🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. حَلْقُ الرَّأْسِ
سر منڈوانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1785
أخبرنا أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرقَنْدي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى وعليُّ بن خَشْرَم، قالا: حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن جُريج، أخبَرَني موسى بن عُقْبة، عن نافع، أنَّ ابن عمر أخبره: أنَّ النبي ﷺ حَلَقَ رأسه في حَجَّة الوداع. قال: فكان الناسُ يَحلِقُون في الحجِّ، ثم يَعتَمِرون عند النَّفْر ويقول: بما يُحلَق هذا؟ فنقول: أَمرِرِ المُوسَى على رأسك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر سر منڈایا، ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ بھی حج میں سر منڈا لیا کرتے تھے، پھر روانگی کے وقت عمرہ کیا کرتے تھے، عمرہ کے وقت وہ پوچھتے کہ اب حلق کیسے کروائیں (کیونکہ سر پہلے سے ہی منڈے ہوئے ہیں) تو آپ فرماتے: اپنے سر سے استرہ گزار لو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1785]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1786
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكَير، حدثني الليث، أنَّ أبا الزُّبير أخبره عن جابر بن عبد الله: أنَّ النبي ﷺ أعمَرَ عائشةَ من التَّنعيم في ذي الحِجّة ليلةَ الحَصْبة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ میں وادی محصب میں ٹھہرنے کی رات (منٰی سے روانگی کے بعد منٰی اور مکہ کے درمیان وادی محصب میں رات گزاری جاتی ہے) اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ شروع کروایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1786]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. الْحَجُّ عَنِ الْغَيْرِ
دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1787
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العدل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا عثمان بن الهيثم، حدثنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة: أنَّ رسولَ الله ﷺ أتاه رجلٌ فقال: إنَّ أبي شيخٌ كبيرٌ أدرك الإسلام ولم يَحُجَّ، ولا يَستَمسِكُ على الراحلة، وإن شَدَدتُه بالحبل على الراحلة خَشِيتُ أن أقتله، فقال رسولُ الله ﷺ:"احجُجْ عن أبيك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: میرا والد بوڑھا ہے، وہ مسلمان ہو گیا ہے لیکن وہ حج نہیں کر سکا اور وہ سواری پر سوار نہیں ہو سکتا اور اگر اس کو سواری پر بٹھا کر رسی سے باندھ دوں تو اس کے مر جانے کا خدشہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی طرف سے تم حج کر لو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1787]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1788
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو عمرو محمد بن جعفر العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن صُدْران، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، سمعتُ النعمان بن سالم يقول: سمعتُ عمرَو بن أَوس يحدِّث عن أبي رَزِين أنه قال: يا رسولَ الله، إنَّ أبي شيخٌ كبير لا يستطيع الحَجَّ والعُمرة ولا الظَّعَن، قال:"حُجَّ عن أبيكَ واعتَمِر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمرو بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابورزین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ بوڑھا شخص ہے وہ حج یا عمرہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ سفر کر سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی طرف سے تم حج کر لو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بحاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1788]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. حَجُّ الصَّبِيِّ وَالْأَعْرَابِيِّ
بچے اور دیہاتی (اعرابی) کے حج کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1789
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفّان، حدثنا شعبة. وأخبرنا إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا أبو الوليد ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا شعبة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا محمد بن المِنهال، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إذا حَجَّ الصبيُّ فهي له حَجَّةٌ حتَّى يَعقِل، وإذا عَقَلَ فعليه حَجَّةٌ أُخرى، وإذا حَجَّ الأعرابيُّ فهي له حَجَّةٌ، فإذا هاجَرَ فعليه حَجَّةٌ أُخرى" (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ حج کرے تو وہ اس کے لیے ایک حج ہے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کے ذمہ دوسرا حج لازم ہے اور جب اعرابی حج کرے تو وہ اس کے لیے ایک حج ہے اور جب وہ ہجرت کر لے تو اس پر ایک اور حج لازم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1789]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. حَجُّ الْأَجِيرِ
مزدور/اجرت پر کام کرنے والے کے حج کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1790
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا مَعْمَر بن راشد الصَّنعاني، عن عبد الكريم الجَزَري، عن سعيد بن جُبَير قال: أتى رجلٌ ابنَ عباس فقال: إني آجَرْتُ نفسي من قوم، فتركتُ لهم بعض أجري ليُخَلُّوا بيني وبين المناسك، فهل يُجزئ ذلك عنِّي؟ فقال ابن عباس: هذا من الذين قال الله ﷿: ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [البقرة: 202] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک قبیلے کا اجرت پر کام کرتا ہوں، میں نے ان کو اپنی کچھ اجرت اس غرض سے چھوڑ دی ہے تاکہ وہ مجھے حج کرنے کی اجازت دے دیں۔ کیا میرے لیے یہ جائز ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اولئک لھم نصیب مماکسبوا واللّٰہ سریعُ الحساب یہی ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1790]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عطاء، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عباس: أنَّ الناس كانوا في أوّل الحج يتبايعون بمِنًى وعَرَفةَ وسوق ذي المَجَاز ومواسم الحج، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] في مَوَاسم الحَجّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ حج کے موسم میں حج سے پہلے منٰی، عرفہ، او ذی المجاز بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے، ان کو حالت احرام میں خرید و فروخت سے پریشانی ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربّکم (البقرۃ: 198) تم پر کچھ گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو یعنی حج کے ایام میں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1791]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن الحسن الحَرّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن ابن إسحاق، حدثنا عبد الله بن أبي بَكْر بن محمد بن عمرو بن حَزْم الأنصاري، عن عثمان بن أبي سليمان بن جُبَير بن مُطْعِم، عن عمِّه نافع بن جُبَير، عن أبيه جُبَير بن مُطْعِم قال: لقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ قبلَ أن يُنزَل عليه، وإنَّه لَوَاقفٌ على بعيرٍ له بعرفاتٍ مع الناس يَدْفَعُ معهم منها، وما ذاكَ إلَّا توفيقٌ من الله ﷿ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نزول قرآن سے پہلے لوگوں کے ہمراہ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار کھڑے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے لوگوں کی معیت میں ہی روانہ ہوتے اور یہ تمام عمل محض اللہ کی توفیق ہی سے ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1792]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. الْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ
عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1793
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بَكْر (1) ، أخبرنا ابن جُرَيح، أخبرني أبي، عن جُبَير بن مُطْعَم قال: أضلَلْتُ جَمَلًا لي يومَ عرفة، فانطلقتُ إلى عرفةَ أبتغيه، فإذا أنا بمحمدٍ ﷺ واقفٌ مع الناس بعَرفةَ على بعيرِهِ عشيَّةَ عرفة، وذلك بعدما أُنزِلَ عليه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث ابن عُيينة عن عمرو بن دينار عن محمد بن جُبير عن أبيه، الحديث في ذكر الحُمْس (3) ، وأنَّ رسول الله ﷺ كان يقفُ بعرفة بثَنِيّة مكة.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا، میں میدان عرفات میں اس کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا کہ اچانک میری نظر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی جو کہ عرفہ کی شام کو لوگوں کے ہمراہ اپنے اونٹ پر سوار کھڑے تھے اور یہ (اس دن جو وحی نازل ہوئی تھی اس کے) نزول کے بعد کی بات ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا جبکہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ابن عیینہ کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے محمد بن جبیر کے حوالے سے ان کے والد سے گھنٹی کے ذکر میں حدیث روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں عرفہ میں وقوف کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1793]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً
رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1794
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن إبراهيم بن مُهاجر، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، قال: أَرسَل مروانُ إلى أم مَعْقِل يسألها عن هذا الحديث، فحدَّثَتْ أنَّ زوجها جعل بَكْرًا في سبيل الله، وأنها أرادت العُمرةَ فسألتْ زوجَها البَكْرَ، فأَبى عليها، فأتت رسولَ الله ﷺ فذَكَرَت ذلك له، فأمره النبيُّ ﷺ أن يُعطيَها، وقال:"إنَّ الحج والعُمرة لَمِنْ سبيل الله، وإِنَّ عُمرةً في رمضان تَعدِلُ حَجَّةً" أو"تُجزِئُ بحَجَّةٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مروان نے ان کو اُمّ معقل کی طرف بھیجا کہ ان سے اس حدیث سے متعلق دریافت کروں، میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے راہ خدا میں سفر پر جانے کے لیے اونٹ تیار کیا جبکہ ان (ام معقل) کا ارادہ عمرہ کرنے کا تھا، تو انہوں نے اپنے شوہر سے اونٹ مانگا لیکن اس نے انکار کر دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ معاملہ آپ کے سامنے رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو اونٹ دے دے اور فرمایا: حج و عمرہ بھی راہِ خدا سے تعلق رکھتے اور رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1794]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں