🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. أَوَّلُ مَنْ يُعَانِقُهُ الْحَقُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُمَرُ .
قیامت کے دن سب سے پہلے جسے حق تعالیٰ معانقہ فرمائے گا وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4541
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان، حدثنا عبد الله بن خراش، أخبرنا العوّام بن حَوشَب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ:"لما أسلمَ عمرُ أتاني جبريلُ ﵇، فقال: قد استبشَرَ أهل السماء بإسلامِ عُمرَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4491 - عبد الله بن خراش ضعفه الدارقطني
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عمر نے اسلام قبول کیا تو میرے پاس سیدنا جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے اور بولے: عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر آسمان والوں نے بھی خوشیاں منائی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4541]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. دُعَاؤُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي حَقِّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4542
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري وأبو محمد بن سعد الحافظ، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا خالد بن أبي بكر بن عُبيد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ ضَرَبَ صَدْرَ عُمر بن الخطاب بيده حين أسلمَ ثلاث مرات، وهو يقول:"اللهمَّ أخرِجْ ما في صدْرِه من غِلٍّ وأبدِلْه إيمانًا، يقول ذلك ثلاثًا (2) .
هذا حديث صحيح مُستقيم الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4492 - قال البخاري خالد بن أبي بكر العمري له مناكير
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگتے ہوئے تین مرتبہ ان کے سینے پر ہاتھ مارا اے اللہ! عمر کے سینے میں جو میل کچیل ہے اس کو نکال دے اور اس کو ایمان میں بدل دے ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے، مستقیم الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4542]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. قِتَالُ عُمَرَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ فِي بَدْءِ إِسْلَامِهِ .
اسلام کے آغاز میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مشرکین کے ساتھ قتال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4543
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه وأبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد وعلي بن حَمْشاذَ العدل، قالوا: حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا سليمان بن حرب، حَدَّثَنَا حماد بن زيد، عن محمد بن إسحاق، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قاتَلَ عمرُ المشركين في مسجد مكة، فلم يَزَلْ يقاتِلُهم منذ غُدوةٍ حتَّى صارت الشمسُ حِيالَ رأسِه، قال: أَعيا وقَعَدَ، فدخل رجلٌ عليه بُردٌ أحمرُ وقَميصٌ قُومَسِيّ، حسنُ الوجهِ، فجاء حتَّى أفرجَهم، فقال: ما تُريدون مِن هذا الرجُل؟ قالوا: لا والله، إلَّا أنه صَبَأَ، قال: فنِعْمَ رجلٌ اختارَ لنفسه دِينًا، دَعُوه وما اختارَ لنفسِه، تَرَون بني عَدِيّ تَرضى أن يُقتل عمر، لا والله لا ترضى بنو عَديّ، قال: وقال عمر يومئذ: يا أعداء الله، والله لو قد بَلَغْنا ثلاثَ مئةٍ لقد أخرجناكم منها، قلت لأبي بعدُ: مَن ذاكَ الرجلُ الذي رَدَّهم عنك يومئذٍ؟ قال: ذاك العاصُ بن وائلٍ أَبُو (1) عمرِو بن العاص (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4493 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حرم مکہ میں مشرکوں سے لڑنا شروع کیا، آپ صبح سے مسلسل ان کے ساتھ لڑ رہے تھے حتی کہ سورج سر پر آ گیا، پھر آپ تھک کر بیٹھ گئے۔ تو ان کے پاس ایک خوبصورت آدمی آیا جس نے سرخ رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور قوسی قمیص پہنے ہوئے تھا۔ اس نے آخر لوگوں کو آپ سے ہٹایا اور کہنے لگا: تم لوگ اس شخص سے کیا چاہتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اس نے اپنا دین بدل لیا ہے۔ اس نے کہا: یہ آدمی اچھا ہے کہ اس نے اپنے لئے ایک دین چنا ہے، تم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو، تمہارا کیا خیال ہے؟ بنو عدی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قتل پر راضی ہوں گے؟ نہیں خدا کی قسم! بنو عدی راضی نہیں ہوں گے۔ اس دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! خدا کی قسم! اگرہم تین سو تک پہنچ گئے تو ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں) میں نے بعد میں والد صاحب سے پوچھا کہ اس دن جس آدمی نے آپ کا دفاع کیا تھا وہ کون تھا؟ تو آپ نے فرمایا: عمرو بن العاص کا والد عاص بن وائل۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4543]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4544
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الحميد، حَدَّثَنَا أبي، عن النضر أبي عمر الخَزّاز، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: لما أسلم عمرُ قال المشركون: اليومَ انتُصِفَ منا (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4494 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو مشرکین نے کہا: آج ہماری آدھی قوم جاتی رہی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4544]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ .
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہوتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4545
أخبرني عبد الله الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا حَيْوة بن شُرَيح، عن بكر بن عمرو، عن مِشْرَح بن هاعَان، عن عُقبة بن عامر قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لو كان بَعدي، نبيٌّ لكان عمرَ بنَ الخطاب" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4495 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی ہوتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4545]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. رُؤْيَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فِي فَضِيلَةِ عُمَرَ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں خواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4546
حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن الحسن العَدْل، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا عمرو بن عَون، حَدَّثَنَا مُعتمر بن سليمان، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عمر، أنه سمع أبا بكر بن سالم يحدِّث عن أبيه، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إني رأيتُ في النوم أني أُعطِيتُ عُسًّا مملُوءًا لبنًا، فشربتُ منه حتَّى تَملّأتُ، حتَّى رأيتُه في عِرْقٍ بين الجِلد واللحم، ففضَلَتْ فَضْلةٌ فأعطيتُها عمرَ بنَ الخطّاب" فقالوا: يا نبيَّ الله، هذا علمٌ أعطاكَه اللهُ فملأتَ منه، ففضَلَتْ فَضْلةٌ وأعطيتَها عمرَ بنَ الخطاب، فقال:"أصَبتُم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4496 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ مجھے دودھ کا بھرا ہوا پیالہ دیا گیا۔ میں نے اس میں سے پیٹ بھر کر پیا۔ حتیٰ کہ میں نے اس کو جلد اور گوشت کے درمیان ایک رگ میں دیکھا پھر اس میں سے کچھ بچ گیا تو میں نے وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ علم تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔ آپ اس سے بھرپور ہو گئے اور اس سے کچھ بچ گیا تو آپ نے وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے صحیح سمجھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4546]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4547
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا السَّرِي بن يحيى، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا زائدة، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن عبد الله، قال: لو وُضِعَ علمُ عمرَ في كِفَّةِ مِيزانٍ، ووُضِع علمُ الناس في الكِفَّة الأُخرى، لرَجَحَ عِلمُ عمر (1) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں تمام لوگوں کا علم رکھ دیا جائے تب بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4547]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4548
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا خلّاد بن يحيى، حَدَّثَنَا مِسعَر، عن عبد الملك بن عُمير، عن زيد بن وهب، عن عبد الله بن مسعود، قال: إنَّ عمر كان أتقانا للربِّ، وأقرأَنا لكتاب الله ﷿ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4498 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ خوف خدا والے اور سب سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4548]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4549
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا شعيب بن الليث، حَدَّثَنَا أبي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبيد بن عبد الواحد، حَدَّثَنَا ابن أبي مَريم، أخبرنا الليث بن سعد ويحيى بن أيوب، قالا: حَدَّثَنَا ابن عَجْلان، عن سعد ابن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن عائشة زوج النَّبِيّ ﷺ، قالت: قال رسول الله ﷺ:"كان في الأمم مُحدَّثون، فإنْ يكنْ في أمتي أحدٌ، فعمرُ بنُ الخَطَّاب" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مُسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4499 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سابقہ امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے۔ میری امت میں اگر کوئی محدث ہو سکتا ہے تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4549]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. تَرْتِيبُ خِلَافَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلافت کی ترتیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4550
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا أبو شِهاب، حَدَّثَنَا محمد بن واسِع، عن سعيد بن جُبَير، عن أبي الدرداء، قال: خطب رسول الله خُطبة خَفِيفةً، فلما فَرَغَ مِن خُطبتِه قال:"يا أبا بكر، قُمْ فاخطُبْ"، فقام أبو بكر فخطب، فقصَّر دُون النَّبِيِّ ﷺ، فلما فرغ أبو بكر من خُطبته، قال:"يا عمرُ، قُمْ فاخطُبْ"، فقام عمر فقصَّر دون النَّبِيّ ﷺ ودون أبي بكر (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4500 - منقطع
سیدنا ابوالدرداء فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر خطبہ ارشاد فرمایا، جب آپ خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے ابوبکر! اٹھو اور خطبہ دو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ سے بھی مختصر خطبہ دیا، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خطبہ سے فارغ ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اٹھو، خطبہ دو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے مختصر خطبہ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4550]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں