المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ: الْجِهَادِ
کتاب الجہاد۔
حدیث نمبر: 2407
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن الأعمش، عن مسلم البَطِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: لما أخرج أهلُ مكةَ النبيَّ ﷺ، قال أبو بكر الصِّدّيق: إنا لله وإنا إليه راجعون، أخرَجُوا نبيهم ﷺ، لَيَهلِكُنّ. قال: فنَزَلَت (أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقاتِلُونَ (1) بأَنَّهُم ظُلِمُوا وإِنَّ اللهَ عَلى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ) [الحج: 39] . وكان ابن عبّاس يقرؤُها (أَذِنَ) . قال أبو بكر الصِّدِّيق: فعلمتُ أنها قِتالٌ. قال ابن عباس: وهي أول آية نَزَلَت في القتال (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2376 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2376 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (وہاں سے) نکالا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انا للہ وانا الیہ راجعون، انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا، اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ ”اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور یقیناً اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔“ [سورة الحج: 39] اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے (أُذِنَ) پڑھتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تب مجھے علم ہوا کہ اب قتال (جنگ) ہو کر رہے گی۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قتال کے بارے میں نازل ہونے والی یہ پہلی آیت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2407]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2407]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع. وقد اختُلف في وصل هذا الحديث وإرساله عن سفيان الثَّوري، كما نبَّه عليه الترمذيُّ بإثر الحديث (3171)، والدارقطني في "العلل" (22)، فوصله عن الثَّوري: إسحاق بن يوسف الأزرق وأبو حذيفة النَّهدي كما سيأتي برقم ...» [ترقيم الرساله 2407] [ترقيم الشركة 2389] [ترقيم العلميه 2376]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2408
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشَاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحُسين بن واقِد، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ عبد الرحمن بن عوف وأصحابًا له أتَوُا النبيَّ ﷺ، فقالوا: يا نبيَّ الله، كنا في عزٍّ (1) ونحن مشركون، فلما آمنّا صِرْنا أذلةً! فقال:"إني أُمرتُ بالعفو، فلا تُقاتِلوا القومَ"، فلما حَوَّله إلى المدينة أمرَهُ بالقتال، فكَفُّوا، فأنزل الله ﵎: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [النساء: 77] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2377 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2377 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! جب ہم مشرک تھے تو ہم بڑی عزت و وقار میں تھے، لیکن جب سے ہم ایمان لائے ہیں، ہم (ظاہری طور پر) کمزور ہو گئے ہیں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے درگزر اور معاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم ابھی ان لوگوں سے قتال نہ کرو۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ منتقل فرما دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتال کا حکم دیا گیا، لیکن وہ (کچھ لوگ قتال سے) رک گئے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ ”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے (یوں) ڈرنے لگا (جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے)۔“ [سورة النساء: 77]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2408]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وقد توبع. والحسين بن واقد قوي الحديث.» [ترقيم الرساله 2408] [ترقيم الشركة 2390] [ترقيم العلميه 2377]
الحكم على الحديث: حديث قوي
حدیث نمبر: 2409
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا رَوْح، حدثنا حبيب بن شهاب العَنْبَري قال: سمعت أبي يقول: أتيتُ ابنَ عباس أنا وصاحبٌ لنا، قال: فلقِيْنا أبو هريرة عند باب ابن عباس، فقال: مَن أنتُما؟ فأخبرْناه، فقال: انطلقا إلى ناسٍ على تمر وماءٍ، إنما يسيلُ وادٍ بقَدَرِه، قلنا: كثُر خَيْرُك، استأذِن لنا على ابنِ عباس، فاستأذَنَ لنا، فسمعْنا ابنَ عباس يحدِّث عن رسول الله ﷺ، فقال: خَطَبَ رسولُ الله ﷺ يومَ تَبوك، فقال:"ما في الناس مِثلُ رجلٍ آخذٍ بعِنانِ فرسِهِ، فيُجاهد في سبيل الله، ويَجتَنِبُ شُرورَ الناسِ، ومِثلُ رجلٍ بادٍ في غَنَمِه، يَقْرِي ضَيفَه، ويُؤدّي حقَّه"، قال: فقلتُ: أقالَها؟ قال: قالها، قال: فقلت: أقالها؟ قال: قالها - ثلاثًا - فكبَّرتُ وحَمِدتُ وشَكَرتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2378 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2378 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حبیب بن شہاب عنبری کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اور میرا ایک ساتھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو ہماری ملاقات ان کے دروازے پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ ہم نے انہیں بتایا، تو انہوں نے فرمایا: ”ان لوگوں کے پاس چلو جو کھجوروں اور پانی پر موجود ہیں، یقیناً وادی اپنی وسعت کے مطابق ہی بہتی ہے۔“ ہم نے کہا: ”اللہ آپ کا بھلا کرے، ہمارے لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت طلب کیجیے۔“ انہوں نے ہمارے لیے اجازت لی، پھر ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں اس شخص جیسا کوئی بہتر نہیں جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور لوگوں کے شر سے بچ کر رہتا ہے، اور اس شخص کی طرح جو اپنے ریوڑ کے ساتھ دیہات میں رہتا ہے، اپنے مہمان کی مہمانی کرتا ہے اور اس کا حق ادا کرتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی یہ فرمایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے۔“ میں نے پھر پوچھا: ”کیا واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے۔“ انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی، تو میں نے اللہ کی کبریائی بیان کی، اس کی حمد کی اور شکر ادا کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2409]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2409]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2409] [ترقيم الشركة 2391] [ترقيم العلميه 2378]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2410
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو محمد بن موسى العَدْل، قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المعافَى بن سليمان، حدثنا فُليح بن سليمان، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن مَعْمَر، عن سعيد بن يَسار، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ألا أُخبِرُكم بخَيرِ الناس منزلةً؟" قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"رجلٌ آخِذٌ بعِنانِ فَرسِه في سبيل الله حتى يُقتَلَ أو يموتَ، ألا أُخبِرُكم بالذي يَليهِ: رجلٌ مُعتزِلٌ في شِعْبٍ، يُقيم الصلاةَ، ويُؤتي الزكاة، ويَشهَد أن لا إلهَ إلّا الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2379 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2379 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں منزل و مقام کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا جائے یا اسے موت آ جائے، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس کے بعد (بہتری میں) اس کے قریب ہے؟ وہ شخص جو کسی گھاٹی میں (آبادی سے) الگ تھلگ رہ کر نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2410]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان، فحديثه حسن في المتابعات والشواهد، وقد روي هذا الحديث عن أبي هريرة من وجوه أُخر كما سيأتي.» [ترقيم الرساله 2410] [ترقيم الشركة 2392] [ترقيم العلميه 2379]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2411
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخَير، عن أبي الخطّاب، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ عامَ تبوكَ خَطَبَ الناسَ وهو مُضِيفٌ ظَهْرَه إلى نخلة، فقال:"ألا أُخبِرُكُم بخيرِ الناس وشرِّ الناسِ، إنَّ مِن خيرِ الناسِ رجل (1) عَمِلَ في سبيل الله على ظَهْر فَرسِه، أو على ظهر بَعيرِه، أو على قَدَمَيه، حتى يأتيَه الموتُ، وإنَّ من شرّ الناسِ رجل فاجر جَريء، يقرأَ كتابَ الله، لا يَرْعَوِي إلى شيءٍ منه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2380 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2380 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں سے سب سے بہتر اور سب سے بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یقیناً لوگوں میں سے بہتر وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر یا اپنے اونٹ کی پیٹھ پر یا اپنے قدموں پر چل کر عمل کیا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، اور لوگوں میں سے بدترین وہ گناہ گار اور نڈر شخص ہے جو اللہ کی کتاب تو پڑھتا ہے لیکن اس (کی وعیدوں اور احکامات) میں سے کسی چیز سے باز نہیں آتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2411]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي الخطاب - وهو المصري - وله طريق أخرى فيها انقطاع لكنها بانضمامها لهذه الطريق يتحسن الحديثُ إن شاء الله، مع ما له من شواهد. ابن وهب: هو عبد الله، وأبو الخير: هو مرثد بن عبد الله اليزني.» [ترقيم الرساله 2411] [ترقيم الشركة 2393] [ترقيم العلميه 2380]
الحكم على الحديث: حديث حسن
2. يَوْمٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ
اللہ کی راہ میں ایک دن گزارنا اس کے سوا ہزار دنوں سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2412
أخبرني الحسن بن حليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا محمد بن مَعْن الغِفاري أبو مَعْن، حدثنا زُهْرة بن مَعْبد القرشي، عن أبي صالح مولى عثمان، قال: سمعت عثمان بن عفّان في مسجد الخَيْف بمنًى، وحدثنا أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"يومٌ في سبيلِ الله خيرٌ من ألفِ يومٍ فيما سواهُ"، فليَنْظُر كلُّ امرئٍ لنفسِه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے اور انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کی راہ میں (گزارا ہوا) ایک دن اس کے علاوہ دیگر مقامات کے ایک ہزار دنوں سے بہتر ہے۔“ پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کے لیے (بھلائی کا) سامان دیکھ لے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2412]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أبو صالح مولى عثمان وثقه العجلي وابن حبّان، وقال العجلي: روى عنه زهرة بن معبد وأهل مصر، وحسّن حديثه هذا الترمذي وصحَّحه ابن حبان، واختُلف في اسمه فقيل: بركان، وقيل: الحارث.» [ترقيم الرساله 2412] [ترقيم الشركة 2394] [ترقيم العلميه 2381]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2413
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني هشام بن سعد، عن سعيد بن أبي هلال، عن ابن أبي ذُباب، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا من أصحاب النبي ﷺ مَرَّ بِشِعْب فيه عُيَينةٌ من ماءٍ عَذْب، فأعجبه طِيبُه وحُسنُه، فقال: لو اعتزلتُ الناسَ وأقمتُ في هذا الشِّعْبِ، ثم قال: لا أفعلُ حتى أستأمِرَ رسولَ الله ﷺ، فذَكَر ذلك لرسول الله ﷺ، فقال:"لا تَفعلْ، فإنَّ مَقامَ أحدِكُم في سبيل الله أفضلُ من صلاته في أهله ستين عامًا، ألا تحبُّون أن يغفرَ اللهُ لكم، ويُدخلَكُم الجنةَ اغزُوا في سبيلِ الله، مَن قاتَلَ في سبيل الله فُواقَ ناقةٍ، وَجَبَت له الجنةُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2382 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2382 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص کا گزر ایک ایسی گھاٹی سے ہوا جہاں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا، انہیں اس کی پاکیزگی اور خوبصورتی بہت پسند آئی تو انہوں نے (دل میں) کہا: کاش میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اس گھاٹی میں قیام کر لوں، پھر انہوں نے سوچا: میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، کیونکہ اللہ کی راہ میں تم میں سے کسی کا قیام کرنا اپنے گھر والوں میں رہ کر ساٹھ سال تک نماز پڑھنے سے بہتر ہے، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرما دے اور تمہیں جنت میں داخل کر دے؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جس نے اللہ کی راہ میں اونٹنی کا دودھ دوہنے کے درمیانی وقفے کے برابر بھی قتال کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2413]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد.» [ترقيم الرساله 2413] [ترقيم الشركة 2395] [ترقيم العلميه 2382]
الحكم على الحديث: صحيح لغيرہ
3. مُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ عَامًا
اللہ کی راہ میں تم میں سے کسی کا کھڑا ہونا اپنے گھر میں ساٹھ سال کی نماز سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 2414
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، حدثنا يحيى بن أيوب، عن هشام بن حسّان، عن الحسن، عن عمران بن حُصَين، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَقامُ الرجلِ في الصَّفِّ في سبيلِ الله، أفضلُ عندَ الله من عبادة رجلٍ ستين سنةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2383 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2383 - على شرط البخاري
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں (میدانِ جنگ کی) صف میں کسی شخص کا کھڑا ہونا، اللہ کے نزدیک کسی شخص کی ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2414]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2414]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وعبد الله بن صالح - وهو كاتب الليث بن سعد- متابع، والحسن - وهو البصري - مختلَف في سماعه من عمران، وقد جزم الحاكم في غير موضع من هذا الكتاب بسماعه منه، والجمهورُ على أنه لم يسمع.» [ترقيم الرساله 2414] [ترقيم الشركة 2396] [ترقيم العلميه 2383]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
4. شَأْنُ نُزُولِ (سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ) . إِلَى آخِرِ السُّورَةِ
سورۂ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض کے نزول کا سبب، آخر سورت تک۔
حدیث نمبر: 2415
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد الأنطاكي، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن عبد الله بن سَلَام قال: قَعَدْنا نفرٌ من أصحاب رسول الله ﷺ فقلنا: لو نعلَمُ أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، عمِلناهُ. فأنزل الله ﷿: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ إلى آخر السورة، فقرأها علينا رسولُ الله ﷺ هكذا (2) . قال الأوزاعيُّ: وقرأها علينا يحيى بنُ أبي كثير بمكة، قال محمدُ بن كثير: وقرأها علينا الأوزاعيُّ هكذا، قال أبو الوليد: وقرأها علينا ابنُ كثير هكذا، قال أبو الحسن بن عُقبة: وقرأها علينا أبو الوليد هكذا، قال الحاكم: وقرأها علينا الشيخُ أبو الحسن الشَّيباني هكذا، وقرأها علينا الحاكمُ أبو عبد الله؛ السورةَ من أولها إلى آخرها. رواه الوليد بن مسلم عن الأوزاعي، وبيّن السماعَ من أول الإسناد إلى آخره.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے آپس میں کہا: ”کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے، تو ہم وہی عمل کرتے۔“ تب اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ”اللہ کی تسبیح بیان کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور وہی نہایت غالب، بڑی حکمت والا ہے“ [سورة الصف: 1] (سورت کے آخر تک)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح یہ پوری سورت پڑھ کر سنائی۔ اوزاعی نے کہا: یہ سورت ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے مکہ میں پڑھ کر سنائی، محمد بن کثیر نے کہا: ہمیں اوزاعی نے اسی طرح سنائی، ابوالولید نے کہا: ہمیں ابن کثیر نے اسی طرح سنائی، ابوالحسن بن عقبہ نے کہا: ہمیں ابوالولید نے اسی طرح سنائی، امام حاکم نے کہا: ہمیں شیخ ابوالحسن شیبانی نے اسی طرح سنائی، اور امام حاکم ابو عبداللہ نے ہمیں یہ سورت شروع سے آخر تک پڑھ کر سنائی۔ اسے ولید بن مسلم نے اوزاعی سے روایت کیا ہے اور سند کے شروع سے آخر تک سماع (سماعت) کی صراحت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل محمد بن كثير المصيصي، وهو متابع في الطريق التالي، والطريقين الآتيين برقم (2418) و (3848). الأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو.» [ترقيم الرساله 2415] [ترقيم الشركة 2397]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2416
أخبرَناه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة، حدثني عبد الله بن سَلَام، قال: كنا قعودًا عند النبي ﷺ، فقلنا: لو نعلم أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، فذكر الحديثَ بنحوه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأكبرُ ظني أنَّ الذي حملهما على تركه روايةُ الهِقْل بن زياد بخلاف رواية الوليد بن مسلم وغيره:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأكبرُ ظني أنَّ الذي حملهما على تركه روايةُ الهِقْل بن زياد بخلاف رواية الوليد بن مسلم وغيره:
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ہم نے عرض کیا: ”کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے“، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مکمل واقعہ ذکر کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ جس چیز نے انہیں اسے چھوڑنے پر آمادہ کیا وہ ہِقْل بن زیاد کی روایت ہے جو ولید بن مسلم وغیرہ کی روایت کے خلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2416]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ جس چیز نے انہیں اسے چھوڑنے پر آمادہ کیا وہ ہِقْل بن زیاد کی روایت ہے جو ولید بن مسلم وغیرہ کی روایت کے خلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد رواه عن الوليد بن مسلم اثنان آخران هما هشام بن عمار ودُحيم عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي.» [ترقيم الرساله 2416] [ترقيم الشركة 2398]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح