سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ
باب: بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْجُنُبُ، وَلَا الْحَائِضُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 595]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 98 (131)، (تحفة الأشراف: 8474) (منکر)» (سند میں اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل حجاز سے ضعیف ہے، اور موسیٰ بن عقبہ حجازی ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 192)
وضاحت: ۱؎: یعنی نہ کم نہ زیادہ، امام شافعی کا یہی قول ہے، لیکن ذکر و دعا کے مقصد سے «بسم اللہ» یا «الحمد للہ» کہنا درست اور جائز ہے، تلاوت کے مقصد سے نہیں اور امام مالک نے حائضہ عورت کے لئے قرآن کی تلاوت کو جائز کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[595۔596] إسناده ضعيف
ترمذي (131)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
[595۔596] إسناده ضعيف
ترمذي (131)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
حدیث نمبر: 596
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْرَأُ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ کچھ بھی قرآن نہ پڑھیں“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 596]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (منکر) (سابقہ حدیث ملاحظہ ہو)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
۔596] إسناده ضعيف
ترمذي (131)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
۔596] إسناده ضعيف
ترمذي (131)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
106. . بَابُ: تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ
باب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم بالوں کو دھویا کرو، اور بدن کی جلد کو صاف کیا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 597]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، اس لیے بالوں کو دھو ڈالو اور جلد کو صاف کرو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 98 (248)، سنن الترمذی/الطہا رة 78 (106)، (تحفة الأشراف: 14502) (ضعیف)» (اس حدیث کی سند میں حارث بن وجیہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (248) ترمذي (106)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (248) ترمذي (106)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
حدیث نمبر: 598
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا"، قُلْتُ: وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ؟ قَالَ:" غُسْلُ الْجَنَابَةِ فَإِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزانہ پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں“، میں نے پوچھا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غسل جنابت، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 598]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور امانت کی ادائیگی، ان کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے۔“ میں نے عرض کیا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”جنابت کا غسل کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3461، ومصباح الزجاجة: 233) (ضعیف)» (طلحہ بن نافع کا سماع ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3801، و ضعیف ابی داود: 37)
وضاحت: ۱؎: (فواد عبدالباقی کے نسخہ میں «بينها» ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ"، قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعَرِي وَكَانَ يَجُزُّهُ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا“۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 599]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غسلِ جنابت میں جسم کی بال برابر جگہ بھی چھوڑ دی اور اسے نہیں دھویا، اسے آگ کا اتنا اتنا (بہت زیادہ) عذاب دیا جائے گا۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی اختیار کر لی۔“ آپ رضی اللہ عنہ اپنے سر کے بال کاٹ دیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 98 (249)، (تحفة الأشراف: 10090)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/94، 101، 133)، سنن الدارمی/الطہارة 69 (778) (ضعیف)» (سند میں عطاء بن سائب ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جب بال بڑے ہوں تو اکثر احتمال رہ جاتا ہے کہ شاید سارا سر نہ بھیگا ہو، کوئی مقام سوکھا رہ گیا ہو، علی رضی اللہ عنہ بالوں کو کترتے تھے، بال کاٹنا سارے سر کے منڈانے سے افضل ہے، مگر حج میں پورے بال منڈانا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
107. . بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ
باب: مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أَمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ:" نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ"، فَقُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے پوچھا کہ اگر عورت خواب میں ویسا ہی دیکھے جیسا مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب پانی (منی) دیکھے تو غسل کرے“، میں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نے تو عورتوں کو رسوا کیا یعنی ان کی جگ ہنسائی کا سامان مہیا کرا دیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھلا ہو، اگر ایسا نہیں ہوتا تو کس وجہ سے بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے؟“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 600]
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ پوچھا کہ اگر عورت کو خواب میں وہ کچھ نظر آئے جو مرد کو نظر آتا ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب اسے پانی نظر آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔“ (ام المومنین نے فرمایا:) میں نے کہا: (اے ام سلیم!) ”تم نے عورتوں کو رسوا کر دیا ہے، بھلا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا بھلا ہو! پھر اس کی اولاد اس سے مشابہ کیوں ہوتی ہے؟“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 50 (130)، الغسل 22 (282)، الأنبیاء 1 (3328)، الأدب 68 (6091)، 79 (6121)، صحیح مسلم/الحیض 7 (313)، سنن الترمذی/الطہارة 90 (122)، سنن النسائی/الطہارة 131 (197)، (تحفة الأشراف: 18264)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 21 (85)، مسند احمد (6/ 292، 302، 306) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش میں مرد اور عورت دونوں کا نطفہ شریک ہوتا ہے، اور جب عورت کی منی بھی ثابت ہوئی تو خواب میں اس کی منی کا نکلنا کیا بعید ہے، جیسے مرد کی منی نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ" سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَتْ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ"، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ هَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ عورت اپنے خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ ایسا دیکھے اور اسے انزال ہو، تو اس پر غسل ہے“، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے، اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی پہلے ماں کے رحم (بچہ دانی) میں پہنچ جائے یا غالب رہے، بچہ اسی کے ہم شکل ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 601]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جسے خواب میں وہ چیز نظر آئے جو مرد کو نظر آیا کرتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اسے یہ چیز نظر آئے اور اسے انزال ہو جائے تو اس پر غسل کرنا واجب ہے۔“ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ایسے بھی ہو جاتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے۔ ان دونوں میں سے جو بھی سبقت لے جائے یا غالب آجائے، بچہ اس سے مشابہ ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 7 (311)، سنن النسائی/الطہارة 131 (195)، (تحفة الأشراف: 1181)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/121، 199، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 76 (791) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، أَنَّهَا" سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى تُنْزِلَ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ".
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورت کے اپنے خواب میں اس چیز کے دیکھنے سے متعلق سوال کیا جو مرد دیکھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں، جیسے مرد پر بغیر انزال کے غسل نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 602]
حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر عورت خواب میں وہی دیکھے جو کچھ مرد دیکھتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر غسل فرض نہیں جب تک اسے انزال نہ ہو، جس طرح مرد پر غسل واجب نہیں جب تک اسے انزال نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15827، ومصباح الزجاجة: 234)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 131 (198)، مسند احمد (6/409)، سنن الدارمی/الطہارة 76 (789) (حسن)» (سند میں علی بن زید ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2187)
وضاحت: ۱؎: یعنی مرد کو اگر صرف خواب دکھائی دے لیکن منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں ہے، اسی طرح عورت اگر خواب دیکھے اور منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں، اور تری یا پانی سے دوسری حدیث میں منی ہی مراد ہے، اگر منی کے سوا کسی اور چیز کی تری ہے تب غسل لازم نہ ہو گا، اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف
وتابعه عطاء الخراساني عندالنسائي (198)
وعطاء صدوق حسن الحديث و ثقه الجمھور وكان يدلس (تقريب:4600) ولم أجد تصريح سماعه في ھذا اللفظ…
والحديث السابق (الأصل: 601) يغنيان عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف
وتابعه عطاء الخراساني عندالنسائي (198)
وعطاء صدوق حسن الحديث و ثقه الجمھور وكان يدلس (تقريب:4600) ولم أجد تصريح سماعه في ھذا اللفظ…
والحديث السابق (الأصل: 601) يغنيان عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
108. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النِّسَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنَ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَ" أَوْ قَالَ:" فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں چوٹی کو مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں، کیا اسے غسل جنابت کے لیے کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر بہا لو پھر پورے بدن پر پانی ڈالو، پاک ہو جاؤ گی“، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اس وقت تم پاک ہو گئیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 603]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں سر کے بالوں کی مینڈھیاں مضبوطی سے بناتی ہوں، تو کیا غسل جنابت کے لیے انہیں کھولا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یہی کافی ہے کہ سر پر پانی کی تین لپیں ڈال لے، پھر اپنے (پورے جسم) پر پانی بہا لے، تو پاک ہو جائے گی۔“ یا فرمایا: ”بس تو پاک ہو گئی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 12 (330)، سنن ابی داود/الطہارة 99 (251)، سنن الترمذی/الطہارة 77 (105)، سنن النسائی/الطہارة 150 (242)، (تحفة الأشراف: 18172)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 289، 315)، سنن الدارمی/الطہارة 115 (1196) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب ایسا کیا تو پاک ہو گئی کیونکہ مقصود سارے سر کا بھیگ جانا ہے، اور تین لپوں میں یہ سارا کام پورا ہو جاتا ہے، اگر پورا نہ ہو تو اس سے زیادہ بھی ڈال سکتی ہے، مگر بندھی ہوئی چوٹی کا کھولنا ضروری نہیں، اکثر علماء کے نزدیک رفع تکلیف کا یہ حکم عورتوں کے لئے خاص ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَأْمُرُ نِسَاءَهُ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، لَقَدْ" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ".
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنی بیویوں کو غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم دیتے ہیں، تو فرمایا: عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے، وہ عورتوں کو سر منڈانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے، بیشک میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 604]
حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی خواتین کو حکم دیتے ہیں کہ جب وہ غسل کریں تو سر (کی مینڈھیاں وغیرہ) کھول لیا کریں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے! (کہ وہ عورتوں کو غسل کے لیے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں) وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتے کہ اپنے سر منڈوا لیا کریں۔ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، میں تو اس سے زیادہ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی تھی۔“ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بال کھولنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔) [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 12 (331)، سنن النسائی/الغسل 12 (416)، (تحفة الأشراف: 16324)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/4)، سنن الدارمی/الطہارة 68 (776) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم