🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَغْتَسِلَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ
یہ سنت ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے اور مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1656
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا سهل بن يوسف، حدثنا حُميد، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن ابن عمر قال: إنَّ من السُّنة أن يغتسلَ إذا أراد أن يُحرِمَ، وإذا أراد أن يَدخُل مكةَ (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احرام باندھنے کے ارادے کے وقت اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے وقت غسل کرنا سنت میں سے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1656]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن عُروة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: حدثني ناجيةُ الخُزاعي، صاحبُ بُدْنِ رسول الله ﷺ: أنه سألَ رسول الله ﷺ: كيف أصنَعُ بما عَطَبَ من بُدْنِي؟ فأَمَرني أن أنحَرَ كلَّ بَدَنةٍ عَطَبَتْ، ثم يُلقَى نَعلُها في دَمِها، ثم يُخَلَّى بينها وبين الناس فيأكلونها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی اونٹنیوں کے نگران ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! میں ان قربانی کے جانوروں کا کیا کروں جو (راستے میں) زخمی یا نڈھال ہو کر گر جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ جو اونٹنی نڈھال ہو کر گر جائے اسے ذبح کر دو، پھر اس کا جوتا (نعل) اس کے خون میں ڈبو کر (اس کی کوہان کے ایک طرف) لگا دو (تاکہ معلوم ہو کہ یہ قربانی کا جانور ہے) اور پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ اسے کھا سکیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1657]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا أبي حدثنا الأوزاعي، حدثني عبد الله بن عامر، حدثني نافع، عن ابن عمر: عن رسول الله ﷺ قال:"مَن أَهدَى تطوعًا، ثم ضلَّتْ، فإن شاءَ أبدَلَها وإن شاءَ تَرَكَ، وإن كانت في نَذْرٍ فليُبدِلْ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نفلی قربانی کا جانور روانہ کیا اور وہ گم ہو گیا، تو اگر وہ چاہے تو اس کا بدل پیش کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، لیکن اگر وہ نذر (واجب) کی قربانی ہو تو اس کا بدل دینا ضروری ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1658]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. لَا يُحْرَمُ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ
حج کے لیے صرف حج کے مہینوں ہی میں احرام باندھا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل وعلي بن محمد المُستَمْلي في آخرين، قالوا: حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن العلاء بن كُرَيب، حدثنا أبو خالد، عن شعبة، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: لا يُحرَمُ بالحجِّ إِلَّا في أشهُر الحجِّ، فإنَّ من سُنَّة الحجِّ أن يُحرمَ بالحجِّ في أشهُر الحج (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد جَرَتْ فيه مناظرةٌ بيني وبين شيخنا أبي محمد السَّبيعي، فإنه أنكره وقال: إنما رواه الناسُ عن أبي خالد عن الحجّاج بن أَرطاة عن الحَكَم، فمِن أين جاء به شيخُكم عن شعبة؟ فقلت: تأمَّل ما تقول، فإنَّ شيخنا أتى بالإسناديَن جميعًا، فكأنما ألقَمْتُه حجرًا (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کا احرام صرف حج کے مہینوں ہی میں باندھا جائے گا، کیونکہ حج کی سنتوں میں سے یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں میں باندھا جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث کے متعلق میرے اور ہمارے شیخ ابو محمد سبیعی کے درمیان مناظرہ ہوا، انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ لوگ اسے حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں، تو آپ کے شیخ نے اسے شعبہ کے واسطے سے کہاں سے لیا؟ میں نے عرض کیا کہ ذرا غور کریں، ہمارے شیخ نے دونوں اسناد بیان کی ہیں، جس پر وہ لاجواب ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1659]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. لَا يُمْنَعُ أَحَدٌ عَنِ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَالصَّلَاةِ فِيهِ أَيَّ سَاعَةٍ أَحَبَّ
کسی کو بھی بیت اللہ کا طواف کرنے اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی وقت نہ روکا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن أبي الزَّبير، عن عبد الله بن باباه، عن جُبَير بن مُطْعِمٍ: أَنَّ النبيَّ ﷺ قال:"يا بني عبدِ مَنَاف، لا تَمنعَوا أحدًا طافَ بهذا البيت وصلَّى أيَّ ساعةٍ أحبَّ من ليلٍ أو نهار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبدِ مناف! کسی ایسے شخص کو اس گھر (بیت اللہ) کے طواف سے اور یہاں نماز پڑھنے سے ہرگز نہ روکنا جو رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی طواف یا نماز پڑھنا چاہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1660]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيبة، حدثنا أبو خالدٍ الأحمر، عن ابن جُرَيج، عن عمر بن عطاء، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: لا صَرُورة في الإسلام" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «صروره» (یعنی استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا یا نکاح سے بچ کر رہبانیت اختیار کرنا) کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1661]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1662
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثّنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازم عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن أبي صفوان، عن ابن عباسٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا صَرُورة في الإسلام".
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «صروره» (حج کی ادائیگی سے گریز یا ترکِ دنیا) کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1662]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ
جو حج کا ارادہ کرے وہ جلدی کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبر أبو المُثنّى، حدثنا مُسدّد، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازم، عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن أبي صفوان، عن ابن عباس، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن أرادَ الحجَّ فليتَعجَّل" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وأبو صفوان هذا سمَّاه غيره: مِهْران مولى لقريش، ولا يُعرَف بالجَرح.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ (ادائیگی میں) جلدی کرے۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے راوی ابو صفوان کو دیگر محدثین نے مہران (قریش کے مولیٰ) کا نام دیا ہے اور وہ جرح سے پاک ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1663]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1664
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا حُصَين بن عمر الأحْمَسي، حدثنا الأعمش، عن إبراهيم التَّيمي، عن الحارث بن سُوَيد قال: سمعت عليًّا يقول:"حُجُّوا قبل أن لا تَحُجُّوا، فكأني أنظُرُ إلى حَبَشيٍّ أصمَعَ أَفدَعَ، بيده مِعوَلٌ يَهْدِمُها حَجَرًا حَجَرًا"، فقلت له: شيءٌ تقولُه برأيك، أو سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: لا والذي فَلَقَ الحبَّة وبَرَأَ النَّسمة، ولكني سمعتُه من نبيكم ﷺ (1) .
حارث بن سوید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اس سے پہلے کہ تم حج نہ کر سکو، حج کر لو، کیونکہ گویا میں ایک چھوٹے کانوں اور ٹیڑھے پاؤں والے حبشی کو دیکھ رہا ہوں جس کے ہاتھ میں کدال ہے اور وہ بیت اللہ کی ایک ایک اینٹ گرا رہا ہے، میں نے ان سے عرض کیا: کیا یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا! بلکہ میں نے اسے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1664]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. التِّجَارَةُ وَالْكِرَاءُ فِي الْحَجِّ
حج کے دوران تجارت اور کرایہ داری (اجرت پر کام) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1665
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيَّب، حدثنا أبو أُمامة التَّيمي، قال: كنتُ رجلًا أُكْرِي في هذا الوجه، وكان أناسٌ يقولون لي: إنه ليس لك حجٌّ، فلقيتُ ابن عمر، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، إنِّي رجلٌ أُكْرِي في هذا الوجه، وإنَّ أُناسًا يقولون لي: إنَّه ليس لك حجٌّ، فقال: ألست تُحْرمُ وتُلبِّي وتَطوفُ وتُفيضُ من عرفاتٍ وتَرمي الجِمار؟ قال: قلتُ: بلى، قال: فإنَّ لك حجًّا؛ جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فسأله عن مثلِ ما سألتَني عنه، فسكتَ عنه رسول الله ﷺ فلم يُجِبْه، حتى نزلت هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] ، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ وقرأَ هذه الآيةَ عليه، وقال:"لك حجٌّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
ابوامامہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں سواریاں کرائے پر دیا کرتا تھا، تو بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ (تجارت کرنے کی وجہ سے) تمہارا حج نہیں ہوتا، پھر میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! میں اس راستے میں سواریاں کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ میرا حج قبول نہیں ہوتا، انہوں نے پوچھا: کیا تم احرام نہیں باندھتے، لبیک نہیں کہتے، طواف نہیں کرتے، عرفات سے واپسی نہیں کرتے اور جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں یہ سب کرتا ہوں)۔ انہوں نے فرمایا: تو پھر یقیناً تمہارا حج ہو گیا؛ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے ویسا ہی سوال کیا جیسا تم نے مجھ سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل (تجارت کے ذریعے) تلاش کرو۔ [سورة البقرة: 198] ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت سنا کر فرمایا: تمہارا حج ہو گیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1665]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں