صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
79. باب بدء الخلق - ذكر سؤال كليم الله ربه أن يعلمه شيئا يذكره-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے اپنے رب سے کچھ سکھانے کی درخواست کی کہ وہ اسے یاد کرے
حدیث نمبر: 6218
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " قَالَ مُوسَى: يَا رَبِّ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، وَأَدْعُوكَ بِهِ، قَالَ: قُلْ يَا مُوسَى: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، قَالَ: يَا رَبِّ، كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا، قَالَ: قُلْ: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، قَالَ: إِِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ، قَالَ: يَا مُوسَى، لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالأَرَضِينَ السَّبْعِ فِي كِفَّةٍ، وَلا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، مَالَتْ بِهِمْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! تو مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دے جس کے ذریعے میں تیرا ذکر کروں، جس کے ہمراہ میں تجھ سے دعا کروں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! تم «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ پڑھو۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! تیرے سارے بندے یہ کلمہ پڑھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھو۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی چیز ہو جو میرے ساتھ خاص ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر سات آسمانوں کے رہنے والے اور سات زمینوں کے رہنے والے لوگ ایک پلڑے میں ہوں اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» دوسرے پلڑے میں ہو، تو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» والا پلڑا جھک جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6218]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1942، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10602، 10913، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1393» «رقم طبعة با وزير 6185»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 238 - 239).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
80. باب بدء الخلق - ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم تلبية موسى كليم الله جل وعلا ورميه الجمار في حجته صلوات الله على نبينا وعليه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ کلیم اللہ کی تلبيہ اور اس کے حج میں کنکریاں مارنے کا بیان کیا، صلوات اللہ ہمارے نبی اور اس پر
حدیث نمبر: 6219
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى وَادِي الأَزْرَقِ فَقَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى مُوسَى مُنْهَبِطًا وَلَهُ جُؤَارٌ إِِلَى رَبِّهِ بِالتَّلْبِيَةِ"، وَمَرَّ عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟"، قِيلَ: ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى مُوسَى يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، خِطَامُهَا مِنْ لِيفٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ ازرق پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو بلندی سے نیچے کی طرف اتر رہے ہیں اور وہ تلبیہ کے ذریعے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہے ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گھاٹی سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ تو بتایا گیا: یہ فلاں فلاں گھاٹی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مار رہے ہیں۔ اس اونٹنی کی لگام کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ہے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6219]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 166، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2632، 2633، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3801، 6219، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3332، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2891، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9106، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1879» «رقم طبعة با وزير 6186»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2023): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
81. باب بدء الخلق - ذكر وصف حال موسى حين لقي الخضر بعد فقد الحوت-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ موسیٰ کی حالت جب وہ مچھلی کے غائب ہونے کے بعد خضر سے ملا
حدیث نمبر: 6220
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : إِِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَيْسَ بِصَاحِبِ الْخَضِرِ، إِِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، قَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَامَ مُوسَى فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ خَطِيبًا، فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟، قَالَ: أَنَا، قَالَ: فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، إِِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: عَبْدٌ لِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، فَكَيْفَ لِي بِهِ؟، قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا، فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُ مَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ، ثَمَّ قَالَ: فَأَخَذَ الْحُوتَ، فَجَعَلَهُ فِي الْمِكْتَلِ، فَدَفَعَهُ إِِلَى فَتَاهُ، فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَقَدَ مُوسَى، فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَخَرَجَ، فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ جَرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ، فَكَانَ الْبَحْرُ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَلِمُوسَى وَلِفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ، وَجَدَ مُوسَى النَّصَبَ، فَقَالَ: آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا سورة الكهف آية 62، قَالَ: وَلَمْ يَجِدِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ سورة الكهف آية 63، قَالَ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا سورة الكهف آية 64، فَجَعَلا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَإِِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلامُ؟، قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: مُوسَى بَنِي إِِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا مُوسَى، إِِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ لا أَعْلَمُهُ، قَالَ: إِِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَّبِعَكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا، قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا سورة الكهف آية 67 - 70، قَالَ: فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَفِينَةٌ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ، فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ، قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِِلا وَهُوَ يُنْزِلُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: مَا صَنَعْتَ؟ قَوْمٌ حَمَلُوكَ بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِِلَى سَفِينَتِهِمْ، فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 72 - 73، قَالَ: فَكَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا، قَالَ: وَجَاءَ عُصْفُورٌ، فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَنَقَرَ بِمِنْقَارِهِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى: مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعَلَّمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِِلا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ، قَالَ: وَمَرُّوا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِغُلامٍ مِنْهُمْ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76، قَالَ:" فَأَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ"، فَقَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَأَقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: اسْتَطْعَمْنَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا، وَاسْتَضَفْنَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا، عَمَدْتَ إِِلَى حَائِطِهِمْ، فَأَقَمْتَهُ! لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا سورة الكهف آية 78 - 78، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَدِدْنَا أَنْ مُوسَى كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمْ" ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: وَأَمَّا الْغُلامُ كَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ، وَيَقْرَأُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام وہ والے موسیٰ نہیں ہیں جن کی ملاقات سیدنا خضر علیہ السلام سے ہوئی تھی (سیدنا خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ) دوسرے موسیٰ تھے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط بیانی کی ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے، ان سے دریافت کیا گیا کہ کون سا شخص سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: میں، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ انہوں نے اس بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ایک مچھلی لے کر اسے ایک برتن میں رکھو، جس جگہ تم مچھلی کو گم کر دو گے وہ بندہ وہاں ہو گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لی اور اسے ایک برتن میں رکھ دیا۔ وہ برتن انہوں نے اپنے ساتھی کے سپرد کر دیا، یہ دونوں حضرات روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ یہ دونوں چٹان کے پاس آئے، وہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام سو گئے، مچھلی نے برتن میں حرکت کی، اس سے باہر نکلی اور دریا میں چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ طاق کی مانند ہو گیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی نوجوان حیران ہوئے۔ یہ دونوں حضرات پھر آگے روانہ ہو گئے۔ اگلے دن سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو تھکاوٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا: ہمارا کھانا لے کر آؤ، ہمیں اس سفر میں تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انہیں تھکاوٹ اس وقت تک محسوس نہیں ہوئی تھی، جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں گزر گئے تھے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے ساتھی نے ان سے کہا: کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم چٹان کی پناہ میں گئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے یہ بات بھلا دی کہ میں اس کا ذکر کرتا؟ اس پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم وہی جگہ تو چاہتے تھے، پھر یہ دونوں حضرات الٹے قدموں واپس آئے، یہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس آئے، یہاں تک کہ اس چٹان تک آ گئے۔ وہاں ایک شخص اپنے اوپر چادر اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا تو اس شخص نے کہا: اس جگہ پر سلام کہاں سے آ گیا؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ اس نے دریافت کیا: بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے موسیٰ؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: اے موسیٰ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے، آپ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ کو ہدایت کا علم عطا کیا گیا ہے، تو اس شخص نے کہا: آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لے سکیں گے، اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: اگر آپ میری پیروی کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ نے مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں اس وقت تک دریافت نہیں کرنا جب تک میں خود اس بارے میں آپ کے سامنے ذکر نہیں کر دیتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر یہ دونوں حضرات دریا کے کنارے روانہ ہو گئے۔ وہاں سے ایک کشتی گزری، ان لوگوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کسی معاوضے کے بغیر انہیں کشتی میں سوار کر لیا۔ کچھ ہی دیر بعد سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کشتی کی ایک تختی توڑ دی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کسی معاوضے کے بغیر آپ کو سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کی تختی توڑ دی ہے تاکہ کشتی والے ڈوب جائیں، آپ نے غلط کام کیا ہے۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لیں گے؟ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں جو بات بھول گیا تھا، آپ اس بارے میں میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملے میں تنگی پیدا نہ کریں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے پہلی (خلاف ورزی تھی) جو بھولنے کی وجہ سے تھی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسی دوران ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی تو سیدنا خضر علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: میرا علم اور آپ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتے جو اس چڑیا نے اپنی چونچ کے ذریعے سمندر کے پانی سے لی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان حضرات کا گزر کچھ لڑکوں کے پاس سے ہوا جو کھیل رہے تھے، سیدنا خضر علیہ السلام نے ان میں سے ایک لڑکے کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ نے ایک پاکیزہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کر دیا ہے، آپ نے سخت ناپسندیدہ حرکت کی ہے، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا، آپ کو میری طرف سے عذر پہنچ گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ دونوں حضرات ایک بستی میں آئے اور وہاں کے رہنے والوں سے کھانے کے لیے مانگا، تو انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں حضرات نے اس بستی میں ایک دیوار پائی جو گرنے کے قریب تھی، سیدنا خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا دے کر اسے سیدھا کر دیا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: ہم نے ان لوگوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ہمیں کھلانے سے انکار کر دیا، ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ آپ نے ان لوگوں کی دیوار ٹھیک کر دی ہے، اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لے سکتے تھے۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں بتاتا ہوں جن پر آپ صبر سے کام نہیں لے سکے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہماری خواہش تھی کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تاکہ ان حضرات کے واقعے کے بارے میں مزید چیزیں ہمارے سامنے آ جاتیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یوں تلاوت کیا کرتے تھے: ”جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔“ اور وہ یوں تلاوت کیا کرتے تھے: ”اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (صحیح و سالم) کشتی کو غصب کر لیتا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 74، 78، 122، 2267، 2728، 3278، 3400، 3401، 4725، 4726، 4727، 6672، 7478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2380، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 102، 988، 6220، 6221، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3414، 4117، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3984، 4705، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3149، 3150، 3385، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21497، والحميدي فى (مسنده) برقم: 375» «رقم طبعة با وزير 6187»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
82. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الغلام الذي قتله الخضر لم يكن بمسلم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ خضر نے جس لڑکے کو قتل کیا وہ مسلمان نہ تھا
حدیث نمبر: 6221
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِِنَّ الْغُلامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ لڑکا جسے سیدنا خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ فطری طور پر کافر پیدا ہوا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6221]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 74، 78، 122، 2267، 2728، 3278، 3400، 3401، 4725، 4726، 4727، 6672، 7478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2380، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 102، 988، 6220، 6221، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3414، 4117، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3984، 4705، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3149، 3150، 3385، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21497، والحميدي فى (مسنده) برقم: 375» «رقم طبعة با وزير 6188»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الترمذي» (3371): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
83. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله سمي الخضر خضرا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر خضر کو خضر کہا گیا
حدیث نمبر: 6222
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّمَا سُمَيَّ الْخَضِرُ خَضِرًا، لأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ، فَإِِذَا هِيَ تَهْتَزُّ تَحْتَهُ خَضْرَاءَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیدنا خضر علیہ السلام کا نام خضر اس لیے ہے اگر وہ کسی سفید بنجر زمین پر بیٹھ جائیں، تو ان کے نیچے سبزہ لہلہانے لگتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6222]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3402، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6222، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3151، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8228، 8344» «رقم طبعة با وزير 6189»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق. * [عَبْدُ الرَّزَّاقِ] قال الشيخ: وعنه: أحمد (2/ 318)، والترمذي (3150) - وصحَّحه -. وتابعه ابنُ المبارك: عند أحمد (2/ 312)، والبخاري (3402)، والطيالسي (2548). وقد تفَّرد به البخاري دون مسلم كما صرَّح بذلك الحافظ ابن كثير في «التاريخ» (1/ 327)، وأشار إلى ذلك الحافظ ابن حجر في تعليقه على «الموارد» (2092). وعزاه المزيُّ في «التحفة» للبخاري فقط والترمذي، والخطيب التبريزيُّ في «المشكاة» (5712) للبخاري وحده، وزاد السيوطي في «جامعه» (مسلماً)! من أوهامه، وكنت اغتررت به برهة مِنَ الدهر؛ فاقتضى التنبيه! وللحديث شاهد عن ابن عبَّاس عند الطبراني (12/ 209)، وابن عساكر (5/ 631).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
84. باب بدء الخلق - ذكر خبر شنع به على منتحلي سنن المصطفى صلى الله عليه وسلم من حرم التوفيق لإدراك معناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جس پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ماننے والوں پر طعن کیا گیا کہ وہ اس کے معنی سمجھنے میں کامیاب نہ ہوئے
حدیث نمبر: 6223
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ، فَلَطَمَهُ مُوسَى، فَفَقَأَ عَيْنَهُ، قَالَ: فَرَجَعَ إِِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، أَرْسَلْتَنِي إِِلَى عَبْدٍ لا يُرِيدُ الْمَوْتَ؟ قَالَ: ارْجِعْ إِِلَيْهِ، فَقُلْ: إِِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: ثُمَّ مَاذَا؟، قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالآنَ يَا رَبِّ، قَالَ: فَسَأَلَ اللَّهُ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةَ حَجَرٍ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ ثَمَّتَ، لأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ قَبْرِهِ إِِلَى جَانِبِ الطُّورِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ" ، قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ، فَأَنْزَلَهُ مَوْضِعَ الإِِبَانَةِ عَنْ مُرَادِهِ، فَبَلَّغَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِسَالَتَهُ، وَبَيَّنَ عَنْ آيَاتِهِ بِأَلْفَاظٍ مُجْمَلَةٍ وَمُفَسَّرَةٍ، عَقَلَهَا عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ، وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الإِِخْبَارِ الَّتِي يُدْرِكُ مَعْنَاهُ مَنْ لَمْ يَحْرُمِ التَّوْفِيقَ لإِِصَابَةِ الْحَقِّ، وَذَاكَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَرْسَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى رِسَالَةَ ابْتِلاءٍ وَاخْتِبَارٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ، لا أَمْرًا يُرِيدُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِِمْضَاءَهْ، كَمَا أَمَرَ خَلِيلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ بِذِبْحِ ابْنِهِ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ، دُونَ الأَمْرِ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِِمْضَاءَهُ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَبْحِ ابْنِهِ، وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ، فَدَاهُ بِالذَّبْحِ الْعَظِيمِ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الْمَلائِكَةَ إِِلَى رُسُلِهِ فِي صُوَرٍ لا يَعْرِفُونَهَا، كَدُخُولِ الْمَلائِكَةِ عَلَى رَسُولِهِ إِِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يَعْرِفْهُمْ، حَتَّى أَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، وَكَمَجِيءِ جِبْرِيلَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُؤَالِهِ إِِيَّاهُ عَنِ الإِِيمَانِ وَالإِِسْلامِ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَلَّى، فَكَانَ مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى عَلَى غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ عَلَيْهَا، وَكَانَ مُوسَى غَيُورًا، فَرَأَى فِي دَارِهِ رَجُلا لَمْ يَعْرِفْهُ، فَشَالَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ، فَأَتَتْ لَطْمَتُهُ عَلَى فَقْءِ عَيْنِهِ الَّتِي فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَتَصَوَّرُ بِهَا، لا الصُّورَةِ الَّتِي خَلْقَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا، وَلَمَّا كَانَ الْمُصَرَّحُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَيْثُ قَالَ:" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ"، فَذَكَرَ الْخَبَرَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ الأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ": كَانَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ بَعْضَ شَرَائِعِنَا قَدْ تَتَّفِقُ بِبَعْضِ شَرَائِعِ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الأُمَمِ، وَلَمَّا كَانَ مِنْ شَرِيعَتِنَا أَنَّ مَنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ، أَوِ النَّاظِرِ إِِلَى بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ مِنْ غَيْرِ جُنَاحٌ عَلَى فَاعِلِهِ، وَلا حَرَجٍ عَلَى مُرْتَكِبِهِ، لِلأَخْبَارِ الْجَمَّةِ الْوَارِدَةِ فِيهِ الَّتِي أَمْلَيْنَاهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا: كَانَ جَائِزًا اتِّفَاقُ هَذِهِ الشَّرِيعَةِ بِشَرِيعَةِ مُوسَى، بِإِِسْقَاطِ الْحَرَجِ عَمَّنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ، فَكَانَ اسْتِعْمَالُ مُوسَى هَذَا الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ، وَلا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي فِعْلِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى رَبِّهِ، وَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ مُوسَى فِيهِ، أَمَرَهُ ثَانِيًا بِأَمْرِ آخَرَ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ كما ذَكَرْنَا قَبْلُ، إِِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُ: قُلْ لَهُ: إِِنْ شِئْتَ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، فَلَمَّا عَلِمَ مُوسَى كَلِيمُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، وَأَنَّهُ جَاءَهُ بِالرِّسَالَةِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، طَابَتْ نَفْسُهُ بِالْمَوْتِ، وَلَمْ يَسْتَمْهِلْ، وَقَالَ: فَالآنَ، فَلَوْ كَانَتِ الْمَرَّةُ الأُولَى عَرَفَهُ مُوسَى أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، لاسْتَعْمَلَ مَا اسْتَعْمَلَ فِي الْمَرَّةِ الأُخْرَى عِنْدَ تَيَقُّنِهِ وَعِلْمِهِ بِهِ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ، وَرُعَاةُ اللَّيْلِ، يَجْمَعُونَ مَا لا يَنْتَفِعُونَ بِهِ، وَيَرْوُونَ مَا لا يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُونَ بِمَا يُبْطِلُهُ الإِِسْلامُ، جَهْلا مِنْهُ لِمَعَانِي الأَخْبَارِ، وَتَرْكَ التَّفَقُّهِ فِي الآثَارِ، مُعْتَمِدًا مِنْهُ عَلَى رَأْيِهِ الْمَنْكُوسِ، وَقِيَاسِهِ الْمَعْكُوسِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ملک الموت کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ ان کی روح قبض کر لے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں گیا اور عرض کی: تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا، پروردگار نے فرمایا: تم اس کے پاس واپس جاؤ اس سے کہو اگر تم چاہو تو کسی بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے۔ ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرشتے سے دریافت کیا: پھر کیا ہوگا۔ اس نے کہا: پھر موت آ جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار! پھر ابھی (میں فوت ہو جاتا ہوں)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا کر گرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر میں وہاں ہوتا تو میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا، جو کوہِ طور کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے نیچے تھی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مخلوق کا معلم بنا کے بھیجا ہے اور انہیں (اپنے احکام کی) مراد کو واضح کرنے کا مقام عطا کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی رسالت کی تبلیغ کی اور اس کی آیات کے مجمل الفاظ کو بیان کیا اور اس کی تفسیر کی، جسے آپ سے آپ کے اصحاب نے سیکھا، یا ان میں سے بعض افراد نے سیکھا، یہ روایت بھی ان روایات میں شامل ہے، جس کا مفہوم وہ شخص جان سکتا ہے جو حق تک پہنچنے کی توفیق سے محروم نہ ہو اور وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف اس لیے بھیجا تاکہ آزمائش کو ظاہر کرے اور خبر کو ظاہر کرے اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے یہ کہے کہ وہ اپنے پروردگار کے بلاوے پر لبیک کہیں، تو یہ ایک ایسا حکم تھا جو خبر جاننے کے لیے اور آزمائش کے لیے تھا۔ یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دیں، تو یہ خبر معلوم کرنے کے لیے اور آزمائش کے طور پر تھا یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے اللہ تعالیٰ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا، تو جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا فدیہ عظیم صورت میں دیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (مختلف موقعوں پر) فرشتوں کو اپنے رسولوں کی طرف ایسی شکل و صورت میں بھیجا کہ وہ رسول انہیں پہچان نہیں سکے، جس طرح کچھ فرشتے اللہ کے رسول سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں پہچان نہیں سکے، یہاں تک کہ انہیں ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا۔ اسی طرح سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوالات کیے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس وقت نہیں پہچانے جب وہ واپس چلے گئے تھے، تو جب ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو وہ اس سے مختلف صورت میں تھا جس صورت میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس سے واقف تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام مزاج کے تیز تھے۔ انہیں اپنے گھر میں ایک ایسا شخص نظر آیا جس سے وہ واقف نہیں تھے، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے طمانچہ رسید کر دیا۔ طمانچے کے نتیجے میں ملک الموت کی وہ آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی اس شکل کے مطابق تھی جس شکل کو اختیار کر کے وہ آیا تھا۔ اس سے مراد اس کی وہ شکل نہیں ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت میں ہمارے نبی کی طرف سے اس بات کی صراحت آئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی۔“ اس کے بعد پوری روایت ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ”یہ آپ کا اور آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے“ تو اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ بعض شرعی احکام میں ہماری شریعت کا وہی حکم ہے جو پہلی امتوں کی شریعت کا تھا۔ تو جب ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو شخص اجازت لیے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو ایسا کرنے والے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہیں جنہیں ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر املا کروا چکے ہیں، تو یہ بات بھی جائز ہوگی کہ اس بارے میں اس شریعت اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا حکم متفق ہو کہ جو شخص اپنے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے اسے گناہ نہیں ہوگا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ فعل کیا۔ یہ ان کے لیے مباح تھا اور ایسا کرنے پر ان پر کوئی حرج لاحق نہیں ہوا۔ جب ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور اسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ یہ حکم دیا کہ وہ دوسری مرتبہ اطلاع حاصل کرنے کے لیے اور آزمائش کے لیے جائے جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تم اس سے کہو اگر تم چاہو، تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو، تو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اس بات کا پتہ چلا کہ یہ ملک الموت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام ذہنی طور پر مرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ انہوں نے مزید مہلت نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے۔ اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہلی مرتبہ اسے پہچان لیتے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے، تو وہ وہی طرز عمل اختیار کرتے جو دوسری مرتبہ اختیار کیا تھا، جب انہیں اس بارے میں یقین تھا۔ اس بارے میں علم بھی حاصل ہو چکا تھا۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے محدثین صرف لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتے ہیں۔ وہ رات کے وقت بکریاں چراتے ہیں وہ ایسی چیز جمع کرتے ہیں جس کے ذریعے انہیں فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ایسی چیز روایت کرتے ہیں، جس پر انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اور وہ ایسے نظریات رکھتے ہیں، جو اسلام جنہیں باطل قرار دیتا ہے یہ وہ شخص ہے جو احادیث کے معانی سے ناواقفیت کی وجہ سے اور روایات میں غور و فکر ترک کرنے کی وجہ سے (یہ نظریات رکھتا ہے) اور یہ شخص اپنی کمزور رائے اور الٹے قیاس کی بنیاد پر یہ رائے رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6223]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1339، 3407، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2372، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6223، 6224، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4129، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2088، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7761» «رقم طبعة با وزير 6190»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (1/ 266 - 267)، «الصحيحة» (3279): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
85. باب بدء الخلق - ذكر لفظة توهم عالما من الناس أن التأويل الذي تأولناه لهذا الخبر مدخول-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر لفظ جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس خبر کی ہماری تاویل غلط ہے
حدیث نمبر: 6224
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، أَرْسَلْتَنِي إِِلَى عَبْدٍ لا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ، فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ إِِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ، فَإِِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَإِِنَّكَ تَعِيشُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُكَ سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟، قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ، أَدْنِنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ" أَجِبْ رَبَّكَ"، قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ التَّأْوِيلَ الَّذِي قُلْنَاهُ لِلْخَبَرِ مَدْخُولٌ، وَذَلِكَ فِي قَوْلِ مَلَكِ الْمَوْتِ لِمُوسَى:" أَجِبْ رَبَّكَ" بَيَانٌ أَنَّهُ عَرَفَهُ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَمَّا شَالَ يَدَهُ وَلَطَمَهُ، قَالَ لَهُ:" أَجِبْ رَبَّكَ"، تَوَهَّمَ مُوسَى أَنَّهُ يَتَعَوَّذُ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ دُونَ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ إِِلَيْهِ، فَكَانَ قَوْلُهُ:" أَجِبْ رَبَّكَ" الْكَشْفَ عَنْ قَصْدِ الْبِدَايَةِ فِي نَفْسِ الابْتِلاءِ، وَالاخْتِبَارِ الَّذِي أُرِيدَ مِنْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تاکہ ان کی روح قبض کر لے، اس نے ان سے کہا: «أَجِبْ دَاعِيَ رَبِّكَ» ”آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے،“ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی، ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور بولا: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا؟ اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو ٹھیک کر دیا اور فرمایا: تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو: کیا تم زندگی چاہتے ہو؟ اگر تم زندگی چاہتے ہو تو اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھو، تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے، ہر ایک بال کے عوض میں ایک سال کی زندگی مل جائے گی۔ (جب یہ بات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بتائی گئی) تو انہوں نے دریافت کیا: پھر کیا ہوگا؟ فرشتے نے کہا: پھر موت آ جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (تو میں ابھی فوت ہو جاتا ہوں)۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: اے میرے پروردگار! مجھے ارضِ مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور کوئی پتھر جا کر گرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اگر میں وہاں ہوتا تو میں تمہیں راستے کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے“ یہ اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتے ہیں جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ وہ تاویل جو ہم نے اس روایت کی بیان کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ وہ اس وجہ سے کہ ملک الموت نے یہ کہا تھا: ”آپ اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔“ یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ملک الموت کو پہچان گئے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ پھیلا کر طمانچہ مار دیا تھا، اس وقت فرشتے نے ان سے یہ کہا تھا: ”اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔“ سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھے کہ وہ ان الفاظ کے ذریعے پناہ مانگ رہا ہے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے، تو اس میں اس کا یہ کہنا: ”اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے،“ یہ آزمائش اور اطلاع حاصل کرنے کے آغاز کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے جو اس کے ذریعے مراد لیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6224]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے“ یہ اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتے ہیں جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ وہ تاویل جو ہم نے اس روایت کی بیان کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ وہ اس وجہ سے کہ ملک الموت نے یہ کہا تھا: ”آپ اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔“ یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ملک الموت کو پہچان گئے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ پھیلا کر طمانچہ مار دیا تھا، اس وقت فرشتے نے ان سے یہ کہا تھا: ”اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔“ سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھے کہ وہ ان الفاظ کے ذریعے پناہ مانگ رہا ہے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے، تو اس میں اس کا یہ کہنا: ”اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے،“ یہ آزمائش اور اطلاع حاصل کرنے کے آغاز کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے جو اس کے ذریعے مراد لیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6224]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1339، 3407، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2372، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6223، 6224، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4129، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2088، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7761» «رقم طبعة با وزير 6191»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» -أيضا-، «الصحيحة»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
86. باب بدء الخلق - ذكر تخفيف الله جل وعلا قراءة الزبور على داود نبي الله عليه السلام-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے داود نبی اللہ علیہ السلام پر زبور کی قراءت کو آسان کیا
حدیث نمبر: 6225
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقِرَاءَةُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ أَنْ تُسْرَجَ، فَيَفْرَغُ مِنْ قِرَاءَةِ الزَّبُورِ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا داؤد علیہ السلام کے لیے تلاوت کو آسان کر دیا گیا۔ وہ اپنے جانور کے بارے میں حکم دیتے تھے کہ اس پر زین رکھی جائے، تو اس پر زین رکھے جانے سے پہلے وہ زبور کی تلاوت کر کے فارغ ہو جاتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6225]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2073، 3417، 4713، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6225، 6227، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11805، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8276، والبزار فى (مسنده) برقم: 8734، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1183، والطبراني فى (الصغير) برقم: 17» «رقم طبعة با وزير 6192»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
87. باب بدء الخلق - ذكر نفي الفرار عند الملاقاة عن نبي الله داود عليه السلام-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ نبی اللہ داود علیہ السلام پر ملاقات کے وقت فرار کی نفی ہے
حدیث نمبر: 6226
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ إِِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ لَكَ الْعَيْنُ، وَنَقَهَتْ لَكَ النَّفْسُ، لا صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ، صَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ، إِِنَّ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلا يَفِرُّ إِِذَا لاقَى" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو، تم اس طرح کرو گے تو تمہاری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور تمہارا جسم کمزور ہو جائے گا؟ جو شخص روزانہ نفلی روزہ رکھتا ہے اس نے درحقیقت روزہ نہیں رکھا، ہر مہینے کے تین روزے رکھنا پورا مہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھا کرتے تھے اور وہ جب دشمن کا سامنا کرتے تھے تو فرار اختیار نہیں کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6226]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، 756، 757، 758، 2590، 3571، 3581، 3638، 3640، 3658، 3660، 6226، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، والترمذي فى (جامعه) برقم: 770، 2946، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، 1347، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588» «رقم طبعة با وزير 6193»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3990): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
88. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي منه كان يتقوت داود عليه السلام-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس سے داود علیہ السلام اپنی روزی کماتے تھے
حدیث نمبر: 6227
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ دَاوُدُ لا يَأْكُلُ إِِلا مِنْ عَمِلِ يَدِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیدنا داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کام کر کے (اس کی کمائی) کھایا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6227]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2073، 3417، 4713، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6225، 6227، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11805، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8276، والبزار فى (مسنده) برقم: 8734، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1183، والطبراني فى (الصغير) برقم: 17» «رقم طبعة با وزير 6194»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3527): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح