المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. أَحَادِيثُ فَضَائِلِ الشَّيْخَيْنِ .
شیخین کی فضیلت سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 4501
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق العَدْل ببغداد، قالا: حدثنا إبراهيم بن إسماعيل السَّوْطي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا أبي، عن سفيان بن سعيد ومِسعَر بن كِدامٍ، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن حُذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"اقتَدُوا بِاللَّذين من بَعدي، أبي بكرٍ وعُمرَ، واهتَدُوا بهَدْي عمّار، وتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابن أمِّ عَبْدٍ" (1) .
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ میرے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا، عمار رضی اللہ عنہ سے رہنمائی لینا اور ابن ام معبد کے عہد پر قائم رہنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4501]
حدیث نمبر: 4502
وأخبرني أحمد بن الحسن بن عُبيد الله (1) ، حدثنا محمد بن عَبْدوس بن كامل، حدثنا هَنّاد بن السَّرِيّ، حدثنا وكيع، حدثنا مِسعَر، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبعيّ بن حِراش، عن حُذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"اقتَدُوا باللذَين من بعدي أبي بكر وعُمر، واهتَدُوا بهَدْي عمّار، وإذا حدَّثكم ابن أمِّ عَبْدٍ فَصَدِّقُوه" (2) .
مذکورہ سند کے ہمراہ سیدنا حذیفہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا، عمار رضی اللہ عنہ سے راہنمائی حاصل کرنا اور ابن ام معبد کی بات کی تصدیق کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4502]
حدیث نمبر: 4503
فحدَّثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عُمير، عن هلالٍ مولى رِبعيّ بن حِراش، عن رِبعيّ بن حِرَاش، عن حُذيفة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اقتَدُوا باللذّين مِن بَعدِي، أبي بكرٍ وعُمرَ" (3)
مذکورہ سند کے ہمراہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میرے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4503]
حدیث نمبر: 4504
وقد حدَّثَنيه أبو بكر محمد بن عَبد الله (1) الفقيه، حدثنا محمد بن حَمْدون بن خالد، حدثنا علي بن عثمان النُّفَيلي، حدثنا إسحاق بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن مِسعَر، عن عبد الملك بن عُمير عن رِبعيّ بن حِراش، عن حُذيفة بن اليمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اقتَدُوا باللذين من بَعدِي، أبي بكر وعُمرَ، واهتدُوا بهَدْي عمّار، وبعهدِ ابن أمِّ عَبْدٍ" (2) .
هذا حديث مِن أجلِّ ما رُوِيَ في فضائل الشيخين، وقد أقام هذا الإسنادَ عن الثَّوْري ومسعرٍ أبو يحيى الحِمَّاني، وأقامه أيضًا عن مِسعرٍ وكيعٌ وحفصٌ بنُ عمر الأُبُلِّي، ثم قَصَّر بروايته عن ابن عُيَينة الحميديُّ وغيرُه، وأقام الإسنادَ عن ابن عُيَينة إسحاقُ ابن عيسى بن الطبّاع، فثبت بما ذكرنا صحةُ هذا الحديث، وإن لم يُخرجاه. وقد وجدنا له شاهدًا بإسناد صحيح عن عبد الله بن مسعود:
هذا حديث مِن أجلِّ ما رُوِيَ في فضائل الشيخين، وقد أقام هذا الإسنادَ عن الثَّوْري ومسعرٍ أبو يحيى الحِمَّاني، وأقامه أيضًا عن مِسعرٍ وكيعٌ وحفصٌ بنُ عمر الأُبُلِّي، ثم قَصَّر بروايته عن ابن عُيَينة الحميديُّ وغيرُه، وأقام الإسنادَ عن ابن عُيَينة إسحاقُ ابن عيسى بن الطبّاع، فثبت بما ذكرنا صحةُ هذا الحديث، وإن لم يُخرجاه. وقد وجدنا له شاهدًا بإسناد صحيح عن عبد الله بن مسعود:
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: میرے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا، عمار رضی اللہ عنہ سے راہنمائی لینا اور ابن ام معبد کے عہد کی پاسداری کرنا۔ ٭٭ فضائل شیخین رضی اللہ عنہما کے سلسلے میں تمام روایات کی بہ نسبت یہ روایت سب سے جامع ہے، یہ سند ثوری اور مسعر یحیی الحمانی کے حوالے سے بھی قائم ہے اور اس کو مسعر اور وکیع اور حفص بن عمر الایلی کے حوالے سے بھی ثابت کیا گیا ہے۔ جبکہ اسی سند کو ابن عیینہ کے حوالے سے اسحاق بن عیسیٰ بن الطباع نے بھی قائم کیا ہے۔ چنانچہ ہماری مذکورہ بالا گفتگو سے ثابت ہوا کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رضی اللہ عنہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مروی (درج ذیل) حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4504]
حدیث نمبر: 4505
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، حدثنا أبي، عن أبيه، عن سلمة، عن أبي الزَّعْراء، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"اقتدُوا باللذَين من بَعدي أبي بكرٍ وعُمر، واهتَدُوا بهدي عمّار، وتَمسَّكوا بعَهْد ابن مسعود" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4456 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4456 - سنده واه
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا اور عمار رضی اللہ عنہ کی ہدایت کو اپنانا، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے عہد کو مضبوطی سے تھامنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4505]
21. ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ فِي أَمْرِ الْخِلَافَةِ ثُمَّ الْإِجْمَاعُ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
خلافت کے معاملے میں ابتدائی اختلاف اور پھر حضرت ابو بکرؓ پر اجماع کا بیان
حدیث نمبر: 4506
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا وُهَيب، حدثنا داود بن أبي هند، حدثنا أبو نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: لما تُوفّي رسول الله ﷺ قام خُطباءُ الأنصارِ، فجعلَ الرجلُ منهم يقول: يا مَعشرَ المهاجرين، إنَّ رسول الله ﷺ كان إذا استعملَ رجلًا منكُم فَرَنَ معه رجلًا منّا، فنَرى أن يَلِيَ هذا الأمرَ رجلان، أحدُهما منكم والآخرُ منّا، قال: فتتابعتُ خطباءُ الأنصارِ على ذلك، فقام زيدُ بن ثابتٍ فقال: إنَّ رسول الله ﷺ كان من المهاجرين، وإنَّ الإمامَ يكونُ من المهاجرين، ونحن أنصارُه كما كنا أنصارَ رسولِ الله ﷺ، فقام أبو بكر فقال: جزاكُم الله خيرًا يا معشرَ الأنصار، وثَبّت قائلَكم، ثم قال: أمَا لو فَعلتُم غيَر ذلك لما صالَحناكُم، ثم أخذَ زيدُ بن ثابتٍ بيدِ أبي بكر، فقال: هذا صاحبُكم فبايِعُوه. ثم انطلَقوا. فلما قعدَ أبو بكر على المِنبَر نَظَر في وُجوهِ القوم، فلم يَرَ عليًّا، فسألَ عنه، فقام ناسٌ من الأنصار فأتَوْا به، فقال أبو بكر: ابن عمِّ رسولِ الله ﷺ وخَتَنُه، أردتَ أن تَشُقّ عصا المسلمين؟! فقال: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَه، ثم لم يَرَ الزُّبيرَ بنَ العوّام، فسأل عنه حتى جاؤوا به، فقال: ابن عَمّة رسولِ الله ﷺ وحَوارِيُّه، أردتَ أن تَشُقَّ عصا المسلمين؟! فقال مثل قولِه: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَاه (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو انصار کے خطباء کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے ایک یہ کہہ رہا تھا: اے مہاجرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تم میں سے کسی کو کسی کام پر مقرر فرماتے تھے تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہمارا بھی شامل کرتے تھے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملہ (خلافت) میں بھی ایک آدمی ہمارا ہو اور ایک تمہارا۔ انصار کے تمام خطباء اسی موقف کو دہراتے رہے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین میں سے ہو گا اور ہم سب اس کے مددگار اور معاونین ہوں گے جیسا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاونین ہوا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے گروہ انصار! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور تمہارے خطباء کو قائم رکھے۔ پھر فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ (کچھ) کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر کہا: یہ تمہارا ساتھی ہے تم اس کی بیعت کر لو، تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو تمام لوگوں پر نظر دوڑائی، آپ کو ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے، آپ نے ان کے متعلق لوگوں سے پوچھا تو کچھ انصاری سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس لے آئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد (بھائی) اور ان کے داماد! کیا تم نے مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑنے کا ارادہ کیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پھر انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ پھر آپ نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بھی مفقود پایا تو ان کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا تو لوگوں نے ان کو بھی آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد (بھائی) اور ان کے مددگار! کیا تم مسلمانوں کی جمعیت کو کمزور کرنا چاہتے تھے؟ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرح جواب دیتے ہوئے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چنانچہ دونوں نے ہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4506]
حدیث نمبر: 4507
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير الصَّنْعاني، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لما أُسري بالنبيّ ﷺ إلى المسجد الأقصى أصبحَ يتحدّثُ الناسُ بذلك، فارتدَّ ناسٌ ممّن كانوا آمَنُوا به وصدَّقوه، وسَعَى رجالٌ من المشركين إلى أبي بكر، فقالوا: هل لك إلى صاحبِك يَزعُم أنه أُسري به الليلةَ إلى بيتِ المَقدِس! قال: أوَقال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن قال ذلك لقد صَدَق، قالوا: وتُصدِّقه أنه ذهب الليلةَ إلى بيت المَقدِس وجاء قبل أن يُصبح؟! فقال: نعم، إني لأصدِّقُه بما هو أبعدُ من ذلك؛ أُصدِّقه في خَبرِ السماء في غَدُوةٍ أو رَوْحة؛ فلذلك سُمِّي أبا بكر الصِّدِّيق (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصی کی جانب سیر کرائی گئی تو صبح کے وقت لوگوں میں اس کی چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ اور کئی ایسے لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی تصدیق کر چکے تھے، مرتد ہو گئے۔ اور کئی مشرک لوگ دوڑ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا تم اپنے ساتھی پر اعتبار کرتے ہو؟ وہ یہ سمجھتا ہے کہ رات کو اسے بیت المقدس کی سیر کرائی گئی؟ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا انہوں نے نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: کیا تم اس کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ راتوں رات بیت المقدس تک گیا اور صبح ہونے سے پہلے لوٹ کے بھی آ گیا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ میں تو اس سے بھی بڑھ کر ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ صبح و شام ان کے پاس جو آسمانی خبریں آتی ہیں، میں ان کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔ اسی بناء پر ان کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ محمد بن کثیر الصنعانی صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4507]
22. أَمْرُ النَّبِيِّ لِأَبِي بَكْرٍ بِإِمَامَةِ النَّاسِ فِي الصَّلَاةِ .
نبی کریم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو نماز کی امامت کا حکم دینا
حدیث نمبر: 4508
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا عُمر بن عليّ المُقدَّميّ، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: أذَّنَ بلالٌ لصلاة الظُّهر، فجاءَ الصِّيَاحُ قِبَلَ بني عمرو بن عوف: أنه قد وَقَعَ بينهم شَرٌّ حتى تَرامَوا بالحجارة، فأتاهم النبيُّ ﷺ، فقال:"يا أبا بكر، إن أُقيمتِ الصلاةُ فتَقدَّمْ فصَلِّ بالناس"، فقال: نعم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشَّيخين ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على ذلك في مَرَضِ النبي ﷺ الذي ماتَ فيه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4459 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشَّيخين ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على ذلك في مَرَضِ النبي ﷺ الذي ماتَ فيه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4459 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز ظہر کیلئے اذان دے چکے تھے، بنی عمرو بن عوف کی طرف ایک آدمی چلاتا ہوا آیا کہ ان میں لڑائی چھڑ گئی ہے اور ان کی آپ میں سنگ باری شروع ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! اگر نماز کی اقامت ہو جائے تو تم لوگوں کو نماز پڑھا دینا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ ان دونوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض وفات کے حوالے سے نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4508]
حدیث نمبر: 4509
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا نصر بن منصور المَروزَي، حدثنا بِشر بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا المُختار بن فُلفُل، عن أنس بن مالك، قال: بَعَثَني بنو المُصطَلِق إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: سَلْ لنا رسولَ الله ﷺ: إِلى مَن نَدفَعُ صَدَقَاتِنا بعدَك؟ قال: فأتيتُه فسألتُه، فقال:"إلى أبي بكر"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، قالوا: ارجِعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بأبي بكر حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيته فأخبرته، فقال:"إلى عمرَ"، فقالوا: ارجعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بعُمرَ حَدَثُ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال:"إلى عثمانَ"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فقالوا: ارجِعْ إليه فَسَلْه: فإِن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال: إن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ فتبًّا لكم آخرَ الدَّهرِ، فتَبًّا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4460 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4460 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنو مصطلق نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہ دریافت کرنے کے لئے بھیجا کہ ہم آپ کے بعد اپنے صدقات کس کو دیا کریں؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور یہ بات پوچھی تو آپ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو۔ میں نے جا کر ان کو بتا دیا۔ انہوں نے کہا: جا کر پوچھو کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے (یعنی وہ وفات پا جائیں) تو ان کے بعد ہم اپنے صدقات کس کو دیا کریں؟ میں نے آ کر آپ علیہ السلام سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ کو۔ میں نے یہ بات بھی جا کر ان کو بتائی۔ انہوں نے کہا: جا کر پوچھو کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے تو ان کے بعد ہم اپنے صدقات کس کو دیں؟ میں نے آ کر پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ میں نے جا کر ان کو بتا دیا۔ انہوں نے کہا: جا کر پوچھو کہ اگر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کوئی حادثہ پیش آ جائے تو ان کے بعد ہم اپنے صدقات کس کو دیں؟ میں نے آ کر پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کوئی حادثہ ہو گا تو پھر سارا زمانہ تمہارے لئے ہلاکت رہے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4509]
حدیث نمبر: 4510
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسحاق بن الحسن الطحّان، حدثنا موسى بن ناصح، حدثنا أبو معاوية، عن عمر بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ لأبي بكر وعمر:"لا يتأمَّرُ عليكما أحدٌ بعدي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”میرے بعد تم دونوں پر کوئی بھی حکمران (امیر) نہیں بنے گا“۔ امام حاکم فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند صحیح ہے، مگر شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے تخریج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4510]