🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ .
نیک ہمنشین کی مثال عطر فروش جیسی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7941
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا مُطهَّر ابن الهيثم، حدثنا محمد بن ثابت البُنَاني، عن أبيه، عن أنس بن مالك: أنَّ النبيَّ ﷺ نهى أن يمشيَ الرجلُ بين البعيرَينِ (1) يَقودُهما (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7748 - محمد بن ثابت ضعفه النسائي
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اونٹوں کو چلاتے ہوئے ان کے درمیان چلنے سے منع فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7941]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7942
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد، حدثنا سعيد بن عامر حدثنا شُبَيل بن عَزْرة، قال: انطَلَقْنا بقَتَادة نقودُه إلى أنس ونحن غِلمةٌ، فدخلنا عليه، قال: ما أحسنَ هذا! ثم تكلَّم بكلام يُرغِّبُهم في طلب العلم، قال: فحدَّثَنا يومئذٍ أَنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"مَثَلُ الجليسِ الصالح مَثَلُ العطَّار، إن لم يُعطِكَ من عِطْرِه - أو قال: إن لم تُصِبْ من عطرِه - أصابَك من ريحِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7749 - صحيح
شبیل بن عزرہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا قتادہ کو لے کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اس وقت ہم بچے تھے، ہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، آپ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے، پھر طلب علم کی ترغیب دلاتے ہوئے گفتگو شروع فرمائی، اس دن انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک دوست کی مثال عطار جیسی ہے، کہ اگر وہ تمہیں عطر نہیں دے گا تو اس کے عطر کی خوشبو تو بہرحال تمہیں پہنچ ہی جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7942]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7943
حدثنا جعفر بن محمد بن نصير الخُلدي، حدثنا يحيى بن أيوب العلَّاف بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثني حُمَيد الطويل، قال: سمعتُ أنس بن مالك يقول: كان رسولُ الله ﷺ إِذا مَشَى كأَنَّه يتوكَّأ (2) . قال ابن أبي مريم: وأخبرنا غيرُ ابن أيوب بالحديث فقال: كأنه يتكفَّأ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7750 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیدل چلتے تو جھک کر چلتے، ابن ابی مریم نے یحیی بن ایوب کے واسطے سے حمید الطویل سے روایت کیا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلا کرتے تھے تو جھک کر چلتے، ابن ابی مریم نے یحیی بن ایوب کے علاوہ دیگر محدثین سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس روایت میں الفاظ یتوکا کی بجائے یتکفا ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکں شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7943]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7944
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا أشعثُ، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبيِّ ﷺ: أَنه نَهَى أَن يُقَدَّ السَّيرُ بين إصبعَينِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7751 - صحيح
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹنے سے منع فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7944]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7945
حدثنا علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني، حدثنا محمد بن علي بن عفّان، حدثنا قبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن الأسود بن قيس، عن نُبَيح (1) العَنَزَي، عن جابر بن عبد الله قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا خرجَ من بيته مَشَيْنا قُدَّامَه، وتَرَكْنا خلفَه للملائكة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7752 - قال الذهبي صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کاشانہ اقدس سے نکلتے تو ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کافی آگے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرشتوں کے لئے کچھ خلاء چھوڑ دیتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7945]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7946
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شُعْبة، عن الأسوَد بن قيس، عن نُبَيح العنزي، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تَمشُوا بين يديَّ ولا خَلْفي، فإن هذا مَقامُ الملائكة". قال جابر: جئتُ أسعى إلى النبيِّ ﷺ كأَنِّي شَرَارة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7753 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میرے آگے اور پیچھے مت چلا کرو، کیونکہ یہ جگہ فرشتوں کے لئے ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک شرارے کی طرح تیزی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7946]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7947
حدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد الذُّهلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة عن أبي مِجْلَز، قال: رأى حذيفةُ إنسانًا قاعدًا وَسَطَ حَلْقة، قال: لعنَ رسولُ الله ﷺ مَن قَعَدَ وَسَطَ حَلْقة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7754 - على شرط البخاري ومسلم
ابومجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا وہ حلقے کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے دیکھ کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی جو حلقہ کے درمیان بیٹھتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7947]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. إِبَاحَةُ قَوْلِ النَّاسِ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَمَا يُشْبِهُهُ .
لوگوں کے اس قول "میں آپ پر فدا ہوں" اور اس جیسے دیگر کلمات کہنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7948
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن داود بن أبي هِند، عن الشَّعْبي، حدثنا أبو جَبِيرة بن الضحَّاك، قال: فينا نزلت في بني سَلِمةَ ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ [الحجرات: 11] قال: قَدِمَ رسول الله ﷺ وليس منَّا رجلٌ إِلَّا وله اسمانِ أو ثلاثة، قال: فكان يُدعَى الرجلُ فيقولون: مَهْ مَهْ مَهْ، إنه يَغضبُ من هذا، فنزلت ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7755 - صحيح
ابوجبیرہ بن ضحاک فرماتے ہیں یہ آیت وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات: 11) اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو بنی سلمہ میں ہمارے بارے میں نازل ہوئی، آپ فرماتے ہیں: واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو ہم میں سے ہر شخص کے دو، دو، تین، تین نام تھے، کسی آدمی کو مہ ‘ مہ ‘ مہ ‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے ناراض ہوئے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات: 11) اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7948]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7949
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا أُنيس بن أبي يحيى، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: خرج إلينا رسولُ الله ﷺ في مرضِه الذي ماتَ فيه وهو مُعصَّبُ الرأس، قال: فاتّبعتُه حتى صَعِدَ المِنْبر، قال: فقال:"إِنِّي الساعةَ لَقائمٌ على الحَوْض"، ثم قال:"إنَّ عبدًا عُرِضَتْ عليه الدنيا وزِينتُها، فاختارَ الآخرةَ"، فلم يَفطَنْ في القوم لذلك أحدٌ إلَّا أبو بكر، فقال: بأبي أنت وأمي، بل نَفدِيكَ بأنفسِنا وأولادِنا وأموالِنا وموالِينا. قال: ثمَّ هَبَطَ من المنبر، فما رُئيَ حتى الساعةِ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين والغَرضُ في إخراجه في هذا الكتاب إباحة قول الناس بعضهم لبعض: نفسي ومالي لك الفداءُ، أو جُعِلتُ فِداك، أو فَديتُك، وما يشبهه. وشاهدُ هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7756 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض وفات کے دوران اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی، میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھ پیچھے چلا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: میں اس وقت حوض کوثر پر کھڑا ہوا ہوں، پھر فرمایا: اللہ کے ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی، اس نے آخرت کو اختیار کر لیا ہے، اس بات کی گہرائی کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی نہ سمجھ سکا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، ہم آپ پر اپنی جانیں، اپنی اولادیں، اپنے غلام اور اپنا مال فدا کرنے کو تیار ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف سے نیچے تشریف لے آئے، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری جلوہ قیامت تک کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اس حدیث کو اس کتاب میں درج کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ کسی کو نفسی و مالی لک الفداء (میری جان اور میرا مال آپ پر قربان ہو) کہنا یا جعلت فداک یا فدیتک کہنا، یا اس جیسے دیگر جملے کہنا جائز ہے۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے، (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7949]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7950
ما حدَّثَناه أبو العباس السَّيَّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة قال: سمعتُ أَبي بريدة (1) يقول: كنتُ في المسجد وأبو موسى الأشعري يقرأُ، فخرجَ رسولُ الله ﷺ فقال:"مَن هذا؟" فقلتُ: أنا بُرَيدةُ، جُعِلتُ لك الفِداءَ يا نبيَّ الله، قال:"لقد أُعطِيَ هذا من مَزاميرِ آلِ داود" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة. ومن ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7757 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں موجود تھا، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ قران کریم کی تلاوت کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی میں آپ پر قربان جاؤں، میں بریدہ ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آل داؤد کی مزامیر میں سے حصہ ملا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7950]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں