سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب التِّجَارَةِ فِي الْحَجِّ
باب: حج میں تجارت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1731
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، قَالَ:" كَانُوا لَا يَتَّجِرُونَ بِمِنًى فَأُمِرُوا بِالتِّجَارَةِ إِذَا أَفَاضُوا مِنْ عَرَفَاتٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ۱؎ ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو“ پڑھی اور بتایا کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے تو انہیں عرفات سے واپسی پر منیٰ میں تجارت کا حکم دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1731]
جناب مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ پڑھی اور فرمایا: ”کچھ لوگ منیٰ میں تجارت نہ کرتے تھے تو انہیں حکم دیا گیا کہ جب عرفات سے واپس لوٹیں تو تجارت کر سکتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 150 (1770) والبیوع 1 (2050) وتفسیر القرآن 34 (2098) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سورة البقرة: (۱۹۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد ضعيف
وحديث البخاري (1770) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد ضعيف
وحديث البخاري (1770) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
6. باب
باب:۔۔۔۔
حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِهْرَانَ أَبِي صَفْوَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے جلدی انجام دے لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1732]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حج کرنا چاہے تو چاہیے کہ جلد ہی کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6501)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 1 (2883)، مسند احمد (1/225، 323، 355)، سنن الدارمی/الحج 1 (1825) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ تاخیر کی صورت میں اسے مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور وہ ایک فرض کا تارک ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2523)
أخرجه أحمد (1/225 وسنده حسن، أبو صفوان وثقه الحاكم وابن حبان)
مشكوة المصابيح (2523)
أخرجه أحمد (1/225 وسنده حسن، أبو صفوان وثقه الحاكم وابن حبان)
7. باب الْكَرِيِّ
باب: حج میں جانوروں کو کرایہ کے لیے لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي: إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي رَجُلٌ أُكَرِّي فِي هَذَا الْوَجْهِ وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ، وَقَالَ:" لَكَ حَجٌّ".
ابوامامہ تیمی کہتے ہیں کہ میں لوگوں کو سفر حج میں کرائے پر جانور دیتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تمہارا حج نہیں ہوتا، تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! میں حج میں لوگوں کو جانور کرائے پر دیتا ہوں اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا حج نہیں ہوتا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے؟ تلبیہ نہیں کہتے؟ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ عرفات جا کر نہیں لوٹتے؟ رمی جمار نہیں کرتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے کہا: تمہارا حج درست ہے، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ سے اسی طرح کا سوال کیا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آیت کریمہ «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ”تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں کہ تم اپنے رب کا فضل ڈھونڈو“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا: ”تمہارا حج درست ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1733]
جناب ابوامامہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں سفر میں کرائے کی سواریاں چلایا کرتا تھا تو بعض لوگوں نے مجھ سے کہا: ”تیرا حج نہیں ہے۔“ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ”اے ابو عبدالرحمٰن! میں سفر حج میں کرائے پر سواریاں چلاتا ہوں اور کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں ہے۔“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”کیا تم احرام نہیں باندھتے ہو اور تلبیہ نہیں پڑھتے ہو؟ کیا بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ہو؟ عرفات سے نہیں لوٹتے ہو؟ اور جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں (سب کچھ کرتا ہوں)۔“ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ تیرا حج (صحیح) ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا اور اس نے بالکل یہی سوال کیا تھا جیسے کہ تم نے مجھ سے کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اس کو جواب نہیں دیا تھا حتیٰ کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم پر کوئی گناہ (اور حرج) نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلا بھیجا اور اس پر یہ آیت پڑھی اور فرمایا: ”تیرا حج (صحیح) ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8575)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/155) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (3051 وسنده صحيح)
صححه ابن خزيمة (3051 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1734
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى وَ عَرَفَةَ وَ سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ فَخَافُوا الْبَيْعَ وَهُمْ حُرُمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي الْمُصْحَفِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ شروع شروع میں منیٰ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو“ نازل کیا یعنی حج کے موسم میں۔ عطا کہتے ہیں: مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ (ابن عباس) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1734]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”لوگ پہلے (قبل از اسلام) حج کے دنوں میں منیٰ، عرفات، سوق ذی المجاز اور ایام حج میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ (اسلام لانے کے بعد) انہوں نے احرام باندھے ہوئے خرید و فروخت میں حرج سمجھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم پر کوئی حرج یا گناہ نہیں کہ ایام حج میں اللہ کا فضل تلاش کرو۔“ عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ وہ «فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ» ”حج کے موسموں میں“ کے اضافہ کے ساتھ مصحف میں پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5872) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «في مواسم الحج» کا لفظ اس روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مصحف میں اس آیت کا ٹکڑا تھا، مگر یہ قرات شاذ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الحاكم (1/449 وسنده حسن) وللحديث شاھد عند البخاري (1770)
أخرجه الحاكم (1/449 وسنده حسن) وللحديث شاھد عند البخاري (1770)
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: كَلَامًا مَعْنَاهُ، أَنَّهُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ مَا كَانَ الْحَجُّ كَانُوا يَبِيعُونَ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ:" مَوَاسِمِ الْحَجِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں خرید و فروخت کرتے تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی روایت ان کے قول «مواسم الحج» تک ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1735]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”لوگ پہلے زمانے میں حج کے دوران میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔“ اور مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا «مَوَاسِمِ الْحَجِّ» ”حج کے موسموں“ تک۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5872) (صحیح)» (اس سند میں واقع عبید مولی ابن عباس مجہول ہیں جبکہ پہلی سند میں واقع عبید لیثی ہیں اور ثقہ ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1734)
انظر الحديث السابق (1734)
8. باب فِي الصَّبِيِّ يَحُجُّ
باب: نابالغ بچوں کے حج کا بیان۔
حدیث نمبر: 1736
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، قَالَ:" مَنِ الْقَوْمُ؟" فَقَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فَقَالُوا: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا:" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام روحاء میں تھے کہ آپ کو کچھ سوار ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور پوچھا: ”کون لوگ ہو؟“، انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہو؟ لوگوں نے انہیں بتایا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ایک عورت گھبرا گئی پھر اس نے اپنے بچے کا بازو پکڑا اور اسے اپنے محفے ۱؎ سے نکالا اور بولی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہو جائے گا ۲؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اجر تمہارے لیے ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1736]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ روحاء پر تھے کہ آپ کو ایک قافلے والے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم مسلمان ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”آپ کون لوگ ہیں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”یہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ تو ایک عورت نے جلدی سے اپنے بچے کو بازو سے پکڑا اور اسے اپنے ہودج سے باہر نکالا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس کے لیے حج ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ» ”ہاں! اور تیرے لیے اجر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 72 (1336)، سنن النسائی/المناسک 15 (2648)، (تحفة الأشراف: 6336)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 81 (244)، مسند احمد (1/244، 288، 343، 344) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہودج کی طرح عورتوں کی سواری پر ایک سیٹ ہوتی ہے جسے محفّہ کہتے ہیں۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ کا حج صحیح ہے چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم سنی کی وجہ سے اعمال حج ادا کرتا ہے، اس لئے وہ ثواب کا مستحق ہو گا، واضح رہے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہو گی، بلکہ بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اس پر حج فرض ہے، اور بچپن کا حج اس کے لئے نفل ہو گا۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ کا حج صحیح ہے چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم سنی کی وجہ سے اعمال حج ادا کرتا ہے، اس لئے وہ ثواب کا مستحق ہو گا، واضح رہے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہو گی، بلکہ بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اس پر حج فرض ہے، اور بچپن کا حج اس کے لئے نفل ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1336)
9. باب فِي الْمَوَاقِيتِ
باب: میقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1737
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1737]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ (موجودہ آبارِ علی)، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن المنازل کے مقامات متعین فرمائے تھے۔ اور مجھے یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم متعین کیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 8 (1525)، صحیح مسلم/الحج 2 (1182)، سنن الترمذی/الحج 17 (831)، سنن النسائی/المناسک 17 (2652)، سنن ابن ماجہ/المناسک 13 (2914)، (تحفة الأشراف: 8326)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 8 (22)، مسند احمد (2/48، 55، 65)، سنن الدارمی/المناسک 5 (1831) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1525) صحيح مسلم (1182)
حدیث نمبر: 1738
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَا:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا:" وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ"، وَقَالَ أَحَدُهُمَا:" أَلَمْلَمَ"، قَالَ: فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ. قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: مِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، قَالَ: وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، ان دونوں (راویوں میں سے) میں سے ایک نے کہا: ”اہل یمن کے لیے یلملم“، اور دوسرے نے کہا: «ألملم»، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں“۔ ابن طاؤس (اپنی روایت میں) کہتے ہیں: ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی ۱؎ سے احرام باندھیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1738]
حماد، عمرو بن دینار سے، وہ طاؤس سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن طاؤس (عبداللہ) اپنے باپ طاؤس سے (وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے) روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں (عمرو بن دینار اور عبداللہ بن طاؤس) نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات (مقاماتِ احرام) مقرر فرمائے تھے۔“ ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ اہل یمن کے لیے «يَلَمْلَمُ» اور دوسرے نے کہا «العَلَمُ» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مقامات ان (مذکورہ) جگہوں کے رہنے والوں کے لیے ہیں اور دوسری جگہوں کے ان لوگوں کے لیے بھی جو یہاں سے گزریں جو کہ حج اور عمرہ کی نیت رکھتے ہوں اور جو ان سے ورے (مکہ کی جانب) مقیم ہوں۔“ ابن طاؤس نے کہا: ”وہ وہیں سے احرام باندھیں جہاں سے وہ سفر شروع کریں حتیٰ کہ اہل مکہ اپنے شہر اور گھر ہی سے احرام باندھ کر نکلیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 18 (1845)، صحیح مسلم/الحج 2 (1183)، سنن النسائی/الحج 20 (2655)، 23 (2658)، (تحفة الأشراف: 5738، 18827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238، 249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ حاجی یا معتمر اگر مکہ یا مذکورہ مواقیت کے اندر رہتا ہو تو اس کا حکم عام لوگوں سے مختلف ہے اس کے لئے میقات پر جانا ضروری نہیں بلکہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ہی احرام باندھ لینا اس کے لئے کافی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1526) صحيح مسلم (1181)
حدیث نمبر: 1739
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافِيُّ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ أَفْلَحَ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق ۱؎ کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1739]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ”ذات عرق“ کا مقام متعین فرمایا تھا (احرام کے لیے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 19 (2654)، 22 (2657)، (تحفة الأشراف: 17438) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سنن ترمذی کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات عمر رضی اللہ عنہ نے متعین کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث نہیں معلوم تھی، آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ میقات مقرر کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی میقات کے عین مطابق ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2531)
أخرجه النسائي (2654 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (2531)
أخرجه النسائي (2654 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1740
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1740]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے مقام «الْعَقِيقُ» ”عقیق“ مقرر فرمایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 17 (832)، (تحفة الأشراف: 6443) (ضعیف)» (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز محمد بن علی کا اپنے دادا ابن عباس سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (832)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
إسناده ضعيف
ترمذي (832)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69