🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. اسْتِئْذَانُ عُمَرَ مِنْ عَائِشَةَ لِدَفْنِهِ فِي حُجْرَتِهَا .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے حجرے میں دفن کی اجازت طلب کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4571
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا بِشر بن الوليد القاضي، حَدَّثَنَا أبو يوسف القاضي، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن أنس قال: قُبض عمر وهو ابن ثلاثٍ وستين سنة (3) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ان کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بشر بن الوليد القاضي، فهو صدوق لا بأس به، وقد روي هذا الخبر عن أنس من غير هذا الوجه. فقد أخرجه مسلم (2348)، وابن حبان (6389) من طريق الزبير بن عدي، عن أنس.» [ترقيم الرساله 4571] [ترقيم الشركة 4547]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4572
أخبرنا أحمد بن محمد بن بالَوَيهِ العَفْصِي، حَدَّثَنَا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الله بن يونس، حَدَّثَنَا زهير، عن يزيد بن أبي زياد، عن أبي جُحَيفة، عن عبد الله بن مسعود، قال: إن كان عمرُ حِصْنًا حَصِينًا يَدخُل الإسلامُ فيه ولا يَخرجُ منه، فلما أُصيبَ عُمر انثلَمَ الحِصنُ، فالإسلامُ يَخرُج منه ولا يَدخُل فيه، إذا ذكر الصالحون فحيَّهَلا بعُمرَ (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بے شک عمر رضی اللہ عنہ ایک مضبوط قلعہ تھے جس میں اسلام داخل تو ہوتا تھا مگر وہاں سے نکلتا نہیں تھا، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو وہ قلعہ ٹوٹ گیا، اب اسلام اس سے نکلتا ہے اور اس میں داخل نہیں ہوتا، جب بھی نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے تو «فحيَّهَلا» خوش آمدید و مرحبا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے (کہا کرو)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد» [ترقيم الرساله 4572] [ترقيم الشركة 4548]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4573
حَدَّثَنَا أبو محمد المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن عمر بن أبان، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيَينة، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله: أنَّ عليًا دخل على عُمر وهو مُسجًّى، فقال: صلى الله عليك، ثم قال: ما مِن الناسِ أحدٌ أحبَّ إليَّ أن ألقى الله بما في صَحيفتِه من هذا المُسجَّى (1) . قال الحاكم: أخبار الشُّورى ما يصحُّ منها مَخْرجُه بعد وفاةِ أبي بكر الصِّدِّيق ﵁ موصولةٌ بأخبارِ سَقِيفة بني ساعِدةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ «مُسجًّى» کپڑے میں ڈھانپے ہوئے (میت) تھے، پس علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، پھر فرمایا: لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جس کے اعمال نامے کے ساتھ اللہ سے ملنا مجھے اس ڈھانپے ہوئے شخص (عمر رضی اللہ عنہ) کے اعمال نامے کے ساتھ ملنے سے زیادہ پسند ہو۔
امام حاکم فرماتے ہیں: شوریٰ کی وہ خبریں جو صحت کے ساتھ مروی ہیں، ان کا مخرج ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ کی خبروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد اختُلف في وصله وإرساله عن جعفر بن محمد - وهو الصادق ابن علي الباقر - فوصله سفيان بن عُيينة، وخالفه غيره من أصحاب جعفر، فرووه عن جعفر عن أبيه مرسلًا، لم يذكروا فيه جابرًا، وكذلك رواه جماعة عن محمد بن علي الباقر مرسلًا، ولكن سفيان بن عيينة ...» [ترقيم الرساله 4573] [ترقيم الشركة 4549]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. الْأَشْعَارُ فِي رِثَاءِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات پر کہے گئے مرثیہ اشعار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4574
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد القطان إملاءً، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن مالك (1) بن دينار، قال: سُمِع صوتٌ بجبل تَبَالةَ حين قُتل عمر بن الخطاب: لِيَبكِ على الإسلام مَن كان باكيًا … فقد أوشَكُوا هَلْكى وما قَدُمَ العَهدُ وأدبَرتِ الدنيا وأدبَرَ خَيرُها … وقد مَلَّها مَن كان يُوقِنُ بالوَعِدِ (2) فنظروا فلم يروا شيئًا (1) .
مالک بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو جبلِ تبالہ سے ایک غیبی پکارنے والے کی آواز سنی گئی: جو رونے والا ہے وہ اسلام پر روئے، کیونکہ لوگ ہلاکت کے قریب ہیں جبکہ ابھی (عمر رضی اللہ عنہ کا) عہد پرانا نہیں ہوا تھا، دنیا پیٹھ پھیر گئی ہے اور اس کی بھلائی رخصت ہوگئی ہے، اور وہ شخص دنیا سے اکتا گیا ہے جو اللہ کے وعدے پر یقین رکھتا تھا۔ پس لوگوں نے ادھر ادھر دیکھا مگر انہیں کوئی چیز نظر نہ آئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4574]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ وربما يكون مُعضَلًا، فإنَّ مالك بن دينار لم يدرك زمن عمر.» [ترقيم الرساله 4574] [ترقيم الشركة 4550]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4575
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أشهَلُ بن حاتم، حَدَّثَنَا ابن عَون، عن الشَّعْبي قال: ورَثَت عاتِكةُ بنت زيد بن عمرو بن نُفَيل عُمرَ فقالت: عينُ (2) جُودِي بعَبرةٍ ونَحيبِ … لا تَمَلِّي على الإمام الصَّليبِ فَجَّعَتْني المَنُونُ بالفارسِ المُعْ … لم يومَ الهِيَاجِ والتأْييبِ عِصْمةُ الدِّين والمُعِينُ على الدَّه … رِ وغيثُ المَلهُوفِ والمَكرُوبِ قل لأهل الضَّرَّاءِ والبُؤسِ: مُوتُوا … إِذ سَقَتْه المَنُونُ كأسَ شَعُوبِ وقالت عاتكة أيضًا: فَجَّعَني (3) فَيرُوزُ لا دَرَّ دَرُّهُ … بأبيضَ تالٍ للكتابٍ مُنيبِ رؤوفٍ على الأدنى غَليظٍ على العِدَى … أخي ثقةٍ في النائبات نَجيبِ متى ما يقُلْ لا يُكذِبِ القولَ فعلُهُ … سريعٍ إلى الخَيرات غيرِ قَطُوبِ (4) حديث الشُّورى مُخرَّج في"الصحيحين"، لكني قد أوردتُ هاهنا أحرفًا صحيحةً الإسنادِ مُفيدةً غريبةً.
شعبی سے روایت ہے کہ عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا: اے میری آنکھ! کثرت سے آنسو بہا اور خوب رو، اس مضبوط امام پر (رونے میں) سستی نہ کر، موت نے مجھے اس شاہسوار کے چھن جانے کا دکھ دیا جو جنگ اور حملے کے دن صف اول کا غازی تھا، وہ دین کی جائے پناہ اور وقت کی سختیوں پر معاون تھا اور پسماندہ و دکھی لوگوں کے لیے رحمت کی بارش کی طرح تھا، تکلیف اور فقر زدہ لوگوں سے کہہ دو کہ اب وہ مر جائیں کیونکہ موت نے عمر کو «شَعُوبِ» موت کا پیالہ پلا دیا ہے۔ نیز عاتکہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی کہا: فیروز (ابولولو) نے مجھے اس گورے رنگ والے شخص کے بارے میں غمزدہ کر دیا، اللہ اسے خیر نہ دے، جو کثرت سے کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے، وہ اپنے قریبیوں پر نہایت مہربان اور دشمنوں پر سخت تھے، مصیبتوں کے وقت ایک قابلِ اعتماد اور شریف بھائی تھے، جب بھی وہ کوئی بات کہتے تو ان کا فعل اس قول کی تکذیب نہیں کرتا تھا، وہ نیکیوں کی طرف تیزی سے لپکنے والے تھے اور ان کے چہرے پر کبھی ترش روئی نہیں ہوتی تھی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: قصہ شوریٰ کی حدیث صحیحین میں موجود ہے، لیکن میں نے یہاں چند ایسی روایات ذکر کی ہیں جن کی اسناد صحیح ہیں اور وہ مفید و نادر معلومات پر مشتمل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4575]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسل، فإنَّ الشَّعْبي» [ترقيم الرساله 4575] [ترقيم الشركة 4551]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4576
حَدَّثَنَا أحمد بن يعقوب الثقفي ومحمد بن أحمد الجَلّاب، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حَدَّثَنَا محمد بن الصَّبَّاح، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن عُمر مولى غُفرة، عن محمد بن كعب، عن ابن عمر، قال: قال عمر لأصحاب الشُّورى: لله دَرُّهم لو وَلَّوها الأُصيلِعَ كيف يَحمِلُهم على الحقِّ وإِن حُمِل على عُنقه بالسَّيف، قال: فقلتُ: تعلمُ ذلك منه ولا تُولِّيه، قال: إن أستخلِفْ فقد استخلَفَ مَن هو خيرٌ مني، وإن أترُكْ [فقد ترك مَن هو خيرٌ مني (1) ] (2) . ومن فضائل أميرِ المؤمنين ذي النُّورَين عثمانَ بن عفّان ﵁ -
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصحابِ شوریٰ سے فرمایا: اللہ ان (صحابہ) کا بھلا کرے، اگر وہ اس «اُصيلِع» کو خلیفہ بنا دیں تو وہ انہیں حق کے راستے پر چلائیں گے، خواہ ان کی گردن پر تلوار ہی کیوں نہ رکھ دی جائے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: آپ یہ بات ان کے بارے میں جانتے ہیں تو پھر انہیں خلیفہ کیوں نہیں بنا دیتے؟ انہوں نے جواب دیا: اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو (میرے لیے اس کی گنجائش ہے کیونکہ) اس ہستی نے بھی خلیفہ مقرر کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھی (یعنی ابوبکر صدیق)، اور اگر میں (یہ معاملہ شوریٰ پر) چھوڑ دوں تو (اس کی بھی گنجائش ہے کیونکہ) اس ہستی نے بھی اسے چھوڑ دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
امیر المؤمنین ذوالنورین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل کا تذکرہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4576]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عمر مولى غُفْرة: وهو عمر بن عبد الله المدني. محمد بن الصبّاح: هو الجَرجرائي، ومحمد بن كعب: هو القُرظي.» [ترقيم الرساله 4576] [ترقيم الشركة 4552]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ذِي النُّورَيْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ -
امیر المؤمنین ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4577
حَدَّثَنَا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصور أميرِ المؤمنين، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، حَدَّثَنَا هارون بن إسماعيل الخَزّاز، حَدَّثَنَا قُرَّة بن خالد، عن الحسن، عن قيس بن عُبَاد، قال: سمعتُ عليًا يومَ الجَمَل يقول: اللهم إني أبرأُ إليك من دمِ عُثمانَ، ولقد طاشَ عَقْلي يوم قُتل عثمانُ، وأنكرتُ نفسي وجاؤوني للبَيعة، فقلت: والله إني لأستحْيي من الله أن أُبايعَ قومًا قَتَلوا رجلًا قال له رسول الله ﷺ:"ألا أستَحْيي ممن تَستَحْيِي منه الملائكةُ"، وإني لأستحْيي من الله أن أُبايع وعثمانُ قَتيلُ الأرض لم يُدفَن بعدُ، فانصرفُوا، فلما دُفن رجعَ الناسُ فسألوني البيعةَ، فقلت: اللهم إني مُشفِقٌ مما أُقدِمُ عليه، ثم جاءت عَزيمةٌ فبايعتُ، فلقد قالوا: يا أميرَ المؤمنين، فكأنما صُدِعَ قلبي، وقلتُ: اللهم خُذْ مني لعثمانَ حتَّى تَرضَي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4527 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں عثمان (رضی اللہ عنہ) کے خون سے تیری بارگاہ میں برات کا اظہار کرتا ہوں، جس دن عثمان شہید کیے گئے میرا ذہن چکرا گیا تھا اور میں نے اپنے آپ کو اجنبی محسوس کیا، لوگ میرے پاس بیعت کے لیے آئے تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں ایسے لوگوں سے بیعت لوں جنہوں نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: «أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ» کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ اور مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں بیعت لوں جبکہ عثمان (رضی اللہ عنہ) زمین پر مقتول پڑے ہیں اور ابھی دفن نہیں ہوئے، پس وہ لوگ واپس چلے گئے، پھر جب انہیں دفن کر دیا گیا تو لوگ دوبارہ آئے اور مجھ سے بیعت کا مطالبہ کیا، تو میں نے کہا: اے اللہ! میں اس (بھاری ذمہ داری) سے ڈر رہا ہوں جس کی طرف میں قدم بڑھا رہا ہوں، پھر پختہ ارادہ کر کے میں نے بیعت لے لی، جب لوگوں نے مجھے اے امیر المؤمنین کہہ کر پکارا تو گویا میرا دل پھٹ گیا اور میں نے کہا: اے اللہ! تو عثمان (رضی اللہ عنہ) کے حق میں مجھ سے (بدلہ یا حساب) لے لے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4577]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن أحمد بن يزيد الرياحيّ» [ترقيم الرساله 4577] [ترقيم الشركة 4553] [ترقيم العلميه 4527]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. ذِكْرُ نَسَبِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - وَكُنَاهُ
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نسب اور کنیتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4578
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حَدَّثَنَا الفضل بن محمد بن المسيّب، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني إسماعيل بن إبراهيم بن عُقبة، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَاب، قال: عثمان بن عفّان بن أبي العاص بن أُميّة بن عبد شمس بن عبد مَناف بن قُصيّ بن كِلَاب، وأم عثمان أَروى بنت كُرَيز، وأم أَروى أمُّ حَكيم، وهي البَيضاءُ عمّةُ رسول الله ﷺ، و قد اختلفوا في كُنْية عثمان، فقيل: أبو عبد الله، وقيل: أبو عَمرو.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4528 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابن شہاب سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب (ان کا نسب ہے)۔ عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ ارویٰ بنت کریز تھیں اور ارویٰ کی والدہ ام حکیم تھیں جنہیں البیضاء کہا جاتا تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا ابو عبد اللہ اور بعض نے ابو عمرو کہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4578]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4578] [ترقيم الشركة 4554] [ترقيم العلميه 4528]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4579
أخبرني محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن أبانَ بن عثمان، قال: سمعت أبا عبد الله عثمان بن عفّان (1) .
سیدنا ابان بن عثمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو عبد اللہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو (بیان کرتے ہوئے) سنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن أبي الزِّناد - واسمه عبد الرحمن - فهو صدوق حسن الحديث. وقد اقتصر المصنّف على هذا الإسناد لإثبات كنية عثمان بن عفان بأبي عبد الله، ولم يذكر حديثه، وهو قوله: قال رسول الله ﷺ: "من قال في أول يومه أو في أول ليله: باسم الله ...» [ترقيم الرساله 4579] [ترقيم الشركة 4555]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4579M
سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ يقول: سمعت عثمان بن سعيد الدارميَّ يقول: سمعت أبا بكر بن أبي شَيْبة يقول: عثمان بن عفّان يُكنى أبا عمرو، وأبا عبد الله، قُتل في ذي الحجَّة سنة خمس وثلاثين.
سیدنا ابوبکر بن ابی شیبہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمرو اور ابو عبد اللہ ہے، آپ ذوالحجہ سنہ پینتیس (35) ہجری میں شہید کیے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4579M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4579M] [ترقيم الشركة 4555/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں