🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. الرُّكْنُ وَالْمَقَامُ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَوَاقِيتِ الْجَنَّةِ
رکن اور مقام (ابراہیم) جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1696
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن إبراهيم (1) بن مِهْران الثَّقَفي إملاءً من أصل كتابه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أحمد بن هشام بن بَهْرام المَدائني، حدثنا داود بن الزّبْرِقان، حدثنا أيوب السَّخْتِياني، عن قتادةَ، عن أنسٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"الرُّكنُ والمَقامُ ياقوتَتانِ من يَواقِيتِ الجنة" (2) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رکن اور مقام جنتی یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1696]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1697
وحدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَويهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو يحيى رجاء بن يحيى (3) ، حدثنا مُسافِع ابن شَيْبة، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرٍو أنشَدَ بالله ثلاثًا - ووَضَعَ إِصْبَعَيهِ فِي أُذُنيه -: لَسَمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الرُّكنُ والمَقَام ياقوتَتَان من يَوَاقيتِ الجنة، طَمَسَ الله نُورَهما، ولولا ذلك لأضاءتا ما بينَ المَشرِقِ والمَغرِب" (1) . وهذا شاهدٌ لحديث الزُّهري عن مُسافِع.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رکن اور مقام جنتی یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی کو کم کر دیا ہے، اگر ان کی روشنی کو کم نہ کیا ہوتا تو یہ مشرق سے لے کر مغرب تک پوری روئے زمین کو روشن کر دیتے۔ ٭٭ یہ حدیث زہری کی مسافع سے روایت کردہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1697]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1698
حدثنا عبد الصَّمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب، حدثنا ثابت بن يزيد، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إنَّ لهذا الحجر لسانًا وشَفَتَين، يشهَدُ لمن استَلَمَه يومَ القيامةِ بحقٍّ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حجر اسود کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اپنے استلام کرنے والوں کے حق میں قیامت کے روز گواہی دے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1698]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ يَمِينُ اللَّهِ الَّتِي صَافَحَ بِهَا خَلْقَهُ
حجرِ اسود اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد. وحدثنا أبو حفص عمر بن أحمد الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبد الله بن المُؤمَّل قال: سمعتُ عطاءً يحدِّث عن عبد الله بن عمرٍو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يأتي الرُّكنُ يوم القيامة أعظمَ من أبي قُبَيس، له لسانٌ وشَفَتانِ يتكلَّم عمَّن استَلَمَه بالنِّية، وهو يمينُ الله التي يُصافِح بها خَلْقَه" (1) . وقد روي لهذا الحديث شاهدٌ مفسَّر، غير أنه ليس من شرط الشيخين، فإنهما لم يحتجا بأبي هارون عُمارة بن جُوَين العَبْدي:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن رکن کوہِ ابوقبیس سے بڑا ہو کر آئے گا، اس کی زبان اور ہونٹ ہوں گے اور یہ ان لوگوں کی شفاعت کرے گا جنہوں نے اچھی نیت سے اس کا استلام کیا ہو گا، اور یہ اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے۔ ٭٭ اس حدیث کی ایک مفسر شاہد حدیث بھی ہے۔ لیکن وہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر نہیں ہے۔ کیونکہ انہوں نے ابوہارون عمارہ بن جوین عبدی کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1699]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1700
أخبرَناه أبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل من أصل كتابه حدثنا محمد بن صالح الكِيلِيني (2) ، حدثنا محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العَمِّي، عن أبي هارونَ العَبْدي، عن أبي سعيد الخُدْري قال: حَجَجْنا مع عمر بن الخطاب، فلمّا دَخَلَ الطوافَ استقبَلَ الحَجَرَ فقال: إنِّي أعلمُ أنك حَجَرٌ لا تَضَرُّ ولا تَنفَعُ، ولولا أنِّي رأيتُ رسول الله ﷺ قبَّلكَ ما قبَّلتُك. ثم قبَّله، فقال له عليُّ بن أبي طالب: بلى يا أميرَ المؤمنين، إنه يضُرُّ ويَنفعُ، قال: بِمَ قلتَ؟ قال: بكتاب الله ﵎، قال: وأينَ ذلك من كتاب الله؟ قال: قال الله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ [الأعراف: 172] ، خَلَقَ الله آدمَ ومَسَحَ على ظهره، فقرَّرهم بأنه الربُّ وأنهم العَبيد، وأخذ عُهودَهم ومَوَاثِيقَهم، وكَتَبَ ذلك في رَقٍّ، وكان لهذا الحَجَرِ عينانِ ولسانٌ فقال له: افتحْ فاكَ، قال: فَفَتَحَ فاهُ فأَلقَمَه ذلك الرَّقَّ، وقال: اشْهَدْ لِمَن وافاكَ بالمُوافاةِ يومَ القيامة، وإنِّي أشهدُ لَسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"يُؤتى يومَ القيامة بالحَجَر الأسود وله لسانٌ ذَلِقٌ يَشهدُ لمن يَستلمُه بالتوحيد"، فهو يا أميرَ المؤمنين يضرُّ ويَنفعُ، فقال عمر: أعوذُ بالله أن أعيشَ في قومٍ لستَ فيهم يا أبا حسن (1) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کے لیے گئے، جب ہم طواف کرنے لگے تو آپ حجر اسود سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ تو نقصان دے سکتا ہے نہ فائدہ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا (یہ کہنے کے بعد) پھر آپ نے اس کا بوسہ لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے امیرالمومنین! یہ فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کتاب سے یہ بات ثابت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کتاب اللہ کے کس مقام پر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ ٰادَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَ اَشْھَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْآ بَلٰی (الاعراف: 172) اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں؟ سب بولے: کیوں نہیں۔ (، امام رضا) ٭٭ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان سے اپنی ربوبیت اور ان کی عبودیت کا اقرار کروایا اور ان سے پختہ عہد و پیمان لیے اور یہ معاہدہ ایک کھال پر لکھا اور اس پتھر کی آنکھیں اور زبان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو کہا: اپنا منہ کھول! اس نے منہ کھولا! تو اللہ تعالیٰ نے یہ کھال اس کے منہ میں ڈال اس کو کھلا دی، پھر فرمایا: جو شخص تیرے ساتھ وعدہ پورا کرے تو قیامت کے دن اس کی وفاداری گواہی دینا (اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ حجراسود کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور یہ بڑی فصیح و بلیغ آواز میں ان لوگوں کے لیے گواہی دے گا جنہوں نے توحید کے ساتھ اس کا استلام کیا ہو گا، اس لیے اے امیرالمومنین! یہ پتھر فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: اے ابوحسن! جس قوم میں تم نہ ہو، اس قوم میں زندگی گزارنے سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1700]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. وَضْعُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ مَكَانَهُ عِنْدَ بِنَاءِ الْبَيْتِ
رسولُ اللہ ﷺ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر رکھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1701
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن السَّرِي، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن هلال بن خبَّاب، حدثنا مجاهد قال: قال لي مولاي عبدُ الله بنُ السائب: كنتُ فيمن بَنَى البيت، فأخذتُ حَجَرًا فسوَّيتُه، فوضعتُه إلى جنب البيت، قال: فكنتُ أعبدُه، فإن كان لَيَكونُ في البيت الشيءُ أبعثُ به إليه، حتى إذا كان يومًا لَبَنٌ طَيِّبٌ فبعثتُ به إليه، فصَبُّوه عليه. وإنَّ قريشًا اختلفوا في الحَجَر حين أرادوا أن يَضَعُوه، حتى كادَ أن يكون بينهم قتالٌ بالسيوف، فقالوا: اجعلوا بينَكم أوّلَ رجلٍ يدخل من الباب، فدخل رسولُ الله ﷺ، فقالوا: هذا الأمينُ، وكانوا يُسمُّونَه في الجاهلية الأمينَ، فقالوا: يا محمدُ، قد رَضِينا بك، فدعا بثوبٍ فبَسَطَه، ووَضَعَ الحجرَ فيه، ثم قال لهذا البَطْن ولهذا البَطْن - غير أنه سمى بُطونًا -:"ليأخُذْ كلُّ بطنٍ منكم بناحيةٍ من الثَّوب"، ففَعَلُوا، ثم رَفَعوه، وأخذه رسولُ الله ﷺ فَوَضَعَه بيده (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه:
سیدنا مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے میرے غلام عبداللہ بن سائب نے بتایا ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی ہے، میں نے حجر اسود کو اٹھا کر بیت اللہ کی طرف رکھ دیا۔ وہ فرماتے ہیں: میں اس کی عبادت کیا کرتا تھا۔ ہمارے گھر میں کوئی بھی چیز ہوتی تو میں وہ اس کی طرف بھیج دیتا یہاں تک کہ ایک دن بہت عمدہ دودھ تھا، میں نے وہ بھی اس کی طرف بھیج دیا تو لوگوں نے وہ دودھ اس کے اوپر بہایا۔ اور جب حجر اسود کے رکھنے کا وقت آیا تو قریش کا آپس میں شدید اختلاف ہو گیا، قریب تھا کہ ان کے درمیان ایک ہولناک جنگ چھڑ جاتی، ایک شخص نے مشورہ دیا کہ جو شخص سب سے پہلے بیت اللہ کے دروازے سے داخل ہو، اس سے فیصلہ کروا لیا جائے (اتفاقاً سب سے پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے۔ لوگوں نے کہا: یہ امین ہیں، زمانۂ جاہلیت میں لوگ آپ کو امین کہا کرتے تھے، سب نے کہا: اے محمد! ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر منگوا کر بچھائی اور پتھر اُٹھا کر اس میں رکھ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قبیلے والوں سے کہا: وہ چادر کے کنارے کو پکڑ لیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور چادر کو اُٹھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پکڑ کر اپنے ہاتھ سے نصب کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1701]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. قِصَّةُ بِنَاءِ الْبَيْتِ وَتَعْمِيرُهُ مِرَارًا
خانۂ کعبہ کی تعمیر اور اس کی بار بار مرمت کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1702
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان الجَوهَري، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك بن حرب، عن خالد بن عَرْعَرةَ قال: لما قُتِل عثمان ذُعِر الناسُ في ذلك اليوم ذُعرًا شديدًا، وكان سلُّ السيف فينا عظيمًا، فقعدتُ في بيتي، فعَرَضَتْ لي حاجةٌ في السوق، فخرجتُ، فإذا في ظلِّ القصرِ نَفَرٌ جلوسٌ نحوًا من أربعين رجلًا، وإذا سلسلةٌ معروضةٌ على الباب، فأردتُ أن أدخل، فمَنَعَني البواب، فقال القوم: دَعِ الرجلَ، فدخلتُ، فإذا أشرافُ الناس ووجوهُهم، فجاء رجلٌ جميلٌ في حُلَّةٍ ليس عليه قميصٌ ولا عِمَامةٌ، فقَعَدَ، فإذا عليُّ بن أبي طالب، ثم قال: إنَّ إبراهيم لما أراد بناءَ البيت ضاقَ به ذَرْعًا، فلم يَدْرِ ما يَصنَع، فأرسل الله السَّكينةَ، وهي ريحُ خَجُوجٌ، فانطَوتْ، فجعل يبني عليها كلَّ يوم سافًا (1) ومكةُ شديدةُ الحرّ، فلمَّا بلغ موضعَ الحَجَر، قال لإسماعيل: اذهب فالتمِسْ حَجَرًا فضَعْه هاهنا. فجعل يطوف في الجبال، فجاء جبريلُ بالحَجَر فَوَضَعَه، فجاء إسماعيل فقال: مَن جاء بهذا؟ أو من أين هذا؟ أو من أين أُتي بهذا؟ فقال: جاء به مَن لم يتَّكِلْ على بنائي وبنائِكَ، فَبَنَاه. ثم انهَدَمَ، فَبَنَتْه العَمالقةُ، ثم انهَدَمَ فَبَنَتْه جُرْهُم، ثم انهَدَمَ فَبَنَتْه قريش، فلما أرادوا أن يضعوا الحَجَر تشاجروا في وضعِه، فقالوا: أولُ من يَخرج من هذا الباب فهو يضعُه، فخرج رسولُ الله ﷺ من قِبَل باب بني شَيْبَة، فَأَمَرَ بثوبٍ فَبُسِطُ، فَوَضَعَ الحَجَرَ في وَسَطِه، ثم أَمَرَ رجلًا من كلِّ فَخِذٍ من أفخاذ قريشٍ أن يأخذ بناحيةِ الثِّياب، فأخذَه رسولُ الله ﷺ بيدِه فَوَضَعَه (2) . قد اتفَقَ الشيخان على إخراج الحديث الطويل عن أيوب السَّخْتِياني وكَثِير بن كثير عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس قصةَ بناءِ الكعبة أولَ ما بناه إبراهيمُ الخليل ﵇ (1) ، وهذا غيرُ ذاك.
سیدنا خالد بن عرعرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن لوگوں میں شدید خوف و حراس پھیل گیا اور ایک بہت بڑا فساد کھڑا ہو گیا تھا، اس لیے میں گھر میں بیٹھ گیا، اس دن ایک ضروری کام کی بناء پر میں گھر سے نکلا تو میں نے ایک عمارت کے سائے میں کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا، ان کی تعداد چالیس کے قریب ہو گی، میں نے دیکھا کہ دروازے پر ایک زنجیر لٹک رہی ہے، میں نے اس میں داخل ہونا چاہا لیکن دربانوں نے مجھے منع کر دیا۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: اس شخص کو جانے دو (انہوں نے مجھے اجازت دے دی) تو میں اندر داخل ہو گیا، جہاں پر معززینِ علاقہ بیٹھے ہوئے تھے پھر ایک خوبصورت نوجوان وہاں پر آیا۔ جس نے ایک بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اور قمیص اور عمامہ نہیں پہنا تھا وہ آ کر بیٹھ گیا (جب میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ) وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے فرمایا: جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو وہ اس کی پیمائش کے حوالے سے پریشان ہو گئے اور سمجھ نہ آئی کہ وہ (اس کی پیمائش) کس طرح کریں۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر سکینہ (رحمت، تیز ہوا یا ایسی ہوا جس کا چہرہ بلی جیسا تھا، اس کے دو پَر تھے اور ایک دم تھی، یا اس کی شکل انسان جیسی تھی) نازل فرمائی وہ (کعبہ کے مقام پر آ کر) سمٹ گئی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (سکینہ کی نشاندہی کے مطابق) روزانہ اس کا کچھ حصہ تعمیر کر لیا کرتے تھے اور مکہ میں موسم شدید گرم ہوتا ہے۔ جب تعمیر حجر اسود کے مقام پر پہنچی تو (دیوار میں ایک پتھر کم رہ گیا) سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے کہا: آپ جاؤ اور کوئی پتھر ڈھونڈ کر لاؤ اور اس کو یہاں پر رکھ دو، سیدنا اسماعیل علیہ السلام پہاڑوں میں جا کر پتھر ڈھونڈنے لگے، ان کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام ایک پتھر لے کر آئے اور ان کو دے دیا، سیدنا اسماعیل علیہ السلام وہ پتھر لے کر آ گئے، ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا: یہ پتھر کون لایا ہے؟ یا (شاید یہ کہا) یہ کہاں کا پتھر ہے؟ یا (شاید یہ کہا) یہ پتھر کہاں سے لایا گیا ہے؟ سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا: یہ وہ لایا ہے جو میری اور آپ کی تعمیر کا محتاج نہیں۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر مکمل کر دی۔ پھر اس کو گرایا گیا۔ پھر عمالقہ نے اس کو بنایا۔ پھر منہدم ہوا تو جرہم نے اسے بنایا، پھر منہدم ہوا تو قریش نے اس کی تعمیر کی، انہوں نے جب حجر اسود نصب کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے نصب کرنے میں وہ لوگ آپس میں لڑ پڑے، پھر یہ طے ہوا کہ جو شخص اس دروازے سے سب سے پہلے داخل ہو گا وہ اس کو نصب کرے گا (تو اتفاقاً سب سے پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بابِ بنی شیبہ کی جانب سے تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا منگوا کر بچھا دیا اور حجر اسود اس کے درمیان رکھ دیا۔ پھر قریش کے قبیلوں میں سے ہر قبیلے کے سردار کو حکم دیا۔ کہ وہ اس کپڑے کے کنارے کو پکڑ لے (جب ان سب نے مل کر کپڑے کے کناروں سے پکڑ کر حجر اسود اٹھا لیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خود اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر نصب کر دیا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایوب سختیانی اور کثیر بن کثیر کی سند کے ہمراہ سعید بن جبیر کے واسطے سے تعمیر کعبہ کا تفصیلی قصہ نقل کیا ہے۔ جس میں یہ ہے کہ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی جبکہ یہ حدیث اس سے کچھ مختلف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1702]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1703
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكِّيّ بن إبراهيم، حدثنا عبيد الله بن أبي زياد. وحدثنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب وسَلْم بن جُنادةَ، قالا: حدثنا وكيع، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثنا عبيد الله بن أبي زياد، عن القاسم، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال:"إنَّما جُعِل رميُ الجِمار والطَّواف والسَّعي بين الصَّفَا والمَرْوة لإقامةِ ذِكرِ الله لا لغيرِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطانوں کو کنکریاں مارنا اور طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا، ذکر اللہ قائم کرنے کے لیے ہے۔ اس کی غرض کچھ اور نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1703]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. إِنَّ الطَّوَافَ مِثْلُ الصَّلَاةِ
طواف نماز کی مانند ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1704
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن صالح الهمذاني، حدثنا عبد الصمد بن حسان، حدثنا سفيان الثوري، عن عطاء بن السائب، عن طاووس، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"الطَّوافُ بالبيت صلاةٌ إِلَّا أَنَّ الله قد أحلَّ لكم فيه الكلام، فمَن تكلَّمَ فلا يتكلَّمْ إلَّا بخير" (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیت اللہ کا طواف بھی نماز ہے۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دوران گفتگو جائز کی ہے۔ تو جو شخص بات کرے وہ اچھی بات کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1704]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1705
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن طاووس، عن ابن عباسٍ رَفَعَه إلى النبي ﷺ قال:"إنَّ الطَّواف بالبيت مِثلُ الصلاة، إلَّا أنكم تتكلَّمونَ، فمن تكلَّم فلا يتكلَّمْ إلا بخير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد أوقفه جماعة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیت اللہ کا طواف، نماز کی طرح ہے۔ سوائے اس کے کہ تم اس میں گفتگو کر سکتے ہو، اس لیے جو گفتگو کرے، وہ اچھی کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کو محدثین رحمۃ اللہ علیہم کی ایک جماعت نے موقوف کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1705]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں