🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. الشُّرْبُ مِنْ زَمْزَمَ وَآدَابُهُ
زمزم کا پانی پینے اور اس کے آداب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1756
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى، حدثنا محمد بن الصبَّاح، حدثنا إسماعيل بن زكريا، عن عثمان بن الأسوَد، قال: جاء رجلٌ إلى ابن عباسٍ، فقال له: من أين جئتَ؟ فقال: شربتُ من زمزم، فقال له ابن عباس: أشربتَ منها كما ينبغي؟ قال: وكيف ذاك يا أبا عباس؟ قال: إذا شربتَ منها فاستقبِلِ القِبلةَ، واذكُر اسمَ الله، وتنفَّسْ ثلاثًا، وتضلَّعْ منها، وإذا فرغتَ فاحمَدِ الله، فإنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"آيةٌ بينَنا وبينَ المنافقين أنَّهم لا يَتضلَّعون من زمزمَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إن كان عثمان بن الأَسوَد سَمِع من ابن عباس (2) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: میں نے زمزم کا پانی پیا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم نے اسے ویسے پیا جیسا پینے کا حق ہے؟ اس نے پوچھا: اے ابوعباس! وہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا: جب تم اسے پیو تو قبلہ رخ ہو جاؤ، اللہ کا نام لو، تین سانسوں میں پیو، خوب پیٹ بھر کر پیو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقین کے درمیان نشانی یہ ہے کہ وہ زمزم کا پانی پیٹ بھر کر نہیں پیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر عثمان بن اسود کا سماع ابن عباس سے ثابت ہو، اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، وهذا إسناد سقط منه الواسطة بين عثمان بن الأسود وابن عباس في رواية "المستدرك" هذه، وهو ابن أبي مليكة، فقد أثبته البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 147 حيث رواه عن الحاكم نفسه بإسناده ومتنه. وقد اضطرب الرواة عن عثمان بن الأسود في تسمية ابن أبي مليكة، فسماه بعضهم: ...» [ترقيم الرساله 1756] [ترقيم الشركة 1744]

الحكم على الحديث: حديث ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ
زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے اسی کے لیے فائدہ دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1757
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا أبو عبد الله محمد بن هشام المَروَرُّوذي، حدثنا محمد بن حَبيب الجارُودي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ماءُ زمزمَ لِمَا شُرِبَ له، فإن شَرِبتَه تَستَشفي به شفاكَ الله، وإن شَرِبتَه مُستعيذًا أعاذك الله، وإن شَرِبتَه ليَقطَعَ ظَمَأَك قَطَعَه". قال: وكان ابنُ عباس إذا شَرِبَ ماء زمزمَ قال: اللهمَّ أسألُك علمًا نافعًا، ورزقًا واسعًا، وشفاءً من كلِّ داءٍ (3)
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الجارودي هذا، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمزم کا پانی اسی مقصد کے لیے ہے جس کے لیے اسے پیا جائے، اگر تم اسے شفا کی نیت سے پیو گے تو اللہ تمہیں شفا دے گا، اگر پناہ مانگتے ہوئے پیو گے تو اللہ تمہیں پناہ دے گا، اور اگر پیاس بجھانے کے لیے پیو گے تو وہ اسے بجھا دے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب زمزم پیتے تو یہ دعا مانگتے: «اللّٰهُمَّ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ» اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ یہ جارودی نامی راوی سے محفوظ ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «ضعيف مرفوعًا، والصحيح أنه عن مجاهد قولَه. محمد بن هشام - وهو ابن علي المرورُّذي، كما وقع في بعض نسخ "سنن الدارقطني" - لا يُعرَف حاله كما قال ابن القطان في "بيان الوهم والإيهام"، والمنذري في "الترغيب والترهيب"، ونقله عنه أيضًا الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان" في ترجمة محمد ...» [ترقيم الرساله 1757] [ترقيم الشركة 1745]

الحكم على الحديث: ضعيف مرفوعًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. السُّجُودُ عَلَى الْحَجَرِ
حجر (حطیم) پر سجدہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1758
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفيُّ بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا أبو سعيد يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثنا يحيى بن اليَمَان، عن سفيان، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ سَجَدَ على الحَجَر (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود پر سجدہ فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث: «ضعيف مرفوعًا، انفرد به عن سفيان - وهو الثوري - يحيى بن اليمان العجلي، وانفرد به عن يحيى أبو سعيد الجعفي، وهما وإن كانا حسنا الحديث، لكن حيث لا يخالفان، وقد خالفهما عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج - وهو أوثق منهما - فرواه عن محمد بن عباد عن ...» [ترقيم الرساله 1758] [ترقيم الشركة 1746]

الحكم على الحديث: ضعيف مرفوعًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
نبی ﷺ کا حجۃ الوداع میں خطبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1759
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا أبو بكر يحيى (1) بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثني سُلَيم بن عامر، سمعت أبا أُمامةَ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ وهو يَخطُبُ الناسَ على ناقته الجَدْعاء في حَجَّة الوداع، يقول:"يا أيها الناس، أَطيعوا ربَّكم، وصلُّوا خَمْسَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وصومُوا شهرَكم، وأَطيعُوا ذا أمرِكم؛ تَدخُلوا جنةَ ربِّكم". قلتُ لأبي أُمامة: منذُ كم سمعتَ هذا الحديث؟ قال: سمعتُه وأنا ابنُ ثلاثين سنة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: اے لوگو! اپنے رب کی اطاعت کرو، اپنی پانچ وقت کی نمازیں ادا کرو، اپنے مالوں کی زکات دو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو؛ تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے یہ حدیث کب سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ تب سنی تھی جب میں تیس سال کا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1759] [ترقيم الشركة 1747]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760
أخبرنا أبو الحسن علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثنا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهدٍ وعطاءٍ، عن جابر بن عبد الله قال: كَثُرَت القالةُ من الناس، فخرجنا حُجّاجًا، حتى إذا لم يكن بيننا وبين أن نَحِلَّ إلَّا ليالي (3) قلائلُ أُمِرْنا بالإحلال، فيَرُوحُ أحدُنا إلى عَرَفَة وفَرْجُه يَقطُرُ مَنيًّا، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقام خطيبًا فقال:"أبالله تُعَلِّموني أيها الناسُ، فأنا واللهِ أعلَمُكُم بالله وأتقاكم له، ولو استقبلتُ من أَمري ما استَدبرتُ ما سُقْتُ هَدْيًا، ولَحَلَلتُ كما أحَلُّوا، فمَن لم يكن معه هديٌ فليصمْ ثلاثةَ أيامٍ وسبعةً إذا رَجَعَ إلى أهله، ومن وَجَدَ هديًا فليَنْحَر"، فكنا ننحرُ الجَزُورَ عن سبعة (4) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں میں چہ میگوئیاں بڑھ گئیں، ہم حج کے ارادے سے نکلے تھے، جب ہمارے حلال ہونے میں چند ہی راتیں باقی رہ گئیں تو ہمیں احرام کھولنے کا حکم دیا گیا، (لوگ کہنے لگے کہ) ہم میں سے کوئی اس حال میں عرفہ جائے گا کہ اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں؟ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! کیا تم مجھے اللہ کے بارے میں سکھاتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے بڑھ کر اللہ کو جاننے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں، اور اگر میں پہلے وہ جان لیتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور ویسے ہی حلال ہو جاتا جیسے باقی لوگ ہوئے ہیں، پس جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے وہ تین دن (حج میں) روزے رکھے اور سات دن جب اپنے گھر واپس جائے، اور جسے قربانی میسر ہو وہ اسے ذبح کرے۔ چنانچہ ہم ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ذبح کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1760]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد توبع، يحيى بن أيوب: هو المقابري، ووهب بن جرير: هو ابن حازم الأزدي، وابن أبي نجيح: هو عبد الله، ومجاهد: هو ابن جبر المكي، وعطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1760] [ترقيم الشركة 1748]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760M
قال عطاء (1) : قال ابنُ عباس: إنَّ رسول الله ﷺ قَسَمَ يومئذٍ في أصحابه غنمًا، فأصاب سعدَ بنَ أبي وقاصٍ تَيْسٌ، فذَبَحه عن نفسه، فلمّا وقف رسولُ الله ﷺ بعَرَفةَ أَمَرَ ربيعةَ بن أُمية بن خلف فقام تحت يَدَي ناقتِه، فقال له النبيُّ ﷺ:"اصرُخْ: أيها الناس، هل تَدْرُونَ أيُّ شهرٍ هذا؟" قالوا: الشهرُ الحرام، قال:"فهل تَدرونَ أيُّ بلدٍ هذا؟" قالوا: البلد الحرام، ثم قال:"هل تَدرونَ أيُّ يومٍ هذا؟" قالوا: يومُ الحجِّ الأكبر، فقال رسول الله ﷺ:"قد حرَّم الله عليكم دِماءَكم، وأموالَكم كحُرمةِ شهرِكم هذا، وكحُرمةِ بلدِكم هذا، وكحُرمةِ يومِكم هذا"، فقضى رسولُ الله ﷺ حَجَّه، وقال حين وَقَفَ بعَرَفةَ:"هذا الموقفُ، وكلُّ عرفةَ موقفٌ"، وقال حين وقف على قُزَحَ:"هذا الموقفُ، وكلُّ المزدلفةِ موقفٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ من ألفاظِ حديث جعفر بن محمد الصادق عن أبيه عن جابر، وفيه أيضًا زيادةُ ألفاظٍ كثيرة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم فرمائیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک مینڈھا آیا جسے انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ٹھہرے تو آپ نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا کہ وہ آپ کی اونٹنی کے سینے کے پاس کھڑے ہوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: پکار کر کہو: اے لوگو! کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ، آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حجِ اکبر کا دن، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال اسی طرح حرام کر دیے ہیں جیسی تمہارے اس مہینے، تمہارے اس شہر اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے، غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج مکمل کیا اور عرفہ میں وقوف کے وقت فرمایا: یہ جائے وقوف ہے اور پورا عرفہ ہی جائے وقوف ہے، اور جب آپ مزدلفہ میں قزح کے مقام پر ٹھہرے تو فرمایا: یہ جائے وقوف ہے اور پورا مزدلفہ ہی جائے وقوف ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ طویل حدیث کے الفاظ بھی ہیں اور بہت سے زائد کلمات بھی شامل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1760M]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.» [ترقيم الرساله 1760M] [ترقيم الشركة 1748/1]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1761
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن هشام بن حسان، عن أنس بن سِيرين، عن أنس بن مالكٍ أنه قال: لما رَمَى رسول الله ﷺ الجَمْرةَ ونَحَر هَدْيَه، ناوَلَ الحالقَ شِقَّهُ الأَيمنَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ الشِّقَّ الأيسَرَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ أبا طلحةَ وأَمره أن يَقْسِمَه بين الناس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالِک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کر لی اور اپنی قربانی ذبح کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال کاٹنے والے کو اپنے سر کا دایاں حصہ پیش کیا، اس نے بال مونڈ دیے، پھر بایاں حصہ پیش کیا، اس نے اسے بھی مونڈ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال سیدنا ابوطرحہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائے اور انہیں حکم دیا کہ انہیں لوگوں میں تقسیم کر دیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، إلّا أنَّ ذكر أنس بن سيرين في هذا الإسناد وهمٌ، والمحفوظ أنه من رواية محمد بن سيرين وليس أنسًا، وذلك لأمور:» [ترقيم الرساله 1761] [ترقيم الشركة 1749]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيدٍ الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، أنَّ أبا سَلَمة حدّثه، أنَّ محمد بن عبد الله بن زيد حدّثه: أنَّ أباه شَهِدَ النبيَّ ﷺ عند المَنْحَر هو ورجلٌ من الأنصار، فحَلَقَ رسولُ الله ﷺ رأسَه في ثوبِه، فأعطاه فقَسَمَ منه على رجالٍ، وقلَّم أظفارَه فأعطاه صاحبَه. قالوا: فإنه عندنا مخضوبٌ بالحِنّاء والكَتَم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قربان گاہ (منحر) میں حاضر تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک کے بال ایک کپڑے میں منڈوائے، پھر وہ بال انہیں دے دیے اور انہوں نے اس میں سے کچھ لوگوں میں تقسیم کر دیے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناخن مبارک تراشے اور وہ اپنے ساتھی کو عطا فرما دیے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ بال ہمارے پاس محفوظ ہیں جنہیں مہندی اور کتم (خضاب) سے رنگا گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،موسى بن إسماعيل: هو التبوذكي، وأبان بن يزيد: هو العطار، وأبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن، وصحابيه عبد الله بن زيد: هو ابن عبد ربه.» [ترقيم الرساله 1762] [ترقيم الشركة 1750]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ، حدثنا محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ أفاضَ يومَ النَّحر، ثم رَجَعَ فصلَّى الظُّهرَ بمِنًى، قال نافع: وكان ابنُ عمر يُفيضُ يومَ النَّحر، ثم يَرجعُ فيصلِّي الظُّهرَ بمِنًى، ويَذكُر: أنَّ النبي ﷺ فَعَلَه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو طوافِ افاضہ کیا، پھر واپس تشریف لائے اور منیٰ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یومِ نحر کو طوافِ افاضہ کرتے تھے، پھر واپس آ کر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھتے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1763] [ترقيم الشركة 1751]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1764
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصرٍ، قال: قُرئ على عبد الله بن وهب، أخبرك ابنُ جُريج، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَرْمُلُ في السَّبْع الذي أفاض فيه. وقال عطاء: لا رَمَلَ فيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ افاضہ کے سات چکروں میں رمل (پہلوانوں کی طرح تیز چال) نہیں کی۔ عطاء کہتے ہیں کہ اس طواف میں رمل نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1764] [ترقيم الشركة 1752]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں