🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ: فَضْلِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ ، قَالَ:" لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ".
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 123]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ احد کے دن میرے لیے اپنے والدین کو جمع (ذکر) فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 13 (3720)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2416)، سنن الترمذی/المناقب 23 (3743)، (تحفة الأشراف: 3622)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/164، 166) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوہ احزاب خندق کا ہے، اس لئے احد کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔ ۲؎: یعنی کہا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں، یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی رضی اللہ عنہ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آ رہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنْ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172: أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ".
عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا (ابوبکر) اور والد (زبیر) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا (سورة آل عمران: 172)، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 124]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: عروہ! تمہارے والد اور نانا ان لوگوں میں شامل ہیں، ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [سورة آل عمران: 172] جنہوں نے زخمی ہونے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل کی، یعنی ابوبکر اور زبیر رضی اللہ عنہما۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16939)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 16 (4077)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2418)، مسند احمد (1/164، 166) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پوری آیت یوں ہے:  «الذين استجابوا لله والرسول من بعد مآ أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» یعنی: جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیز گار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے (سورة آل عمران: 172)۔ اس آیت کا شان نزول امام بغوی نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم و شرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمد کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کر دیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی، اور ابوسفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ساتھ غزوہ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابوعبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل (۱۹ کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی رحمہ اللہ نے یہی روایت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا،غرض وہ وہاں سے ابوسفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کی خبر دی، ابوسفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہو گئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: فَضْلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ طَلْحَةَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ".
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 125]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہے جو زمین پر چل رہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 22 (3739)، (تحفة الأشراف: 3103) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 126)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
سنن الترمذي (3739)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ، فَقَالَ:" هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 126]
حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا: یہ ان میں سے ہے جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 34 (3202)، المناقب 22 (3740)، (تحفة الأشراف: 11445) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[126۔127] إسناده ضعيف
ترمذي (3202)
قلت: و حديث الترمذي (الأصل: 3203 وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 127]
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: طلحہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پوری آیت یوں ہے:  «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» یعنی مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچ کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا، اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی (سورة الأحزاب: 23)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
۔127] إسناده ضعيف
ترمذي (3202)
قلت: و حديث الترمذي (الأصل: 3203 وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ".
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل (بیکار) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 128]
حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا، انہوں نے جنگِ اُحد میں اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ فضائل أصحاب 14 (3724)، المغازي 18 (4063)، (تحفة الأشراف: 5007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ:" ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 129]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے سوا کسی صحابی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماں باپ قربان ہونے کے الفاظ نہیں سنے۔ صرف انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے موقع پر فرمایا تھا: سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 80 (2905)، الأدب 103 (6184)، المغازي 18 (4058، 4059)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2411)، سنن الترمذی/المناقب 27 (3755)، (تحفة الأشراف: 10190)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/92، 124، 137، 158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ فضیلت غزوہ احزاب کے موقع پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، اور حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے جو بیان کی وہ ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۱۲۳)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ:" ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 130]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جنگِ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کا نام لیا، یعنی یوں فرمایا: اے سعد! «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل أصحاب النبي ﷺ 15 (3725)، المغازي 18 (4055، 4056، 4057)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2411، 2412)، سنن الترمذی/الأدب 61 (2830)، المناقب 27 (3754)، (تحفة الأشراف: 3857)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/174، 180) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَخَالِي يَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ:" إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں پہلا عربی شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 131]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 15 (3728)، الرقاق 17 (6453)، صحیح مسلم/الزھد 12 (2966)، سنن الترمذی/الزھد 39 (2365)، (تحفة الأشراف: 3913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/174، 181، 186)، سنن الدارمی/الفرائض 2 (2902) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولَ، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ :" مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے اسلام نہ قبول کیا تھا، اور میں (ابتدائی عہد میں) سات دن تک مسلمانوں کا تیسرا شخص تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 132]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس دن میں نے اسلام قبول کیا، اس دن کسی اور شخص نے اسلام قبول نہیں کیا۔ سات دن تک میں مسلمانوں کی تعداد کا ایک تہائی رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 132]
وضاحت: ۱؎: یعنی سات دن تک کوئی اور مسلمان نہ ہوا، یعنی میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اسلام لانے میں پہل کی، یہ بات ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں