صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب بدء الخلق-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان -
حدیث نمبر: 6138
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ السَّاجِيُّ آخر معه، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، أَنْهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر مقرر کر دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6138]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6138، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2156، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6690» «رقم طبعة با وزير 6105»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (8/ 51).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
2. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما عاتب الله جل وعلا من خالف رسول الله صلى الله عليه وسلم في إثبات القدر-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے اس سے عتاب کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر کے ثبوت میں مخالفت کرتا ہے
حدیث نمبر: 6139
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِفُونَهُ فِي الْقَدَرِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ سورة القمر آية 47 - 49" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے مشرکین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تقدیر کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف کرتے تھے، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿بے شک مجرم لوگ گمراہی اور جہنم میں ہوں گے، جس دن انہیں منہ کے بل جہنم میں گھسیٹا جائے گا (اور یہ کہا جائے گا) جہنم کا مزہ چکھ لو، بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق بنایا ہے﴾ [سورة القمر: 47-49] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6139]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2656، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6139، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2157، 3290، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 83، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9867، 10305» «رقم طبعة با وزير 6106»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (349): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
3. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار بأن الله جل وعلا كان ولا شيء غيره-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا تھا اور اس کے علاوہ کچھ نہ تھا
حدیث نمبر: 6140
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَاقَتِي مَعْقُولَةٌ بِالْبَابِ إِِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ، وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ، مَا كَانَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ اللَّهُ وَلَيْسَ شَيْءٌ غَيْرَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ كَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ" . قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ، أَدْرِكْ نَاقَتَكَ، فَقَدِ انْفَلَتَتْ، فَإِِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّى كُنْتُ تَرَكْتُهَا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میری اونٹنی (مسجد کے دروازے پر) بندھی ہوئی تھی، اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی تعلیم حاصل کریں، ہم اس معاملے کے آغاز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے صرف اللہ تعالیٰ تھا، اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی، عرش پانی پر تھا، پھر اس نے «الذِّكْرِ» ”ذکر“ (یعنی قرآن مجید یا لوح محفوظ میں) ہر چیز تحریر کر دی، پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: اے عمران! اپنی اونٹنی کو پکڑ لیں وہ رسی کھول کر چلی گئی ہے۔ سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا ہے۔ (سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ میں نے اونٹنی کو چھوڑ دیا ہوتا (اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سنتا رہتا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6140]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3190، 3191، 4365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6140، 6142، 7292، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3951، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17774، 17775، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20136» «رقم طبعة با وزير 6107»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3190)، ويأتي بأتم منه قريبا (6109). تنبيه!! رقم (6109) = (6142) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
4. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما كان الله فيه قبل خلقه السماوات والأرض-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا آسمانوں اور زمین کو بنانے سے پہلے کس حال میں تھا
حدیث نمبر: 6141
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: " هَلْ تَرَوْنَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ الْقَمَرَ أَوِ الشَّمْسَ بِغَيْرِ سَحَابٍ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَاللَّهُ أَعْظَمُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ؟، قَالَ:" فِي عَمَاءٍ، مَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَمَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَهِمَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ مِنْ حَيْثُ" فِي غَمَامٍ" إِِنَّمَا هُوَ" فِي عَمَاءٍ"، يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْخَلْقَ لا يَعْرِفُونَ خَالِقَهُمْ مِنْ حَيْثُ هُمْ، إِِذْ كَانَ وَلا زَمَانَ وَلا مَكَانَ، وَمَنْ لا يُعْرَفُ لَهُ زَمَانٌ، وَلا مَكَانٌ، وَلا شَيْءٌ مَعَهُ، لأَنَّهُ خَالِقُهَا، كَانَ مَعْرِفَةُ الْخَلْقِ إِِيَّاهُ، كَأَنَّهُ كَانَ فِي عَمَاءٍ عَنْ عِلْمِ الْخَلْقِ، لا أَنَّ اللَّهَ كَانَ فِي عَمَاءٍ، إِِذْ هَذَا الْوَصْفُ شَبِيهٌ بِأَوْصَافِ الْمَخْلُوقِينَ.
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جب بادل نہ ہو تو تم چودھویں رات کے چاند کو یا سورج کو دیکھ سکتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عظیم ہے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا پروردگار آسمان و زمین کو تخلیق کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ «عَمَاء» (یعنی اس کا ادراک حاصل نہیں کیا جا سکتا) میں تھا، اس کے اوپر اور اس کے نیچے خلا تھی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان الفاظ کو نقل کرنے میں حماد بن سلمہ نامی کو وہم ہوا، انہوں نے لفظ «غَمَام» نقل کر دیا ہے، حالانکہ لفظ «عَمَاء» ہے اور اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ مخلوق میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ اپنے خالق کا حقیقی فہم حاصل کر سکے کیونکہ ان کا پروردگار اس وقت بھی موجود تھا جب زمانہ اور مکان موجود نہیں تھے اور نہ ہی زمانے یا مکان یا کسی اور چیز کے ساتھ شناخت حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ وہ تو ان سب چیزوں کا پروردگار ہے، تو اس کی ذات کے بارے میں مخلوق کی معرفت یوں ہو گی جیسے اس کی ذات مخلوق کے علم کے حوالے سے پردہ «عَمَاء» میں ہے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ «عَمَاء» کی کیفیت میں تھا کیونکہ یہ وہ صفت ہے جو مخلوق کے اوصاف سے مشابہت رکھتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6141]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6141، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8779، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4731، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 180، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16436» «رقم طبعة با وزير 6108»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الظلال» (459).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
5. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما كان عليه العرش قبل خلق الله جل وعلا السماوات والأرض-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کے عرش کا حال آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے کیا تھا
حدیث نمبر: 6142
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: إِِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ بَشَّرْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، إِِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا لِنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ، وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ، مَا كَانَ؟ فَقَالَ: " كَانَ اللَّهُ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ" ، قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ بْنَ حُصَيْنٍ، رَاحِلَتَكَ أَدْرِكْهَا، فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، فَإِِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! تم لوگ خوشخبری قبول کرو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں پہلے بھی خوشخبری دے چکے ہیں، (اب) آپ ہمیں (مال و دولت) عطا کیجیے۔ پھر یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل یمن! تم لوگ خوشخبری حاصل کر لو کیونکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔“ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اسے قبول کرتے ہیں، ہم اس لیے حاضرِ خدمت ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے کے آغاز کے بارے میں دریافت کریں کہ یہ کیسے تھا (یعنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا)؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس نے ذکر (یعنی لوح محفوظ) میں ہر چیز تحریر کر دی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے عمران! اپنی سواری کو پکڑیں کیونکہ وہ چلی گئی ہے، تو میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا تھا۔ اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ وہ چلی گئی ہوتی لیکن میں وہاں سے نہ اٹھتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6142]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3190، 3191، 4365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6140، 6142، 7292، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3951، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17774، 17775، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20136» «رقم طبعة با وزير 6109»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م، مضى قريبا (6107). تنبيه!! رقم (6107) = (6140) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
حدیث نمبر: 6143
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، كَتَبَ فِي كِتَابِهِ يَكْتُبُهُ عَلَى نَفْسِهِ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ: أَنَّ رَحْمَتِيَ تَغْلِبُ غَضْبَى" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ" مِنْ أَلْفَاظِ الأَضْدَادِ الَّتِي تَسْتَعْمِلَ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا، يُرِيدُ بِهِ تَحْتَ الْعَرْشِ، لا فَوْقَهُ، كَقَوْلِهِ جَلا وَعَلا: وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ سورة الكهف آية 79 يُرِيدُ بِهِ: أَمَامَهُمْ، إِِذْ لَوْ كَانَ وَرَاءَهُمْ لَكَانُوا قَدْ جَاوَزُوهُ، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا: إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا سورة البقرة آية 26 أَرَادَ بِهِ: فَمَا دُونَهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں تحریر کیا، جو چیز اس نے اپنی ذات پر لازم کی ہے اور وہ تحریر عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے (اس میں یہ تحریر ہے) «إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي» ”بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے“۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے“ یہ ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جو عرب اپنے محاورے میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد عرش کے نیچے ہے، عرش کے اوپر مراد نہیں ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ﴿وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ﴾ [سورة الكهف: 79] ”ان کے پیچھے ایک بادشاہ ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے آگے ایک بادشاہ ہے، اگر وہ پیچھے ہوتا تو وہ لوگ وہاں سے گزر آئے تھے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا﴾ [سورة البقرة: 26] ”بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا نہیں کرتا کہ وہ مچھر کی مثال بیان کرے یا جو اس سے اوپر ہے (اس کی مثال بیان کرے)“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو چیز مچھر سے بھی نیچے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6143]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3194، 7404، 7422، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2751، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6143، 6144، 6145، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7703، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3543، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 189، 4295، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7419، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1160» «رقم طبعة با وزير 6110»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
6. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم لما خلق الله الخلق أراد به لما قضى خلقهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "جب اللہ نے مخلوق بنائی" سے مراد جب اس نے ان کی تخلیق کا فیصلہ کیا
حدیث نمبر: 6144
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ، كَتَبَ فِي كِتَابٍ عِنْدَهُ: غَلَبَتْ، أَوْ قَالَ: سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضْبَى، قَالَ: فَهِيَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ" ، أَوْ كَمَا قَالَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق (کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا، تو اس نے اپنے پاس موجود کتاب میں یہ تحریر کیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو یہ تحریر اللہ تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) یا شاید جیسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6144]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3194، 7404، 7422، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2751، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6143، 6144، 6145، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7703، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3543، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 189، 4295، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7419، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1160» «رقم طبعة با وزير 6111»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (608 و 609).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
7. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن كتبة الله الكتاب الذي ذكرناه كتبه بيده-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ اللہ نے جو کتاب ہم نے ذکر کی وہ اپنے ہاتھ سے لکھی
حدیث نمبر: 6145
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" حِينَ خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ: أَنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضْبَى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کر دیا تو اس نے اپنے دستِ رحمت کے ذریعے اپنی ذات پر رحمت کو لازم قرار دیا (اور یہ تحریر کیا): «إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي» ”بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6145]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3194، 7404، 7422، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2751، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6143، 6144، 6145، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7703، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3543، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 189، 4295، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7419، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1160» «رقم طبعة با وزير 6112»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
8. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن خلق الله جل وعلا عدد الرحمة التي يرحم بها عباده يوم القيامة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے رحمت کی تعداد بنائی جس سے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے
حدیث نمبر: 6146
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، فَجَعَلَ فِي الأَرْضِ مِنْهَا رَحْمَةً، فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا، وَالْوَحْشُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَأَخَّرَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَإِِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ مِائَةً" .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس دن اس نے ایک سو رحمتیں پیدا کیں جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہیں، تو ان میں سے ایک رحمت اس نے زمین میں رکھی ہے، اس رحمت کی وجہ سے ماں اپنی اولاد پر مہربانی کرتی ہے اور وحشی جانور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں، جب کہ ننانوے رحمتیں اس نے قیامت کے دن تک کے لیے مخصوص کی ہیں، جب قیامت کا دن آئے گا، تو وہ اس رحمت کے ذریعے ایک سو کو مکمل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6146]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2753، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6146، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7723، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24217» «رقم طبعة با وزير 6113»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (8/ 97).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
9. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله يكمل الله هذه الرحمة يوم القيامة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اللہ قیامت کے دن اس رحمت کو مکمل کرتا ہے
حدیث نمبر: 6147
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ لِلَّهَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالإِِنْسِ وَالْبَهَائِمِ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوحُوشُ عَلَى أَوْلادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً، يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں جن میں سے ایک رحمت اس نے جنوں، انسانوں اور جانوروں کے درمیان نازل کی ہے، اس رحمت کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے مہربانی کا برتاؤ کرتے ہیں اور اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اسی کی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر مہربان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے 99 رحمتیں مؤخر کی ہیں جن کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6147]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3265، 6000، 6469، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2752، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3647، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 345، 656، 6147، 6148، 7462، 7463، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 185، 186، 7724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2589، 3541، 3542، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4293، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7445» «رقم طبعة با وزير 6114»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1634): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم