🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. نُزُولُ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ .
غزوۂ بدر میں حضرت جبرئیل، میکائیل اور اسرافیل کا نزول
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4481
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بَهَمذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس العَسْقَلاني، حدثني محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك المدَني، عن الحسن بن عبد الله بن عطية السَّعْدي، عن عبد العزيز بن المطّلب بن عبد الله بن حَنْطَبٍ، عن أبيه، عن جدِّه عبد الله بن حَنْطَب، قال: كنتُ مع رسول الله ﷺ فنَظَرَ إلى أبي بكر وعمر، فقال:"هذانِ السمعُ والبصرُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4432 - حسن
سیدنا عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھ کر فرمایا: یہ دونوں میرے کان اور آنکھیں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4481]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4482
أخبرني بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابةَ الرَّقاشي، حدثنا أبو عَتّاب سهل بن حماد، حدثنا موسى بن عُمير قال سمعت مكحولًا يقول، وسأله رجلٌ عن قول الله ﷿: ﴿فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [التحريم: 4] قال: حدَّثني أبو أُمامة أنه كما قال الله مولاه وجبريلُ، وصالحُ المؤمنين أبو بكر وعمرُ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4433 - موسى بن عمير واه
مکحول سے کسی نے اس آیت فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلَاہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ (التحریم: 66) تو بے شک اللہ ان کا مددگار ہے اور جب جبریل اور نیک ایمان والے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواباً کہا: سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وصالح المومنین (سے مراد) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4482]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. سُؤَالُ النَّاسِ عَنِ الْخِلَافَةِ وَجَوَابُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - .
لوگوں کا خلافت کے بارے میں سوال اور نبی کریم ﷺ کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4483
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان. وأخبرني محمد بن عبد الله الجَوهَري، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا فُضيل بن مرزوق الرُّؤاسي، حدثنا أبو إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن عليّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إنْ تُوَلُّوا أبا بكر تَجِدُوه زاهدًا في الدنيا راغبًا في الآخرة، وإن تُوَلُّوا عمرَ تَجِدُوه قويًّا أمينًا لا تأخذُه في الله لومةُ لائِمٍ، وإن تُوَلُّوا عليًّا تَجِدُوه هاديًا مهديًّا يَسلُكُ بكمُ الطريقَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ حُذيفةَ بن اليَمَان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4434 - ضعيف
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر بنا لو گے تو تم اس کو دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں دلچسپی رکھنے والا پاؤ گے۔ اور اگر تم عمر رضی اللہ عنہ کو امیر بناؤ گے تو تم اسے طاقت ور امانت دار پاؤ گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے اور اگر تم علی رضی اللہ عنہ کو امیر بناو ٔگے تو تم اس کو ہدایت یافتہ پاؤ گے، یہ تمہیں درست راستے پر چلائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی (درج ذیل) حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4483]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4484
حدَّثَناه علي بن عبد الله الحَكيمي ببغداد، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّورِي، حدثنا الأسود بن عامر شاذان، حدثنا شريك بن عبد الله، عن عثمان بن عُمير، عن شَقيق بن سَلَمة، عن حذيفة قال: قالوا يا رسولَ الله، لو استَخلفْتَ علينا، قال:"إن أستخلِفْ (1) عليكم خليفةً فتَعصُوه، يَنزِل العذاب". قالوا: لو استخلفت علينا أبا بكر، قال:"إن أستخلِفْه عليكم تَجِدُوه قويًّا في أمر الله ضعيفًا في جَسدِه" (2) ، قالوا: لو استخلفتَ علينا عليًّا، قال:"إنكم لا تَفعلُوا، وإنْ تَفعلُوا تَجِدُوه هاديًا مهديًّا يَسلُكُ بكم الطريقَ المستقيم" (3) . عثمان بن عُمير هذا هو أبو اليَقْظان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4435 - عثمان أبو اليقظان ضعفوه
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خود ہم پر کسی کو خلیفہ نامزد فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: اگر میں کسی کو تم پر خلیفہ مقرر کر دوں اور تم اس کی فرمانبرداری نہ کر سکے تو تم پر عذاب نازل ہو گا۔ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: اگر میں اس کو تمہارا امیر بنا دوں تو تم اس کو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں طاقتور پاؤ گے اگرچہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں۔ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس کو تمہارا خلیفہ بنا دوں تو تم اس کو طاقتور، امانتدار پاؤ گے، اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں وہ کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا نہیں کرو گے۔ اگر واقعی تم ایسا کر لو تو تم اس کو ہدایت یافتہ پاؤ گے۔ وہ تمہیں صراط مستقیم پر چلائے گا۔ ٭٭ یہ عثمان بن عمیر ابوالیقظان ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4484]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4485
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن أيوب العَلَّاف بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مَريم، أخبرنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن عبّاس في قوله ﷿: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [آل عمران: 159] ، قال: أبو بكر وعُمر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4436 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ (اٰل عمران: 159) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (میں جن سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے ان سے مراد) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4485]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. رُؤْيَا نُزُولِ الْمِيزَانِ وَوَزْنِ الْخُلَفَاءِ .
خواب میں میزان کے نازل ہونے اور خلفاء کے تولے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4486
أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعث بن عبد الملك الحُمْراني، عن الحسن، عن أبي بكرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن رأى مِنكُم رؤيا؟" فقال رجلٌ: أنا رأيتُ كأنَّ مِيزانًا نَزَلَ من السماء، فوُزِنتَ أنتَ وأبو بكر فرجَحْتَ أنتَ بأبي بكر، ووُزِنَ عمر وأبو بكر فرجَحَ أبو بكر، ووُزِنَ عمرُ وعثمانُ فرجَحَ عُمر، ثم رُفع الميزانُ، فرأينا الكراهيةَ في وجْهِ رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث سعيد بن جُمْهان عن سَفينة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4437 - أشعث بن عبد الملك هذا ثقة لكن ما احتجا به
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ کوئی ترازو آسمان سے اترا ہے، اس میں آپ نے اپنا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا، تو آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزنی رہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ وزنی رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا تو عمر رضی اللہ عنہ وزنی رہے۔ پھر ترازو اوپر اٹھا لیا گیا۔ تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ (درج ذیل) حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4486]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. الْخِلَافَةُ بِالْمَدِينَةِ وَالْمُلْكُ بِالشَّامِ .
نبوی خلافت تیس سال رہے گی پھر بادشاہت ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4487
حدَّثَناه أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا حُمَيد بن عيّاش الرَّمْلي، حدثنا المؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن سعيد بن جُمْهان، عن سَفِينة مولى أم سلمة، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا صلَّى الصُّبحَ قال:"أيُّكم رأى الليلةَ رُؤيا؟" قال: فصلَّى ذاتَ يوم الصُّبحَ، ثم أقبل على أصحابه فقال:"أيُّكم رأى رُؤيا؟"، فقال رجلٌ: أنا رأيتُ يا رسولَ الله كأنَّ ميزانًا دُلِّي من السماء، فوُضِعْتَ في كِفّةٍ، ووُضِعَ أبو بكر في كِفّةٍ أُخرى، فرجَحْتَ بأبي بكرٍ، فرُفعْتَ وتُرك أبو بكر مكانَه، فجيءَ بعمرَ بن الخطاب فوُضِعَ في الكِفّة الأخرى، فرجَح أبو بكر بعُمر، فرُفع أبو بكْرٍ وتُرك عمرُ مكانه، وجيء بعثمان بن عفّان، فوُضِعَ في الكفّة الأخرى، فرجَح عمرُ بعُثمان، ثم رُفِعا ورُفع الميزان، قال: فتغيَّر وجهُ رسولِ الله ﷺ، ثم قال:"خِلافةُ النُّبوةِ ثلاثون عامًا، ثم يكون مُلكٌ". قال سعيد بن جُمْهان: فقال لي سَفينة: أمسِكُ: سَنَتَي أبي بكر، وعشرًا عمر، وثِنَتي عشرةَ عثمانُ، وسِتًّا عليٌّ، ﵃ أجمعين (1) . وقد أسندت هذه الرؤيا بإسناد صحيح مرفوعًا إلى النبي ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4438 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سعید بن جمہان روایت کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت کریمہ تھی کہ آپ) جب نماز فجر سے فارغ ہوتے تو اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب رخ کر کے بیٹھ جاتے اور فرماتے: تم میں سے کسی نے آج رات خواب دیکھا ہے؟ اسی طرح ایک دن نماز کے بعد آپ نے فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے دیکھا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یوں دیکھا گویا کہ ایک ترازو آسمان سے لگایا گیا ہے، اس کے ایک پلڑے میں آپ کو اور دوسرے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رکھا گیا، تو آپ کا پلڑا بھاری رہا۔ پھر آپ کو اتار دیا گیا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسی پلڑے میں بیٹھے رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کو دوسرے پلڑے میں بٹھایا گیا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اتار دیا گیا، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لا کر اس پلڑے میں بٹھایا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری ہوا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دونوں کو اتار دیا گیا اور وہ ترازو اٹھا لیا گیا۔ (راوی) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: نبوت کی خلافت تیس سال تک ہو گی پھر اس کے بعد بادشاہی شروع ہو جائے گی۔ سعید بن جمہان کہتے ہیں: مجھے سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 2 سال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے، 8 سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے، 12 سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے، 6 سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے۔ ٭٭ یہ روایات اسناد صحیحہ کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مرفوعاً بھی مروی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4487]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4488
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهديّ بن رُستُم، حدثنا موسى بن هارون البُرْدِي، حدثنا محمد بن حَرْب، حدثني الزُّبَيدي، عن الزُّهْري، عن عمرو بن أبان بن عثمان بن عفّان، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أُريَ الليلة رجلٌ صالح أنَّ أبا بكر نِيطَ برسولِ الله، ونِيطَ عمرُ بأبي بكرٍ، ونِيطَ عثمانُ بعمرَ". قال جابر: فلما قُمنا من عند النبي ﷺ قلنا: الرجلُ الصالحُ النبيُّ ﷺ، وأما ما ذَكَرَ من نَوْطِ بعضِهم بعضًا، فهُم وُلاةُ هذا الأمرِ الذي بَعَثَ الله به نبيِّه ﷺ (1) . ولِعاقبة هذا الحديث إسنادٌ صحيحٌ عن أبي هريرة، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4439 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس رات ایک مرد صالح نے خواب دیکھا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا دیا گیا ہے اور عمر رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا دیا گیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کو عمر رضی اللہ عنہ سے ملا دیا گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے اٹھے تو ہم نے سوچا کہ مرد صالح (سے مراد تو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان میں بعض کو بعض کے ساتھ ملانے کو جو ذکر ہے اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء ہیں۔ ٭٭ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کی سند صحیح موجود ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4488]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4489
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ من أصل كتابه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هُشيم، عن العوّام بن حَوشَب، عن سليمان بن أبي سليمان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"الخِلافةُ بالمدينةِ، والمُلكُ بالشامِ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4440 - سليمان بن أبي سليمان وأبوه مجهولان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خلافت مدینے میں ہو گی اور ملوکیت شام میں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4489]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4490
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا أبو عَتّاب سهل بن حمّاد، حدثنا المُختار بن نافع، حدثنا أبو حَيّان التَّيمي، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ اللهُ أبا بكر، زوَّجني ابنتَه، وحَمَلني إلى دار الهِجْرة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4441 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، اس نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی اور مجھے دارالہجرت جانے کے لیے سواری فراہم کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4490]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں