🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب بدء الخلق - ذكر خبر شنع به المعطلة وجماعة لم يحكموا صناعة الحديث على منتحلي سنن المصطفى صلى الله عليه وسلم حيث حرموا التوفيق لإدراك معناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جس پر معطلین اور کچھ لوگوں نے جو حدیث کی صنعت میں ماہر نہ تھے، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ماننے والوں پر طعن کیا کیونکہ وہ اس کے معنی سمجھنے میں کامیاب نہ ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ، إِِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ"، لَمْ يُرِدْ بِهِ إِِحْيَاءَ الْمَوْتَى، إِِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لَهُ، وَذَلِكَ أَنَّ إِِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى، وَلَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِ، يُرِيدُ: فِي دُعَائِهِ وَسُؤَالِهِ رَبَّهُ عَمَّا سَأَلَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ"، بِهِ فِي الدُّعَاءِ، لأَنَّا إِِذَا دَعَوْنَا، رُبَّمَا يُسْتَجَابُ لَنَا، وَرُبَّمَا لا يُسْتَجَابُ، وَمَحْصُولُ هَذَا الْكَلامِ أَنَّهُ لَفْظَةُ إِِخْبَارٍ مُرَادُهَا التَّعْلِيمُ لِلْمُخَاطَبِ لَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں جب انہوں نے یہ کہا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [سورة البقرة: 260] اے میرے پروردگار! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ پروردگار نے دریافت کیا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن (میں یہ چاہتا ہوں) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ میں جانا چاہتے تھے اور جتنا عرصہ سیدنا یوسف علیہ السلام قید خانے میں رہے، اگر میں اتنا عرصہ رہا ہوتا تو بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں اس کے ذریعے یہ مراد نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں شک تھا بلکہ مراد ان کی دعا کا مستجاب ہونا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا تھا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ﴾ [سورة البقرة: 260] اے میرے پروردگار! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس بارے میں ان کی دعا مستجاب ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ان کا اپنے پروردگار سے دعا کرنا اور وہ مطالبہ کرنا جو انہوں نے کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہم اس دعا کے بارے میں شک کرنے کے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ جب ہم دعا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہماری دعا مستجاب ہو جاتی ہے اور بعض اوقات مستجاب نہیں ہوتی، بہرحال اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے، لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6208]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3372، 3375، 3387، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5776، 6206، 6207، 6208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2966، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4026، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1097، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8395» «رقم طبعة با وزير 6175»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» - أيضا -: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله جل وعلا نحن نقص عليك أحسن القصص-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اللہ جل وعلا نے "نحن نقص عليك أحسن القصص" نازل کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6209
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلادٌ الصَّفَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلائِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ سورة يوسف آية 1 إِِلَى قَوْلِهِ: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ سورة يوسف آية 3،" فَتَلاهَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ حَدَّثْتَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا سورة الزمر آية 23، كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُونَ بِالْقُرْآنِ"، قَالَ خَلادٌ:" وَزَادَ فِيهِ حِينَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكِّرْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ سورة الحديد آية 16" .
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے اس کی تلاوت کرتے رہے، تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کوئی واقعہ بیان کریں (تو مہربانی ہو گی)، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ﴾ [سورة يوسف: 1] ، یہ آیت یہاں تک ہے: ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کر رہے ہیں۔ [سورة يوسف: 3] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے تلاوت کیں، پھر لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی بات بتائیں (تو مہربانی ہو گی)، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین بات کتاب کی شکل میں نازل کی ہے جس میں متشابہات ہیں۔ [سورة الزمر: 23] تو ان سب کو قرآن کے مطابق حکم دیا جاتا تھا۔ خلاد نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: جب لوگوں نے یہ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی نصیحت کیجیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: کیا اہل ایمان پر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لیے خوف زدہ ہو جائیں۔ [سورة الحديد: 16] [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6209]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6209، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3339، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 740، وأخرجه البزار فى (مسنده) برقم: 1152» «رقم طبعة با وزير 6176»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [حِينَ] قال الشيخ: في «الموارد»؛ (حسن)! والظاهر أنه مُحرّف عمّا هنا؛ فليس في الإسناد أحد بهذا الأسم! والراجح أنه آخر؛ فقد رأيت الحديث في أسباب النزول للواحدي (ص 304) رواه من طريق إسحاق بن إبراهيم - الذي في الكتاب؛ وهو ابن راهويه - ... باللفظ المذكور. وكذلك رواه ابن جرير في «التفسير» (12/ 90) من طريق آخر، عن عمرو بن محمد ... به - وهو العنقزي -. وخلاد: هو ابن عيسى أبو مسلم، وهو ثقة.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. باب بدء الخلق - ذكر احتجاج آدم وموسى وعذله إياه على ما كان منه في الجنة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ آدم اور موسیٰ کا احتجاج اور اس کی جنت میں کیے گئے عمل پر عتاب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6210
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَحَجَّ آدَمَ مُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ؟، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عَلِمَ كُلِّ شَيْءٍ، وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالاتِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بحث ہو گئی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کر دیا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیز عطا کی تھی کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتے تھے اور تمام لوگوں میں اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: آپ ایک ایسے معاملے کے بارے میں مجھے ملامت کر رہے ہیں جو میری تخلیق سے پہلے ہی میرے مقدر میں طے کر دیا گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6210]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3409، 4736، 4738، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2652، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6179، 6180، 6210، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4701، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2134، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 80، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7504» «رقم طبعة با وزير 6177»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (6146 - 6147). تنبيه!! رقم (6146) = (6179) من «طبعة المؤسسة». رقم (6147) = (6180) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. باب بدء الخلق - ذكر تعيير بني إسرائيل كليم الله بأنه آدر-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ بنی اسرائیل نے کلیم اللہ کو آدر کہہ کر طعن کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6211
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ بَنُو إِِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِِلا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَاشْتَدَّ مُوسَى فِي أَثَرِهِ وَهُوَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِِسْرَائِيلَ إِِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَ مَا نَظَرَ النَّاسُ إِِلَيْهِ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً مِنْ ضَرْبِ مُوسَى الْحَجَرَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے، وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کی طرف دیکھ لیا کرتے تھے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل کیا کرتے تھے، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ صرف اس لیے غسل نہیں کرتے کیونکہ ان کے اندر کوئی عیب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے، تو وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے بھاگے، وہ یہ کہہ رہے تھے: «ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ» اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ کو دیکھ لیا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! سیدنا موسیٰ علیہ السلام میں تو کوئی خرابی نہیں ہے، جب لوگوں نے انہیں دیکھ لیا تو پتھر بھی رک گیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور اس پتھر کو مارنا شروع کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس پتھر پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ضرب کے چھ یا شاید سات نشان ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6211]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 278، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 339، 339، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6211، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 976، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8290» «رقم طبعة با وزير 6178»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3075): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. باب بدء الخلق - ذكر صبر كليم الله جل وعلا على أذى بني إسرائيل إياه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے بنی اسرائیل کے اذیت دینے پر صبر کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًَا قَالَ لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَدَلَ فِي هَذَا، فَقَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، قَدْ كَانَ يُصِيبُهُ أَشَدُّ مِنْ هَذَا ثُمَّ يَصْبِرُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی تو ایک شخص نے اس کے بارے میں یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سوچا: اللہ کی قسم! میں ضرور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی، لیکن پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6212]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3150، 3405، 4335، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1062، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2917، 4829، 6212، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3678» «رقم طبعة با وزير 6179»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (2906). تنبيه!! رقم (2906) = (2917) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله ألقى موسى الألواح-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر موسیٰ نے الواح پھینکیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6213
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ، قَالَ اللَّهُ لِمُوسَى: إِِنَّ قَوْمَكَ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا يُبَالِ، فَلَمَّا عَايَنَ، أَلْقَى الأَلْوَاحَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو بِشْرٍ: جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سنی ہوئی بات براہِ راست دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: تمہاری قوم نے اس، اس طرح کر لیا ہے، انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی لیکن جب انہوں نے بذاتِ خود دیکھ لیا تو انہوں نے الواح کو پھینک دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابو بشر نامی راوی کا نام جعفر بن ابو وحشیہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6213]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6213، 6214، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3269، 3455، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1867» «رقم طبعة با وزير 6180»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج المشكاة» (5738)، «تخريج الطحاوية» (315).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. باب بدء الخلق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به هشيم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف ہشیم نے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6214
أَخْبَرَنَا حُبَيْشُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النِّيلِيُّ بِوَاسِطٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " لَيْسَ الْمُعَايِنُ كَالْمُخْبَرِ، أَخْبَرَ اللَّهُ مُوسَى أَنَّ قَوْمَهُ فُتِنُوا، فَلَمْ يُلْقِ الأَلْوَاحَ، فَلَمَّا رَآهُمْ أَلْقَى الأَلْوَاحَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: براہِ راست دیکھنا سننے کی طرح نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ اطلاع دی کہ تمہاری قوم کو آزمائش میں مبتلا کر دیا گیا ہے لیکن انہوں نے پھر بھی الواح کو نہیں پھینکا، لیکن جب انہوں نے لوگوں کی صورت حال خود دیکھی تو انہوں نے الواح کو پھینک دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6214]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6213، 6214، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3269، 3455، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1867» «رقم طبعة با وزير 6181»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. باب بدء الخلق - ذكر ما فعل جبريل عليه السلام بفرعون عند نزول المنية-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ جبریل علیہ السلام نے فرعون کے ساتھ کیا کیا جب اس کی موت کا وقت آیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6215
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: سیدنا جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» نہ پڑھ لے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6215]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6215، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 188، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11174، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3107، 3108، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2177» «رقم طبعة با وزير 6182»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (2015).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. باب بدء الخلق - ذكر سؤال الكليم ربه عن أدنى أهل الجنة وأرفعهم منزلة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے اپنے رب سے جنت کے سب سے نچلے اور سب سے بلند مرتبہ کے بارے میں پوچھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6216
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ شَيْخَانِ صَالِحَانِ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ: أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً؟، قَالَ: رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا يَدْخُلُ، يَعْنِي: أَهْلَ الْجَنَّةِ، الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: كَيْفَ أَدْخَلُ الْجَنَّةَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ؟، فَيَقُولُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟، فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: لَكَ هَذَا وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: إِِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، وَسَأَلَ رَبَّهُ: أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟، قَالَ: سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ، غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سوال کیا: اہل جنت کا کون سا فرد جنت میں سب سے کم تر درجے میں ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے بتایا: وہ ایک ایسا شخص ہو گا جو اہل جنت کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ عرض کرے گا: میں کیسے جنت میں داخل ہوں گا جب کہ لوگ اپنی جگہوں پر پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے اپنے حصے کی جگہ حاصل کر لی ہے؟ تو پروردگار اس سے دریافت کرے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں جنت میں اتنی جگہ دے دی جائے جتنی کسی دنیاوی بادشاہ کے پاس ہوتی تھی؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار (میں راضی ہوں)، تو یہ کہا جائے گا: تمہیں یہ بھی ملتی ہے اور اس کی مانند مزید، اور اس کی مانند مزید، اور اس کی مانند مزید (یعنی مزید تین گنا اور ملتی ہے)، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس کی دس گنا مزید ملتی ہے، وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار میں راضی ہو گیا۔ تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس کے ہمراہ وہ چیز بھی ملتی ہے جس کی تمہارے نفس کو خواہش تھی یا جو تمہاری آنکھوں کو لذت فراہم کرے گی۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے دریافت کیا: اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس شخص کا ہو گا؟ پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں، میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کی ہے اور اس پر مہر لگا دی ہے (انہیں ایسی نعمتیں ملیں گی) جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں ان کا خیال تک نہیں آیا ہو گا۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں) موجود ہے: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [سورة السجدة: 17] کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6216]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 189، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6216، 7385، 7426، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3198، والحميدي فى (مسنده) برقم: 779، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 35152، والطبراني فى(الكبير) برقم: 989» «رقم طبعة با وزير 6183»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3503): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. باب بدء الخلق - ذكر سؤال كليم الله جل وعلا ربه عن خصال سبع-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے اپنے رب سے سات خصائل کے بارے میں پوچھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6217
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ عَنْ سِتِّ خِصَالٍ، كَانَ يَظُنُّ أَنَّهَا لَهُ خَالِصَةً، وَالسَّابِعَةُ لَمْ يَكُنْ مُوسَى يُحِبُّهَا، قَالَ: يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَتْقَى؟، قَالَ: الَّذِي يَذْكُرُ وَلا يَنْسَى، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَهْدَى؟، قَالَ: الَّذِي يَتْبَعُ الْهُدَى، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَحْكُمُ؟، قَالَ: الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعْلَمُ؟، قَالَ: عَالِمٌ لا يَشْبَعُ مِنَ الْعِلْمِ، يَجْمَعُ عِلْمَ النَّاسِ إِِلَى عِلْمِهِ، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعَزُّ؟، قَالَ: الَّذِي إِِذَا قَدَرَ غَفَرَ، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى؟، قَالَ: الَّذِي يَرْضَى بِمَا يُؤْتَى، قَالَ: فَأَيُّ عِبَادِكَ أَفْقَرُ؟، قَالَ: صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْغِنَى عَنْ ظَهْرٍ، إِِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا، جَعَلَ غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ، وَتُقَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ شَرًّا، جَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ:" صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ"، يُرِيدُ بِهِ: مَنْقُوصٌ حَالَتُهُ، يَسْتَقِلُّ مَا أُوتِيَ، وَيَطْلُبُ الْفَضْلَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے چھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا، وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف ان کے ساتھ مخصوص ہیں، جبکہ ساتویں چیز کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار! تیرے بندوں میں کون شخص سب سے زیادہ پرہیزگار ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ جو ذکر کرتا ہے اور بھولتا نہیں ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون شخص سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو لوگوں کے لیے وہی فیصلہ دے جو وہ اپنی ذات کے لیے دیتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ عالم جو علم سے سیر نہیں ہوتا اور لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ جمع کر لیتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ طاقتور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب وہ قدرت رکھتا ہو تو معاف کر دے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ خوشحال ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو اس چیز پر راضی ہو جو اسے دی گئی ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ غریب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ شخص جس کو کم چیزیں دی گئی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خوشحالی ساز و سامان سے نہیں ہوتی بلکہ خوشحالی دل کا غنی ہونا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اس کے من میں خوشحالی ڈال دیتا ہے اور اس کے دل میں پرہیزگاری ڈال دیتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے تو اس کی غربت اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ «صَاحِبُ مَنْقُوصٍ» سے مراد یہ ہے جس کی حالت میں نقص ہو اسے جو دیا گیا وہ اسے تھوڑا سمجھتا ہو اور مزید کا طلب گار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6217]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6446، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1051، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 679، 3222، 6217، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3992، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11786، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2373، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4137، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7436» «رقم طبعة با وزير 6184»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (3350). * [يَتْبَعُ] قال الشيخ: في الأصل «لا يتبع»! والتصحيح من مصادر التخريج، ومن «الموارد» (50/ 86). * [صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ] قال الشيخ: فسرَّه المؤلِّف بما يأتي، لكن وقع في «تاريخ ابن عساكر» وغيره: (سقر)، والظاهر أنه محرّف، وانظر «الصحيحة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں