🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب شَرْحِ السُّنَّةِ
باب: سنت و عقائد کی شرح و تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4596
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4596]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور عیسائی بھی اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15023)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الإیمان 18 (2640)، سنن ابن ماجہ/الفتن 17 (3991)، مسند احمد (2/332) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں مذموم فرقوں سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جن کا اختلاف اہل حق سے اصول دین و عقائد اسلام میں ہے، مثلا مسائل توحید، تقدیر، نبوت، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و موالات وغیرہ میں، کیونکہ انہی مسائل میں اختلاف رکھنے والوں نے باہم اکفار و تکفیر کی ہے، فروعی مسائل میں اختلاف رکھنے والے باہم اکفار و تکفیر نہیں کرتے، (۷۳) واں فرقہ جو ناجی ہے یہ وہ فرقہ ہے جو سنت پر گامزن ہے، بدعت سے مجتنب اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلتا ہے، حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (۷۳) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہو گا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2640 وسنده حسن) وابن ماجه (3991 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4597
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ نَحْوَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَامَ فِينَا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ: ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ، زَادَ ابْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو فِي حَدِيثَيْهِمَا: وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ لِصَاحِبِهِ، وَقَالَ عَمْرٌو: الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ".
ابوعامر عبداللہ بن لحی حمصی ہوزنی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہا: سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: سنو! تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے، بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی، بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہی «الجماعة» ہے۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایت میں اتنا مزید بیان کیا: اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو ۱؎۔ اور عمرو کی روایت میں «لصاحبه» کے بجائے «بصاحبه» ہے اس میں یہ بھی ہے: کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4597]
ابوعامر ہوزنی کا بیان ہے کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: خبردار! تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: خبردار! تم سے پہلے اہل کتاب بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور یہ ملت تہتر (73) فرقوں میں تقسیم ہو گی، بہتر (72) آگ میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور یہی «الْجَمَاعَةُ» الجماعت ہو گا۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایتوں میں مزید کہا: بلاشبہ میری امت میں سے کچھ قومیں نکلیں گی، ان میں یہ «الْأَهْوَاءُ» اہواء (من پسند نظریات اور اعمال کو دین میں داخل کرنا) ایسے سرایت کر جائیں گی جیسے کہ باؤلے پن کی بیماری اپنے بیمار میں سرایت کر جاتی ہے۔ حضرت عمرو نے کہا: باؤلے پن کے بیمار کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ باقی نہیں رہتا جس میں اس بیماری کا اثر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/102)، سنن الدارمی/السیر 75 (2560) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس طرح کتے کا زہر رگ و ریشہ میں سرایت کر جاتا ہے، اسی طرح بدعتیں ان کے رگ و ریشہ میں سما جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب النَّهْىِ عَنِ الْجِدَالِ، وَاتِّبَاعِ، مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن میں جھگڑنا اور متشابہ آیات کے چکر میں پڑنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4598
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّسْتُرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ إِلَى أُولُو الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 7، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» سے لے کر «أولو الألباب» ۱؎ تک تلاوت کی اور فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہوں تو جان لو کہ یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے تو ان سے بچو ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4598]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ... أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 7] (اللہ) وہ ذات ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی، جس میں بعض آیتیں محکم (واضح) ہیں جو اس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری آیتیں متشابہات (غیر واضح) ہیں، تو جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان میں سے انہی آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ (غیر واضح) ہیں، ان کا مقصد محض فتنے اور تاویل کی تلاش ہوتا ہے، حالانکہ اللہ کے سوا کوئی بھی ان کی تاویل نہیں جانتا، اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان (متشابہات) پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت وہی لوگ پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہوں تو یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے «فَاحْذَرُوهُمْ» ان سے ڈرتے اور بچتے رہو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر آل عمران 1 (4547)، صحیح مسلم/العلم 1 (2665)، سنن الترمذی/تفسیر آل عمران 4 (2993)، (تحفة الأشراف: 17460)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (47)، مسند احمد (6/48)، سنن الدارمی/المقدمة 19 (147) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت ۱؎: پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے: اللہ ہی ہے جس نے تجھ پر وہ کتاب اتاری جس میں واضح و مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض متشابہ آیتیں ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ محکم کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگ جاتے ہیں فتنہ پروری کی طلب میں اور اس کی حقیقی مراد معلوم کرنے کے لئے، حالانکہ اس کی حقیقی مراد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، پختہ علم والے تو یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لاچکے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں (سورۃ آل عمران:۷)
۲؎: محکم آیات کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگنا تمام بدعتیوں کی عادت ہے، وہ قدیم ہوں یا جدید ان سے دور رہنے کا حکم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4547) صحيح مسلم (2665)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب مُجَانَبَةِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ
باب: بدعتیوں اور ہوا پرستوں کی صحبت سے بچنے اور ان سے بغض و نفرت رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4599
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل عمل اللہ کے واسطے محبت کرنا اور اللہ ہی کے واسطے دشمنی رکھنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4599]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال میں سے افضل عمل اللہ کے لیے محبت کرنا اور اسی کے لیے بغض رکھنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12009)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/146) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد ضعيف والرجل : مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4600
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ /a>،" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، وَذَكَرَ ابْنُ السَّرْحِ قِصَّةَ تَخَلُّفِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ: وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةَ، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، ثُمَّ سَاقَ خَبَرَ تَنْزِيلِ تَوْبَتِهِ".
عبداللہ بن کعب سے روایت ہے (جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے) وہ کہتے ہیں: میں نے کعب بن مالک سے سنا (ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہو گیا تو میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر راوی نے ان کی توبہ کے نازل ہونے کا قصہ بیان کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4600]
جناب عبداللہ اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد ہوا کرتے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (اپنے والد) سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا اور ابن سرح نے ان کے غزوۃ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا قصہ بیان کیا، کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے بات چیت سے منع فرما دیا۔ حتیٰ کہ جب یہ صورت حال مجھ پر بہت طویل (اور گراں) ہو گئی تو میں نے ابوقتادہ کے باغ کی دیوار چڑھ کر اس سے بات کی، وہ میرے چچا کا بیٹا تھا، میں نے سلام کیا تو اللہ کی قسم! اس نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر (ابن سرح نے) ان کی توبہ نازل ہونے کی خبر بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2202)، (تحفة الأشراف: 11131) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے پتا چلا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے بات چیت کرنے سے منع فرما دیتے اس سے وہ ہرگز بات چیت نہیں کرتے تھے چاہے وہ عزیز و قریب دوست و رفیق ہی کیوں نہ ہو، اہل بدعت و اہل ہوس سے دور رہنے اور ان سے بغض رکھنے کا حکم ہے، تمام مسلمانوں کو اس کا خیال کرنا چاہئے تاکہ ان کے فتنوں سے خود محفوظ رہیں، اور اپنے معاشرے کو محفوظ رکہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4676) صحيح مسلم (2769)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب تَرْكِ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الأَهْوَاءِ
باب: اہل بدعت کو سلام نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے (ہاتھوں پر) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4601]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس پہنچا اور حالت یہ تھی کہ میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے۔ تو انہوں نے مجھے (میرے ہاتھوں پر) زعفران لگا دیا۔ صبح کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4176)، (تحفة الأشراف: 10372) (حسن)» ‏‏‏‏ (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عطاء خراسانی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثان السابقان (225،4176)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4602
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّهُ اعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ: أَعْطِيهَا بَعِيرًا، فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَهَا ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ وَبَعْضَ صَفَرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے فرمایا: تم اسے ایک اونٹ دے دو وہ بولیں: میں اس یہودن کو دے دوں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے چند دنوں تک ان سے بات چیت ترک رکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4602]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک زائد سواری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: اونٹ اسے دے دو۔ تو انہوں نے کہا: بھلا میں اس یہودن کو دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہو گئے اور ذوالحجہ، محرم اور صفر کے کچھ دنوں تک ان سے بات چیت نہ کی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17845)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/132، 261، 338) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی راویہ سمیہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5049)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب النَّهْىِ عَنِ الْجِدَالِ، فِي الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے بارے میں جھگڑنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4603
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کے بارے میں جھگڑنا کفر ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4603]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/424، 503) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد کیا ہے؟ اس بارے میں متعدد اقوال ہیں: (۱) قرآن کے قدیم یا محدث ہونے میں بحث کرنا مراد ہے، (۲) متشابہ آیات کے بارے میں حقیقت تک پہنچنے میں بحث و مناظرہ کرنا مراد ہے، (۳) قرآن کی مختلف قراءتوں کے بارے میں اختلاف کرنا، کسی حرف کو ثابت کرنا اور کسی کا انکار کرنا وغیرہ مراد ہے، (۴) تقدیر وغیرہ کے سلسلہ میں جو آیات وارد ہیں اس میں بحث کرنا مراد ہے، ان تمام صورتوں میں بحث اکثر اس حد تک پہنچتی ہے کہ اس سے قرآن کے الفاظ و معانی کا انکار لازم آتا ہے جو کفر ہے، أعاذنا اللہ منہ۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (236)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ
باب: سنت کی پیروی ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4604
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ، يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ، إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے ۱؎: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4604]
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔ عنقریب ایسے ہو گا کہ ایک پیٹ بھرا (آسودہ حال) آدمی اپنے تخت یا دیوان پر بیٹھا کہے گا کہ اسی قرآن کو اختیار کر لو، جو اس میں حلال ہے اسے حلال جانو اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام سمجھو۔ خبردار! تمہارے لیے پالتو گدھے، نیش دار درندے اور کسی ذمی (کافر) کا گرا پڑا مال اٹھا لینا حلال نہیں، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے بے پروا ہو۔ اور جو کوئی کسی قوم کے پاس جائے تو ان پر واجب ہے کہ اس کی مہمانی کریں، اگر وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو اسے حق حاصل ہے کہ اپنی مہمانی کے مثل ان سے بذریعہ طاقت حاصل کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11570)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم 10 (2664)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (12)، مسند احمد (4/130) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ پیش گوئی منکرین حدیث کے سرغنہ عبداللہ چکڑالوی پر صادق آتی ہے، مولانا نورالدین کشمیری (صدر جمعیت اہل حدیث کشمیر) جب اس سے مناظرہ کرنے لاہور میں اس کے گھر پہنچے تو وہ مولانا سے انکار حدیث پر اس حال میں بحث کر رہا تھا کہ وہ اپنی چارپائی پر ٹیک لگائے ہوئے لیٹا تھا (مولانا مرحوم کا خود نوشت بیان، شائع شدہ اخبار تنظیم اہل حدیث کراچی)۔
۲؎: ضیافت اسلامی معاشرہ میں ایک نہایت ہی نیک عمل ہے اگر میزبان مہمان کی مہمانی نہ کرے تو اس کو مہمانی کے بقدر وصول کرنا ابتداء اسلام میں تھا بعد میں اس پر عمل نہ رہا، گری پڑی چیز ذمی کی ہو یا مسلمان کی اگر اس کا مالک اس کو چھوڑ دے اور اس سے مستغنی ہو جائے تو دوسرے کو لے لینا جائز ہے، ورنہ نہیں، اس حدیث میں صاف طور پر موجود ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کرنا ضروری نہیں بلکہ قرآن کی طرح حدیث بھی مستقل حجت ہے، حدیث کو قرآن پر پیش کرنے سے متعلق جو حدیث بیان کی جاتی ہے کذب محض ہے، زنادقہ نے اس کو گھڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (163)
تقدم طرفه (3804)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4605
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا نَدْرِي، مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ".
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے پاس میرے احکام اور فیصلوں میں سے کوئی حکم آئے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا جن سے روکا ہے اور وہ یہ کہے: یہ ہم نہیں جانتے، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو کچھ پایا بس اسی کی پیروی کی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4605]
جناب عبیداللہ اپنے والد سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز ایسا نہ ہو کہ میں تم میں سے کسی کو پاؤں کہ وہ اپنے تخت یا دیوان پر بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرے احکام میں سے کوئی حکم پہنچے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا اس سے منع کیا ہو تو وہ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے، ہم تو کتاب اللہ میں جو پائیں گے، اسی پر عمل کریں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/العلم 10 (2661)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (13)، (تحفة الأشراف: 12019)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/8) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک زندہ معجزہ ہے، اور حدیث کی صداقت کا زندہ ثبوت ہے آج بعض منکرین حدیث اہل قرآن کے نام سے وہی کچھ کر رہے ہیں جن کی خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی (دیکھئے حاشیہ حدیث نمبر: ۴۶۰۴)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (162)
أخرجه الترمذي (2663 وسنده صحيح) سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (551 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں