المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. الدُّعَاءُ إِذَا قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ
سفر سے واپس آنے پر پڑھی جانے والی دعا۔
حدیث نمبر: 1815
حدثنا عبد الصمد بن علي البزّاز إملاءً ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباسٍ قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا قَدِمَ من سفرٍ فرأَى أهلَه قال:"أَوْبًا أوْبًا، إلى ربِّنا تَوْبًا (2) لا يغادرُ علينا حَوْبًا" (3) .
هذا حديث صحيح بين الشيخين، لأنَّ البخاري تفرَّد بالاحتجاج بعكرمة، ومسلم بسِمَاك بن حرب، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح بين الشيخين، لأنَّ البخاري تفرَّد بالاحتجاج بعكرمة، ومسلم بسِمَاك بن حرب، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپسی پر اپنے گھر والوں کو دیکھتے تو یہ دعا فرماتے: «أَوْبًا أَوْبًا، إِلَى رَبِّنَا تَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» ”(ہم) رجوع کرنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، اپنے رب کی طرف ایسی توبہ کرنے والے ہیں جو ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1815]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله، وحسَّن هذا الحديث الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" فيما نقله عنه ابن علان في "الفتوحات الربانية" 5/ 172. زائدة: هو ابن قدامة.» [ترقيم الرساله 1815] [ترقيم الشركة 1801]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1816
أخبرنا محمد بن أحمد بن حاتم المُزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو عن أبيه، عن جدِّه، عن عائشة أُم المؤمنين قالت: أَقبَلْنا من مكة في حجٍّ أو عُمرةٍ، وأُسَيدُ بنُ حُضَير يَسِير بين يَدَيْ رسولِ الله ﷺ، فتلقَّانا غلمانٌ من الأنصار كانوا يَتلَقَّون أهاليَهم إذا قَدِموا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کر کے مکہ سے واپس آ رہے تھے اور سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چل رہے تھے، تو انصار کے کچھ لڑکے ہمیں ملے جو اپنے گھر والوں کی آمد پر ان کا استقبال کرنے نکلا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1816]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِينٌ من أجل عمرو بن علقمة بن وقّاص الليثي والد محمد، فإنه لم يرو عنه غير ابنه محمد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقد خولف في لفظ حديثه هذا كما سيأتي بيانه عند رواية المصنف المطولة الآتية برقم (4991) من طريق إبراهيم بن عبد الله السعدي عن يزيد بن هارون.» [ترقيم الرساله 1816] [ترقيم الشركة 1802]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لِينٌ من أجل عمرو بن علقمة بن وقّاص الليثي والد محمد
حدیث نمبر: 1817
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا أبو فَرْوة الرُّهَاوي، عن عُرْوة بن رُوَيم اللَّخْمي قال: سمعتُ أبا ثَعْلبة الخُشَنيَّ يقول: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ من غَزاةٍ له، فدخل المسجد فصلَّى فيه ركعتين - وكان يُعجبُه إذا قَدِمَ من سفر أن يَدخُلَ المسجد فيصلِّيَ فيه ركعتين (1) ثم يَخرج - فأتى فاطمةَ فبدأ بها فاستَقبَلَته، فجعلَت تُقبِّل وجهَه وعينَيه، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"ما يُبكيكِ (2) ؟" قالت: يا رسولَ الله، أراك قد شَحَبَ لونُك، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"يا فاطمةُ، إنَّ الله ﷿ بَعَثَ أباكِ بأمرٍ لم يَبْقَ على ظهر الأرض بيتُ مَدَرٍ ولا شَعرٍ إلَّا أدخلَ الله به عزًّا أو ذلًّا، حتى يَبلُغ حيثُ بَلَغَ الليلُ (3) " (4) .
هذا حديث رواته مُجمَعٌ عليهم بأنهم ثقات، إلَّا أبا فروةَ يزيدَ بنَ سِنان. وله شاهدٌ من حديث إبراهيم بن قُعَيْس:
هذا حديث رواته مُجمَعٌ عليهم بأنهم ثقات، إلَّا أبا فروةَ يزيدَ بنَ سِنان. وله شاهدٌ من حديث إبراهيم بن قُعَيْس:
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے سے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں داخل ہوتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے — آپ کو یہ بات پسند تھی کہ جب سفر سے واپس آئیں تو مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھیں اور پھر نکلیں — اس کے بعد آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور ان سے ملاقات کی ابتدا فرماتے، وہ آپ کا استقبال کرتیں اور آپ کے چہرے اور آنکھوں کا بوسہ لیتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہی ہوں کہ (تھکن سے) آپ کا رنگ بدل گیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! بلاشبہ اللہ عزوجل نے تمہارے باپ کو ایک ایسے معاملے (دین) کے ساتھ بھیجا ہے جو روئے زمین پر مٹی کے بنے ہوئے کسی گھر یا اونٹ کے بالوں کے بنے ہوئے کسی خیمے کو نہیں چھوڑے گا مگر اللہ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت کے ساتھ یا ذلت کے ساتھ، یہاں تک کہ یہ وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے۔“
اس حدیث کے راویوں کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے سوائے ابو فروہ یزید بن سنان کے، اور اس کا ایک شاہد ابراہیم بن قعیس کی روایت سے بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1817]
اس حدیث کے راویوں کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے سوائے ابو فروہ یزید بن سنان کے، اور اس کا ایک شاہد ابراہیم بن قعیس کی روایت سے بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبي فروة الرهاوي - واسمه يزيد بن سنان، وقد اضطرب في تعيين شيخه، إذ روي عنه مرة أنه عروة بن رويم - كما هنا - ومرة أخرى روي عنه أنه عقبة بن يريم، وذكرهما مرة جميعًا فقال: عن عروة بن رويم عن عقبة بن يريم - كما ...» [ترقيم الرساله 1817] [ترقيم الشركة 1803]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أبي فروة الرهاوي - واسمه يزيد بن سنان
حدیث نمبر: 1818
حدَّثَناه أبو الحسين أحمد بن عثمان الأَدَمي المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن حمَّاد، حدثنا أبو عَوَانة، حدثنا العلاء بن المسيّب، عن إبراهيم بن قُعَيس، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا خَرَجَ في غَزَاةٍ، كان آخرُ عَهدِه بفاطمة، وإذا رَجَعَ من غَزَاةٍ، كان أولُ عهدِه بفاطمة؛ ثم ذَكَرَ باقيَ الحديث بغير هذا اللفظ (1) .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے کے لیے نکلتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات فرماتے، اور جب غزوے سے واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے۔
(امام حاکم کہتے ہیں کہ) پھر راوی نے باقی حدیث ان الفاظ کے علاوہ بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1818]
(امام حاکم کہتے ہیں کہ) پھر راوی نے باقی حدیث ان الفاظ کے علاوہ بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد فيه لين من أجل إبراهيم بن قُعَيس - وهو إبراهيم بن إسماعيل المدني، ويقال: إبراهيم قُعيس - فقد ضعفه أبو حاتم الرازي، وقال يعقوب بن سفيان: هو عندي منكر الحديث، وقال المصنف نفسه في "سؤالات السجزي" له (202): حدّث بأحاديث يسيرة ما فيها حديثٌ إلّا وقد ...» [ترقيم الرساله 1818] [ترقيم الشركة 1804]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 1819
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة، حدثنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن أبيه: أنَّ ابن عمر كان يُزاحِم على الرُّكْنين، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، إنَّكَ تُزاحِم على الركنين زِحامًا ما رأيتُ أحدًا من أصحاب رسول الله ﷺ يُزاحِم عليه! قال: إنْ أَفعلْ فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ مَسْحَهُما كفَّارةٌ للخَطَايا"، [وسمعتُه يقول:"مَن طافَ بهذا البيت سُبوعًا فأحصاهُ، كان كعِتْقِ رَقَبة"] (1) ، وسمعته يقول:"لا يَضَعُ قدمًا ولا يَرفَعُ أخرى إلَّا حَطَّ اللهُ عنه بها خَطيئةً، وكَتَبَ له بها حسنةً" (2) .
هذا حديث صحيح على ما بيّنتُه من حال عطاء بن السائب، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على ما بيّنتُه من حال عطاء بن السائب، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ (طواف کے دوران) دونوں رکنوں (رکنِ یمانی اور حجرِ اسود) پر بہت ازدحام کرتے تھے، میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ان دونوں رکنوں پر اتنا زیادہ رش کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی اور کو اس طرح کرتے نہیں دیکھا! انہوں نے فرمایا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ان دونوں کا مسح کرنا گناہوں کا کفارہ ہے۔“ اور میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے اس گھر کا سات بار طواف کیا اور اسے پورا کیا، تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“ اور میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”وہ (طواف کرنے والا) اپنا قدم نہیں رکھتا اور نہ ہی دوسرا قدم اٹھاتا ہے مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کی ایک خطا مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔“
یہ حدیث عطاء بن سائب کے حال کی وضاحت کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1819]
یہ حدیث عطاء بن سائب کے حال کی وضاحت کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، جرير بن عبد الحميد وإن كانت روايته عن عطاء بن السائب بعد الاختلاط قد توبع ممَّن روى عنه قبل الاختلاط وبعده، وقد صرَّح عبد الله بن عبيد بسماعه من أبيه عند أحمد (4462).» [ترقيم الرساله 1819] [ترقيم الشركة 1805]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1820
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المُثنَّى العَنْبريُّ، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا ابن أبي عَديِّ، عن محمد بن إسحاق، حدثنا أبو عُبيدةَ بن عبد الله بن زَمْعة، عن أبيه وعن أُمه زينب بنت أبي سلمة، يحدِّثانه عن أُم سلمة - يحدِّثانه بذلك جميعًا عنها - قالت: كانت ليلتي التي يَصيرُ إليَّ رسولُ الله ﷺ، فدخل عليَّ وهبُ بن زَمْعة ومعه رجلٌ من آل أبي أُمية مُتقمِّصَين، فقال النبي ﷺ لوهب:"هل أفَضْتَ أبا عبد الله؟" قال: لا والله يا رسولَ الله، قال:"انزِعْ عنك القَمِيصَ". قال: فنَزَعَه من رأسه، ونَزَعَ صاحبُه قميصَه من رأسه، قالوا: ولِمَ يا رسول الله؟ قال:"إنَّ هذا قد رُخِّصَ لكم إذا رَمَيتُم الجَمْرةَ أن تحِلُّوا من كل ما حُرِمْتُم منه إلَّا النساء، فإذا أَمسيتُم قبل أن تَطُوفوا بهذا البيت صِرتُم حُرُمًا كهيئتِكم قبل أن تَرمُوا الجَمْرة حتى تَطُوفوا" (1) . قال أبو عُبيدة (1) : وحدَّثَتني أمُّ قيس (2) . [كتاب الدعاء والتسبيح والتكبير والتهليل والذكر]
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ میری (باری کی) وہ رات تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں قیام فرمانا تھا، پس وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ بنو ابی امیہ کے ایک شخص قمیص پہنے ہوئے میرے پاس آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے دریافت فرمایا: ”اے ابو عبداللہ! کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر سے یہ قمیص اتار دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سر کی طرف سے قمیص اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنی قمیص اتار دی، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب تم جمرہ کی رمی کر لو تو تمہارے لیے وہ سب چیزیں حلال ہو جائیں جن سے تمہیں روکا گیا تھا سوائے عورتوں کے، لیکن اگر تم بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے شام کر لو (یعنی سورج غروب ہو جائے) تو تم دوبارہ اسی طرح محرم بن جاؤ گے جیسے جمرہ کی رمی سے پہلے تھے یہاں تک کہ تم طواف کر لو۔“
ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام قیس نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1820]
ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام قیس نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو عبيدة بن عبد الله بن زمعة لم يذكره أحد بجرح أو تعديل، وأخرج له مسلم حديثًا واحدًا متابعةً، وقال الحافظ في "التقريب": مقبول. وقد اضطرب في هذا الحديث كما بيناه في "مسند أحمد" 44/ (26530).» [ترقيم الرساله 1820] [ترقيم الشركة 1806]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف