🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. الْوُقُوفُ بِعَرَفَاتٍ
عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1716
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جُرَيج، أخبرني عطاء، عن ابن عباس قال: كان يقال: ارتفِعوا عن مُحسِّر، وارتفِعوا عن عُرَنات. أما قوله: العُرَنات، فالوقوفُ بعَرَفةَ: أنْ لا تَقِفوا بعُرَنة، وأما قوله: عن مُحسِّر، فالنزول بجَمْعٍ: أنْ لا يَنزلوا مُحسِّرًا (3) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ تاکید کی جاتی تھی کہ وادی محسر سے آگے گزر جاؤ اور عرفات سے بھی آگے چلے جاؤ۔ ٭٭ مذکورہ حدیث میں عرنات سے مراد وادی عرنہ میں ٹھہرنا ہے۔ مطلب یہ ہے: وقوفِ عرفات کے دوران مقام عرنہ (جو کہ عرفات کے سامنے ایک وادی کا نام ہے) میں مت جاؤ۔ اور محسر سے آگے گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ وقوف مزدلفہ کے دوران وادی محسر میں نہ جاؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1716]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1717
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان. وحدثني علي بن عيسى - واللفظ له - حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان قال: حفظتُه من عمرو بن دينار، عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، عن خاله يزيد بن شَيْبان قال: كنّا وقوفًا من وراء المَوقِف - موقفًا يتباعدُه عمرٌو من الإمام - فأتانا ابنُ مِرْبَع الأنصاريُّ فقال: إنِّي رسولُ رسولِ الله ﷺ إليكم، يقول لكم:"كونوا على مَشَاعرِكم هذه، فإنَّكم على إرْثٍ من إرْثِ إبراهيم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن شعبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم موقف سے پیچھے ایک ایسے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے جہاں سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ امام سے کافی دور تھے، ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر بن کر آیا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے پیغام بھیجا ہے کہ تم اپنے ادائیگیٔ حج کے مقام پر رہو کیونکہ تم ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پانے والے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1717]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. مَنْ أَتَى عَرَفَاتٍ وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِمَامَ
جو عرفات آ جائے لیکن امام کو نہ پا سکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1718
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا رَوْحُ بن عُبادة، حدثنا شُعبة. وأخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا عفّان بن مسلِم، حدثنا شعبة قال: سمعتُ عبد الله بن أبي السَّفَر يقول: سمعتُ الشَّعبيَّ يحدِّث عن عُرْوةَ بن مُضَرِّس بن أوس بن حارثةَ بن لام قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو بجَمْعٍ، فقلت: هل لي من حَجٍّ؟ فقال:"من صلَّى معنا هذه الصلاةَ في هذا المكان، ثم وَقَفَ معنا هذا الموقفَ حتى يُفِيضَ الإمام، [وأفاض] (1) قبلَ ذلك من عَرَفاتٍ ليلًا أو نهارًا، فقد تمَّ حَجُّه وقَضَى تَفَثَه" (2) .
سیدنا عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے پوچھا: کیا میرا حج ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ اس مقام پر یہ نماز ادا کر لی اور پھر ہمارے ساتھ یہیں پر امام کے نکلنے تک ٹھہرا رہا اور اس سے پہلے وہ دن یا رات میں عرفات سے ہو آئے تو اس نے اپنا حج مکمل کر لیا اور اس نے اپنی میل کچیل کو دور کر لیا۔ (یعنی اس نے مناسک حج مکمل کر لیے اب وہ بال وغیرہ کٹوا سکتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1718]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا وَهْب بن جَرير، عن شعبة، عن إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد المعدِّل بمَرْو - واللفظ له - أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن عُرْوة بن مُضَرِّس الطائي قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو واقفٌ بجَمْع، فقلت: يا رسول الله، جئتُك من جَبَلَي طيِّئ، وقد أكلَلْتُ مَطِيَّتي وأتعبتُ نفسي، واللهِ ما تركتُ من حَبْلٍ (1) إِلَّا وقفتُ عليه، فهل لي من حجٍّ؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ وقد أتى عَرَفاتٍ قبلَ ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد قَضَى تَفَثَه وحَجَّه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط كافَّة أئمة الحديث، وهي قاعدة من قواعد الإسلام، وقد أمسك عن إخراجه الشيخان محمدُ بنُ إسماعيل ومسلم بن الحجّاج ﵄، على أصلهما أنَّ عُرْوة بن مُضرِّس لم يحدِّث عنه غيرُ عامرٍ الشَّعبي (3) ، وقد وجدنا عُروةَ بن الزُّبير بن العوَّام حدَّث عنه:
سیدنا عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میرا اونٹ بھی تھک چکا ہے۔ خدا کی قسم! میں نے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے، کیا میرا حج ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لیا اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفات میں آ چکا ہو۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر دی (یعنی اس کے مناسک پورے ہو چکے، اب وہ بال اور ناخن وغیرہ کٹوا سکتا ہے) اور اس کا حج ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث بہت سارے اَئمہ حدیث کے معیار پر صحیح ہے اور یہ اسلام کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس اصول کی وجہ سے نقل نہیں کیا کہ یہ حدیث عروہ بن مضرس سے عامر شعبی کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کی۔ جبکہ ہمارے پاس یہی حدیث عروہ بن مضرس سے عروہ بن زبیر بن عوام کی روایت کردہ ہے (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1719]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
حدَّثَناه عبد الصَّمد بن علي بن مُكْرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو عبد الله أحمد بن عبد الله بن أحمد بن حسان التُّسْتَري بتُسْتَر، حدثنا عبد الوهاب بن فُلَيح المكِّي، حدثنا يوسف بن خالد السَّمْتي البصري، حدثنا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عُروة بن مُضَرِّس الطائي قال: جئتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالمَوقِف، فقلت: يا رسول الله، أتيتُ من جَبَلَي طيِّئ، أكلَلْتُ مَطِيَّتي، وأتعبتُ نفسي، والله ما بقي من حَبْلٍ من تلك الحِبال إلَّا وقفتُ عليه، فقال:"مَن أدرَكَ معنا هذه الصلاةَ - يعني صلاةَ الغَداة - وقد أتى عَرَفةَ قبل ذلك ليلًا أو نهارًا، فقد تمَّ حجُّه وقضى تَفَثَه" (1) . وقد تابع عروةَ بن المُضرِّس في رواية هذه السُّنة من الصحابة عبدُ الرحمن بن يَعْمَرَ الدُّؤَلي:
سیدنا ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میں نے اپنے اونٹ کو بھی تھکا دیا ہے۔ خدا کی قسم! میں نے پہاڑوں میں سے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پائی یعنی فجر کی نماز اور اس سے قبل وہ دن یا رات میں عرفات میں آیا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس کی میل کچیل دور ہو گئی۔ ٭٭ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت بیان کرنے میں عروہ بن مضرس نے عبدالرحمن بن یعمر کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1720]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان بن عُيينة، حدثنا سفيان بن سعيدٍ الثَّوري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن سفيان، عن بُكَير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يَعمَر قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ بعَرَفةَ، وأتاه ناسٌ من أهل نجدٍ وهو بعَرفةَ، فسألوه، فأمَرَ مناديًا فنادى:"الحجُّ عَرَفةُ، الحجُّ عَرَفةُ، ومن جاء ليلةَ جَمْعٍ قبل طلوع الفجر فقد أدرَكَ، أيامُ مِنى ثلاثةٌ، من تعجَّل في يومينِ فلا إثمَ عليه، ومن تأخَّر فلا إثمَ عليه"، وأردَفَ رجلًا فنادى (2) .
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرفات میں آیا، آپ ابھی عرفات میں ہی تھے کہ نجد کے کچھ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے، انہوں نے آپ سے یہی مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا کہ منادی کر دے کہ حج عرفہ ہے اور جو شخص طلوع فجر سے پہلے پہلے مزدلفہ میں آ جائے، اس نے حج کو پا لیا، منٰی کے تین دن ہیں، جو جلدی کر کے دو دن میں چلا جائے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو تین دن سے زیادہ لگائے اس پر گناہ نہیں ہے اس شخص نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے بٹھایا اور یہ منادی کر دی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1721]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. الْوُقُوفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ
مزدلفہ میں وقوف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا نصر بن علي الجَهْضَمي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثني أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي بكر، عن عثمان بن أبي سليمان، عن عمِّه نافع بن جُبير، عن أبيه جُبير بن مُطعِمٍ، قال: كانت قريشٌ إنما تَدفَعُ من المزدلِفة ويقولون: نحن الحُمْسُ فلا نَخرجُ من الحَرَم، وقد تَرَكوا الموقفَ على عرفة، قال: فرأيتُ رسول الله ﷺ في الجاهلية يقفُ مع الناس بعَرفةَ على جَمَلٍ له، ثم يُصبح مع قومه بالمزدلِفة فيَقفُ معهم يَدفَع إذا دَفَعوا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریش، مزدلفہ سے یہ کہتے ہوئے نکلا کرتے تھے: ہم پانچواں حصہ ہیں، اس لیے ہم حرم سے نہیں نکلیں گے۔ اور وہ وقوف عرفات کو ترک کر دیتے۔ جبیر فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانہ جاہلیت میں دیکھا کہ آپ، لوگوں کے ہمراہ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے ہمراہ مزدلفہ میں صبح کرتے اور ان کے ساتھ ٹھہرے رہتے اور جب وہ نکلتے تو آپ بھی روانہ ہو جاتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1722]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يَعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ
عرفہ کے دن سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ زیادہ بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مُنقِذ الخَوْلاني، حدثنا ابن وَهْب، عن مَخْرَمة بن بُكَير، عن أبيه قال: سمعتُ يونسَ بن يوسف يحدِّث عن سعيد بن المسيّب، عن عائشةَ زوجِ النبيّ ﷺ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ما مِن يومٍ أكثرَ مِن أن يُعتِقَ اللهُ فيه عبدًا من النار من يومِ عَرَفةَ، وإنَّه ليَدْنو ثم يُباهي الملائكةَ فيقول: ما أرادَ هؤلاءِ؟" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن سے زیادہ عظمت والا ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ (بندوں کے) قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں سے مخاطب ہو کر فخر سے فرماتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1723]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
أخبرنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزةَ الغِفَاري، حدثنا خالد بن مَخْلَد القَطَواني. وأخبرني أبو سعيد عبد الرحمن بن أحمد المؤذِّن، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن مسلم، حدثنا خالد بن مَخْلَد، حدثنا علي بن مُسهِر (1) ، عن مَيسَرَةَ بن حبيب، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير قال: كنا مع ابن عباسٍ بعَرفةَ فقال لي: يا سعيد، ما لي لا أسمعُ الناسَ يُلَبُّون؟ فقلت: يخافون من معاويةَ، قال: فخرج ابنُ عباس من فُسطاطِه فقال: لبَّيكَ اللهمَّ لبَّيك، فإنهم قد تَرَكوا السُّنةَ من بُغض عليٍّ ﵁ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عرفات میں تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اے سردار! کیا بات ہے؟ آج لوگوں کے تلبیہ کہنے کی آواز سنائی نہیں دے رہی؟ میں نے جواب دیا: لوگ معاویہ سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ (اس لیے تلبیہ نہیں پڑھ رہے) آپ فرماتے ہیں: (یہ سن کر) ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے خیمے سے باہر آئے اور بلند آواز سے تلبیہ لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْک کہتے ہوئے فرمانے لگے: لوگوں نے علی کے بغض کی وجہ سے سنت کو چھوڑ رکھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
حدثني أبو سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان، حدثنا الهَيثم بن خَلَف الدُّوري، حدثنا جميل بن الحسن الجَهْضَمي، حدثنا محبوب بن الحسن، حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ وَقَفَ بعرفاتٍ، فلمّا قال:"لبَّيك اللهمَّ لبَّيك" قال:"إنّما الخيرُ خيرُ الآخرة" (1) . قد احتجَّ البخاريُّ بعِكرمة، واحتجَّ مسلم بداود، وهذا الحديث صحيح لم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، جب آپ تلبیہ کہتے تو فرماتے: بھلائی تو آخرت کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری نے عکرمہ اور امام مسلم نے داؤد کی احادیث نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1725]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں