🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
109. . بَابُ: الْجُنُبِ يَنْغَمِسُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ أَيُجْزِئُهُ
باب: کیا جنبی کا ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہٰ لگا لینا کافی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ"، فَقَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے، پھر کسی نے کہا: ابوہریرہ! تب وہ کیا کرے؟ کہا: اس میں سے پانی لے لے کر غسل کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 605]
ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص جنبی ہو تو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔ ابو سائب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو ہریرہ! پھر وہ کیا کرے؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی چیز میں پانی لے کر غسل کر لے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 29 (283)، سنن النسائی/الطہارة 139 (221)، المیاہ 3 (332)، الغسل 1 (396)، (تحفة الأشراف: 14936) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہ لگانا منع ہے کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو کراہت ہو گی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانی ناپاک ہو جائے گا، اس لئے منع ہے کیونکہ پانی اگر دو قلہ سے زیادہ ہو تو وہ اس طرح کی نجاست سے ناپاک نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
110. . بَابُ: الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ
باب: انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ:" لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ"، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 606]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کے پاس گئے اور اسے بلوایا۔ وہ (گھر سے) نکلا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈال دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جب تجھے (کسی وجہ سے) جلدی پڑ جائے (اور تجھے فارغ ہونے سے پہلے پیچھے ہٹنا پڑے) یا تجھے انزال نہ ہو تو تجھ پر غسل فرض نہیں، صرف وضو کرنا ضروری ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 34 (180)، صحیح مسلم/الحیض21 (345)، (تحفة الأشراف: 3999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/21، 26، 94) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آگے آنے والی احادیث سے یہ حدیث منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح منسوخ
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی (غسل) پانی (منی نکلنے) سے ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 607]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» پانی (کا استعمال) پانی (کے خروج) سے واجب ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطہارة 132 (199)، (تحفة الأشراف: 3469)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/416، 421)، سنن الدارمی/الطہارة 74 (785) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں: ایک یہ کہ انزال کے بغیر غسل واجب نہیں اس صورت میں  «إذا التقى الختانان»  والی روایت سے یہ روایت منسوخ ہو گی، دوسرے یہ کہ حدیث خواب کے متعلق ہے، بیدار ہونے کے بعد جب تک تری نہ دیکھے تو صرف خواب میں کچھ دیکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
111. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب (مرد اور عورت کے) ختنے (شرمگاہیں) باہم مل جائیں، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 80 (108)، (تحفة الأشراف: 17499)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 18 (72)، مسند احمد (6/ 161، 161، 239) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنْبَأَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَال:" إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ بَعْدُ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی، پھر ہمیں بعد میں غسل کا حکم دیا گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 609]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اسلام کے ابتدائی دور میں رخصت تھی (کہ جماع کی صورت میں جب تک انزال نہ ہو، غسل واجب نہیں ہوتا تھا۔) بعد میں ہمیں غسل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 84 (214، 215)، سنن الترمذی/الطہارة 81 (111)، (تحفة الأشراف: 27)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 115، 116)، سنن الدارمی/الطہارة 74 (787) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ کہ اب چاہے انزال ہو یا نہ ہو غسل واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 610
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کے چار زانوؤں کے درمیان بیٹھے، پھر مجامعت کرے، تو غسل واجب ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 610]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 28 (291)، صحیح مسلم/الحیض22 (348)، سنن ابی داود/الطہارة 84 (216)، سنن النسائی/الطہارة 129 (191)، (تحفة الأشراف: 14659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/234، 347، 393، 471، 520)، سنن الدارمی/الطہارة 75 (788) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَةُ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ (سپاری) چھپ جائے، تو غسل واجب ہو گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 611]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ختنے باہم مل جائیں اور سپاری چھپ جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8676، ومصباح الزجاجة: 235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاة ضعیف ہیں، لیکن حدیث صحیح مسلم وغیرہ میں متعدد طرق سے وارد ہے، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 3/260)
وضاحت: ۱؎: ابتداء اسلام میں انزال کے بغیر غسل واجب نہ تھا، اس کے بعد محض  «التقى الختانان» یعنی شرمگاہوں کے ملنے سے غسل واجب کر دیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف حجاج وھو ابن أرطاة وتدليسه وقد رواه بالعنعنة ‘‘
وللحديث شواھد ضعيفة
والحديث السابق (الأصل: 608) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112. . بَابُ: مَنِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَرَ بَلَلاً
باب: جسے احتلام ہو اور تری نہ دیکھے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلًا، وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ، وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کر لے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 612]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور اسے (جسم یا کپڑوں پر) گیلا پن (مادہ منویہ) نظر آئے اور اسے خواب یاد نہ ہو، وہ غسل کرے اور اگر اسے محسوس ہو کہ اس نے خواب (میں غسل واجب کرنے والا عمل) دیکھا ہے اور (بیدار ہونے پر) گیلا پن نظر نہ آئے تو اس پر کوئی غسل نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 95 (236)، سنن الترمذی/الطہارة 82 (113)، (تحفة الأشراف: 17539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/256)، سنن الدارمی/الطہارة 77 (792) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 516)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: لیکن تری سے مراد منی ہے، اگر تری محسوس نہ ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہ ہو گا، اگر گرمی یا دیری کے سبب منی خشک ہو جائے، تو غسل ضروری ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (236) ترمذي (113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
113. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ
باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ:" كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: وَلِّنِي، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، وَأَنْشُرُ الثَّوْبَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ".
ابوالسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: میری طرف پیٹھ کر لو تو میں پیٹھ آپ کی طرف کر لیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کر دیتا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 613]
حضرت ابوسمح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرنا چاہتے تو فرماتے: مجھ سے رخ پھیر لو۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کر لیتا اور کپڑا پھیلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پردہ کر دیتا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 137 (376)، سنن النسائی/الطہارة 143 (225)، (تحفة الأشراف: 12051) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فِي سَفَرٍ، حَتَّى أَخْبَرَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَامَ الْفَتْحِ،" فَأَمَرَ بِسِتْرٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَبَّحَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ".
عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں: میں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں نفل نماز پڑھی ہے؟ تو مجھے کوئی بتانے والا نہیں ملا، یہاں تک کہ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال آئے، پھر آپ نے ایک پردہ لگانے کا حکم دیا، پردہ کر دیا گیا، تو آپ نے غسل کیا، پھر نفل کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 614]
جناب عبداللہ بن نوفل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے (صحابہ کرام سے) سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں نفل پڑھے ہیں؟ کوئی شخص مجھے (یہ مسئلہ) بتانے والا نہ ملا۔ آخر مجھے ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال (مکہ مکرمہ) تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پردہ کیا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر آٹھ رکعت نفل ادا کیے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 16 (336)، المسافرین 13 (336)، (تحفة الأشراف: 18003)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 21 (280)، الصلاة 4 (357)، الأدب 94 (6158)، سنن الترمذی/الاستئذان 34 (2734)، سنن النسائی/الطہارة 143 (225)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/342، 425) سنن الدارمی/الصلاة 151 (1494) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1379) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس باب کی احادیث سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت پردہ کر لینا چاہئے، لیکن اگر کوئی کپڑے پہنے ہوئے ہے، تو بلا پردہ غسل کرنے کی اجازت ہے، نیز اس حدیث سے تو سفر میں نفل پڑھنا ثابت ہوا بعضوں نے کہا یہ نماز الضحیٰ نہیں تھی بلکہ یہ مکہ فتح ہونے پر نماز شکر تھی، اور سعید بن ابی وقاص نے جب کسریٰ کا خزانہ فتح کیا تو ایسا ہی کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں