🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. اسْتِنْشَادُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فِي مَدْحِ الصِّدِّيقِ
نبی کریم ﷺ کا حضرت صدیقؓ کی مدح میں اشعار پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4461
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا محمد بن إبراهيم، حدثنا عمرو بن زياد، حدثنا غالب بن عبد الله القَرْقَساني، عن أبيه، عن جده حَبيب بن حَبيبِ، قال: شهدت رسولَ الله ﷺ قال لحسان بن ثابت:"قلتَ في أبي بكر شيئًا؟ قُلْ حتى أسمعَ" قال: قلت: وثانيَ اثنينِ في الغارِ المُنِيف وقد … طافَ العدوُّ به إذ صاعَدَ الجَبَلا وكان حِبَّ رسولِ الله قد عَلِمُوا … مِن الخلائقِ لم يَعدِلْ به بَدَلا فتبسَّم رسولُ الله ﷺ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4413 - عمرو بن زياد يضع الحديث
غالب بن عبداللہ القرفسانی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (کی شان) میں کچھ کہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: مجھے بھی سناؤ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ بلند پہاڑ کے غار میں دو میں سے دوسرے تھے، اور جب وہ پہاڑ پر چڑھ رہے تھے تو دشمن ان کا گھیراؤ کر رہا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی ان کا ہم پلہ نہیں ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4461]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4462
حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن مَخلَد الجَوهَري ببغداد، حدثنا الحارث بن أبي أسامة حدثنا الخليل بن زكريا، حدثنا مُجالِد بن سعيد قال: سُئل الشَّعْبي: مَن أولُ من أسلَمَ؟ فقال: أما سمعتَ قول حسان: إذا تَذكَّرتَ شَجُوًا من أخي ثقةٍ … فاذكُرْ أخاك أبا بكرٍ بما فَعَلا خيرَ البريّةِ أتقاها وأعدَلَها … بعدَ النبيِّ وأَوفاها بما حَمَلا الثانيَ التالَي المحمودَ مَشهَدُهُ … وأولَ الناسِ منهم صَدَّق الرُّسُلا (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4414 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا شعبی فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یا ان سے کسی اور نے پوچھا کہ سب سے پہلے اسلام کون لایا؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کا یہ قول نہیں سنا؟ جب تم اپنے کسی پرہیزگار بھائی کی تکلیف کا تذکرہ کرو تو اپنے بھائی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے کارناموں کو بھی یاد کرو، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام مخلوق سے بہتر، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ انصاف کرنے والے ہیں۔ اور ان پر جو ذمہ داری ڈالی گئی اس کو سب سے احسن طریقے سے نبھانے والے ہیں۔ (حضور علیہ السلام کے ہمراہ ہمیشہ) دوسرے وہی ہوتے تھے اور وہ آپ کے متبع تھے، ان کا مشہد پسندیدہ تھا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہیں ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4462]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4463
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت: سألني أبو بكر: في كم كفَّنتُم رسولَ الله ﷺ؟ فقلت: في ثلاثةِ أثوابٍ، قال: ففيها فكفِّنوني (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4415 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: تین کپڑوں میں۔ انہوں نے فرمایا: مجھے بھی اتنے ہی کپڑوں میں کفن دینا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4463]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4464
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة أخبرته: أنَّ أبا بكر حين حَضَرتْه الوفاةُ قال: في كم كفَّنتمُ النبيَّ ﷺ؟ فقلت: في ثلاثة أثواب بيضٍ يمانيةٍ جُدُدٍ ليس فيها قميصٌ ولا عِمامة، قال: اغسِلُوا ثوبي هذا - وفيه رَدْعُ زَعْفَرانٍ ومِشْقٍ - فاجعلُوه مع ثوبَين جديدَين، فقلت: إنه خَلَقٌ، فقال: الحيُّ أحقُّ بالجديد من الميت، إنه للمُهْل (1) .
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت آیا تو انہوں نے فرمایا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: تین یمنی سفید کپڑوں میں، جو بالکل نئے تھے۔ ان میں قمیص اور عمامہ شامل نہیں تھا، آپ نے فرمایا: میں نے جو کپڑا پہنا ہوا ہے، اس میں زعفران کی خوشبو کا اثر ہے۔ اس کو دھو کر دو نئے کپڑوں کے ساتھ ملا لینا۔ میں نے کہا: وہ تو پرانا ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا: مردوں کی بہ نسبت زندہ لوگ نئے کپڑوں کے زیادہ مستحق ہیں۔ ٭٭ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4464]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4465
قال عبد الرحيم: وحدَّثني هشام بن عُرْوة، قال: أخبرني عُثمان بن الوليد، عن عُرُوة: أن أبا بكر صُلِّيَ عليه في المسجد، ودُفن ليلًا إلى جنبِ رسول الله ﷺ في حُجرة عائشة (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4416 - على شرط البخاري ومسلم"
عبدالرحیم ہشام بن عروہ کے ذریعے عثمان بن ولید کے واسطے سے سیدنا عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھائی گئی اور رات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کئے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4465]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ فِي خِلَافَتِهِ سَنَتَيْنِ وَسَبْعَةَ أَشْهُرٍ
حضرت ابو بکرؓ نے اپنی خلافت میں دو سال اور سات ماہ حکومت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4466
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي المَعْمَري، حدثنا جعفر بن مُسافر، حدثنا عبد الله بن نافع عن نافع بن أبي نُعيم، عن نافع، عن ابن عمر قال: وليَ (1) أبو بكر في خلافته سنتين وسبعةَ أشهرٍ (2) . حدثنا الحاكم الفاضل أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4417 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو سال سات ماہ امور خلافت چلائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4466]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت عمرو بن عبسہؓ کا اسلام لانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4467
حدثنا عبد الله بن جعفر بن دَرستوَيهِ الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو تَوْبة الربيع بن نافع الحَلَبي، حدثنا محمد بن مُهاجر، عن العبّاس بن سالم، عن أبي سلّام، عن أبي أُمامة عن عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ في أولِ ما بُعِثَ وهو بمكة، وهو حينئذٍ مُستخْفٍ فقلت: ما أنت؟ قال:"أنا نبيٌّ" قلت: وما النبيُّ؟ قال:"رسولُ الله قلت: آلله أرسلَكَ؟ قال:"نعم" قلت: بما أرسلَكَ؟ قال:"أن تعبدَ الله، وتَكسِرَ الأوثانَ، وتَصِل الأرحامَ" قلت: نِعمَ ما أرسلَكَ به، فمن تَبِعَك على هذا؟ قال:"عبدٌ وحُرٌّ" يعني أبا بكر وبلالًا. وكان عَمرو يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبْعُ الإسلام، قال: فأسلمتُ، قلت: أَتْبعُك يا رسول الله، قال:"لا، ولكن الْحَقْ بقومِك، فإذا أُخبِرتَ أني قد خرجتُ فاتْبَعني" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا سلّام على روايته ضَمْرةُ بن حبيب وأبو طلحة الراسِبيّ (1) وشَدّادُ بن عبد الله أبو عمّار. أما حديث ضَمْرة وأبي طلحة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4418 - صحيح
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اوائل میں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ان دنوں آپ پوشیدہ تبلیغ کرتے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کا رسول۔ میں نے کہا: آپ کا پیغام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، بتوں کی عبادت کو چھوڑ دو، صلہ رحمی کرو۔ میں نے کہا: آپ کا پیغام تو بہت اچھا ہے۔ اس بات پر ایمان کون کون لایا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: میرا خیال ہے کہ اسلام لانے والا چوتھا آدمی میں ہوں، پھر میں نے اسلام قبول کر لیا، اور میں نے عرض کی: کیا میں آپ علیہ السلام کی سنگت میں رہ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ (ابھی نہیں) بلکہ تم فی الحال اپنے قبیلے میں چلے جاؤ۔ اور جب تمہیں میرے غلبہ کی خبر ملے تم میرے ساتھ رہنے کے لئے چلے آنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو ابوامامہ سے روایت کرنے میں ضمرہ بن حبیب، ابوطلحہ الراسبی اور ابوعمار شداد بن عبداللہ نے ابواسلام کی متابعت کی ہے۔ ضمرہ اور ابوطلحہ کی روایت کردہ حدیث (درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4467]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ
سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت بلالؓ تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4468
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا بحر بن نصر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب قال وأخبرني معاوية بن صالح، حدثنا أبو يحيى وضَمْرة بن حبيب وأبو طلحة، عن أبي أمامة الباهلي، قال: أخبرني عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسول الله ﷺ وهو نازِلٌ بعُكاظٍ، قلت: يا رسولَ الله، من اتَّبعك على هذا الأمر؟ قال:"اتَّبعني عليه رجلانِ، حُرٌّ وعبدٌ: أبو بكر وبلال"، قال: فأسلمتُ عند ذلك (2) . وأما حديثُ أبي عمّار:
ضمرہ بن حبیب اور ابوطلحہ، ابوامامہ باہلی کے حوالے سے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ عکاظ کے بازار میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس (اسلام کے) معاملے میں کس کس نے آپ کی پیروی اختیار کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں نے۔ جن میں سے ایک آزاد اور دوسرا غلام ہے (یعنی) ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ۔ آپ فرماتے ہیں: میں اس وقت اسلام لایا تھا۔ ابوعمار کی روایت کردہ حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4468]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4469
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو الوليد الطَّيالِسي، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا شَدَّاد بن عبد الله أبو عمّار - وكان قد أدرك نفرًا من أصحاب رسول الله ﷺ قال: قال أبو أُمامة: يا عمرَو بنَ عَبَسَة، بأيِّ شيءٍ تدّعي أنك رُبُع الإسلامِ؟ فذكر الحديثَ بطُوله (3) .
شداد بن عبداللہ ابوعمار (انہوں نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت کی ہے) روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوامامہ نے کہا: اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ! آپ کس بناء پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تم چوتھے اسلام لانے والے ہو؟ پھر اس کے بعد ان کا مکمل واقعہ بیان کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4469]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4470
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا العبّاس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، عن سليمان بن بلال، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، عن عمر، قال: كان أبو بكر سيِّدَنا وخيرَنا، وأحبَّنا إلى رسول الله ﷺ (1) . صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4421 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب کے سردار، ہم سب سے بہتر اور ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4470]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں