المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. الْجَرَسُ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ
گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔
حدیث نمبر: 1646
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا الرّبيع بن سليمان، حدثنا ابن وهب، حدثني سليمان بن بلال، حدثني العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"الجَرَسُ مِزْمارُ الشَّيطان" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1646]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب هو عبد الله، والعلاء: هو ابن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرَقة.» [ترقيم الرساله 1646] [ترقيم الشركة 1635]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
12. عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ
رات کے پچھلے حصے میں سفر اختیار کرو۔
حدیث نمبر: 1647
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا رُوَيْم بن يزيد، حدثنا الليث بن سعد. وحدثنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل العَنْبري، حدثنا محمد بن أسلَمَ العابد، حدثنا قَبِيصةُ بن عُقبة، حدثنا الليث بن سعد، عن عُقَيل، عن ابن شهاب، عن أنس بن مالكٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"عليكم بالدُّلْجة، فإنَّ الأرض تُطوَى باللّيل للمسافر" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رات کے آخری حصے میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ مسافر کے لیے رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1647]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على الليث بن سعد في وصله وإرساله، فقد خالف رويمَ بنَ يزيد وقبيصةَ بنَ عقبة جماعةٌ من الثقات فرووه عن الليث عن عقيل عن الزهري عن النبي ﷺ مرسلًا، وصحح المرسلَ البخاريُّ ومسلم والترمذي والدارقطني وغيرهم، كما سيأتي. أبو بكر بن إسحاق: هو ...» [ترقيم الرساله 1647] [ترقيم الشركة 1636]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1648
أخبرني أبو بكر أحمد بن محمد بن بالَويهِ، حدثنا محمد بن رِبْح (1) السَّمّاك، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد سلمة، حمُيَد، عن بكر بن عبد الله، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي قَتادةَ: أنَّ رسولَ اللهِ ﷺ كَان إِذا عَرَّسَ بليلٍ اضطَجَعَ على يمينه، وإذا عَرَّسَ قبل الصُّبح نَصَبَ ذراعيه نَصْبًا، ووضَعَ رأسه على كفِّه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت (سفر میں) پڑاؤ ڈالتے تو اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے، اور اگر صبح (فجر) سے ذرا پہلے پڑاؤ ڈالتے تو اپنے بازوؤں کو کھڑا کر لیتے اور اپنا سر مبارک اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1648]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،حميد: هو ابن أبي حميد الطويل، وبكر بن عبد الله: هو المزني.» [ترقيم الرساله 1648] [ترقيم الشركة 1637]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
13. أَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتِ الرِّجْلُ
جب پاؤں تھک جائیں تو باہر نکلنا کم کرو۔
حدیث نمبر: 1649
حدثنا علي بن عيسى بن إبراهيم حدثنا أبو يحيى زكريا بن داود، حدثنا إسحاق بن إبراهيم ويوسف بن موسى: قالا: حدثنا جَرير، عن محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التَّيمي، عن عطاء بن يسار، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ:"أقِلُّوا الخروجَ إذا هَدَأَتِ الرِّجلُ، إِنَّ الله يَبُثُّ من خَلْقِه باللَّيل ما شاء" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آمد و رفت تھم جائے تو باہر نکلنا کم کر دیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کے وقت اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے (زمین پر) پھیلا دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1649]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بسماعه لهذا الحديث من محمد بن إبراهيم عند ابن حبان (5518). إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه الحافظ، وجرير: هو ابن عبد الحميد.» [ترقيم الرساله 1649] [ترقيم الشركة 1638]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1650
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرةَ قال: جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ يُريدُ سَفَرًا، فقال: يا رسول الله، أَوْصِني، فقال:"أُوصِيكَ بتقوى الله، والتَّكبيرِ على كلِّ شَرَف"، فلما مضى قال:"اللهمَّ ازْوِ له الأرضَ، وهَوِّن عليه السَّفَر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں“، پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «اللهمَّ ازْوِ له الأرضَ، وهَوِّن عليه السَّفَر» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس پر سفر کو آسان کر دے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1650]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي وهو في "مسند أحمد" 15/ (9724) و 16/ (10165).» [ترقيم الرساله 1650] [ترقيم الشركة 1639]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
14. الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ قَرْيَةٍ يُرِيدُ دُخُولَهَا
اس بستی کو دیکھ کر دعا کرنا جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہو۔
حدیث نمبر: 1651
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني حفص بن مَيْسَرة، عن موسى بن عُقْبة، عن عطاء بن أبي مروان، عن أبيه، أنَّ كعبًا حدّثه، أنَّ صهيبًا صاحبَ النبي ﷺ حدَّثه: أنَّ النبي ﷺ لم يَرَ قريةً يريدُ دخولَها إلا قال حين يراها:"اللهم ربَّ السماواتِ السبع وما أظلَلْنَ، وربَّ الأَرَضِينَ السَّبع وما أقلَلْنَ، وربَّ الشياطينِ وما أضلَلْنَ، وربَّ الرِّياح وما ذَرَينَ، فإنا نسألُكَ خيرَ هذه القريةِ وخيرَ أهلِها، ونعوذُ بك من شرِّها وشرِّ أهلها وشرِّ ما فيها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی بستی کو دیکھتے جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو اسے دیکھتے ہی یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور ان تمام چیزوں کے رب جن پر انہوں نے سایہ کیا ہے، اور ساتوں زمینوں اور ان تمام چیزوں کے رب جنہیں انہوں نے اٹھایا ہوا ہے، اور شیطانوں اور ان کے رب جنہیں انہوں نے گمراہ کیا، اور ہواؤں اور ان کے رب جنہیں وہ اڑاتی پھرتی ہیں، ہم تجھ سے اس بستی کی خیر، اس کے مکینوں کی خیر اور اس میں موجود بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور ہم اس بستی کے شر، اس کے رہنے والوں کے شر اور اس میں موجود ہر برائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1651]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي مروان الأسلمي والد عطاء، واختلف في اسمه، كما اختلف في صحبته، وذكره العجلي وابن حبان في ثقات التابعين، وهو متابع، ومن دونه ثقات.» [ترقيم الرساله 1651] [ترقيم الشركة 1640]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
15. كَانَ لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا وَدَّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ
آپ ﷺ کسی منزل پر اترتے تو اسے دو رکعت نماز کے ساتھ رخصت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 1652
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد الخيَّاط ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عثمان بن سعد، عن أنس بن مالك قال: كان النبيُ ﷺ لا ينزلُ منزلًا إلّا وَدَّعَه بركعتين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (سفر کے دوران) جس مقام پر بھی قیام فرماتے تھے، وہاں سے کوچ کرنے سے پہلے اسے دو رکعت نماز کے ذریعے الوداع ضرور کہتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1652]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل.» [ترقيم الرساله 1652] [ترقيم الشركة 1641]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد
16. الدُّعَاءُ عِنْدَ بَدْءِ الْفَجْرِ فِي السَّفَرِ
سفر میں فجر طلوع ہونے کے وقت کی دعا۔
حدیث نمبر: 1653
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا سليمان بن بلال، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا كان في سفرٍ فبَدَا له الفجرُ قال:"سَمِعَ سامعٌ بحمدِ الله ونِعمتِه، وحُسنِ بَلائِه علينا، ربَّنا صاحِبْنا فأفضِلْ علينا، عائذًا (2) بالله من النار"، يقول ذلك ثلاثَ مراتٍ ويرفعُ بها صوته (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور فجر طلوع ہونے لگتی تو فرماتے: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَنِعْمَتِهِ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”سننے والے نے اللہ کی حمد، اس کی نعمت اور ہم پر اس کی بہترین آزمائش کو سن لیا، اے ہمارے رب! ہمارا ساتھی بن جا اور ہم پر اپنا فضل فرما، (میں یہ کلمات کہتا ہوں) آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے یہ کلمات تین مرتبہ دہراتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1653]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1653] [ترقيم الشركة 1642]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
17. الدُّعَاءُ فِي السَّفَرِ إِذَا أَدْرَكَ اللَّيْلَ
سفر میں رات ہو جانے پر پڑھی جانے والی دعا۔
حدیث نمبر: 1654
أخبرنا إبراهيم بن فِراس الفقيه بمكة، حدثنا بَكْر بن سَهْل الدِّمياطي، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُرَيح بن عُبيد الحَضْرميّ، أنه سمع الزُّبير بن الوليد يحدّث عن عبد الله بن عمر بن الخطّاب قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا غزا أو سافَرَ فأدرَكَه الليلُ قال:"يا أرضُ، ربِّي وربُّكِ الله، أعوذُ بالله من شَرَّ كلِّ أَسدٍ، وشرِّ كلِّ أسوَدَ، وحيّةٍ وعقربٍ، ومن ساكِنِي البلد، ومن شرِّ والدٍ وما وَلَده" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے یا سفر میں ہوتے اور رات کا وقت ہو جاتا تو فرماتے: «يَا أَرْضُ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ، وَشَرِّ كُلِّ أَسْوَدَ، وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ سَاكِنِي الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ» ”اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہر درندے کے شر سے، ہر سیاہ سانپ کے شر سے، سانپ اور بچھو کے شر سے، اس جگہ کے رہنے والوں (جنوں) کے شر سے، اور (ابلیس) باپ اور اس کی اولاد کے شر سے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1654]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، الزبير بن الوليد - وهو الشامي - وإن تفرد بالرواية عنه شريح ابن عبيد الحضرمي، فإنه تابعي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم يجرحه أحد، وحسَّن حديثه هذا الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" كما في "الفتوحات الربانية" لابن علان 5/ 164، وبكر بن سهل الدمياطي وإن ...» [ترقيم الرساله 1654] [ترقيم الشركة 1643]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
18. إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَغْتَسِلَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ
یہ سنت ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے اور مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1655
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أحمد بن أبي الطَّيِّب قال: قُرئ على أبي بكر بن عيَّاش وأنا أَنظُر في هذا الكتاب فأقرَّ به: عن يعقوب بن عطاء، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: اغتَسَلَ رسولُ الله ﷺ ثم لَبِس ثيابَه، فلما أتى ذا الحُلَيفة صلَّى ركعتين، ثم قَعَدَ على بعيرِه، فلمَّا استَوى به على البَيْداء أحرَمَ بالحجّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ يعقوب بن عطاء بن أبي رباح ممَّن جَمَعَ أئمةُ الإسم حديثه، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ يعقوب بن عطاء بن أبي رباح ممَّن جَمَعَ أئمةُ الإسم حديثه، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اور پھر اپنے کپڑے پہنے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو دو رکعت نماز ادا کی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، جب اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور یعقوب بن عطاء بن ابی رباح ان رواۃ میں سے ہیں جن کی احادیث کو ائمہ کرام نے جمع کیا ہے، مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک صحیح شاہد شیخین کی شرط پر بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1655]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور یعقوب بن عطاء بن ابی رباح ان رواۃ میں سے ہیں جن کی احادیث کو ائمہ کرام نے جمع کیا ہے، مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک صحیح شاہد شیخین کی شرط پر بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1655]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء: وهو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1655] [ترقيم الشركة 1644]
الحكم على الحديث: حسن لغيره