🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ
باب: علم فرائض سیکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اصل) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل (زائد) کی ہے: آیت محکمہ ۲؎، یا سنت قائمہ ۳؎، یا فریضہ عادلہ ۴؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2885]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم تین چیزوں کا نام ہے، اور جو ان کے علاوہ ہے وہ اضافی ہے (بنیادی نہیں)؛ محکم آیات، ثابت شدہ سنتیں اور مالی حقوق جو عدل پر مبنی ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المقدمة 8 (54)، (تحفة الأشراف: 8876) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی دونوں عبد الرحمن ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (54)
الإفريقي ضعيف
ولحديثه شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِي الْكَلاَلَةِ
باب: کلالہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2886
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ؟ قَالَ:" فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے دیکھنے کے لیے پیدل چل کر آئے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کر سکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے (سورۃ النساء: ۱۷۶)، اتری ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2886]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلتے ہوئے میری عیادت کے لیے تشریف لائے جب کہ مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کر سکا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے افاقہ ہو گیا۔ پس میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال میں کیسے کروں جبکہ میری وارث میری بہنیں ہیں؟ تو (یہ) آیتِ میراث نازل ہوئی: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] یہ لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر النساء 27 (4605)، المرضی 5 (5651)، الفرائض 13 (6743)، صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616)، سنن الترمذی/الفرائض 7 (2097)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 5 (2728)، (تحفة الأشراف: 3028)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 56 (760) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کلالہ: ایسا شخص جو نہ باپ چھوڑے نہ کوئی اولاد، اس کے سلسلہ میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی مر جائے اور اس کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو صرف ایک بہن ہو تو آدھا مال لے گی، دو ہوں تو ثلث لے لیں گی، اگر بہن بھائی دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا اخیر تک۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6723) صحيح مسلم (1616)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ
باب: جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2887
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ، قَالَ: أَحْسِنْ، قُلْتُ الشَّطْرَ، قَالَ: أَحْسِنْ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ: يَا جَابِرُ لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ، قَالَ: فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2887]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بیمار ہو گیا اور میری سات بہنیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر پھونک ماری (دم کیا) تو مجھے افاقہ ہو گیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے تہائی مال کی وصیت نہ کر جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان کر۔ میں نے کہا: آدھا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور مجھے چھوڑ دیا اور فرمایا: اے جابر! میں نہیں سمجھتا کہ تم اس بیماری سے وفات پاؤ گے، اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ہے اور تیری بہنوں کا حق بیان فرما دیا ہے، ان کے لیے دو تہائی خاص کیا ہے۔ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ آیت کریمہ ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2977)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6325)، مسند احمد (3/372) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد كثيرة منھا الحديث السابق (2886)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2888
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2888]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی کلالہ کے بارے میں ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] ۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المغازي 66 (4364)، والتفسیر 27 (4605)، 3 (4656)، والفرائض 14 (6744)، صحیح مسلم/الفرائض 3 (1618)، (تحفة الأشراف: 1870)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (4346) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جو سورہ نساء کے اخیر میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4605) صحيح مسلم (1618)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2889
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ، فَمَا الْكَلَالَةُ؟ قَالَ:" تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ"، فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق: هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا، قَالَ: كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2889]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں، تو اس کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی توضیح میں) فرمایا: تجھے وہ آیت کافی ہے جو گرمی کے موسم میں نازل ہوئی ہے۔ (راوی ابوبکر کہتے ہیں) میں نے ابواسحٰق سے کہا: (کیا کلالہ وہ نہیں کہ) جو فوت ہو جائے اور نہ اولاد چھوڑ جائے اور نہ والد؟ انہوں نے کہا: علماء ایسے ہی کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفرائض 2 عن عمر (1617)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (3042)، (تحفة الأشراف: 1906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/293، 295، 301) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سورہ نساء کا آخری حصہ گرمی کے زمانہ میں نازل ہوا ہے اس لئے اسے آیت «صيف» کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد عند مسلم (1617) وانظر الحديث السابق (2888)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ
باب: صلبی (حقیقی) اولاد کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2890
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا، عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ، وأخت لأب وأم، فقالا لابنته النصف، وللأخت من الأب، والأم النصف، ولم يورثا ابنة الابن شيئا، وأت ابن مسعود فإنه سيتابعنا فأتاه الرجل فسأله وأخبره بقولهما، فقال لقد ضللت إذا وما أَنَا وَلَكِنِّي سَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ مِنَ الْمُهْتَدِينَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ.
ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن (یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا (اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا) تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: تب تو میں بھٹکا ہوا ہوں گا اور راہ یاب لوگوں میں سے نہ ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ بیٹی کا آدھا ہو گا اور پوتی کا چھٹا حصہ ہو گا دو تہائی پورا کرنے کے لیے (یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کر دیں گے) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2890]
ہزیل بن شرجیل اودی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ ایک شخص فوت ہوا، ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن چھوڑ گیا۔ (اس کی میراث کیونکر تقسیم ہو؟) ان دونوں نے کہا: بیٹی کے لیے آدھا ہے اور حقیقی بہن کے لیے بھی آدھا۔ پوتی کو انہوں نے محروم ٹھہرایا اور (کہا کہ) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ (اور ان سے بھی پوچھ لو) وہ ہماری تصدیق و تائید کریں گے۔ چنانچہ وہ آدمی ان کے پاس گیا اور مذکورہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا جواب بھی بتایا۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: (اگر میں بھی یہی جواب دوں) تب تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوا، میں وہ فیصلہ دیتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا کہ اس کی بیٹی کے لیے آدھا اور پوتی کے لیے ایک حصہ (چھٹا حصہ) ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے اور باقی ماندہ (ایک تہائی) وہ حقیقی بہن کے لیے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الفرائض 8 (6736)، سنن الترمذی/الفرائض 4 (2093)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 2 (2721)، (تحفة الأشراف: 9594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 428، 440، 463)، سنن الدارمی/الفرائض 7 (2932) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2891
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْأَسْوَاقِ فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِابْنَتَيْنِ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ بِنْتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا إِلَّا أَخَذَهُ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ لَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ قَالَ: وَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ سورة النساء آية 11 الْآيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُوا لِي الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا، فَقَالَ: لِعَمِّهِمَا أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَخْطَأَ بِشْرٌ فِيهِ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو اسواف (مدینہ کے حرم) میں ایک انصاری عورت کے پاس پہنچے، وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! یہ دونوں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں ہیں، جو جنگ احد میں آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور میراث لے لیا، ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! ان کا نکاح نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کے پاس مال نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمائے گا، پھر سورۃ نساء کی یہ آیتیں «يوصيكم الله في أولادكم» نازل ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو اور اس کے دیور کو بلاؤ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکیوں کے چچا سے کہا: دو تہائی مال انہیں دے دو، اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو انہیں دینے کے بعد بچا رہے وہ تمہارا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں بشر نے غلطی کی ہے، یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی تھیں، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2891]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ ایک انصاری عورت کے ہاں پہنچے جو مقام اسواف (حدود حرم مدینہ) میں رہائش پذیر تھی، تو یہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ثابت بن قیس کی بیٹیاں ہیں جو آپ کی معیت میں تھے اور احد میں شہید ہوئے۔ ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور ساری وراثت لے لی ہے اور ان کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا حتیٰ کہ سب پر قبضہ کر لیا ہے۔ اے اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کی قسم! (اس طرح تو) ان کا کبھی نکاح نہیں ہو گا جب تک کہ ان کے پاس کچھ مال نہ ہو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس میں فیصلہ فرما دے گا۔ اور پھر سورۃ النساء کی آیت: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾ [سورة النساء: 11] نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کو اور اس کے دیور کو میرے پاس بلاؤ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کے چچا سے کہا: ان دونوں لڑکیوں کی دو تہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور باقی تمہارا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں بشر (بن مفضل) نے غلطی کی ہے۔ یہ لڑکیاں سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں تھیں۔ جبکہ ثابت بن قیس کی شہادت یمامہ کے موقع پر ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفرائض 3 (2092)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 2 (2720)، (تحفة الأشراف: 2365)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/352) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس روایت میں ثابت بن قیس کا تذکرہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے)
وضاحت: ۱؎: لہذا مسئلہ (۲۴) سے ہو گا، (۱۶) دونوں بیٹیوں کے اور (۳) ان کی ماں کے اور (۵) ان کے چچا کے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لكن ذكر ثابت بن قيس فيه خطأ والمحفوظ أنه سعد بن الربيع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2092) ابن ماجه (2720)
ابن عقيل : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2892
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ وَسَاقَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا هُوَ أَصَحُّ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع کی عورت نے کہا: اللہ کے رسول! سعد مر گئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2892]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سعد شہید ہو گئے ہیں اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اور مذکورہ بالا کی مانند روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2365) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2891)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ.
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو (کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک بہن اور ایک بیٹی کو میت کا وارث بنایا اور ہر ایک کو آدھا آدھا دیا، جبکہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الفرائض 6، 12 (6734)، (تحفة الأشراف: 11307)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 4 (2921) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6734)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي الْجَدَّةِ
باب: دادی اور نانی کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میت کی نانی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے، اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے (جو اس معاملے کو جانتا ہو) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اسی کو نافذ کر دیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دادی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا میراث مانگنے آئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے حصہ کا ذکر نہیں ہے اور پہلے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) جو حکم ہو چکا ہے وہ نانی کے معاملے میں ہوا ہے، میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصہ تم بھی لو، اگر نانی بھی ہو تو تم دونوں ( «سدس») کو بانٹ لو اور جو تم دونوں میں اکیلی ہو (یعنی صرف نانی یا صرف دادی) تو اس کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2894]
سیدنا قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک (میت کی) نانی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، وہ اپنا حق وراثت طلب کر رہی تھی، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب میں تیرا کوئی حصہ (مذکور) نہیں ہے اور نہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کچھ معلوم ہے، تم لوٹ جاؤ حتیٰ کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں (صحابہ) سے پوچھا تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (نانی کو) چھٹا حصہ دیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس خبر کے سلسلے میں تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے اسی طرح کہا: جیسے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو یہ حصہ دیا۔ پھر ایک اور دادی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، وہ اپنا حق وراثت طلب کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب میں تمہارا کوئی حق (مذکور) نہیں۔ اور جو فیصلہ اس سے پہلے ہوا ہے وہ دوسری (نانی) کے لیے تھا اور میں حقوق وراثت میں کچھ نہیں بڑھا سکتا۔ لیکن وہ چھٹا حصہ ہی ہے۔ اگر تم دونوں (نانی اور دادی) جمع ہو جاؤ تو یہ حصہ تم دونوں کے مابین ہو گا۔ اور جو تم میں سے کوئی اکیلی ہو (دادی ہو، نانی نہ ہو، یا نانی ہو، دادی نہ ہو) تو یہ چھٹا حصہ پورے کا پورا لے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفرائض 10 (2101)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 4 (2724)، (تحفة الأشراف: 11232، 11522)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الفرائض 8 (4)، مسند احمد (4/225) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں قبیصہ اور ابوبکر صدیق کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3061، 4084)
الزھري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (4/73 ح 6339 وسنده صحيح) وخالفه النسائي فأخطأ والله أعلم، قبيصة صحابي صغير رضي الله عنه و ھذا من مراسيل الصحابة و مراسيل الصحابة مقبولة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں