المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. تَلْبِيَةُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ يَمِينِ الْمُلَبِّي وَشِمَالِهِ
تلبیہ کہنے والے کے دائیں بائیں زمین کی ہر چیز کا تلبیہ کہنا۔
حدیث نمبر: 1676
أخبرنا أبو عمرو عثمانُ بن أحمد بن عبد الله بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا أبي، قال: سمعتُ محمد بن إسحاق يحدِّث عن أبي الزِّناد، عن عائشةَ بنت سعد بن أبي وقاصٍ قالت: قال سعد بنُ أبي وقّاص: كان رسول الله ﷺ إذا أخَذَ طريقَ الفُرْع أهلَّ إذا استقلَّت به راحلتُه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چھوٹے راستے کی طرف نکلے، جب ان کی اونٹنی اس راستے پر سیدھی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح کہی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1676]
26. حِلَّةُ لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَادَ لَهُ
محرم کے لیے شکار کے گوشت کا حلال ہونا، بشرطیکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 1677
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحسين بن الحسن المُهاجري، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني يعقوب بن عبد الرحمن الزُّهري ويحيى بن عبد الله بن سالم، أن عَمْرًا مولى المُطَّلب أخبرهما عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطب، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"لَحمُ صَيدِ البَرِّ لكم حلالٌ، وأنتم حُرُم ما لم تَصِيدُوه أو يُصاد (1) لكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: حالت احرام میں تمہارے لیے خشکی کے جانور کا گوشت حلال ہے، جب تک کہ اس کا شکار تم نے بذاتِ خود نہ کیا ہو یا کسی دوسرے نے تمہارے لیے اس کا شکار نہ کیا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1677]
حدیث نمبر: 1678
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا إسحاق بن عيسى بن الطَّباع، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن ابن عباسٍ أنه قال: يا زيدُ بنَ أرقمَ، هل عَلِمتَ أنَّ رسول الله ﷺ أُهدِيَ له بَيضاتُ نعامٍ وهو حرامٌ فردَّهُنَّ؟ قال: نعم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عطا فرماتے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں شتر مرغ کے انڈے ہدیہ کے طور پر پیش کیے گئے تھے لیکن آپ نے وہ واپس کر دیے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1678]
حدیث نمبر: 1679
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني عبد الله بن عُبيد بن عُمَير، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي عمّارٍ قال: لقيتُ جابرَ بنَ عبد الله فسألتُه عن الضَّبُع، أنأكلُها؟ فقال: نعم، قلتُ: أصيدٌ هي؟ قال: نعم، قلت: أسمعتَه من رسولِ الله ﷺ؟ قال: نعم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد لخّصَه جَرِير بن حازم عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد لخّصَه جَرِير بن حازم عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير:
سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری ملاقات سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا ہم ” بجو “ کھا سکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1679]
حدیث نمبر: 1680
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، عن جَرِير بن حازم، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن عبد الرحمن بن أبي عمَّار، عن جابر بن عبد الله قال: جَعَلَ رسولُ الله ﷺ في الضَّبُع يُصيبُه المُحرِمُ كَبْشًا نجديًّا، وجَعَلَه من الصَّيد (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جابر سے کہا: کیا ” بجو “ کھایا جاتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ (انہوں نے کہا: جی ہاں۔) میں نے پوچھا: کیا تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ جریر بن حازم نے عبداللہ بن عبید بن عمیر سے انہوں نے عبدالرحمن بن ابی عمار کے واسطے سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ اگر بجو کو محرم شکار کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نجدی مینڈھا لازم کیا ہے اور اس کو شکار قرار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1680]
حدیث نمبر: 1681
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجَرَّاح بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيْهِ، حدثنا محمد بن أبي يعقوب، حدثنا حسان بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم الصائغ، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ:"الضَّبُعَ صَيدٌ، فإذا أصابه المُحرِمُ ففيه جزاءٌ؛ كَبْشٌ مُسِنٌّ، ويُؤكَل" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن ميمون الصائغ زاهدٌ عالمٌ، أدرك الشهادة ﵁.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بجو شکار ہے، اگر کوئی اس کا شکار کرے تو اس کی سزا ایک دو سالہ مینڈھا ہے اور اس کا گوشت کھایا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ابراہیم بن میمونہ صائغ عبادت گزار تھے، عالم تھے اور انہوں نے شہادت پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1681]
27. الْحِجَامَةُ لِلْمُحْرِمِ
محرم کے لیے پچھنا لگوانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1682
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا زكريا بن إسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، عن طاووسٍ، قال: قال ابن عباس: احتَجَمَ رسولُ الله ﷺ وهو مُحرِم على رأسِه (1) .
هذا حديث مُخرَّج بإسناده في الصحيحين" دون ذكر الرأس، وهو صحيح على شرطهما.
هذا حديث مُخرَّج بإسناده في الصحيحين" دون ذكر الرأس، وهو صحيح على شرطهما.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر پر پچھنے لگوائے۔ ٭٭ یہ حدیث اسی سند کے ہمراہ صحیحین میں مذکور ہے۔ تاہم اس میں سر کا ذکر نہیں ہے اور یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1682]
حدیث نمبر: 1683
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا يحيى بن مَعين، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعْمَر، عن قَتادة، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ احتَجَمَ وهو مُحرِمٌ على ظهر القَدَمين من وَجَعٍ كان به (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں پاؤں کی پشت پر درد کی وجہ سے پچھنے لگوائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1683]
28. قَتْلُ الْحَيَّةِ فِي الْحَرَمِ
حرم میں سانپ کو قتل کرنے کی اجازت۔
حدیث نمبر: 1684
حدثنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ، حدثنا أبي، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا حفص بن غِيَاث، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن الأسْوَد، عن عبد الله: أنَّ النبيَّ ﷺ أَمَرَ مُحْرِمًا أن يَقتُلَ حيّةٌ في الحَرَم بمِنَى (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں منٰی میں سانپ کو مارنے کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1684]
29. الْمُحْرِمُ يُؤَدِّبُ غُلَامَهُ
احرام باندھے ہوئے شخص کا اپنے غلام کی تادیب کرنا۔
حدیث نمبر: 1685
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا الحسن بن الرَّبيع، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن أسماء بنت أبي بكر الصديق قالت: خَرَجْنا مع رسول الله ﷺ حُجّاجًا، وإِنَّ زِمَالَةَ رسول الله ﷺ وزِمَالةَ أبي بكرٍ واحدةٌ، فنَزَلْنَا العَرْج، وكانت زِمَالتُنا مع غلامِ أبي بكر، قالت: فجلس رسولُ الله ﷺ، وجلست عائشةُ إلى جَنْبه، وجلس أبو بكر إلى جَنْب رسول الله ﷺ من الشِّقِّ الآخَر، وجلستُ إلى جَنْبِ أبي ننتظرُ غلامَه وزمالَتَه حتى يأتِيَنا، فاطَّلَع الغلامُ يمشي ما مَعَه بعيرُه، قال: فقال له أبو بكر: أين بعيرُك؟ قال: أَضلَّني الليلةَ، قالت: فقام أبو بكرٍ يَضربُه ويقول: بعيرٌ واحدٌ أضلَّك وأنت رجل؟! فما يزيدُ رسولُ الله ﷺ على أن يتبسَّمَ ويقول:"انظروا إلى هذا المُحرِم ما يَصنَعُ" (1) .
سیدہ اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لیے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر کا مال بردار اونٹ ایک تھا، ہم مقام عرج پر ٹھہرے اور ہمارا مال بردار اونٹ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے ساتھ تھا، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک جانب بیٹھ گئیں۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی دوسری جانب بیٹھ گئے اور میں اپنے والد کے پاس بیٹھ گئی، ہم لوگ ان کے غلام اور ان کے مال بردار اونٹ کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ کب ہم تک پہنچتے ہیں۔ تو وہ غلام پیدل چلتے ہوئے آیا، اس کے ہمراہ کوئی اونٹ وغیرہ نہیں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: رات کو وہ گم ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کو مارنے لگ گئے اور کہنے لگے: ایک اونٹ تھا وہ بھی تم سے گم ہو گیا۔ تم کس کام کے مرد ہو۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوائے اس کے اور کچھ نہ کہا: اس محرم کو دیکھو کیا کر رہا ہے؟ ٭٭ یہ حدیث غریب ہے اور یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1685]