المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. شُرْبُ مَاءِ زَمْزَمَ مِنَ السِّقَايَةِ وَفَضِيلَةُ السَّقْيِ
سقایا سے زمزم پینا اور پانی پلانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1765
أخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرْقَندي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نَصْر الإمام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن خالدٍ الحذَّاء، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ جاء إلى السِّقاية فاستسقَى، فقال العباس: يا فضلُ، اذهب إلى أمِّك فأْتِ رسولَ الله ﷺ بشرابٍ من عندها، فقال:"اسقنِي"، فقال: يا رسولَ الله، إنَّهم يجعلون أيديَهم فيه، فقال:"اسقِني"، فشرب منه، ثم أتى زمزمَ وهم يَستَقُون ويعملون فيها، فقال:"اعمَلُوا فإنكم على عملٍ صالحٍ"، ثم قال:"لولا أن تُغلَبوا لنزلتُ حتى أَضَعَ الحَبْلَ على هذه"؛ يعني: عاتقَه، وأشار إلى عاتقِه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حوض کے پاس آئے اور پانی پینا چاہا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فضل! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لے کر آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں نے اس میں ہاتھ ڈالے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوض سے پانی پیا پھر آبِ زم زم پر تشریف لائے، اس وقت لوگ وہاں سے پانی پی رہے تھے اور اس میں کام بھی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کام کرتے رہو کیونکہ تم نیک کام کر رہے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے مغلوب ہونے کا خدشہ نہ ہوتا (اس طرح کہ یہاں پر لوگ کثرت سے آئیں اور عوام کی بھیڑ کی وجہ سے تم مغلوب ہو جاؤ) آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تو میں نیچے اتر کر رسی اس پر رکھ لیتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1765]
حدیث نمبر: 1766
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر قال: قُرئ على ابن وهبٍ قال: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن ويحيى بن عبد الله بن سالم، أنَّ عمرو بن أبي عمرٍو مولى المُطَّلب أخبرهما عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ قال:"لحمُ صيدِ البَرِّ لكم حلالٌ وأنتم حُرُم، ما لم تَصِيدُوه أو يُصادَ (1) لكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رُويَ عن مالك بن أنس وسليمانَ بن بلال عن عمرٍو متصلًا مسندًا: أما حديث مالك:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رُويَ عن مالك بن أنس وسليمانَ بن بلال عن عمرٍو متصلًا مسندًا: أما حديث مالك:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حالت احرام میں تمہارے لیے خشکی کے جانور کا گوشت حلال ہے جب تک کہ تم خود اس کا شکار نہ کرو یا وہ تمہارے لیے شکار نہیں کیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اسی طرح مالک بن انس اور سلیمان بن بلال نے عمرو سے متصل مسند روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1766]
حدیث نمبر: 1767
فأخبرَناه الحسن بن محمد الإسفرايِني، حدثني خالي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ بمصر، حدثنا محمد بن سليمان بن أبي داود، حدثنا مالك بن أنس، عن عمرو بن أبي عمرو، عن المُطّلِب بن عبد الله بن حَنطَب، عن جابر بن عبد الله، عن النبي ﷺ نحوه (1) . وأما حديث سليمان بن بلال:
سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔ سلمان بن بلال کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1767]
حدیث نمبر: 1768
فحدَّثَناه أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي حدثنا سعيد بن كَثِير بن عُفَير، حدثنا سليمان بن بلال، عن عمرو بن أبي عمرو، عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ:"صيدُ البَرِّ لكم حلالٌ ما لم تَصِيدُوه أو يُصادَ لكم" (2) .
1768 - سیدنا جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود اسے شکار نہ کرو یا وہ (خاص) تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے“۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1768]
حدیث نمبر: 1769
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن رجل من الأنصار، عن جابر، عن النبي ﷺ نحوه (3) .
هذا حديث لا يعلِّلُ حديث مالك وسليمان بن بلال ويعقوب الإسكَندَراني، فإنهم وَصَلُوه وهم ثقات.
هذا حديث لا يعلِّلُ حديث مالك وسليمان بن بلال ويعقوب الإسكَندَراني، فإنهم وَصَلُوه وهم ثقات.
سیدنا سلیمان بن بلال رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو مالک، سلیمان بن بلال اور یعقوب اسکندرانی کی احادیث معلل نہیں کرتیں۔ کیونکہ انہوں نے اس حدیث کو متصل کیا ہے اور یہ ثقہ لوگ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1769]
64. طَوَافُ الْوَدَاعِ
طوافِ وداع کا بیان۔
حدیث نمبر: 1770
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العدل، حدثنا إبراهيم بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا إسحاق ومحمد بن رافع، قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا زكريا بن إسحاق، عن سليمان الأحْوَل، أنه سمع طاووسًا يحدِّث عن ابن عباسٍ قال: كان الناسُ يَنفِرُون من مِنى إلى وُجوهِهِم، فأمَرَهم رسولُ الله ﷺ أن يكون آخرُ عهدِهِم بالبيت، ورَخَّصَ للحائض (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ منٰی سے (ہی) اپنے گھروں کو چلے جایا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو اور حیض والی عورتوں کے لیے رخصت عطا فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1770]
65. يُرْفَعُ مَا يُقْبَلُ مِنْ أَحْجَارِ الرَّمْيِ
رمی کی کنکریوں میں سے جو قبول ہوتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1771
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المُستَمْلي، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثنا أبي، حدثنا يزيد بن سِنَان [عن زَيد بن أبي أُنَيسة] (2) عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه أبي سعيدٍ قال: قلنا: يا رسولَ الله، هذه الأحجارُ التي نَرمِي بها تُحمَلُ فنَحسِبُ أنها تَنقَعِرُ، قال:"إنَّه ما تُقُبِّلَ منها يُرفَع، ولولا ذلك لرأيتَها مثلَ الجبال" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ويزيد بن سنان ليس بالمتروك.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ويزيد بن سنان ليس بالمتروك.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کنکریاں جو ہم مارتے ہیں (یہ تو بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن جمرات کے پاس اُتنی مقدار میں کنکریاں موجود نہیں ہوتیں بلکہ) ہمارا خیال ہے کہ یہ کم ہوتی ہیں، یہ کہاں جاتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کنکریاں قبول ہو جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کنکریاں پہاڑوں کے برابر ہو جاتیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور یزید بن سنان متروک راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1771]
66. إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ حَجَّهُ فَلْيُعَجِّلِ الرِّحْلَةَ إِلَى أَهْلِهِ
جب تم میں سے کوئی اپنا حج مکمل کر لے تو اپنے گھر والوں کی طرف جلد روانہ ہو۔
حدیث نمبر: 1772
حدثنا أبو الطيِّب محمد بن أحمد الذُّهْلي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نصر الحافظ، حدثنا أبو مروان محمد بن عثمان العثماني، حدثنا أبو ضَمْرةَ اللَّيثي، عن هشام بن عُرْوة، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"إذا قَضَى أحدُكم حَجَّه فليُعَجِّلِ الرِّحلةَ إلى أهلِه، فإنَّه أعظمُ لأجْرِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حج پورا کر لے وہ اپنے گھر والوں کے پاس آ جائے۔ کیونکہ اس میں اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1772]
حدیث نمبر: 1773
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار. وأخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال؛ قالا: حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا أبو حمزة، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباسٍ قال: جاء جبريلُ إلى رسول الله ﷺ، فَذَهَبَ به ليُرِيَه المناسكَ، فانفَرَجَ له ثَبِيرٌ، فدخل منًى، فأراه الجِمَار، ثم أراه جَمْعًا، ثم أراه عرفاتٍ، فنَبَعَ الشيطانُ للنبيِّ ﷺ عند الجَمْرة، فرَمَى بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في الجَمْرة الثانية، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في جَمْرة العَقَبة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخَ فذهب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام اللہ کے رسول (سیدنا ابراہیم) کے پاس آئے اور ان کو مناسک حج دکھانے کے لیے اپنے ساتھ لے گئے تو نرم زمین ان کے لیے کھل گئی، وہ منٰی میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرات دکھائے پھر ان کو میدان عرفات دکھایا، پھر جمرہ کے پاس شیطان نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے کی کوشش کی، انہوں نے اس کو سات کنکریاں ماریں، جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد دوسرے جمرہ کے پاس بھی شیطان نے وہی حرکت کی، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر تیسری مرتبہ جمرہ عقبہ کے پاس شیطان نے وہی حرکت کی، انہوں نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر وہ چلا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1773]
حدیث نمبر: 1774
حدثنا أبو سعيد محمد بن جعفر الخَصِيب الصُّوفي، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا العلاء بن عمرو الحنفي ومحمد بن العلاء الهَمْداني، قالا: حدثنا حُمَيد [بن] الخُوَار، حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاءٍ، قال: لا أَرمي حتى تَزِيغَ الشمسُ، إنَّ جابر بن عبد الله قال: كان رسولُ الله ﷺ يَرمي يومَ النَّحْر قبلَ الزَّوال، فأما بعدَ ذلك فعندَ الزَّوالِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عطاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں زوال سے پہلے رمی نہیں کرتا ہوں، بیشک سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن زوال سے پہلے اور اس کے بعد والے دنوں میں زوال کے وقت رمی کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1774]