سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:" وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلَا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ، وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّر"، قَالَ قَيْسٌ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ، قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: ”میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 113]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (آخری) بیماری کے دوران میں فرمایا: ”میرا جی چاہتا ہے کہ میرے پاس میرا ایک صحابی ہو۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ فرمایا: ”ہاں۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تنہائی میں گفتگو فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے اور عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوتے جاتے تھے۔ حضرت قیس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابوسہلہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محاصرہ کے ایام میں فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔“ حضرت علی (بن محمد) رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں کہا: ”میں صبر کرتے ہوئے اس پر قائم ہوں۔“ حضرت قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب لوگ (صحابہ و تابعین) کا خیال ہے کہ اس حدیث میں محاصرہ والے دن کی طرف اشارہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17569، ومصباح الزجاجة: 47)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 19 (3711)، مسند احمد (1/58، 69، 5/290، 6/ 214)، مقتصراً علی ما رواہ قیس عن أبي سہلة فقط (صحیح)» (نیز ملاحظہ ہو: تعلیق الشہری علی الحدیث فی مصباح الزجاجة: 46)
وضاحت: ۱؎: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے دن کو یوم الدار سے یاد رکھا، ظالموں نے کئی دن محاصرہ کے بعد آپ کو بھوکا پیاسا شہید کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس کی پیش گوئی فرما دی تھی، اور تنہائی کی گفتگو کا حال کسی کو معلوم نہ تھا، آپ کی شہادت کے بعد معلوم ہوا، رضی اللہ عنہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
15. بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَن عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي، إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 114]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بالتأکید خبر دی کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور مجھ سے صرف منافق ہی نفرت کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 33 (78)، سنن الترمذی/ المنا قب 21 (3736)، سنن النسائی/الایمان 19 (5021)، (تحفة الأشراف: 10092)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/84، 95، 128) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال لِعَلِيٍّ:" أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 115]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ تیری وہ نسبت ہو جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 9 (3706)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 (2404)، (تحفة الأشراف: 3840)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 21 (3731)، مسند احمد (1/170، 177، 3/32) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے (غزوۂ تبوک کی تفصیلات دیکھئے)، بعض منافقوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بزدلی کا طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو بزدلی کے سبب مدینہ میں چھوڑ گئے، ان کو تکلیف ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا، تب آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی ہے، اور اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: «إلا أنه لا نبي بعدي» یعنی اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی جیسے ہارون علیہ السلام نبی تھے، اس حدیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بعد موسیٰ کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَمَرَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا: «الصلاة جامعة»، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (علی) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 116]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حج ادا فرمایا، اس سے واپسی پر سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور نماز میں سب کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ (نماز کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”کیا مومنوں پر میرا خود ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر فرمایا: ”کیا ہر مومن پر میرا خود اس کی ذات سے زیادہ حق نہیں؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یقیناً ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں دوست ہوں، یہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ! جو اس (علی) سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ۔ اے اللہ! جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1797، ومصباح الزجاجة: 48)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/281) (صحیح)» (لیکن یہ سند ضعیف ہے، اس میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اور عدی بن ثابت ثقہ ہیں، لیکن تشیع سے مطعون ہیں، لیکن اصل حدیث شواہد کی وجہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1750)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیرخم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل پر استدلال درست نہیں: ۱۔ کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے ۲۔ ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے، ۳۔ امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں، ۴۔ خلفاء ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں، ۵۔ اگر اس سے خلافت بلافصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہرگز اس سے عدول نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے، ۶۔ اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان: ضعيف وأصل الحديث ((من كنت مولاه فعلي مولاه)) صحيح متواتر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان: ضعيف وأصل الحديث ((من كنت مولاه فعلي مولاه)) صحيح متواتر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ أَبُو لَيْلَى يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ ، فَكَانَ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ، فَقُلْنَا: لَوْ سَأَلْتَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ"، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدَ يَوْمِئِذٍ، وَقَالَ:" لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ"، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے (جواباً) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور (حاضر خدمت ہو کر) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر دعا فرمائی: ”اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ“۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسے آدمی کو (جہاد کا قائد بنا کر) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے“۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 117]
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت ابو لیلیٰ رضی اللہ عنہ رات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو میں شریک ہوتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سردیوں میں گرمیوں کا لباس اور گرمیوں میں سردیوں کا لباس پہن لیا کرتے تھے۔ ہم نے (ابو لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے) کہا: آپ ان (علی رضی اللہ عنہ) سے اس کے متعلق دریافت کریں۔ (انہوں نے دریافت کیا تو) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (جنگ) خیبر کے روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب کہ میری آنکھیں دکھتی تھیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آشوب چشم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» ”اے اللہ! اس سے گرمی اور سردی دور کر دے۔“ اس دن کے بعد سے مجھے گرمی یا سردی محسوس نہیں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ضرور ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے، وہ بھاگنے والا نہیں۔“ لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10213، ومصباح الزجاجة: 49)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/99، 133) (حسن)» (اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ شدید سيء الحفظ ہیں، لیکن حدیث طبرانی میں موجود شواہد کی بناء پر حسن ہے، بعض ٹکڑے صحیحین میں بھی ہیں، ملاحظہ ہو: ا لا ٔوسط للطبرانی: 1/127/1، 222/2)
وضاحت: ۱ ؎: غزوہ خیبر ۷ ھ میں ہوا، اور خیبر مدینہ سے شمال میں شام کی طرف واقع ہے، یہ حدیث بھی مؤید ہے کہ اوپر والی حدیث میں مولیٰ سے دوستی اور محبت مراد ہے، اس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی تصریح فرمائی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن أبي ليلي: ضعيف وضعفه الجمھور كما قال البوصيري (854)
ولحديثه شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
إسناده ضعيف
محمد بن أبي ليلي: ضعيف وضعفه الجمھور كما قال البوصيري (854)
ولحديثه شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 118]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے افضل ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8434، ومصباح الزجاجة: 50) (صحیح)» (اس کی سند میں معلی بن عبدالرحمن ضعیف اور ذاھب الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ ترمذی اور نسائی نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 797)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ".
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 119]
حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، میری طرف سے صرف علی رضی اللہ عنہ ہی ادا کریں گے۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المنا قب 21 (3719)، (تحفة الأشراف: 3290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/164، 165) (حسن)» (تراجع الا ٔلبانی، رقم: 378، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1980، وظلال الجنة: 1189)
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے بطور عذر، اور علی رضی اللہ عنہ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر حج تھے، اور سورۃ براءت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کر سکتا تھا، لہذا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ عَلِيٌّ: " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ".
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 120]
حضرت عباد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد یہ بات وہی کہے گا جو انتہائی جھوٹا ہے۔ میں نے دوسروں سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10157، ومصباح الزجاجة: 51) (باطل)» (سند میں عباد بن عبداللہ ضعیف اور متروک ر1وی ہے، اور اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: «فيه نظر» اور وہی حدیث کے بطلان کا سبب ہے، امام ذہبی نے فرمایا: یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہے، ملاحظہ ہو: الموضوعات لابن الجوزی: 1/341، وتلخیص المستدرک للذہبی، وتنزیہ الشریعة: 1/386، وشیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ: 310، للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)
قال الشيخ الألباني: باطل
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عباد بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 3136)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
إسناده ضعيف جدًا
عباد بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 3136)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: ”تم (یعنی علی) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 121]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس (ملاقات کے لیے) گئے۔ (اثنائے گفتگو میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ چھڑ گیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کچھ تنقیدی الفاظ کہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور فرمایا: ”آپ ایسے شخص کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جس کے متعلق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس کا مولیٰ میں ہوں، علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا مولیٰ (دوست) ہے۔“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے (علی رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”تیرا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: ”آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔“ (اور وہ جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ملا)۔““ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3901)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 9 (3706)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 (2404)، سنن الترمذی/المناقب 21 (3724)، مسند احمد (1/84، 118) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن سابط لم يسمع من سعد رضي اللّٰه عنه (انظر تحفة التحصيل ص 197)
و حديث البخاري (3706،4416) و مسلم (2404) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن سابط لم يسمع من سعد رضي اللّٰه عنه (انظر تحفة التحصيل ص 197)
و حديث البخاري (3706،4416) و مسلم (2404) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
16. بَابُ: فَضْلِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ:" مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ:" مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: ”کون ہے جو میرے پاس قوم (یعنی یہود بنی قریظہ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟“، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے حواری (خاص مددگار) ہوتے ہیں، اور میرے حواری (خاص مددگار) زبیر ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 122]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو قریظہ کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن کی خبر کون لائے گا؟“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا: ”دشمن کی خبر کون لائے گا؟“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں“۔ تین بار ایسے ہی ہوا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر رضی اللہ عنہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 41 (2846)، صحیح مسلم/فضائل الصحابہ 6 (2415)، سنن الترمذی/المنا قب 25 (3845)، (تحفة الأشراف: 3020)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/89، 102، 3/307) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ غزوہ احزاب کا ہے جو سن (۵) ہجری میں واقع ہوا، جب کفار قریش قبائل عرب اور خیبر کے یہودی سرداروں کے ساتھ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ پر چڑھ آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھدوائی، اس لئے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، مسلمان بڑی کس مپرسی کے عالم میں تھے، اور یہود بنی قریظہ نے بھی معاہدہ توڑ کر کفار مکہ کا ساتھ دیا، ایک دن بہت سردی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے یہ چاہا کہ کوئی اس متحدہ فوج کی خبر لائے جن میں بنی قریظہ بھی شریک تھے، لیکن سب خاموش رہے، اور اس مہم پر زبیر رضی اللہ عنہ گئے، اور ان کو سردی بھی نہ لگی، اور خبر لائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حملہ آوروں پر بارش اور ٹھنڈی ہوا بھیج دی ہے جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، اور لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم