🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. أَحَادِيثُ فَضَائِلِ الشَّيْخَيْنِ .
شیخین کی فضیلت سے متعلق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4501
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق العَدْل ببغداد، قالا: حدثنا إبراهيم بن إسماعيل السَّوْطي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا أبي، عن سفيان بن سعيد ومِسعَر بن كِدامٍ، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن حُذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"اقتَدُوا بِاللَّذين من بَعدي، أبي بكرٍ وعُمرَ، واهتَدُوا بهَدْي عمّار، وتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابن أمِّ عَبْدٍ" (1) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ان دو کی اقتدا کرنا: ابوبکر اور عمر کی، اور عمار کے طریقے سے ہدایت حاصل کرنا، اور ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) کے عہد کو مضبوطی سے تھام لینا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح كسابقه، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل يحيى بن عبد الحميد» [ترقيم الرساله 4501] [ترقيم الشركة 4478]

الحكم على الحديث: حديث صحيح كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4502
وأخبرني أحمد بن الحسن بن عُبيد الله (1) ، حدثنا محمد بن عَبْدوس بن كامل، حدثنا هَنّاد بن السَّرِيّ، حدثنا وكيع، حدثنا مِسعَر، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبعيّ بن حِراش، عن حُذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"اقتَدُوا باللذَين من بعدي أبي بكر وعُمر، واهتَدُوا بهَدْي عمّار، وإذا حدَّثكم ابن أمِّ عَبْدٍ فَصَدِّقُوه" (2) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ان دو کی اقتدا کرنا: ابوبکر اور عمر کی، اور عمار کے طریقے سے ہدایت حاصل کرنا، اور جب ابن ام عبد تمہیں کوئی بات بتائیں تو ان کی تصدیق کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4502]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 4502] [ترقيم الشركة 4479]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4503
فحدَّثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عُمير، عن هلالٍ مولى رِبعيّ بن حِراش، عن رِبعيّ بن حِرَاش، عن حُذيفة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اقتَدُوا باللذّين مِن بَعدِي، أبي بكرٍ وعُمرَ" (3)
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ان دو کی اقتدا کرنا: ابوبکر اور عمر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4503]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف فيه في ذكر مولى ربعي بن حِراش، والظاهر أن ذكره هنا في رواية الحُميدي - وهو عبد الله بن الزبير الأَسدي - وهمٌ، فإن هذا الحديث في "مسند الحُميدي" (449)، وهو برواية بشر بن موسى وعن بشر يرويه أبو علي محمد بن أحمد الصوّاف الذي ...» [ترقيم الرساله 4503] [ترقيم الشركة 4480]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4504
وقد حدَّثَنيه أبو بكر محمد بن عَبد الله (1) الفقيه، حدثنا محمد بن حَمْدون بن خالد، حدثنا علي بن عثمان النُّفَيلي، حدثنا إسحاق بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن مِسعَر، عن عبد الملك بن عُمير عن رِبعيّ بن حِراش، عن حُذيفة بن اليمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اقتَدُوا باللذين من بَعدِي، أبي بكر وعُمرَ، واهتدُوا بهَدْي عمّار، وبعهدِ ابن أمِّ عَبْدٍ" (2) .
هذا حديث مِن أجلِّ ما رُوِيَ في فضائل الشيخين، وقد أقام هذا الإسنادَ عن الثَّوْري ومسعرٍ أبو يحيى الحِمَّاني، وأقامه أيضًا عن مِسعرٍ وكيعٌ وحفصٌ بنُ عمر الأُبُلِّي، ثم قَصَّر بروايته عن ابن عُيَينة الحميديُّ وغيرُه، وأقام الإسنادَ عن ابن عُيَينة إسحاقُ ابن عيسى بن الطبّاع، فثبت بما ذكرنا صحةُ هذا الحديث، وإن لم يُخرجاه. وقد وجدنا له شاهدًا بإسناد صحيح عن عبد الله بن مسعود:
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ان دو کی اقتدا کرنا: ابوبکر اور عمر کی، اور عمار کے طریقے سے ہدایت حاصل کرنا، اور ابن ام عبد کے عہد (کی پاسداری) کرنا۔
یہ حدیث شیخین کے فضائل میں مروی جلیل القدر روایات میں سے ہے، اس کی سند کو سفیان ثوری اور مسعر سے ابو یحییٰ حمانی نے مکمل بیان کیا ہے، اسی طرح مسعر سے وکیع اور حفص بن عمر ابلی نے بھی اسے صحیح طور پر روایت کیا ہے، پھر ابن عیینہ سے روایت کرتے ہوئے حمیدی وغیرہ نے اختصار سے کام لیا لیکن اسحاق بن عیسیٰ بن طباع نے ابن عیینہ سے سند کو مکمل اور درست بیان کیا ہے، چنانچہ ہمارے ذکر کردہ دلائل سے اس حدیث کی صحت ثابت ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہمیں اس کے لیے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد بھی ملا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 4504] [ترقيم الشركة 4481]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4505
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، حدثنا أبي، عن أبيه، عن سلمة، عن أبي الزَّعْراء، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"اقتدُوا باللذَين من بَعدي أبي بكرٍ وعُمر، واهتَدُوا بهدي عمّار، وتَمسَّكوا بعَهْد ابن مسعود" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4456 - سنده واه
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ان دو کی اقتدا کرنا: ابوبکر اور عمر کی، اور عمار کے طریقے سے ہدایت حاصل کرنا، اور ابن مسعود کے عہد کو مضبوطی سے تھام لینا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وذلك من أجل إسماعيل بن يحيى وأبيه يحيى، فهما متروكان، وإبراهيم بن إسماعيل ضعيف. أبو الزَّعْراء: هو عبد الله بن هانئ الكندي.» [ترقيم الرساله 4505] [ترقيم الشركة 4482] [ترقيم العلميه 4456]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ فِي أَمْرِ الْخِلَافَةِ ثُمَّ الْإِجْمَاعُ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
خلافت کے معاملے میں ابتدائی اختلاف اور پھر حضرت ابو بکرؓ پر اجماع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4506
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا وُهَيب، حدثنا داود بن أبي هند، حدثنا أبو نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: لما تُوفّي رسول الله ﷺ قام خُطباءُ الأنصارِ، فجعلَ الرجلُ منهم يقول: يا مَعشرَ المهاجرين، إنَّ رسول الله ﷺ كان إذا استعملَ رجلًا منكُم فَرَنَ معه رجلًا منّا، فنَرى أن يَلِيَ هذا الأمرَ رجلان، أحدُهما منكم والآخرُ منّا، قال: فتتابعتُ خطباءُ الأنصارِ على ذلك، فقام زيدُ بن ثابتٍ فقال: إنَّ رسول الله ﷺ كان من المهاجرين، وإنَّ الإمامَ يكونُ من المهاجرين، ونحن أنصارُه كما كنا أنصارَ رسولِ الله ﷺ، فقام أبو بكر فقال: جزاكُم الله خيرًا يا معشرَ الأنصار، وثَبّت قائلَكم، ثم قال: أمَا لو فَعلتُم غيَر ذلك لما صالَحناكُم، ثم أخذَ زيدُ بن ثابتٍ بيدِ أبي بكر، فقال: هذا صاحبُكم فبايِعُوه. ثم انطلَقوا. فلما قعدَ أبو بكر على المِنبَر نَظَر في وُجوهِ القوم، فلم يَرَ عليًّا، فسألَ عنه، فقام ناسٌ من الأنصار فأتَوْا به، فقال أبو بكر: ابن عمِّ رسولِ الله ﷺ وخَتَنُه، أردتَ أن تَشُقّ عصا المسلمين؟! فقال: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَه، ثم لم يَرَ الزُّبيرَ بنَ العوّام، فسأل عنه حتى جاؤوا به، فقال: ابن عَمّة رسولِ الله ﷺ وحَوارِيُّه، أردتَ أن تَشُقَّ عصا المسلمين؟! فقال مثل قولِه: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَاه (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کے خطبا کھڑے ہوئے، ان میں سے کوئی شخص یہ کہنے لگا: اے گروہِ مہاجرین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آپ میں سے کسی کو عامل مقرر فرماتے تھے تو ہمارے کسی شخص کو بھی اس کے ساتھ ملا دیتے تھے، لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ اس معاملے یعنی خلافت کو دو شخص سنبھالیں، ایک آپ میں سے اور ایک ہم میں سے، راوی کہتے ہیں: پھر انصار کے خطبا مسلسل اسی بات پر قائم رہے، تب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین میں سے تھے، اور امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا، اور ہم ان کے انصار یعنی مددگار ہیں جیسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے گروہِ انصار! اللہ تمہیں جزائے خیر دے اور تمہارے کلام کرنے والے کو حق پر ثابت قدم رکھے، پھر فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کچھ کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے، پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ تمہارے صاحب ہیں، پس ان کی بیعت کرو۔ پھر سب لوگ چل دیے، پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالی مگر وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہ پایا، تو ان کے بارے میں دریافت فرمایا، چنانچہ انصار کے کچھ لوگ گئے اور انہیں لے آئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور ان کے داماد! کیا آپ نے مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کیا ہے؟! تو انہوں نے جواب دیا: اے خلیفہ رسول اللہ! کوئی ملامت نہیں، پھر انہوں نے ان کی بیعت کر لی، پھر آپ نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو نہ پایا تو ان کے بارے میں دریافت فرمایا یہاں تک کہ لوگ انہیں لے آئے، آپ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے اور ان کے حواری! کیا آپ نے مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کیا ہے؟! تو انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا: اے خلیفہ رسول اللہ! کوئی ملامت نہیں۔ چنانچہ ان دونوں نے بیعت کر لی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4506]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقال مسلم بن الحجاج صاحب الصحيح" فيما أسنده عنه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 143: هذا حديث يَسْوى بَدَنةً، فقال له ابن خُزَيمة: يَسْوى بدنة؟! بل هو يَسْوى بَدْرة. قلنا: البَدْرة: كيس فيه ألف أو عشرة آلاف درهم، أو سبعة آلاف دينار، والبدنة: الناقة السمينة.» [ترقيم الرساله 4506] [ترقيم الشركة 4483] [ترقيم العلميه 4457]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4507
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير الصَّنْعاني، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لما أُسري بالنبيّ ﷺ إلى المسجد الأقصى أصبحَ يتحدّثُ الناسُ بذلك، فارتدَّ ناسٌ ممّن كانوا آمَنُوا به وصدَّقوه، وسَعَى رجالٌ من المشركين إلى أبي بكر، فقالوا: هل لك إلى صاحبِك يَزعُم أنه أُسري به الليلةَ إلى بيتِ المَقدِس! قال: أوَقال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن قال ذلك لقد صَدَق، قالوا: وتُصدِّقه أنه ذهب الليلةَ إلى بيت المَقدِس وجاء قبل أن يُصبح؟! فقال: نعم، إني لأصدِّقُه بما هو أبعدُ من ذلك؛ أُصدِّقه في خَبرِ السماء في غَدُوةٍ أو رَوْحة؛ فلذلك سُمِّي أبا بكر الصِّدِّيق (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو صبح کے وقت لوگ اس کے بارے میں چہ میگوئیاں کرنے لگے، اس پر وہ لوگ بھی مرتد ہو گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کر چکے تھے، اور کچھ مشرکین دوڑتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: کیا آپ کو اپنے صاحب کے متعلق کچھ خبر ہے؟ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آج رات انہیں بیت المقدس کی سیر کرائی گئی ہے! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا انہوں نے واقعی یہ فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً بالکل سچ فرمایا ہے۔ ان لوگوں نے پوچھا: کیا آپ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟! آپ نے فرمایا: جی ہاں، میں تو اس سے بھی زیادہ دور کی بات میں ان کی تصدیق کرتا ہوں؛ میں تو صبح و شام آسمان سے آنے والی خبر یعنی وحی کے معاملے میں ان کی بلا جھجھک تصدیق کرتا ہوں؛ اسی وجہ سے ان کا نام ابوبکر صدیق پڑ گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، بیشک محمد بن کثیر صنعانی صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4507]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف موصولًا كما تقدم بيانه عند مُكرَّره المتقدم برقم (4455).» [ترقيم الرساله 4507] [ترقيم الشركة 4484] [ترقيم العلميه 4458]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. أَمْرُ النَّبِيِّ لِأَبِي بَكْرٍ بِإِمَامَةِ النَّاسِ فِي الصَّلَاةِ .
نبی کریم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو نماز کی امامت کا حکم دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4508
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا عُمر بن عليّ المُقدَّميّ، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: أذَّنَ بلالٌ لصلاة الظُّهر، فجاءَ الصِّيَاحُ قِبَلَ بني عمرو بن عوف: أنه قد وَقَعَ بينهم شَرٌّ حتى تَرامَوا بالحجارة، فأتاهم النبيُّ ﷺ، فقال:"يا أبا بكر، إن أُقيمتِ الصلاةُ فتَقدَّمْ فصَلِّ بالناس"، فقال: نعم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشَّيخين ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على ذلك في مَرَضِ النبي ﷺ الذي ماتَ فيه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4459 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دی، اسی دوران بنو عمرو بن عوف کی طرف سے شور و غل کی آواز آئی کہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہو گیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس (صلح کے لیے) تشریف لے گئے اور فرمایا: اے ابوبکر! اگر نماز کھڑی ہو جائے تو تم آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھا دینا، انہوں نے عرض کیا: جی بہتر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس طرح اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس پر تو اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں ایسا فرمایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4508]
تخریج الحدیث: «صحيح لكن بمخاطبة النبي ﷺ لبلال بن رباح بأن يُقدّم أبا بكر لإمامة الناس عند حضور الصلاة، وليس بمخاطبة النبي ﷺ لأبي بكر بذلك، كما جاء في رواية حماد بن زيد عن أبي حازم سلمة بن دينار - والظاهر أنَّ الوهم فيه هنا من سعيد بن عامر - وهو الضُّبَعي ...» [ترقيم الرساله 4508] [ترقيم الشركة 4485] [ترقيم العلميه 4459]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4509
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا نصر بن منصور المَروزَي، حدثنا بِشر بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا المُختار بن فُلفُل، عن أنس بن مالك، قال: بَعَثَني بنو المُصطَلِق إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: سَلْ لنا رسولَ الله ﷺ: إِلى مَن نَدفَعُ صَدَقَاتِنا بعدَك؟ قال: فأتيتُه فسألتُه، فقال:"إلى أبي بكر"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، قالوا: ارجِعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بأبي بكر حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيته فأخبرته، فقال:"إلى عمرَ"، فقالوا: ارجعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بعُمرَ حَدَثُ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال:"إلى عثمانَ"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فقالوا: ارجِعْ إليه فَسَلْه: فإِن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال: إن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ فتبًّا لكم آخرَ الدَّهرِ، فتَبًّا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4460 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو مصطلق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور کہا کہ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ آپ کے بعد ہم اپنے صدقات (زکوٰۃ) کس کے حوالے کریں؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کے، میں ان کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوبارہ جائیں اور پوچھیں کہ اگر ابوبکر کو کچھ (وفات) ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو فرمایا: عمر کے، انہوں نے کہا: پھر جائیے اور پوچھیں کہ اگر عمر کو کچھ ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو فرمایا: عثمان کے، میں نے واپس جا کر انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: پھر جا کر پوچھیں کہ اگر عثمان کو کچھ ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عثمان کو کچھ ہو جائے تو پھر تمہارے لیے آخری زمانے تک ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4509]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، نصر بن منصور المَروزَي ترجم له الخطيب في "تاريخ بغداد" 15/ 388 وذكر جمعًا من الثقات رووا عنه، ولم يذكر فيه جرحًا ولا تعديلًا، فهو مجهول الحال، وقد تفرَّد بهذا الخبر.» [ترقيم الرساله 4509] [ترقيم الشركة 4486] [ترقيم العلميه 4460]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4510
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسحاق بن الحسن الطحّان، حدثنا موسى بن ناصح، حدثنا أبو معاوية، عن عمر بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ لأبي بكر وعمر:"لا يتأمَّرُ عليكما أحدٌ بعدي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: میرے بعد تم دونوں پر کوئی بھی حکمرانی نہیں کرے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4510]
تخریج الحدیث: «ضعيف، موسى بن ناصح وإسحاق بن الحسن الطحّان لم يؤثر فيهما جرحٌ ولا تعديل، لكن روى عن كلٍّ منهما جمعٌ من الثقات، فهما مجهولا، الحال، وقد روى هذا الخبرَ منَ هو أجلُّ منهما عن أبي معاوية - وهو محمد بن خازم الضرير - عن السَّري بن يحيى الشيباني عن بِسطام ...» [ترقيم الرساله 4510]

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں