🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ: فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
باب: علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْحَجَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 143]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13396، ومصباح الزجاجة: 54)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288، 440، 531) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: محبت ان حضرات کی یہی ہے کہ ان کے احترام کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلا جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَهُنَا وَهَهُنَا وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَخَذَهُ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ:" حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ".
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے، دیکھا تو حسین رضی اللہ عنہ) گلی میں کھیل رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے نکل گئے، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے، حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے، ادھر ادھر بھاگنے لگے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہنسانے لگے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا، اور فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 144]
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام کو کھانے کی دعوت دی گئی تھی۔ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہاں جانے کے لیے روانہ ہوئے، دیکھا تو گلی میں حسین رضی اللہ عنہ کھیل رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں سے آگے بڑھ کر (حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑنے کے لیے) ہاتھ پھیلا دیے۔ وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہنساتے رہے۔ آخر انہیں پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا، اور دوسرا ہاتھ ان کے سر کے پچھلے حصے پر رکھا اور انہیں چوم لیا۔ پھر فرمایا: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین سے محبت کرے، اللہ اس سے محبت کرے اور حسین اسباط میں سے ایک سبط ہیں۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں علی بن محمد نے وکیع سے، انہوں نے سفیان سے سابقہ روایت کی مثل بیان کیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11850، ومصباح الزجاجة: 55)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 31 (3775)، مسند احمد (4/172) (حسن) (تراجع الألباني، رقم: 375)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، نیز کھانے کی دعوت میں جانا، چھوٹے بچوں کا گلی میں کھیلنا، نیز چھوٹے بچوں کو پیار میں ہنسانا مسنون و مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، مِثْلَهُ.
یہ حدیث علی بن محمد سے «وکیع عن سفیان» کے واسطے سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 144M]
قال الشيخ الألباني: حسن

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا: میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 145]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے فرمایا: جس سے تم صلح کرو، میری بھی اس سے صلح ہے اور جس سے تم جنگ کرو، اس سے میری بھی جنگ ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 61 (3870)، (تحفة الأشراف: 3662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/442) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں علی بن المنذر میں تشیع ہے، اسباط بن نصر صددق لیکن کثیر الخطا ٔ ہیں، اور غرائب بیان کرتے ہیں، سدی پر تشیع کا الزام ہے، اور ان کی حدیث میں ضعف ہے، نیز صبیح لین الحدیث ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 6028)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3870)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: فَضْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
باب: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں آنے کی اجازت دو، «طیب و مطیب» پاک و پاکیزہ شخص کو خوش آمدید۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 146]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت چاہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ائْذَنُوا لَهُ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ» اسے اجازت دے دو، اس پاک کیے ہوئے پاک باز کو خوش آمدید۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 35 (3798)، (تحفة الأشراف: 10300)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/99، 100، 123، 126، 130، 137) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ".
ہانی بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «طیب و مطیب» پاک و پاکیزہ کو خوش آمدید، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 147]
ہانی بن ہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: پاک کیے ہوئے پاک باز کو خوش آمدید! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار رضی اللہ عنہ سرتاپا ایمان سے معمور ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10303، ومصباح الزجاجة: 56) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎«مشاش» : ہڈیوں کے جوڑ کو کہتے ہیں، جیسے کہنی یا گھٹنے یا کندھے کا جوڑ، مراد یہ ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کے دل میں ایمان گھر کر گیا ہے، اور وہاں سے ان کے سارے جسم میں ایمان کے انوار و برکات پھیل گئے ہیں، اور رگوں اور ہڈیوں میں سما گئے ہیں، یہاں تک کہ جوڑوں میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا ہے، اور اس میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے کمال ایمان کی شہادت ہے جو عظیم فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي و الأعمش مدلسان وعنعنا
وللحديث شواھد ضعيفة عند النسائي (5010) والحاكم (392/3،393) وغيرهما۔
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ حَبيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَمَّارٌ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار پر جب بھی دو کام پیش کئے گئے تو انہوں نے ان میں سے بہترین کام کا انتخاب کیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 148]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار رضی اللہ عنہ پر جب بھی دو کام پیش کیے گئے تو انہوں نے زیادہ صحیح کام کا انتخاب کیا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 35 (3799)، سنن النسائی/الکبری، المناقب 37 (8276)، (تحفة الأشراف: 17397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/113) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (3799)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: فَضْلِ سَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَالْمِقْدَادِ
باب: سلمان، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ"، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" عَلِيٌّ مِنْهُمْ"، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا:" وَأَبُو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی انہیں لوگوں میں سے ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا)، اور ابوذر، سلمان اور مقداد ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 149]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے چار حضرات سے محبت رکھنے کا حکم دیا، اور مجھے خبر دی ہے کہ وہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمائی۔ پھر فرمایا: اور ابوذر، سلمان اور مقداد رضی اللہ عنہم۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المنا قب 21 (3718)، (تحفة الأشراف: 2008)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/351، 356) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1549)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: فَضَائِلِ بِلاَلٍ
باب: بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالًا فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَخَذُوهُ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے پہل جن لوگوں نے اپنا اسلام ظاہر کیا وہ سات افراد تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد (رضی اللہ عنہم)، رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایذا رسانیوں سے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ آپ کو بچایا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم کے سبب محفوظ رکھا، رہے باقی لوگ تو ان کو مشرکین نے پکڑا اور لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، چنانچہ ان میں سے ہر ایک سے مشرکین نے جو کہلوایا بظاہر کہہ دیا، سوائے بلال کے، اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی جان کو حقیر سمجھا، اور ان کی قوم نے بھی ان کو حقیر جانا، چنانچہ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر بچوں کے حوالہ کر دیا، وہ ان کو مکہ کی گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور وہ «اَحَد، اَحَد» کہتے (یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 150]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے سات حضرات ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد رضی اللہ عنہم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے (مشرکین کی اذیتوں سے) محفوظ رکھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا، باقی جو حضرات تھے انہیں مشرکوں نے پکڑ لیا، انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، چنانچہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے (جان بچانے کے لیے زبان سے) مشرکین کے مطلب کی بات نہ کہہ دی ہو، سوائے بلال رضی اللہ عنہ کے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کی پروا نہ کی اور ان کی قوم کی نظر میں بھی ان کی کوئی قدر نہ تھی (اس لیے کوئی ان کی حمایت میں نہیں بولتا تھا)، کافروں نے انہیں پکڑ کر بچوں کے حوالے کر دیا۔ وہ انہیں مکہ کی گھاٹیوں میں لیے (گھسیٹتے) پھرتے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہتے تھے: «أَحَدٌ أَحَدٌ» اللہ ایک ہے، ایک ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9224، ومصباح الزجاجة: 57)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/404) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان چھ سابق الایمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی استقامت اور دین کی خاطر ان کی عزیمت لائق اتباع ہے، ان میں بلال رضی اللہ عنہ کی عزیمت سب سے اعلی و ارفع ہے، جان کے خطرے کے وقت دین پر دلی اطمینان کی صورت میں کفر کا اظہار جائز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  «إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان» سوائے اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو (النحل: 106) جس کی نظر میں اللہ کی عظمت و شان ہوتی ہے، اس کے دل میں موجودات عالم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی حتی کہ اپنی جان بھی حقیر نظر آتی ہے، بلال رضی اللہ عنہ کی حالت یہی تھی رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا وَارَى إِبِطُ بِلَالٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اتنی کسی کو نہ دی گئیں ہوں گی، اور میں اللہ کی راہ میں اس قدر ڈرایا گیا کہ اتنا کوئی نہیں ڈرایا گیا ہو گا، اور مجھ پہ مسلسل تین ایام ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کوئی چیز کھانے کی نہ تھی جسے کوئی ذی روح کھاتا سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں چھپا ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 151]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ کی راہ میں تکلیفیں دی گئیں جب کسی اور کو تکلیفیں نہیں دی جاتی تھیں، اور مجھے اللہ کی راہ میں خوف زدہ کیا گیا جب کسی اور کو ڈرایا دھمکایا نہیں جاتا تھا۔ بعض اوقات مجھ پر تیسری رات بھی اس حال میں آجاتی تھی کہ میرے لیے اور بلال رضی اللہ عنہ کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی جسے کوئی ذی روح کھا سکے، مگر اتنی سی مقدار میں کہ جسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی بغل چھپا لے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 34 (2472)، (تحفة الأشراف: 341)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/120، 286) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں