🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشَبِيُّ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! عمر کے قبول اسلام سے آسمان والے بہت ہی خوش ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 103]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! عمر کے اسلام لانے سے آسمان والے (فرشتے) بھی خوش ہو گئے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6417، ومصباح الزجاجة: 39) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن خراش منکر الحدیث بلکہ بعضوں کے نزدیک کذاب ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن خراش: ضعفه الجمهور و قال الھيثمي: و ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 25/4)
و قال الحافظ ابن حجر: ضعيف و أطلق عليه ابن عمار الكذب (تقريب: 3293)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ، وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 104]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے جس شخص سے مصافحہ کرے گا اور سب سے پہلے جسے سلام کہے گا اور جسے سب سے پہلے ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کرے گا وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 24، ومصباح الزجاجة: 40) (منکر جدًا)» ‏‏‏‏ (داود بن عطاء المدینی ضعیف ہیں، اور منکر الحدیث ہیں اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
داود بن عطاء: ضعيف (تقريب: 1801) والسند ضعفه البوصيري
وقال في داود بن عطاء: ’’ قد اتفقوا علي ضعفه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 105]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً» اے اللہ! اسلام کو خاص طور پر عمر بن خطاب کے ذریعے سے قوت بخش۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17244، ومصباح الزجاجة: 42) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں زنجی بن خالد منکر الحدیث صاحب أوھام راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، حدیث میں «خاصة» کا لفظ متابعت یا شاہد کے نہ ملنے سے ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 6036، وصحیح السیرة النبویة)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله خاصة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم بن خالد الزنجي: ضعيف،ضعفه النسائي (الضعفاء: 569) والجمھور وقال البخاري: ’’ منكر الحديث‘‘ (كتاب الضعفاء بتحقيقي: 352)
وانظر ضعيف سنن أبي داود (3510)
وللحديث شاھد معلول عندالحاكم (3/ 83 ح 4485)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُول:" خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبُو بَكْرٍ، وَخَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ".
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 106]
حضرت عبداللہ بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل انسان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل انسان عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10189، ومصباح الزجاجة: 41)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3671)، سنن ابی داود/السنة 8 (4629) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، فَقَالَتْ: لِعُمَرَ، فَذَكَرْتَ غَيْرَتَهُ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" فَبَكَى عُمَرُ، فَقَالَ: أَعَلَيْكَ بِأَبِي، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا، پھر اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے کہا: عمر کا (مجھے عمر کی غیرت یاد آ گئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس ہو گیا)۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 107]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: میں سو رہا تھا، میں نے (خواب میں) اپنے آپ کو جنت میں دیکھا، (وہاں) مجھے ایک محل کے پاس ایک عورت وضو کرتی نظر آئی۔ میں نے کہا: یہ محل کس کا ہے؟ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ مجھے ان کی غیرت یاد آگئی، اس لیے میں (محل کے اندر جانے کے بجائے) واپس آگیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ (یہ سن کر) رو پڑے اور بولے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں آپ سے غیرت کر سکتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3242)، فضائل أصحاب النبي ﷺ 6 (3680)، التعبیر 32 (7025)، (تحفة الأشراف: 13214)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2395)، مسند احمد (2/339) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وضو نظافت اور لطافت کے لئے تھا، نہ کہ رفع حدث اور طہارت کے لئے کیونکہ جنت شرعی امور و اعمال کے ادا کرنے کی جگہ نہیں ہے، اور اس حدیث سے عمر رضی اللہ عنہ کا جنتی ہونا ثابت ہوا، اور انبیاء کا خواب وحی ہے، خواب و خیال نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ حق ہی بولتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 108]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ اسی کے مطابق بات کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الخراج والإمارة 18 (2962)، (تحفة الأشراف: 11973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/145، 165، 177) (صحیح) (تراجع الا ٔلبانی، رقم: 507)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق (ساتھی) ہے، اور میرے رفیق (ساتھی) اس میں عثمان بن عفان ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 109]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک ساتھی ہوتا ہے اور وہاں میرا ساتھی عثمان بن عفان ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13790، ومصباح الزجاجة: 43) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عثمان بن خالد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: 2291)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عثمان بن خالد العثماني: متروك الحديث (تقريب: 4464)
فالسند ضعيف جدًا
وللحديث شاهد ضعيف عندالترمذي (3698)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِى الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ" هَذَا جِبْرِيلُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے (رقیہ کو) رکھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 110]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: عثمان! یہ جبریل علیہ السلام ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے رقیہ رضی اللہ عنہا کے مہر کے برابر مہر پر کر دیا ہے، اس شرط پر کہ ان سے بھی اسی طرح حسن سلوک کرو جس طرح رقیہ رضی اللہ عنہا سے کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13789، ومصباح الزجاجة: 44) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں بھی عثمان بن خالد ضعیف راوی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ گذشتہ حدیث (109) میں گزرا)
وضاحت: ۱؎: ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں تھیں، اور پہلے دونوں ابولہب کے دونوں بیٹے عتبہ اور ربیعہ کے نکاح میں تھیں، دخول سے پہلے ہی ابولہب نے اپنے دونوں لڑکوں کو کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکیوں کو طلاق دے دو، تو انہوں نے طلاق دے دی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک کی شادی عثمان رضی اللہ عنہ سے کی، پھر ان کے انتقال کے بعد دوسری کی شادی بھی انہی سے کر دی، اس لئے ان کا لقب ذوالنورین ہوا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (109)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى"، فَوَثَبْتُ، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 111]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ بہت قریب ہے۔ (اسی اثنا میں) ایک صاحب گزرے جنہوں نے سر پر چادر لی ہوئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (فتنے کے) دن یہ شخص ہدایت پر ہوگا۔ میں جلدی سے اٹھا، عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا یہ شخص؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں) یہی شخص۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11117، ومصباح الزجاجة: 45)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب 19 (3704)، مسند احمد (4/ 235، 236، 242، 243) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ابن سیرین اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن مرة بن کعب کی ترمذی کی حدیث نمبر (3704) کے شاہد سے یہ صحیح ہے، جس کی تصحیح امام ترمذی نے کی ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والے، اور فتنہ کھڑا کرنے والے حق پر نہ تھے، اور عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 112
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُثْمَانُ إِنْ وَلَّاكَ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلَا تَخْلَعْهُ"، يَقُولُ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ وَاللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلا دی گئی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 112]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کسی دن تجھے خلافت کی ذمہ داری بخشے، پھر منافق تجھ سے وہ قمیص اتروانا چاہیں جو اللہ نے تجھے پہنائی ہو، تو اسے مت اتارنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہی بات فرمائی۔ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نے لوگوں کو یہ حدیث کیوں نہیں سنائی تھی؟ انہوں نے کہا: میں اسے بھلا دی گئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17675، ومصباح الزجاجة: 46)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 19 (3705)، مسند احمد (6/149) (صحیح) (امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو: 3/264)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مسند احمد (6/ 86، 87 ح 24566 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں