🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. شَأْنُ نُزُولِ (سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ) . إِلَى آخِرِ السُّورَةِ
سورۂ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض کے نزول کا سبب، آخر سورت تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2417
أخبرَناه أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا أبو صالح المِصري، حدثنا الهِقْل بن زياد، حدثني الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني هلال بن أبي ميمونة، عن عطاء بن يسار، حدثه أنَّ عبد الله بن سَلَام حدثه. أو قال الأوزاعي: حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام، قال: كنا عند رسول الله ﷺ، فقلنا: لو عَلِمْنا أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله، فذكر الحديثَ (1) . وهذا لا يُعلِّل حديث الوليد بن مسلم، فإن الهِقْل بن زياد وإن كان محلُّه الإتقانُ والثَّبَتُ فإنه شكَّ في إسناده، ومن الدليل على صحة إسناد أبي سلمة أنَّ أبا إسحاق إبراهيم بن محمد الفَزَاري أحفظَ أصحابِ الأوزاعي، رواه بزيادة ألفاظٍ فيه بالإسناد الأول:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2384 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو ہم نے کہا: کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے، پھر راوی نے حدیث بیان کی۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ ہِقْل بن زیاد کی یہ روایت ولید بن مسلم کی حدیث میں کوئی عیب یا کمزوری پیدا نہیں کرتی، کیونکہ ہِقْل بن زیاد اگرچہ پختہ کار اور ثقہ راوی ہیں لیکن انہوں نے اس کی سند میں شک کیا ہے۔ اس کی سند کے صحیح ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اوزاعی کے شاگردوں میں سب سے زیادہ حافظے والے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد فزاری نے بھی اسے پہلی سند کے ساتھ بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل أبي صالح المصري» [ترقيم الرساله 2417] [ترقيم الشركة 2399] [ترقيم العلميه 2384]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2418
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأَنطاكي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام قال: اجتمَعْنا فتذاكَرْنا أيُّكم يأتي رسولَ الله ﷺ فيسألَه: أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله؟ ثم تفرّقْنا وهِبْنا أن يأتيَه أحدٌ، فأرسل إلينا رسولُ الله ﷺ، فَجَمَعَنا، فجعل يُومِئُ بعضُنا إلى بعض، فقرأ علينا: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ إلى آخر السورة (2) . قال أبو سلمة: فقرأها علينا عبد الله بن سلَام إلى آخرها، قال يحيى بن أبي كثير: وقرأها علينا أبو سلمة من أولها إلى آخرها، قال الأوزاعي: وقرأها علينا يحيى من أولها إلى آخرها، وقال أبو إسحاق: وقرأها علينا الأوزاعي من أولها إلى آخرها. قال محبوبٌ: وقرأها علينا أبو إسحاق من أولها إلى آخرها؛ يعني سورةَ الصَّفِّ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اکٹھے ہوئے اور ہم نے تذکرہ کیا کہ تم میں سے کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ: اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ پھر ہم متفرق ہو گئے اور ہم میں سے ہر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے ڈرنے لگا (رعب کی وجہ سے)، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہماری طرف پیغام بھیجا اور ہمیں جمع فرمایا، ہم ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ سورت تلاوت فرمائی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَكِیمُ﴾ [سورة الصف: 1] (سورت کے آخر تک)۔ ابوسلمہ نے کہا: یہ سورت ہمیں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آخر تک پڑھ کر سنائی، یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: ہمیں ابوسلمہ نے شروع سے آخر تک سنائی، اوزاعی نے کہا: ہمیں یحییٰ نے شروع سے آخر تک سنائی، ابو اسحاق نے کہا: ہمیں اوزاعی نے شروع سے آخر تک سنائی، اور محبوب نے کہا: ہمیں ابو اسحاق نے یہ پوری سورت یعنی سورة الصف شروع سے آخر تک پڑھ کر سنائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2418]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محبوب بن موسى، وتابعه معاوية بن عمرو الأزدي فيما يأتي برقم (3848). أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.» [ترقيم الرساله 2418] [ترقيم الشركة 2400]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ
جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2419
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، أخبرنا هشام بن علي السَّدُوسي، أنَّ موسى بن إسماعيل حدَّثهم، قال: حدثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عِمران الجَوْني، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه، أنه قال وهو مُصافُّ العَدوِّ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ الجنةَ تحت ظِلال السُّيوفِ". قال شابٌّ رَثُّ الهيئة: أنت سمعتَ هذا من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، فكَسَر جَفْنَ سيفه معه، ثم قال لأصحابه: السلامُ عليكم، ثم دخل في القتال (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2388 - على شرط مسلم
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دشمن کے سامنے صف بستہ حالت میں فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یقیناً جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔ ایک شکستہ حال نوجوان نے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو اس نوجوان نے اپنی تلوار کا نیام توڑ ڈالا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: تم پر سلام ہو، اور پھر وہ دشمن سے قتال میں کود پڑا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضُّبَعي. أبو عمران الجَوني: هو عبد الملك بن حبيب.» [ترقيم الرساله 2419] [ترقيم الشركة 2401] [ترقيم العلميه 2388]

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْمُهَاجِرُونَ
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ مہاجرین کا ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2420
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن عيّاش بن عبّاس، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال [لي] رسولُ الله ﷺ:"أتعلَمُ أولَ زُمرةٍ تَدخُلُ الجنةَ من أمتي؟" قال: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فقراءُ المهاجرين، يأتون يومَ القيامة إلى باب الجنة ويَستَفْتِحون، فيقول لهم الخَزَنة: أوَقَد حُوسِبتُم؟ قالوا: بأي شيء نُحاسَبُ، وإنما كانت أسيافُنا على عَواتِقِنا في سبيل الله، حتى مِتْنا على ذلك"، قال:"فيُفتَحُ لهم، فيَقِيلُون فيه أربعين عامًا قبل أن يَدخُل الناسُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2389 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میری امت میں سے سب سے پہلا گروہ کون سا ہو گا جو جنت میں داخل ہو گا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ فقراء مہاجرین ہوں گے، وہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آئیں گے اور اسے کھلوانا چاہیں گے، تو جنت کے پہرے دار ان سے کہیں گے: کیا آپ لوگوں کا حساب ہو چکا ہے؟ وہ کہیں گے: ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا؟ جبکہ ہماری تلواریں تو اللہ کی راہ میں ہمارے کندھوں پر ہی تھیں یہاں تک کہ ہمیں اسی حال میں موت آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ عام لوگوں کے داخل ہونے سے چالیس سال پہلے وہاں قیلولہ (آرام) کریں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2420]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وأبو عبد الرحمن الحُبُلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري.» [ترقيم الرساله 2420] [ترقيم الشركة 2402] [ترقيم العلميه 2389]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا
سب سے کامل ایمان والا مومن کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2421
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان (2) بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عبد الملك الطَّيالسي، حدثنا سليمان بن كثير، حدثنا الزُّهْري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ، أنه سُئِلَ: أَيُّ المؤمنين أكمَلُ إيمانًا؟ قال:"الذي يجاهِدُ في سبيلِ الله بنَفْسِه ومالِه، ورجلٌ يعبُد الله في شِعْبٍ من الشُّعَبِ، وقد كفى الناسَ شَرَّهُ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2390 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: مومنوں میں سے ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اور وہ شخص جو کسی پہاڑی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن كثير» [ترقيم الرساله 2421] [ترقيم الشركة 2403] [ترقيم العلميه 2390]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2422
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو هانئ، عن عمرو بن مالك الجَنْبي، أنه سمع فَضَالة بن عُبيد يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"أنا زَعيمٌ - والزعيمُ الحَمِيل - لمن آمنَ وأسلَم وجَاهَد في سبيل الله ببَيتٍ في رَبَضِ الجنةِ، وببيت في وسط الجنة، وأنا زعيمٌ لمن آمنَ وأسلَم وهاجَر ببيتٍ في رَبَضِ الجنة، وببيتٍ في وَسَط الجنة، وببيتٍ في أعلى الجنة، مَن فعلَ ذلك فلم يَدَع للخيرِ مَطلَبًا، ولا من الشرِّ مَهرَبًا، يموت حيثُ شاءَ أن يموتَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2391 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں اس شخص کا ضامن ہوں—اور زعیم سے مراد کفالت کرنے والا ضامن ہے—جو ایمان لایا، اسلام قبول کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، کہ اسے جنت کے اطراف میں ایک گھر اور جنت کے وسط میں ایک گھر ملے گا، اور میں اس شخص کا بھی ضامن ہوں جو ایمان لایا، اسلام لایا اور ہجرت کی کہ اسے جنت کے اطراف میں ایک گھر، جنت کے وسط میں ایک گھر اور جنت کے بلند ترین مقام پر ایک گھر ملے گا، جس نے یہ (اعمال) کر لیے اس نے بھلائی کی ہر طلب پوری کر لی اور ہر شر سے بچنے کا راستہ پا لیا، اب اسے جہاں چاہے موت آ جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو هانئ: هو حميد بن هانئ الخولاني، وابن وهب: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2422] [ترقيم الشركة 2404] [ترقيم العلميه 2391]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قَتَادة، عن مُطرِّف، عن عمران بن حُصين، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تزال طائفةٌ من أُمَّتي يُقاتِلُون على الحقِّ ظاهِرين على مَن ناوَأَهم، حتى يُقاتِلَ آخرُهم المسيحَ الدجال" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2392 - على شرط مسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے قتال کرتا رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجال سے قتال کرے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،قتادة: هو ابن دِعامة السدوسي، ومُطرِّف: هو ابن عبد الله بن الشِّخِّير. وأخرجه أحمد (19920) عن أبي كامل وعفان بن مسلم، وأبو داود (2484) عن موسى بن إسماعيل، ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، به.» [ترقيم الرساله 2423] [ترقيم الشركة 2405] [ترقيم العلميه 2392]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2424
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشّانة المَعَافِري حدثه، أنه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ أول ثُلَّةٍ تدخل (1) الجنةَ لَفُقَراءُ المهاجرين الذين تُتَّقى بهم المَكارِهُ، إذا أُمِروا سَمِعُوا وأطاعُوا، وإن كانت لرجل منهم حاجةٌ إلى السلطانِ لم تُقضَ له حتى يموتَ وهي في صَدْره، وإنَّ الله تعالى يدعُو يومَ القيامة الجنةَ، فتأتي بزُخْرُفِها وزينتِها، فيقول: أين عبادي الذين قاتَلُوا في سَبِيلي، وقُتِلوا، وأُوذُوا في سبيلي، وجاهَدوا في سبيلي، ادخُلُوا الجنةَ، فيدخُلُونها بغير حِسابٍ ولا عَذابٍ، وتأتي الملائكةُ فيقولون: ربَّنا نحن نُسبِّحُ لك الليلَ والنهارَ، ونُقدِّسُ لك، مَن هؤلاء الذين آثرتَهم علينا؟ فيقول الربُّ ﵎: هؤلاءِ الذين قاتَلُوا في سبيلي، وأُوذُوا في سبيلي، فتدخُلُ عليهمُ الملائكةُ من كلِّ بابٍ: سلامٌ عليكُم بما صَبَرتُم فنِعْمَ عُقْبَى الدّارِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2393 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جنت میں داخل ہونے والی پہلی جماعت ان فقراء مہاجرین کی ہوگی جن کے ذریعے سختیوں اور ناگوار حالات کا مقابلہ کیا جاتا تھا، جب انہیں کوئی حکم دیا جاتا تو وہ اسے سنتے اور اطاعت کرتے، اگر ان میں سے کسی کی کوئی حاجت حاکمِ وقت سے وابستہ ہوتی تو وہ پوری ہوئے بغیر ہی فوت ہو جاتا اور وہ ضرورت اس کے سینے میں ہی رہ جاتی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا تو وہ اپنی پوری آرائش اور زیب و زینت کے ساتھ حاضر ہوگی، تب اللہ فرمائے گا: کہاں ہیں میرے وہ بندے جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا، اور قتل کیے گئے، اور میری راہ میں اذیتیں دی گئیں، اور میری راہ میں جہاد کیا؟ تم سب جنت میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ کسی حساب اور عذاب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے، پھر فرشتے حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم دن رات تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، یہ کون لوگ ہیں جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے؟ تب رب عزوجل فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا اور میری خاطر تکلیفیں اٹھائیں، پھر فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوں گے اور کہیں گے: ﴿سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ﴾ تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے، پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر۔ [سورة الرعد: 24]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وأبو عُشّانة: هو حيّ بن يُومِن.» [ترقيم الرساله 2424] [ترقيم الشركة 2406] [ترقيم العلميه 2393]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2425
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا الليث بن سعد، عن محمد بن عَجْلان، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ، قال:"لا يجتمعان في النارِ اجتماعًا يَضُرُّ أحدَهما: مسلمٌ قَتَلَ كافرًا، ثم سَدَّد المسلمُ وقارَبَ، ولا يجتمعانِ في جوفِ عبدٍ: غُبارٌ في سبيل الله ودُخانُ جَهنَّم، ولا يجتمعانِ في قَلبِ عبدٍ: الإيمانُ والشُّحُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1) . وقد رُوي عن سهيل بن أبي صالح بإسنادَين آخرين: أحدُهما عن صفوان بن أبي يزيد، عن أبي اللجلاج، عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2394 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ میں دو شخص اس طرح کبھی جمع نہیں ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے: وہ مسلمان جس نے (میدانِ جنگ میں) کسی کافر کو قتل کیا ہو، پھر وہ مسلمان (دین پر) ثابت قدم رہا اور میانہ روی اختیار کی، اور کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے دل میں ایمان اور بخل (لالچ) کبھی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح غير قصة اجتماع الإيمان والشح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه اختُلِف فيه على سهيل بن أبي صالح، فرواه عنه ابن عجلان كما وقع عند المصنف هنا، وخالفه أبو إسحاق الفزاري وحماد بن سلمة وغيرهما، فرووه عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة، مقتصرين على القسم الأول منه.» [ترقيم الرساله 2425] [ترقيم الشركة 2407] [ترقيم العلميه 2394]

الحكم على الحديث: حديث صحيح غير قصة اجتماع الإيمان والشح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2426
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يوسف بن موسى، حدثنا جَرير، عن سهيل، عن صفوان بن أبي يزيد، عن أبي اللَّجْلاج، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يجتمِعُ غُبارٌ في سبيلِ الله ودُخانُ جَهَنَّمَ في جَوفِ عبدٍ أبدًا، ولا يجتمِعُ شُحٌّ وإيمانٌ في قلبِ عبدٍ أبدًا" (2) . وقيل: عن سهيل، عن صفوان بن سُلَيم:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتے، اور کسی بندے کے دل میں بخل اور ایمان کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث: «شطره الأول صحيح، والثاني لا يُعرف إلّا من هذا الوجه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي اللجلاج، وقد اختُلِف في اسمه كما بيناه سابقًا على اختلاف في إسناده على سهيل كما بيّناه هناك. جرير: هو ابن عبد الحميد.» [ترقيم الرساله 2426] [ترقيم الشركة 2408]

الحكم على الحديث: شطره الأول صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں