🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب وُجُوبِ الزَّكَاةِ
باب: مال کی اس مقدار (یعنی نصاب) کا بیان جس میں زکاۃ واجب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1556
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ. قَالَ أبُو دَاوُدَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى: الْعِقَالُ صَدَقَةُ سَنَةٍ، وَالْعِقَالانِ صَدَقَةُ سَنَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عِقَالًا. وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: عَنَاقًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَمَعْمَرٌ، وَالزُّبَيْدِيُّ: عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا. وَرَوَى عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: عَنَاقًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور عربوں میں سے جن کو کافر ۱؎ ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں، لہٰذا جس نے «لا إله إلا الله» کہا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی سوائے حق اسلام کے ۲؎ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق ۳؎ کرے گا، اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، یہ لوگ جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اگر اس میں سے اونٹ کے پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی نہیں دی تو میں ان سے جنگ کروں گا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور اس وقت میں نے جانا کہ یہی حق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث رباح بن زید نے روایت کی ہے اور عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے زہری سے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں بعض نے «عناقا» کی جگہ «عقالا» کہا ہے اور ابن وہب نے اسے یونس سے روایت کیا ہے اس میں «عناقا» کا لفظ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ، معمر اور زبیدی نے اس حدیث میں زہری سے «لو منعوني عناقا» نقل کیا ہے اور عنبسہ نے یونس سے انہوں نے زہری سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ اس میں بھی «عناقا» کا لفظ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1556]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ان کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا اور قبائل عرب میں سے جنہوں نے کفر اختیار کرنا تھا، انہوں نے کفر اختیار کر لیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کس بنا پر قتال (جنگ) کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہیں۔ تو جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان کو محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اسلام کا کوئی حق ہو، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: قسم اللہ کی! میں ہر اس شخص سے لازماً جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا کیونکہ زکوٰۃ مال کا (شرعی) حق ہے۔ قسم اللہ کی! اگر ان لوگوں نے مجھ سے وہ رسی بھی روک لی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے تو میں اس کے روک لینے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے اور بالآخر میری سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی کہ یہی بات حق ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث رباح بن زید اور عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے زہری سے اسی کی سند سے روایت کی ہے۔ بعض نے «عِقَالًا» رسی کا لفظ بیان کیا ہے، جبکہ ابن وہب نے یونس سے «عَنَاقًا» بکری کا بچہ روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شعیب بن ابی حمزہ، معمر اور زبیدی نے بھی زہری سے اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے (کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا): «لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا» اگر ان لوگوں نے مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی روک لیا تو۔۔۔ ایسے ہی عنبسہ نے یونس سے، انہوں نے زہری سے لفظ «عَنَاقًا» بکری کا بچہ روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 1(1399)، 40 (1456)، المرتدین 3 (6924)، الاعتصام 2 (7284)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، سنن الترمذی/الإیمان 1 (2607)، سنن النسائی/الزکاة 3 (2445)، الجہاد 1 (3094)، المحاربة 1 (3975، 3976، 3978، 3980)، (تحفة الأشراف: 10666)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 1 (3927)، مسند احمد (2/528) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان کا تعلق قبیلہ غطفان اور بنی سلیم کے لوگوں سے تھا جنہوں نے زکاۃ دینے سے انکار کیا تھا۔
۲؎: مثلا اگر وہ کسی مسلمان کوقتل کر دے تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا۔
۳؎: یعنی وہ نماز تو پڑھے لیکن زکاۃ کا انکار کرے ایسی صورت میں وہ (ارتداد کی بنا پر) واجب القتل ہو جاتا ہے کیونکہ اصول اسلام میں سے کسی ایک اصل کا انکار کل کا انکار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق لكن قوله ع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7284، 7285) صحيح مسلم (20)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1557
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ حَقَّهُ أَدَاءُ الزَّكَاةِ، وَقَالَ: عِقَالًا.
اس سند سے بھی زہری سے یہی روایت مروی ہے اس میں ہے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (اسلام) کا حق یہ ہے کہ زکاۃ ادا کریں اور اس میں «عقالا» کا لفظ آیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1557]
یونس نے زہری سے یہ حدیث روایت کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مال کا حق ہے کہ زکوٰۃ ادا کی جائے۔ اور اس روایت میں لفظ «عِقَالًا» رسی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10666) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اوپر والی حدیث میں تفصیل سے پتا چلتا ہے کہ «عناق» کا لفظ محفوظ، اور «عقال» کا لفظ شاذ ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح ولكنه شاذ بهذا اللفظ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7284، 7285) صحيح مسلم (20)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ
باب: کن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1558
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۱؎، پانچ اوقیہ ۲؎ سے کم (چاندی) میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ پانچ وسق ۳؎ سے کم (غلے اور پھلوں) میں زکاۃ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1558]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں، اور پانچ اوقیہ (چاندی) سے کم میں زکوٰۃ نہیں، اور پانچ وسق سے کم (غلے) میں زکوٰۃ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 4 (1405)، 32 (1447)، 42 (1459)، 56 (1484)، صحیح مسلم/الزکاة 1 (979)، سنن الترمذی/الزکاة 7 (626)، سنن النسائی/الزکاة 5 (2447)، 18 (2475)، 21 (2478)، 24 (2485، 2486، 2489)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 6 (1793)، (تحفة الأشراف: 4402)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 1 (1)، مسند احمد (3/6، 30، 45، 59، 60، 73، 74، 79)، سنن الدارمی/الزکاة 11 (1673) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ کا نصاب پانچ اونٹ ہے، اور چاندی کا پانچ اوقیہ، اور غلے اور پھلوں (جیسے کھجور اور کشمش وغیرہ) کا نصاب پانچ وسق ہے، اور سونے کا نصاب دوسری حدیث میں مذکور ہے جو بیس (۲۰) دینار ہے، جس کے ساڑھے سات تولے ہوتے ہیں، یہ چیزیں اگر نصاب کو پہنچ جائیں اور ان پر سال گزر جائے تو سونے اور چاندی میں ہر سال چالیسواں حصہ زکاۃ کا نکالنا ہو گا، اور اگر بغیر کسی محنت و مشقت کے یا پانی کی اجرت صرف کئے بغیر پیداوار ہو تو غلے اور پھلوں میں دسواں حصہ زکاۃ کا نکالنا ہو گا، اور اگر محنت و مشقت اور پانی کی اجرت لگتی ہو تو بیسواں حصہ نکالنا ہو گا۔
۲؎: اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے پانچ اوقیہ دو سو درہم کا ہوا، موجودہ وزن کے حساب سے دو سو درہم کا وزن پانچ سو پچانوے (۵۹۵) گرام ہے۔
۳؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، پانچ وسق کے تین سو صاع ہوئے، موجودہ وزن کے حساب سے تین سو صاع کا وزن تقریباً (۷۵۰) کیلو گرام یعنی ساڑھے سات کوینٹل ہے۔ اور شیخ عبداللہ البسام نے ایک صاع کو تین کلو گرام بتایا ہے، اس لیے ان کے حساب سے (۹) کونئٹل غلے میں زکاۃ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1447) صحيح مسلم (979)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1559
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ زَكَاةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْبَخْتَرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ ایک وسق ساٹھ مہر بند صاع کا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالبختری کا سماع ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1559]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: پانچ «وَسْق» سے کم (غلے) میں زکاۃ نہیں۔ اور ایک «وَسْق» ساٹھ معیاری «صَاع» کا ہوتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوالبختری نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے براہ راست نہیں سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 24 (2488)، سنن ابن ماجہ/الزکاة (1832)، (تحفة الأشراف: 4042)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/59، 83، 97) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1832)
بيّن المؤلف علتھا وھي الإنقطاع،والشطر الأول صحيح دون قوله ’’والوسق ستون مختومًا ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا مَخْتُومًا بِالْحَجَّاجِيِّ.
ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1560]
جناب ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ: ایک «وَسَقٌ» ساٹھ مہر لگے ہوئے «حَجَّاجِی صَاعٌ» کا ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18401) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا صُرَدُ بْنُ أَبِي الْمَنَازِلِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبًا الْمَالِكِيَّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَنَا بِأَحَادِيثَ مَا نَجِدُ لَهَا أَصْلًا فِي الْقُرْآنِ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: أَوَجَدْتُمْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا شَاةً شَاةٌ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا بَعِيرًا كَذَا وَكَذَا أَوَجَدْتُمْ هَذَا فِي الْقُرْآنِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَعَنْ مَنْ أَخَذْتُمْ هَذَا؟ أَخَذْتُمُوهُ عَنَّا وَأَخَذْنَاهُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ نَحْوَ هَذَا.
حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے کہا: ابونجید! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی، عمران رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے: کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکاۃ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: پھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1561]
حبیب مالکی کا بیان ہے کہ ایک شخص نے (صحابی رسول) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابونجید! آپ لوگ ہمیں کچھ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جن کی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی۔ اس پر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور اس سے کہا: کیا تمہیں قرآن میں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکوٰۃ) ہے؟ اور ہر اتنی اتنی تعداد بکریوں میں ایک بکری ہے؟ اور اتنے اتنے اونٹوں میں یہ کچھ (زکوٰۃ) ہے؟ کیا تم لوگوں کو یہ سب قرآن میں ملتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تو تم نے یہ (مسائل و احکام) کس سے لیے ہیں؟ بلاشبہ تم یہ ہم (صحابہ) ہی سے لیتے ہو اور ہم نے انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے۔ (سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) اس طرح کی اور بھی کئی چیزیں ذکر کیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10791) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی صرد اور حبیب لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی بہت سے دینی مسائل و احکام قرآن مجید میں نہیں ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں بیان کئے گئے ہیں، تو جس طرح قرآن کی پیروی ضروری ہے اسی طرح حدیث کی پیروی بھی ضروری ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے «ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه» مجھے قرآن ملا ہے، اور اسی کے ساتھ اسی جیسا اور بھی دیا گیا ہوں یعنی حدیث شریف، پس حدیث قرآن ہی کی طرح لائق حجت و استناد ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صرد بن أبي المنازل و حبيب بن أبي فضلان مستوران (مجھولا الحال)
و روي ابن حبان في الثقات (248/7) بسند حسن عن الحسن البصري قال: ’’ بينما نحن عند عمران بن حصين إذ قال له رجل : يا أبا نجيد ! حدثنا بالقرآن،قال : أليس تقرأ القرآن ﴿ اقيموا الصلاة و اٰتوا الزكوة ﴾ أكنتم تعرفون مواقيتھا و ركوعھا و سجودھا و حدودھا ؟ أكنت تدري كم الزكاة في الورق و الذھب والإبل والغنم و أصناف المال ؟ شھدت و وعيت فرض رسول اللّٰه ﷺ الزكاة كذا و كذا،فقال الرجل : أحييتني أحياك اللّٰه أبا نجيد ! قال: فما مات (ذلك) الرجل حتي صار من فقھاء المسلمين‘‘ وسنده حسن وھذا يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب الْعُرُوضِ إِذَا كَانَتْ لِلتِّجَارَةِ هَلْ فِيهَا مِنْ زَكَاةٍ
باب: کیا تجارتی سامان میں زکاۃ ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے امابعد کہا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1562]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جو مال ہم تجارت کے لیے تیار کریں اس سے صدقہ (زکوٰۃ) دیا کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4618) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی خبیب مجہول ہیں، لیکن مال تجارت پر زکاة اجماعی مسئلہ ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تجارت کا مال اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں بھی زکاۃ ہے، اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خبيب : مجهول
وجعفر : ضعيف
انظر الحديث المتقدم (975)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب الْكَنْزِ مَا هُوَ وَزَكَاةِ الْحُلِيِّ
باب: کنز کیا ہے؟ اور زیور کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، الْمَعْنَى أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا:" أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟" قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا، فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی، اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دئیے اور بولی: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1563]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ (شعیب) اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے پوچھا: کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تمہیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے؟ چنانچہ اس عورت نے ان کو اتارا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور کہنے لگی: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 19 (2481، 2482)، (تحفة الأشراف: 8682)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 204، 208) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1809)
أخرجه النسائي (2481 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ:" مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ، فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں سونے کے اوضاح ۱؎ پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال اتنا ہو جائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے وہ کنز نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1564]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سونے کے ہار پہنا کرتی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ «الْكَنْزُ» کنز ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زکوٰۃ کی مقدار کو پہنچ جائے اور اس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو وہ «الْكَنْزُ» کنز نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18199) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک قسم کا زیور ہے جسے پازیب کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن المرفوع منه فقط
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء بن أبي رباح لم يسمع من أم سلمة رضي اللّٰه عنھا كما قال علي بن المديني:(المراسيل لابن أبي حاتم ص155)
وللمرفوع شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟" فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟" قُلْتُ: لَا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ:" هُوَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ".
عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آپ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1565]
عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، آپ نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں چاندی کی (موٹی موٹی) انگوٹھیاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر زینت کے لیے پہنا ہے اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، یا اسی طرح کی کوئی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے جہنم میں لے جانے کے لیے یہی کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16200) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں