🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. التَّوْدِيعُ عِنْدَ السَّفَرِ
سفر کے وقت رخصت کرنے کا طریقہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1636
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عبادة، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: شَكَا ناسٌ إلى النبيِّ ﷺ المشيَ، فدعا بهم، فقال:"عليكم بالنَّسَلان"، فنَسَلْنا، فوجدناه أخفَّ علينا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدل چلنے (کی مشقت) کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا: تم «نسلان» (تیز قدمی اور ہلکے جھٹکوں کے ساتھ چلنے) کو لازم پکڑو، چنانچہ ہم نے اسی طرح چلنا شروع کیا تو اسے اپنے لیے (پیدل چلنے کے مقابلے میں) زیادہ ہلکا اور آسان پایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وجعفر بن محمد: هو ابن علي الصادق.» [ترقيم الرساله 1636] [ترقيم الشركة 1625]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ
اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں بہتر ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1637
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي، حدثنا عبد الصمد بن الفَضْل، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، أخبرنا حَيْوَةُ بن شُرَيح، أخبرني شُرَحْبيل بن شَرِيك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عمرو عن النبي ﷺ قال:"خيرُ الأصحاب عند الله خيرُهم لصاحبِه، وخيرُ الجيران عند الله خيرُهم لجارِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر اور خیر خواہ ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل شرحبيل بن شريك، فهو صدوق لا بأس به. أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المعافري.» [ترقيم الرساله 1637] [ترقيم الشركة 1626]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ
سب سے بہتر صحابہ چار ہیں اور بہترین لشکروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1638
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا وَهْب بن جَرِير حدثنا أبي، قال: سمعتُ يونس بن يزيد يحدِّث عن الزُّهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ الصحابة أربعةٌ، وخيرُ الجيوش أربعةُ آلاف، ولم يُغلَبْ اثنا عَشَرَ ألفًا من قِلَّة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاهن والخلاف فيه على الزهري من أربعة أوجه قد شرحتُها في كتاب"التلخيص".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین رفقاء (سفر کے ساتھی) چار ہیں، اور بہترین لشکر چار ہزار (مجاہدین) پر مشتمل ہوتا ہے، اور بارہ ہزار (کا مخلص لشکر) محض تعداد کی کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام زہری پر اس کی سند میں چار طرح کا اختلاف ہے جسے میں نے اپنی کتاب التلخیص میں واضح کر دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وقد اختلف في وصله وإرساله كما بيناه في تعليقنا على "مسند أحمد" 4/ (2682)، وصحَّح المرسل أبو داود في "السنن" وفي "المراسيل" والدارقطني في "العلل" (2617)، ورجحه أبو حاتم كما في "العلل" لابنه (1024)، وصحَّح الموصول ابن خزيمة وابن حبان وابن التركماني وابن القطان والضياء المقدسي، وحسنه الترمذي. ...» [ترقيم الرساله 1638] [ترقيم الشركة 1627]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1639
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن سعيد المَقبُري، عن عطاء، عن أبي هريرة قال: بَعَثَ رسول الله ﷺ بعثًا وهم نَفَر، فقال:"ماذا معكم من القرآن؟" فاستَقرَأَهم كذلك حتى مَرَّ على رجلٍ منهم هو من أحدَثِهم سِنًّا، فقال:"ماذا معك يا فلانُ؟"، قال: كذا وكذا وسورةُ البقرة، قال:"اذهب فأنتَ أميرُهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جو چند افراد پر مشتمل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باری باری ان سب کا امتحان لیا یہاں تک کہ ایک ایسے نوجوان کے پاس پہنچے جو ان سب میں عمر کے لحاظ سے سب سے چھوٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے فلاں! تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ اس نے عرض کیا: مجھے فلاں فلاں سورتیں اور سورہ بقرہ یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، تم ہی ان کے امیر ہو (کیونکہ تمہیں سورہ بقرہ جیسی عظیم سورت یاد ہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير عطاء - وهو مولى أبي أحمد - فلم يوثقه غير ابن حبان، ولم يرو عنه غير سعيد المقبري، وقال الذهبي في "الميزان" و "المغنى": لا يعرف، ثم إنَّ الليث بن سعد قد خالف عبد الحميد بن جعفر، فرواه عن سعيد المقبري عن عطاء عن النبي ﷺ مرسلًا، ...» [ترقيم الرساله 1639] [ترقيم الشركة 1628]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير عطاء - وهو مولى أبي أحمد - فلم يوثقه غير ابن حبان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. إِذَا كَانَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ
جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک کو امیر بنا لیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1640
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا جعفر بن أحمد بن سَنَان، حدثنا عمّار بن خالد، حدثنا القاسم بن مالك المُزَني، عن الأعمش، عن زيد بن وهبٍ قال: قال عمر بن الخطّاب: إذا كان نَفَرٌ ثلاثةٌ فليؤمِّروا أحدَهم، ذاك أميرٌ أمَّره رسولُ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تین افراد کا گروہ (سفر پر) ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا امیر مقرر کر لیں، وہ ایسا امیر ہو گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق امیر بنایا گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1640]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل القاسم بن مالك المزني، فهو لا بأس به، لكنه انفرد هنا بزيادة "ذاك أميرٌ أمَّره رسول الله ﷺ"، فقد رواه الثقات من أصحاب الأعمش من قول عمر دون هذه الزيادة، وبذلك أعله الدارقطني والبزار وأبو نعيم الأصبهاني والذهبي في "ميزانه" 3/ 378، قال الدارقطني في "العلل" ...» [ترقيم الرساله 1640] [ترقيم الشركة 1629]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. آدَابُ الرُّكُوبِ
سواری کے آداب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1641
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا محمد بن عبيد الطَّنافِسي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم التَّيميّ، عن عمر بن الحكم بن ثَوْبان، عن أَبي لاسٍ الخُزاعي قال: حَمَلَنا رسولُ الله ﷺ على إبلٍ من إبل الصدقة ضِعافٍ للحج، فقلنا: يا رسولَ الله، ما نُرَى أَن تَحْمِلَنا هذه، فقال:"ما من بعيرٍ إلَّا على ذُروتِه شيطان، فاذكروا اسمَ الله إذا رَكِبتُموها كما أمرَكُم، ثم امتَهِنُوها لأنفُسِكم، فإنما يَحمِلُ اللهُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حج کے لیے صدقے کے اونٹوں میں سے چند کمزور اونٹ دیے، تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا خیال نہیں کہ یہ ہمیں لے جا سکیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے، لہٰذا جب تم ان پر سوار ہو تو اللہ کا نام لو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر ان سے اپنے کام لو، کیونکہ اصل میں اللہ ہی سوار کر کے لے جاتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالتحديث عند أحمد في "المسند"، وصحابيه أبو لاس اختلف في اسمه، فقيل: عبد الله، وقيل: زياد.» [ترقيم الرساله 1641] [ترقيم الشركة 1630]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1642
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا شَبَابةُ بن سَوَّار، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن [سَهْل بن] (2) معاذ بن أنس، عن أبيه - وكان من أصحاب النبي ﷺ أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"اركَبُوا هذه الدَّوابَّ سالمةً، وايْتَدِعوها سالمةً، ولا تتَّخِذوها كراسيَّ" (1) .
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان جانوروں پر سلامتی کے ساتھ سوار ہو، اور انہیں سلامتی کے ساتھ ہی چھوڑو، اور انہیں کرسیاں نہ بناؤ (یعنی بلا ضرورت ان کی پشت پر بیٹھے نہ رہو)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1642] [ترقيم الشركة 1631]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1643
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا أسامة بن زيد، حدثني محمد بن حمزة بن عمرٍو الأسلَميّ، قال: سمعتُ أبي يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"فوقَ ظَهرِ كلِّ بعيرٍ شيطانٌ، وإذا رَكِبتموهنَّ فاذكُروا اسمَ الله، لا تُقَصِّروا عن حاجةٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرطه:
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی پشت پر ایک شیطان ہوتا ہے، پس جب تم ان پر سوار ہو تو اللہ کا نام ذکر کرو اور اپنی ضرورت پوری کرنے میں کمی نہ کرو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک شاہد ان کی شرط پر موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل سهل بن معاذ. إبراهيم بن الحسين: هو ابن ديزيل.» [ترقيم الرساله 1643] [ترقيم الشركة 1632]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1644
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَضْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ على كلِّ ذُرْوةٍ بعيرٍ شيطانًا، فامتَهِنُوهُنَّ بِالرُّكوب، فإنَّما يَحمِلُ اللهُ ﷿" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے، پس ان پر سواری کر کے انہیں کام میں لاؤ، کیونکہ سوار کر کے لے جانے والا تو اللہ عزوجل ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل ابن أبي الزناد، واسمه: عبد الرحمن بن عبد الله بن ذكوان، الأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز.» [ترقيم الرساله 1644] [ترقيم الشركة 1633]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. نَهَى عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِيِّ السِّقَاءِ
مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1645
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا موسى بن إسماعيل والحجاج بن مِنْهال، قال: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قَتادة، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن الشُّرب من فِي السِّقاء، وعن الجَلَّالة، والمُجَثَّمة (1) .
هذا حديث صحيح قد احتجَّ البخاري بعكرمة، واحتج مسلم بحماد بن سلمة، ثم لم يخرجاه (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے (براہ راست) پانی پینے سے، «جلاله» (گندگی کھانے والے جانور) اور «مجثمه» (اس جانور کو جسے باندھ کر نشانہ بنا کر مارا جائے) سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے، امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے حماد بن سلمہ سے احتجاج کیا ہے، اس کے باوجود انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1645] [ترقيم الشركة 1634]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں