سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: فَضَائِلِ بِلاَلٍ
باب: بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ شَاعِرًا مَدَحَ بِلَالَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " كَذَبْتَ لَا، بَلْ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ".
سالم سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے بلال بن عبداللہ کی مدح سرائی کی، اور مصرعہ کہا: ” «بلال بن عبد الله خير بلال» بلال بن عبداللہ بلالوں میں سب سے بہتر ہیں“، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو، ایسا نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال بلالوں میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 152]
حضرت سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے، کسی شاعر نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے بلال رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہہ دیا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے بلال ہر بلال سے اچھے ہیں۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو جھوٹ کہتا ہے، نہیں، بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال رضی اللہ عنہ ہر بلال سے اچھے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6781، ومصباح الزجاجة: 59) (ضعیف)» (عمر بن حمزہ ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: بلال بن عبداللہ سے مراد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے بلال ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح: عمر بن حمزه: حسن الحديث وثقه الجمھور
مشكوة المصابيح: عمر بن حمزه: حسن الحديث وثقه الجمھور
27. بَابُ: فَضَائِلِ خَبَّابٍ
باب: خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ:" ادْنُ فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلَّا عَمَّارٌ، فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ 2".
ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے قریب بیٹھو، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار رضی اللہ عنہ کے، پھر خباب رضی اللہ عنہ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 153]
حضرت ابو لیلیٰ کندی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: ”قریب آکر بیٹھو، اس جگہ بیٹھنے کا حق آپ سے زیادہ کسی کو نہیں، سوائے عمار رضی اللہ عنہ کے۔“ پھر حضرت خباب رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشرکین کی اذیتوں کے نتیجے میں کمر پر پڑ جانے والے نشانات دکھانے لگے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3523، ومصباح الزجاجة: 58) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب فضل و کمال کو مجلس میں ممتاز مقام پر رکھنا چاہیے، عمر رضی اللہ عنہ افاضل صحابہ کو اپنے پاس جگہ دیتے تھے، عمار رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائی تھیں اس لئے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی یاد کیا، اور معلوم ہوا کہ کسی کی تعریف اس کے سامنے اگر اس سے خود پسندی اور عجب کا ڈر نہ ہو تو جائز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اس اعتبار سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں ہیں، جیسے خباب رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم کے نشان دکھائے کہ جو ایک نعمت الٰہی تھی، اور جو اللہ کے نزدیک بلندی درجات کا سبب ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن وشيخه حسن الحديث
وللحديث شواھد ضعيفة عند ابن سعد (3/ 165) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن وشيخه حسن الحديث
وللحديث شواھد ضعيفة عند ابن سعد (3/ 165) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ"،
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں، سب سے بہتر قاری ابی بن کعب ہیں، سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں، اور سب سے زیادہ فرائض (میراث تقسیم) کے جاننے والے زید بن ثابت ہیں، سنو! ہر امت کا ایک امین ہوا کرتا ہے، اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 154]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں، امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، اور اللہ کے دین میں سب سے سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ سب سے زیادہ سچی حیا والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والے علی رضی اللہ عنہ ہیں، اللہ کی کتاب کے زیادہ عالم ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، حلال و حرام کا زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں اور علم میراث کے زیادہ ماہر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔ سنو! ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین (دیانت دار فرد) ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 33 (3791)، (تحفة الأشراف: 952)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 21 (3744)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 7 (2419)، مسند احمد (3/184، 281) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ان آٹھوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت معلوم ہوئی، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر ایک میں قابل تعریف صفات موجود تھیں، مگر بعض کمالات ہر ایک میں بدرجہ أتم موجود تھے، اگرچہ وہ صفتیں اوروں میں بھی تھیں، اس لئے ہر ایک کو ایک صفت سے جو اس میں بدرجہ کمال موجود تھی یاد فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، مِثْلَهُ عِنْدَ ابْنِ قُدَامَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ فِي حَقِّ زَيْدٍ:" وَأَعْلَمُهُمْ بِالْفَرَائِضِ".
ابوقلابہ سے ابن قدامہ کے نزدیک اسی کے مثل مروی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حق میں: «أفرضهم» کے بجائے «أعلمهم بالفرائض» ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 155]
دوسری سند سے اسی حدیث میں یہ الفاظ ہیں ”فرائض (وارثوں کے حصوں) کا زیادہ علم رکھنے والے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
28. بَابُ: فَضْلِ أَبِي ذَرٍّ
باب: ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ، وَلَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 156]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر بات میں سچا آدمی نہ زمین نے اٹھایا، نہ آسمان نے اس پر سایہ کیا۔“” [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 36 (3801)، (تحفة الأشراف: 8957)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 163، 175، 223) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
29. بَابُ: فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ
باب: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ فَقَالُوا لَهُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا تحفہ میں پیش کیا گیا، لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ تمہارے لیے تعجب انگیز ہے؟“، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں بہتر ہوں گے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 157]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی کپڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا۔ حاضرین اسے ہاتھ میں لے لے کر دیکھنے لگے (کہ کتنا عمدہ ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3249)، مناقب الأنصار 12 (3802)، اللباس 26 (5836) الأیمان والنذور 3 (6640)، (تحفة الأشراف: 1861)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2468)، سنن الترمذی/المناقب 51 (3847)، مسند احمد (2/257، 398) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے کئی باتیں ثابت ہوئیں: ۱۔ ہدیہ لینا سنت ہے چاہے ہدیہ دینے والا مشرک و کافر ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار و مشرکین کے ہدایا و تحائف قبول فرمائے۔ ۲۔ جنت میں رومال بھی ہوں گے۔ ۳۔ سعد رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارت۔ ۴۔ جنت کی ادنیٰ چیز بھی دنیا کی اعلیٰ چیزوں سے بلکہ ساری دنیا سے افضل اور بہتر ہے، اور کیوں کر نہ ہو کہ وہ باقی رہنے والی ہے، اور دنیا کی یہ چیزیں فانی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 158
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد بن معاذ کی موت کے وقت رحمن کا عرش جھوم اٹھا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 158]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر رحمن کا عرش جھوم اٹھا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 12 (3803)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2466)، (تحفة الأشراف: 2293)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 51 (3848)، مسند احمد (3/234، 296، 316) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب ان کی پاکیزہ روح وہاں پہنچی تو خوشی کے سبب سے عرش حرکت میں آ گیا، یا اس سے کنایہ ہے رب العرش کے خوش ہونے کا، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روحیں عرش تک جاتی ہیں، اس لئے کہ اللہ رب العزت کا دربار خاص وہیں لگتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
30. بَابُ: فَضْلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 159
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا".
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا میرے روبرو مسکرائے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹک نہیں پاتا (گر جاتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پہ مارا اور دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس کو ثابت رکھ اور اسے ہدایت کنندہ اور ہدایت یافتہ بنا دے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 159]
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب سے میں نے اسلام قبول کیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حاضر خدمت ہونے سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا، میرے روبرو مسکرائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! اسے ثابت قدمی نصیب فرما اور اسے ہدایت دینے والا، ہدایت یافتہ بنا دے۔““ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 154 (3035)، الأدب 68 (6089)، مناقب الأنصار 21 (3822)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 29 (2475)، سنن الترمذی/ المناقب 42 (3820)، (تحفة الأشراف: 3224)، مسند احمد (4/358، 359، 362، 365) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جریر رضی اللہ عنہ دراز قد، خوبصورت اور حسین و جمیل تھے، عمر رضی اللہ عنہ ان کو اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
31. بَابُ: فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ
باب: اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ"، قَالُوا: خِيَارَنَا، قَالَ:" كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُ الْمَلَائِكَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی اور فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ اپنے میں شرکائے بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں، اس فرشتہ نے کہا: اسی طرح ہمارے نزدیک وہ (شرکائے بدر) سب سے بہتر ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 160]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت جبریل علیہ السلام، یا فرمایا: ایک فرشتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”تم میں سے جو لوگ جنگ بدر میں شریک ہوئے، تم لوگ انہیں کیا مقام دیتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم انہیں اپنے میں افضل شمار کرتے ہیں۔“ فرشتے نے کہا: ”اسی طرح ہماری نظر میں وہ (فرشتے جو جنگ بدر میں شریک ہوئے دوسرے) فرشتوں میں افضل ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3565، ومصباح الزجاجة: 60)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465) (صحیح)» (اس حدیث کو امام بخاری نے (7/311) بطریق «یحییٰ بن سعید عن معاذ بن رفاعہ عن أبیہ» ذکر کیا ہے، یہ نقل کرنے کے بعد بوصیری کہتے ہیں کہ اگر یہ یعنی سند ابن ماجہ محفوظ ہے تو یہ جائز ہے کہ یحییٰ بن سعید کے اس حدیث میں دو شیخ ہیں، اور سب ثقہ ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے غزوہ بدر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس لئے کہ شرکاء بدر انسان ہی نہیں بلکہ فرشتوں میں بھی سب سے افضل اور بہتر لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں صرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 161]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھیوں کو برا بھلا مت کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دے، تو ان کے ایک مد، بلکہ آدھے مد تک نہیں پہنچ سکتا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3673)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 54 (2541)، سنن ابی داود/السنة 11 (4658)، سنن الترمذی/المناقب 59 (3861)، (تحفة الأشراف: 4001، 12536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/11، 45، 55، 63) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مُدّ : ایک معروف پیمانہ ہے جو اہل حجاز کے نزدیک ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، یہ صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، مد کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس (۶۲۵) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم