صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
39. باب بدء الخلق - ذكر خبر قد يوهم الرعاع من الناس أنه مضاد للأخبار التي ذكرناها قبل-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو عام لوگوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ اخبار کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6178
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُنَيْدَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً، قَالَ مَلَكُ الأَرْحَامِ مُعْرِضًا: يَا رَبِّ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لاقٍ حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو رحم سے متعلق فرشتہ عرض کرتا ہے: اے پروردگار! یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ تو اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے کو سنا دیتا ہے، پھر وہ عرض کرتا ہے: پروردگار! یہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے، پھر وہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ سب چیزیں تحریر کر دیتا ہے جن کا وہ شخص (بڑا ہو کر) سامنا کرے گا، یہاں تک کہ اسے جو ٹھوکر لگے گی (وہ بھی تحریر کر دی جاتی ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6178]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه أبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5775، وأخرجه البزار فى (مسنده) برقم: 6014، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20066، وأخرجه الطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3871، 3872، 3873» «رقم طبعة با وزير 6145»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الموارد» (1810).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
40. باب بدء الخلق - ذكر المدة التي قضى الله فيها على آدم ما قضى قبل خلقه إياها-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر مدت کہ جس میں اللہ نے آدم پر فیصلہ کیا اسے بنانے سے پہلے
حدیث نمبر: 6179
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَغْوَيْتَ النَّاسَ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلامِهِ، تَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ؟، قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ: ”سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی، لیکن آپ نے لوگوں کو گمراہ کر دیا اور انہیں جنت سے نکلنے پر مجبور کر دیا، سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے منتخب کیا، آپ مجھے ایک ایسے عمل کے بارے میں ملامت کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے ہی میرے حوالے سے لکھ دیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6179]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3409، 4736، 4738، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2652، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6179، 6180، 6210، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4701، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2134، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 80، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7504» «رقم طبعة با وزير 6146»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (80): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
41. باب بدء الخلق - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس أنه مضاد للخبر الذي تقدم ذكرنا له-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6180
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيرفيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بكلامِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بَأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتا چلا ہے: ”ایک مرتبہ سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے (سیدنا) آدم (علیہ السلام)! آپ ہمارے جدِ امجد ہیں، آپ نے ہمیں رسوائی کا شکار کیا اور ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا: اے موسیٰ! اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے لیے تمہیں منتخب کیا اور اپنے دستِ قدرت کے ذریعے تمہارے لیے (تورات کو) تحریر کیا، تم ایک ایسے مسئلے کے بارے میں مجھے ملامت کر رہے ہو جو میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6180]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3409، 4736، 4738، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2652، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6179، 6180، 6210، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4701، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2134، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 80، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7504» «رقم طبعة با وزير 6147»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
42. باب بدء الخلق - ذكر الشيء الذي منه خلق الله جل وعلا آدم صلوات الله عليه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے آدم صلوات اللہ علیہ کو کس چیز سے بنایا
حدیث نمبر: 6181
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الأَرْضِ كُلِّهَا، فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ، فَمِنْهُمُ الأَسْوَدُ وَالأَبْيَضُ وَالأَحْمَرُ وَالأَصْفَرُ، وَمِنْهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ وَالطِّيبُ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تمام روئے زمین سے پیدا کیا ہے، تو ان کی ذریت اسی حساب سے ہو گی؛ ان میں سے کچھ لوگ سیاہ ہیں، کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ ہیں، کچھ زرد ہیں اور کچھ ان کے درمیان ہیں، کوئی آسان ہے، کوئی غمگین ہے، کوئی خراب ہے اور کوئی عمدہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6181]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6160، 6181، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3055، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4693، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17780، 17781، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19891» «رقم طبعة با وزير 6148»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الترمذي» (3142).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
43. باب بدء الخلق - ذكر كتبة الله جل وعلا أولاد آدم لداري الخلود واستعماله إياهم لهما في دار الدنيا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے آدم کے بیٹوں کو دونوں ابدی گھروں کے لیے لکھا اور انہیں دنیا کی زندگی میں ان کے لیے استعمال کیا
حدیث نمبر: 6182
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : يَا أَبَا الأَسْوَدِ، أرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتُّخِذَتْ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟، فَقُلْتُ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَيَكُونُ ذَلِكَ ظُلْمًا؟، قَالَ: فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: إِِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ إِِلا خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ، مَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يَسْأَلُونَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: سَدَّدَكَ اللَّهُ، أَوْ وَفَّقَكَ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُكَ إِِلا لأَحْزِرَ عَقْلَكَ، إِِنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ، وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ؟ فَقَالَ: " بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ"، قَالَ: فَلِمَ نَعْمَلُ إِِذًا؟، قَالَ:" مَنْ كَانَ اللَّهُ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ، فَهُوَ يُسْتَعْمَلُ لَهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا سورة الشمس آية 7 - 8" .
ابواسود دؤلی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابواسود! تمہاری کیا رائے ہے آج لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور اس بارے میں جو کوشش کر رہے ہیں، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ان کے لیے فیصلہ ہو چکا ہے اور سب کچھ طے ہو چکا ہے، یا پھر وہ نئے سرے سے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تعلیمات لے کے آئے تھے، کیا اس وجہ سے ان کے خلاف حجت پیش کی جا سکتی ہے؟ میں نے کہا: بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر تو یہ ظلم ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: میں اس بات پر بہت گھبرا گیا میں نے کہا: ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کی بادشاہی کے دستِ قدرت میں ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا جو وہ کرتا ہے البتہ لوگوں سے باز پرس ہو گی، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک رکھا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے تم سے یہ سوال صرف اس لیے کیا تھا تاکہ تمہاری عقل کے بارے میں اندازہ لگا سکوں (پھر انہوں نے بتایا) ایک مرتبہ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے آج کل جو لوگ عمل کرتے ہیں اور جس بارے میں کوشش کرتے ہیں، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے لیے ان کے بارے میں فیصلہ پہلے ہو چکا ہے یا پھر یہ لوگ نئے سرے سے کام کرتے ہیں جو اس کے مطابق ہو جو ان کے پاس نبی تعلیمات لے کے آئے اور اس بارے میں ان کے خلاف حجت قائم کی جا سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ان کے لیے فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ پہلے گزر چکا ہے۔“ سائل نے دریافت کیا پھر ہم عمل کیوں کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو میں سے کسی ایک منزل کے لیے پیدا کیا ہے وہ اس سے وہی کام لے گا۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں) موجود ہے: ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا * فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾ [سورة الشمس: 7-8] ”اور نفس کی قسم اور جس کا اس نے تسویہ کیا ہے اسے گناہ اور پرہیزگاری الہام کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6182]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6182، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20255، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 881، والطبراني فى(الكبير) برقم: 273، 557» «رقم طبعة با وزير 6149»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (174).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
44. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن السبب الذي من أجله يستهل الصبي حين يولد-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ بچہ پیدا ہوتے وقت کیوں آواز نکالتا ہے اس کی وجہ
حدیث نمبر: 6183
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نومولود بچہ اس وقت چیخ کر روتا ہے، جب شیطان اسے ٹھونگا مارتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6183]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2367، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6183، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1872، والطبراني فى (الصغير) برقم: 29» «رقم طبعة با وزير 6150»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (1100): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
45. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله يشبه الولد أباه وأمه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ کہ بچہ اپنے باپ اور ماں سے کیوں مشابہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 6184
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ"، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ: وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، وَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلا، كَانَ مِنْهُ الشَّبَهُ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اس خاتون کو احتلام ہو جاتا ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے ام سلیم! جب عورت یہ چیز دیکھے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اس بات سے شرم آ گئی (میں نے عرض کی) ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! مرد کا مادہِ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے جب کہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو سبقت لے جائے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غالب آ جائے، بچے کی مشابہت اسی سے ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6184]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1164، 6184، 6185، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 195، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 601، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 811، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12406» «رقم طبعة با وزير 6151»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1161). تنبيه!! رقم (1161) = (1164) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
46. باب بدء الخلق - ذكر وصف حال الرجال والنساء الذي من أجله يكون الشبه بالولد-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ مردوں اور عورتوں کی حالت جو بچے کی مشابہت کا سبب بنتی ہے
حدیث نمبر: 6185
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ كَانَ الشَّبَهُ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مرد کا مادہ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے جبکہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو سبقت لے جائے (بچے کی) مشابہت (اسی کے ساتھ ہوتی ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6185]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1164، 6184، 6185، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 195، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 601، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 811، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12406» «رقم طبعة با وزير 6152»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
47. باب بدء الخلق - ذكر قول الملائكة عند هبوط آدم إلى الأرض أتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ فرشتوں نے آدم کے زمین پر اترنے پر کہا کہ کیا تو اس میں اسے رکھے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا
حدیث نمبر: 6186
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ آدَمَ لَمَّا أُهْبِطَ إِِلَى الأَرْضِ، قَالَتِ الْمَلائِكَةُ: أَيْ رَبِّ، أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ سورة البقرة آية 30، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ: هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلائِكَةِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلانِ، قَالُوا: رَبَّنَا، هَارُوتُ وَمَارُوتُ، قَالَ: فَاهْبِطَا إِِلَى الأَرْضِ، قَالَ: فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الإِِشْرَاكِ، قَالا: وَاللَّهِ لا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالا: لا وَاللَّهِ لا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا، فَوَقَعَا عَلَيْهَا، وَقَتَلا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِِلا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الزَّهْرَةُ هَذِهِ: امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، لا أَنَّهَا الزَّهْرَةُ الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ مِنَ الْخُنَّسِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا گیا تو فرشتوں نے کہا: اے پروردگار! ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ﴾ [سورة البقرة: 30] ”کیا تو اس میں اسے (اپنا خلیفہ) بنا رہا ہے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا جب کہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔“ تو پروردگار نے فرمایا: ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 30] ”میں وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“ ان فرشتوں نے عرض کی: ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: ”تم فرشتوں میں سے کوئی سے دو فرشتے لے آؤ، تو ہم اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں۔“ ان لوگوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! ہاروت اور ماروت (پیش خدمت ہیں)، تو پروردگار نے فرمایا: ”تم دونوں زمین پر اتر جاؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان کے سامنے زہرہ نام کی ایک خوبصورت ترین عورت آئی، وہ دونوں اس کے پاس آئے، انہوں نے اس سے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم لوگ یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے (میں تمہارے ساتھ زنا نہیں کروں گی)۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم کبھی بھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے۔ وہ ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی، پھر وہ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر واپس آئی، ان دونوں نے پھر اس کے سامنے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے (میں تمہاری بات نہیں مانوں گی)۔ ان دونوں نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! ہم اسے کبھی قتل نہیں کریں گے۔ وہ پھر چلی گئی، پھر وہ شراب کا پیالہ اٹھا کر آئی، پھر ان دونوں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا، اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے (میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گی)۔ ان دونوں نے شراب پی لی، وہ دونوں مدہوش ہو گئے، انہوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا، جب انہیں ہوش آیا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ہر گناہ اس وقت کیا جب تم دونوں مدہوش ہو گئے تھے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر ان دونوں کو اس وقت دنیاوی عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا، تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی، اس سے مراد زہرہ نامی ستارہ نہیں ہے، جو آسمان میں ہوتا ہے، جو خنس (چھپنے والے ستاروں) میں سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6186]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6186، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8894، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19739، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6287» «رقم طبعة با وزير 6153»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
باطل مرفوع - «الضعيفة» (170).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
48. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن بث إبليس سراياه ليفتن المسلمين نعوذ بالله من شرهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ ابلیس نے اپنی فوج کو پھیلایا تاکہ مسلمانوں کو فتنے میں ڈالے، نعوذ باللہ ان کے شر سے
حدیث نمبر: 6187
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " عَرْشُ إِِبْلِيسَ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ، أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ابلیس کا تخت پانی پر ہوتا ہے، پھر وہ اپنی مہم روانہ کرتا ہے، ان میں سے اس کے نزدیک زیادہ عظیم وہ ہوتا ہے جو زیادہ فتنہ پیدا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6187]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2813، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6187، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14601» «رقم طبعة با وزير 6154»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3261): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي