🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ: فَضَائِلِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
باب: عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْل ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَقَالَ:" أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ"، فَقِيلَ لَهُ: مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ:" أَنَا".
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 133]
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس افراد کی ایک مجلس میں دسویں فرد کی حیثیت سے تشریف فرما تھے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو صحابہ تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، عبدالرحمن جنتی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا: (آپ نے آٹھ افراد کے نام لیے ہیں) نویں صاحب کون ہیں؟ فرمایا: میں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/السنة 9 (4650)، (تحفة الأشراف: 4455)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب 26 (3748)، 28 (3757)، مسند احمد (1/ 187) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اور آگے کی حدیث (جس میں مذکور ہے کہ دسویں آدمی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں) میں کوئی تعارض نہیں، اس لئے کہ یہ دونوں الگ الگ مجلس کی حدیثیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اثْبُتْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ٹھہر، اے حرا! ۱؎ (وہ لرزنے لگا تھا) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام گنوائے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 134]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: حراء (پہاڑ)! ٹھہر جا، تجھ پر صرف نبی، صدیق اور شہید ہیں۔راوی نے ان حضرات کو شمار کیا (جو پہاڑ پر تھے، اور کہا): اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/السنة 9 (4648)، سنن الترمذی/المناقب 26 (3747)، 28 (3757)، (تحفة الأشراف: 4458)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 188، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «حرا» مکہ میں ا یک پہاڑ کانام ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اور جو فرمایا وہ ہو کر رہا، سوائے سعد رضی اللہ عنہ کے جن کا انتقال اپنے قصر میں ہوا، یا یہ کہ ان کا انتقال کسی ایسے مرض میں ہوا جس سے وہ شہادت کا درجہ پا گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تغلیبا سب کو شہید کہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: فَضْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ:" سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ،" فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ".
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو انتہائی درجہ امانت دار ہے، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس امین شخص کی جانب گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 135]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران والوں سے کہا: میں تمہارے ساتھ ایک دیانت دار آدمی بھیجوں گا، جو کما حقہ دیانت دار ہے۔ لوگوں کو جستجو ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 21 (3745)، المغازي 73 (4380)، أخبار الأحاد 1 (7254)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 7 (2420)، سنن الترمذی/المناقب 33 (3796)، (تحفة الأشراف: 3350)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/414، 4/90، 5/ 385، 398، 440، 401) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 136]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ اس امت کا دیانت دار آدمی ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9316)، مسند احمد (1/18، 414، 2/125، وانظر ما قبلہ) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو مقرر کرتا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 137]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو خلیفہ مقرر کرتا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 38 (3808، 3809)، (تحفة الأشراف: 10045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/76، 95، 107، 108) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حارث ضعیف اور متہم بالرفض ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2327)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3808،3809)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 138
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کی قراءت کے مطابق پڑھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 138]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خوشخبری دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو اس طرح تروتازہ پڑھنا چاہتا ہے جس طرح وہ نازل ہوا، اسے چاہیے کہ ابنِ اُمِّ عبد (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی قراءت کے مطابق پڑھے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/7، 26، 38) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان کا طرز قراءت بھی معلوم ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اذن (گھر میں آنے کے لیے) یہی ہے کہ پردہ اٹھاؤ، اور تم میری رازدارانہ گفتگو بھی سن سکتے ہو، حتیٰ کہ میں منع کر دوں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 6 (2169)، (تحفة الأشراف: 9388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 394، 404) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: فَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَإِذَا رَأَوْا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش کے (کچھ لوگوں کا حال یہ تھا) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کر دیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہو جاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 140]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: قریش کے کچھ لوگ باتیں کر رہے ہوتے، ہم ان سے ملتے (ان کی مجلس میں جا پہنچتے) تو وہ بات چیت ختم کر دیتے۔ ہم نے یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں، پھر جب میرے گھر والوں میں سے کسی شخص کو دیکھتے ہیں تو بات چیت ختم کر دیتے ہیں؟ اللہ کی قسم! کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ ان سے، اللہ کے لیے اور ان سے میری قرابت کا لحاظ رکھتے ہوئے، محبت رکھے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5137، مصباح الزجاجة: 52)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/165) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں اعمش مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، ابوسبرہ نخعی لین الحدیث نیز محمد بن کعب قرظی کی عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کے بارے میں انقطاع و ارسال کی بات بھی کہی گی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4430)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی محبت ایمان کی نشانی ہے، اور محبت ان کی یہی ہے کہ ایمان و عمل میں ان کی روش پر چلا جائے، اور ان کا طریقہ اختیار کیا جائے، رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن كعب عن عباس رضي اللّٰه عنه،يقال: مرسل (تهذيب الكمال 17 / 179)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، فَمَنْزِلِي وَمَنْزِلُ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُجَاهَيْنِ، وَالْعَبَّاسُ بَيْنَنَا مُؤْمِنٌ بَيْنَ خَلِيلَيْنِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا، چنانچہ میرا اور ابراہیم کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہو گا، اور عباس ہم دو خلیلوں کے مابین ایک مومن ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 141]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیل بنایا ہے جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔ قیامت کے دن جنت میں میرا مقام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام دونوں آمنے سامنے ہوں گے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ (ہم دونوں کے) اللہ کے دو خلیلوں کے درمیان ایک مومن ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8914، ومصباح الزجاجة: 53)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/158، 225) (موضوع)» ‏‏‏‏ (سند میں مذکور عبدالوہاب بن ضحاک متہم بالوضع راوی ہے، اس لئے یہ حدیث موضوع ہے، لیکن حدیث کا یہ ٹکڑا «إن الله اتخذني» صحیح ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (93) میں مذکور ہے، نیز تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3034)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
عبد الوهاب بن الضحاك بن أبان: متروك،كذبه أبو حاتم (تقريب: 4257)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
باب: علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نَبَّأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْحَسَنِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ"، قَالَ:" وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے ۱؎۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 142]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ، اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سینے سے لگایا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 49 (2122)، اللباس 60 (5884)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 8 (2421)، (تحفة الأشراف: 14634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/249، 331) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حسن رضی اللہ عنہ سے محبت اور دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جان دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں