المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
نبی ﷺ نے کتنے حج کیے۔
حدیث نمبر: 1746
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم ابن يونس العصّار (1) ، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مُسافِر، عن ابن شهاب، عن أبي سِنان الدُّؤلي، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يا قومِ، كُتِبَ عليكم الحَجُّ"، فقال الأقرع بن حابس: أَكُلَّ عامٍ يا رسولَ الله؟ فصَمَتَ رسولُ الله ﷺ، ثم قال:"لا، بل حَجَّةٌ واحدةٌ، ثم مَن حَجَّ بعدَ ذلك فهو تطوُّعٌ، ولو قلتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ عليكم، ثم إذًا لا تَسمَعونَ ولا تُطيعون" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قوم! تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ تو سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال (حج فرض ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ زندگی بھر میں صرف ایک بار حج فرض ہے پھر اس کے بعد جو حج کیا جائے گا، وہ نفلی ہو گا، اگر میں ” ہاں “ کہہ دیتا تو (ہر سال حج) فرض ہو جاتا لیکن پھر تم اس کی ادائیگی نہ کر پاتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1746]
حدیث نمبر: 1747
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: الحجُّ والعُمرةُ فريضَتانِ على الناس كلِّهم إلَّا أهلَ مكةَ، فإنَّ عُمرتَهم طوافُهُم، فليَخرُجوا إلى التَّنعيم ثم لْيدخُلوها، فوالله ما دَخَلَها رسولُ الله ﷺ إلَّا حاجًّا أو مُعتمِرًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أُسنِد عن محمد بن كثير بإسنادٍ آخر:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أُسنِد عن محمد بن كثير بإسنادٍ آخر:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج اور عمرہ دونوں اہل مکہ کے سوا تمام لوگوں پر فرض ہے کیونکہ اہل مکہ کا طواف ہی عمرہ ہے، ان کو چاہیے کہ مقام تنعیم کی طرف نکل جائیں پھر وہاں سے داخل ہوں، کیونکہ خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے صرف حج اور عمرہ کرنے کے لیے ہی داخل ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور محمد بن کثیر نے اس حدیث کو ایک دوسری اسناد کے ہمراہ مسند بھی کیا ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1747]
56. الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ فَرِيضَتَانِ
حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔
حدیث نمبر: 1748
حدَّثَناه الأستاذ الإمام أبو الوليد ﵀ حدثنا محمد بن المنذر الهَرَوي، حدثنا أبو يحيى محمد بن سعيد بن غالب، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن محمد بن سِيرين، عن زيد بن ثابتٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الحجَّ والعمرةَ فريضتانِ لا يَضرُّك بأيِّهما بدأتَ" (1) . والصحيح عن زيد بن ثابت قولَه:
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج اور عمرہ دونوں فرض (یعنی عبادت) ہیں، ان میں سے کسی سے بھی آغاز کر لیا جائے کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭٭ اور زید بن ثابت کا اپنا قول بھی منقول ہے جو کہ ” صحیح “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1748]
حدیث نمبر: 1749
حدَّثَناه أبو الوليد، حدثنا محمد بن نُعيم، حدثنا يحيى بن أيوب المَقابِري، حدثنا عبّاد بن عبّاد المُهلَّبي، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرين: أنَّ زيد بن ثابتٍ سُئِل عن العُمرة قبل الحَجِّ، قال: صلاتانِ لا يَضرُّك بأيِّهما بدأتَ (1) .
سیدنا محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے قبل از حج، عمرہ کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: دونوں نمازیں ہیں کسی سے بھی ابتداء کر لیں کوئی حرج نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1749]
حدیث نمبر: 1750
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، وعبد المجيد بن عبد العزيز، عن ابن جُريج قال: أخبَرَني نافع مولى ابن عمر: أَنَّ عبد الله بن عمر كان يقول: ليس من خَلْقِ اللهِ أحدٌ إِلَّا عليه حَجَّةٌ وعُمرةٌ واجبتانِ مَن استطاع إلى ذلك سبيلًا، فمَن زادَ بعدها شيئًا فهو خيرٌ وتطوُّع. قال ابن جريج (1) : وأُخبِرتُ عن ابن عباسٍ أنه قال: العُمرةُ واجبةٌ كوُجوب الحجِّ مَن استطاع إليه سبيلًا (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع بیان کرتے ہیں: عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ہر اس شخص پر حج اور عمرہ فرض ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہ حج کی استطاعت رکھتا ہو اور اگر کوئی شخص اس کے بعد اضافی حج کرے تو بہتر ہے اور اس کے لیے وہ نفلی حج و عمرہ ہو گا۔ ابن جریج فرماتے ہیں: مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ صاحب استطاعت پر جس طرح حج فرض ہے اسی طرح عمرہ بھی واجب ہے۔ ٭٭ یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1750]
57. الْأَجْرُ عَلَى قَدْرِ النَّفَقَةِ وَالتَّعَبِ
اجر خرچ اور مشقت کے بقدر ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 1751
أخبرنا أحمد بن سَهْل بن حَمْدَوَيهِ الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا هُشيم، عن ابن عَوْن، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لها في عُمْرتِها:"إِنَّ لكِ من الأجر على قَدْرِ نَصَبِكِ ونَفَقَتِكِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح:
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے عمرہ کے متعلق فرمایا: تیرے تھکاوٹ اور خرچ کی مناسبت سے تیرے لیے اجر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1751]
حدیث نمبر: 1752
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا علي بن سَلْم (2) الأصبهاني، حدثنا أبو الفضل جعفر بن مُكْرَم الرازي، حدثنا أبو عليٍّ الحسن بن إدريس الحُلْواني (3) ، حدثنا مِهْران بن أبي عمر، حدثنا سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن الأسوَد، عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال لها في عمرتها:"إنَّما أجرُكِ في عُمرَتِكِ على قَدْرِ نَفَقَتِكِ" (1) .
اُمْ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے عمرہ کے متعلق کہا: تیرے عمرے کا ثواب تیرے نفقہ کی مقدار کے مطابق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1752]
حدیث نمبر: 1753
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الرحمن بن حرملة، قال: سمعتُ سعيد بن المسيّب قال: حجَّ عليٌّ وعثمانُ، فلمّا كانا ببعض الطريق نهى عثمانُ عن التمتُّع بالعمرة إلى الحج، فقيل لعليٍّ: إنه قد نَهَى عن التمتُّع، فقال: إذا رأيتُمُوه قد ارتَحَلَ فارتَحِلوا. فلبَّى عليٌّ وأصحابه بالعُمرة، ولم يَنهَهم عثمان، فقال علي: ألم أُخبَرْ أنك تَنهى عن التمتُّع بالعمرة؟ قال: بلى، فقال عليٌّ: ألم تَسمَعْ رسولَ الله ﷺ تمتَّعَ؟ قال: بلى (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا، ابھی وہ ایک راستے میں تھے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے ہمراہ عمرہ کرنے سے منع کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: سیدنا عثمان نے ان کو تمتع سے روکا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم ان کو دیکھو کہ یہ کوچ کر گئے ہیں تو ان کے بعد تم کوچ کرنا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو منع نہیں کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی تھی کہ آپ نے تمتع بالعمرہ سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع بالعمرہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1753]
58. التَّمَتُّعُ
تمتع (عمرہ کر کے احرام کھولنا پھر حج کرنا) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1754
أخبرني محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا الحسين بن الحسن المروَزي بمكة، حدثنا يزيد بن زُرَيع، عن يونس بن عُبيد، عن حُميد، عن أنس، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"لبَّيك بحَجَّةٍ وعُمرةٍ معًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہا۔ تبصرپ: ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1754]
حدیث نمبر: 1755
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه قال: إنما جَمَعَ رسولُ الله ﷺ بين الحجِّ والعُمرة، لأنه عَلِمَ أنه ليس بحاجٍّ بعدَها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ اکٹھے ادا کیے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اس کے بعد آپ کو حج کا موقعہ نہیں ملے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1755]