو لایا گیا اور اس میں تھوڑی سی زندگی موجود تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے دریافت کیا: ”تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے جواب دیا: جی نہیں، پھر اس سے دوسری مرتبہ دریافت کیا، اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کیا: جی نہیں، پھر اس سے تیسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یہودی قاتل) کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھوا کر اسے قتل کروا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5992]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1672، وابن الجارود فى "المنتقى"، 904، 905، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4055، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4527، 4528، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1394، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2665، 2666، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11568، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3347، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12863» «رقم طبعة با وزير 5960»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
22. باب القصاص - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم قتل قاتل المرأة التي وصفناها بإقراره على نفسه بقتله إياها لا بإقرارها عليه به-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے قاتل کو قتل کیا جس کا ہم نے ذکر کیا، اس کے اپنے اقرار پر کہ اس نے اسے قتل کیا، نہ کہ اس کے اقرار پر
حدیث نمبر: 5993
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقَالُوا لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ فُلانٌ وَفُلانٌ؟ حَتَّى ذُكِرَ رَجُلٌ يَهُودِيٌّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا، لوگوں نے اس لڑکی سے دریافت کیا: ”تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟“ یہاں تک کہ جب ایک یہودی شخص کا ذکر کیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے کہا (کہ اس نے کیا ہے)، اس یہودی کو پکڑ لیا گیا اور اس نے اقرار کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کا سر پتھر کے ذریعے کچل دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5993]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1672، وابن الجارود فى "المنتقى"، 904، 905، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4055، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4527، 4528، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1394، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2665، 2666، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11568، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3347، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12863» «رقم طبعة با وزير 5961»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ماقبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
23. باب القصاص - ذكر البيان بأن المرء يجب أن يحسن القتلة في القصاص إذ هو من أخلاق المؤمنين-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر بیان کہ انسان کو قصاص میں قتل کو اچھا کرنا چاہیے کیونکہ یہ مومنوں کے اخلاق میں سے ہے
حدیث نمبر: 5994
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قتل کرنے میں سب سے زیادہ بچنے والے اہل ایمان ہیں (یعنی وہ مقتول کو اذیت پہنچانے سے بچتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5994]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 907، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5994، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2666، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2681، 2682، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16181، 18136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3805» «رقم طبعة با وزير 5962»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ابن ماجه» (2681).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
24. باب القصاص - ذكر الإخبار عن نفي جناية الأب عن ابنه والابن عن أبيه-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر خبر کہ باپ کی جنايت بیٹے سے اور بیٹے کی جنايت باپ سے نہیں اٹھائی جاتی
حدیث نمبر: 5995
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: لا أَدْرِي، قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ، وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُشْبِهُ النَّاسَ، فَإِذَا لَهُ وَفْرَةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، ثُمَّ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا سَاعَةً، قَالَ: " ابْنُكَ هَذَا؟" قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ:" أَمَا إِنَّ ابْنُكَ هَذَا لا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلا تَجْنِي عَلَيْهِ"، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السِّلْعَةِ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ، أَلا أُعَالِجُهَا؟ قَالَ:" طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ: رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ أَبَا رِمْثَةَ هُوَ الْخَشْخَاشُ الْعَنْبَرِيُّ فَقَدْ وَهِمَ.
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے والد نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم، میرے والد نے بتایا: یہ اللہ کے رسول ہیں، جب انہوں نے یہ بات کہی، تو مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، میرا یہ خیال تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں کی طرح شکل و صورت کے نہیں ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لمبے بال تھے جن میں کچھ مہندی لگی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کچھ بات چیت کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ میرے والد نے جواب دیا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا یہ بیٹا تمہارے کیے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتے گا اور تم اس کے کیے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الإسراء: 15] ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ پھر میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کندھوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ ابھری ہوئی دیکھی تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حکمت کا کام بھی کرتا ہوں کیا میں اس کا علاج نہ کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا علاج وہ ذات کرے گی، جس نے اسے پیدا کیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام رفاعہ بن یثربی تیمی ہے، یہ تیم رباب سے تعلق رکھتے ہیں، جس شخص نے یہ کہا ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام خشخاش عنبری ہے، اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5995]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 832، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5995، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3611، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4208، 4495، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16001، 16002، 17771، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7226» «رقم طبعة با وزير 5963»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «موارد الظمآن» (1522).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
25. باب القصاص - ذكر نفي القصاص في القتل وإثبات التوارث بين أهل ملتين-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر اس بات کی نفی کہ قتل میں قصاص ہے اور دو ملتوں کے درمیان وراثت کا ثبوت
حدیث نمبر: 5996
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِمَرْوَ وَبِقَرْيَةِ سِنْجَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْهَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَتْ خُزَاعَةُ حُلَفَاءٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ بَنُو بَكْرٍ، رَهْطٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ حُلَفَاءً لأَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَكَانَتْ بَيْنَهُمْ مُوَادَعَةٌ أَيَّامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَغَارَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى خُزَاعَةَ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، فَبَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِدُّونَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمِدًّا لَهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ قُدَيْدًا ثُمَّ أَفْطَرَ، وَقَالَ: " لِيَصُمِ النَّاسُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُوا، فَمَنْ صَامَ أَجْزَأَ عَنْهُ صَوْمُهُ، وَمَنْ أَفْطَرَ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ" . فَفَتَحَ اللَّهُ مَكَّةَ، فَلَمَّا دَخَلَهَا أَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: " كُفُّوا السِّلاحَ، إِلا خُزَاعَةَ عَنْ بَكْرٍ"، حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قُتِلَ رَجُلٌ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْحَرَمَ حَرَامٌ عَنْ أَمْرِ اللَّهِ، لَمْ يَحِلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي، وَلا يَحِلُّ لِمَنْ بَعْدِي، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ لِي إِلا سَاعَةً وَاحِدَةً، وَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُشْهِرَ فِيهِ سِلاحًا، وَإِنَّهُ لا يَخْتَلِي خَلاهُ، وَلا يُعْضَدُ شَجَرُهُ، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلا الإِذْخَرَ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلا الإِذْخَرَ" . " وَإِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ ثَلاثَةٌ: مَنْ قَتَلَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ لِذَحْلِ الْجَاهِلِيَّةِ" . فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلانٍ، وَإِنَّهَا وَلَدَتْ لِي، فَأْمُرْ بِوَلَدِي، فَلْيُرَدَّ إِلَيَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْسَ بِوَلَدِكَ، لا يَجُوزُ هَذَا فِي الإِسْلامِ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ إِلا أَنْ تَقُومَ بَيِّنَةٌ، الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ، وَبِفِي الْعَاهِرِ الأَثْلِبُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا الأَثْلِبُ؟ قَالَ:" الْحَجَرُ، فَمَنْ عَهَرَ بِامْرَأَةٍ لا يَمْلِكُهَا، أَوْ بِامْرَأَةِ قَوْمٍ آخَرِينَ فَوَلَدَتْ، فَلَيْسَ بِوَلَدِهِ، لا يَرِثُ وَلا يُورَثُ" . " وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَوَّلُهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَلا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" . " وَلا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ" . " وَلا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلا عَلَى خَالَتِهَا، وَلا تُسَافِرُ ثَلاثًا مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ" . " وَلا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خزاعہ قبیلے کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف تھے جبکہ بنو کنانہ کا ایک گروہ بنو بکر، ابوسفیان (یعنی مشرکین مکہ) کے حلیف تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کے درمیان معاہدہ ہو گیا، پھر بنو بکر نے اسی مدت کے درمیان خزاعہ قبیلے کے لوگوں پر حملہ کر دیا، تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کے لیے پیغام بھجوایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مدد کرنے کے لیے رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو سفر کے دوران روزہ رکھ بھی لینا چاہیے اور ترک بھی کر دینا چاہیے، جو شخص روزہ رکھ لے گا اس کا روزہ درست ہو گا اور جو شخص نہیں رکھے گا اس پر قضا کرنا لازم ہو گی۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح کر دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی اور ارشاد فرمایا: ”اپنے ہتھیاروں کو روک لو، البتہ خزاعہ قبیلے کے لوگ بنو بکر (سے بدلہ لے سکتے ہیں)۔“ یہاں تک کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مزدلفہ میں ایک شخص قتل ہو گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ حرم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت قابل احترام ہے، مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا اور میرے لیے بھی تھوڑی سی دیر کے لیے اسے حلال قرار دیا گیا ہے، کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں ہتھیار نکال کر چلے، یہاں کے کانٹے کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر (کی اجازت دے دیجیے) کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبرستان میں استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذخر کا حکم مختلف ہے، اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ نافرمان تین لوگ ہیں: وہ شخص جو اللہ کے حرم میں کسی کو قتل کرے یا جو شخص اپنے قاتل کے علاوہ (یعنی قصاص کے بدلے کے علاوہ) کسی کو قتل کرے یا جو شخص زمانہ جاہلیت کی دشمنی کی بنیاد پر کسی کو قتل کرے۔“ ایک صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بنو فلاں کی کنیز کے ساتھ صحبت کی تھی، تو اس کے ہاں بچہ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بچے کے بارے میں حکم دیجیے کہ وہ مجھے دیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تمہاری اولاد (شمار نہیں ہو گا) کیونکہ اسلام میں یہ بات جائز نہیں ہے، جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہو وہ قسم اٹھانے کا زیادہ حق دار ہے ماسوائے اس صورت کے کہ ثبوت کے ذریعے ثابت ہو جائے، بچہ صاحبِ فراش کا ہوتا ہے اور زنا کرنے والے کے منہ میں پتھر ہوں گے۔“ ایک صاحب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اثلب سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پتھر، جو شخص کسی ایسی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے جس کا وہ مالک نہ ہو یا کسی دوسری قوم کی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ عورت بچے کو جنم دیتی ہے، تو وہ اس شخص کا بچہ شمار نہیں ہو گا، نہ وہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہی اسے اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اہل ایمان اپنے علاوہ سب لوگوں کے لیے ایک ہاتھ کی مانند ہیں، ان کی جانیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کے آگے کا کوئی فرد اگر پناہ دے دیتا ہے تو سب سے پیچھے والا بھی اسے پورا کرے گا، کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور کسی ذمی کو اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے دوران (قتل نہیں کیا جائے گا)، دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے، کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا اور کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن سے زیادہ کا سفر نہیں کرے گی اور تم لوگ فجر کے بعد اس وقت تک (کوئی نفل نماز) ادا نہیں کرو گے جب تک سورج نکل نہیں آتا اور عصر کے بعد اس وقت تک ادا نہیں کرو گے جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5996]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 582، 583، 585، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 828، 829، وابن الجارود فى "المنتقى"، 309، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1545، 1548، 1566، 1567، 1569، 5996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4702» «رقم طبعة با وزير 5964»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
26. باب القصاص - ذكر إسقاط القود عن الثنايا العاض إنسانا آخر-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر کہ کاٹنے والے دانتوں پر قصاص ساقط ہوتا ہے اگر وہ دوسرے انسان کو کاٹے
حدیث نمبر: 5997
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَتْ أَوْثَقَ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ، فَسَقَطتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، قَالَ: وَحَسِبْتُ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ فَتَقْضِمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ؟" .
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی ہے، میرے نزدیک یہ میرا سب سے بہترین عمل ہے۔ میرا ایک ملازم تھا جس نے ایک شخص کے ساتھ لڑائی کی، ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹ لیا، اس نے اپنی انگلی کھینچی تو کاٹنے والے کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانتوں کو رائیگاں قرار دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے صفوان نامی راوی نے یہ الفاظ بھی نقل کیے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا تاکہ تم اسے یوں چبا لیتے جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5997]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2265، 2973، 4417، 6893، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1673، وابن الجارود فى "المنتقى"، 855، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5997، 6000، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4584، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2656، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17718، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4522، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18232، والحميدي فى (مسنده) برقم: 806» «رقم طبعة با وزير 5965»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (4584): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
27. باب القصاص - ذكر إبطال القصاص في ثنية العاض يد أخيه إذا انقلعت بجذب المعضوض يده منه-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر کہ کاٹنے والے کے دانت پر قصاص باطل ہوتا ہے اگر اس کے بھائی کی ہاتھ اس کے کھینچنے سے نکل جائے
حدیث نمبر: 5998
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا قَاتَلَ رَجُلا فَعَضَّ يَدَهُ، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ؟! وَأَبْطَلَهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے ساتھ جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا (دوسرے نے ہاتھ کو کھینچا) تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ایک شخص یوں کاٹتا ہے، جس طرح اونٹ کاٹتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے دانتوں کے ضائع ہونے کو رائیگاں قرار دیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5998]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6892، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1673، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5998، 5999، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1416، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2421، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2657، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20143» «رقم طبعة با وزير 5966»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
28. باب القصاص - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن شعبة لم يسمع هذا الخبر عن قتادة-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ شعبہ نے یہ خبر قتادہ سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 5999
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَنَزَعَهَا مِنْ فِيهِ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ؟! لا دِيَةَ لَكَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹ لیا، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا: اس طرح، دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے، تو وہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے ہاتھ پر یوں کاٹتا ہے، جس طرح اونٹ کاٹتا ہے؟ تمہیں دیت نہیں ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 5999]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6892، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1673، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5998، 5999، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1416، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2421، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2657، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20143» «رقم طبعة با وزير 5967»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
29. باب القصاص - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به قتادة عن زرارة بن أوفى-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف قتادہ نے زرارة بن اوفی سے بیان کی
حدیث نمبر: 6000
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَا الَّذِي عَضَّهُ، قَالَ: فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضِمَهُ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ؟!" .
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹا، دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو کاٹنے والے شخص کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ چاہتے تھے تم اسے یوں چبا لو جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنايات/حدیث: 6000]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2265، 2973، 4417، 6893، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1673، وابن الجارود فى "المنتقى"، 855، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5997، 6000، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4584، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2656، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17718، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4522، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18232، والحميدي فى (مسنده) برقم: 806» «رقم طبعة با وزير 5968»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبل حديثين.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم