🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ فَتَخَلَّفَتْ لِالْتِمَاسِهِ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا فِي حَبْسِهَا النَّاسَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرُّخْصَةَ فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ:" فَمَسَحْنَا يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَنَاكِبِ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور ان پہ ناراض ہوئے، کیونکہ ان کی وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی اجازت والی آیت نازل فرمائی، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 565]
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گر پڑا، وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں (اس وجہ سے قافلہ بھی رک گیا)۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور لوگوں کے رکنے کے باعث بن جانے پر ان پر ناراضی کا اظہار فرمایا۔ (چونکہ اس مقام پر وضو کے لیے پانی موجود نہیں تھا) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کی اجازت نازل فرما دی۔ (صحابی فرماتے ہیں) اس دن ہم نے کندھوں تک مسح کیا۔ (اس کے بعد) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اس قدر باعثِ برکت ہو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 123 (318، 319)، (تحفة الأشراف: 10363)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 196 (313)، مسند احمد (4/263، 264، 320، 321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثابت ہوئی، اسی طرح اس حدیث سے اور اس کی بعد کی احادیث سے مونڈھوں تک کا مسح ثابت ہوتا ہے، لیکن یہ منسوخ ہے، اب حکم صرف منہ اور پہنچوں تک مسح کرنے کا ہے، جیسا کہ آگے آنے والی احادیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ:" تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مونڈھوں تک تیمم کیا۔   [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 566]
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطہارة 198 (316)، (تحفة الأشراف: 10358)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 123 (318) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میرے لیے نماز کی جگہ اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 567]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین مسجد اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 1 (523)، سنن الترمذی/السیر 5 (1553)، (تحفة الأشراف: 14037، 13977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/411) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ساری زمین پر نماز کی ادائیگی صحیح ہے، اور پاک کرنے والی کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک قسم کی زمین پر تیمم صحیح ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیوار پر تیمم کرنا ثابت ہے، لیکن شافعی اور احمد اور ابوداؤد کے یہاں زمین سے مٹی مراد ہے، اور مالک، ابوحنیفہ، عطاء، اوزاعی اور ثوری کا قول ہے کہ تیمم زمین پر اور زمین کی ہر چیز پر درست ہے،مگر امام مسلم کی ایک روایت میں «تربت» کا لفظ ہے، اور ابن خزیمہ کی روایت میں «تراب» کا، اور امام احمد اور بیہقی نے باسناد حسن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: «و جعل التراب لي طهوراً» یعنی مٹی میرے لئے پاک کرنے والی کی گئی، اس سے ان لوگوں کی تائید ہوئی ہے، جو تیمم کو مٹی سے خاص کرتے ہیں، اور زمین کے باقی اجزاء سے تیمم کو جائز نہیں کہتے، اور قرآن میں جو «صعید» کا لفظ ہے اس سے بھی بعضوں نے مٹی مراد لی ہے، اور لغت والوں کا اس میں اختلاف ہے، بعضوں نے کہا: «صعید» روئے زمین کو کہتے ہیں، پس وہ زمین کے سارے اجزاء کو عام ہو گا، ایسی حالت میں احتیاط یہ ہے کہ تیمم پاک مٹی ہی سے کیا جائے، تاکہ سب لوگوں کے نزدیک درست ہو، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ،" فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ"، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃً لیا، اور وہ کھو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈھونڈنے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، لوگوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو آپ سے اس کی شکایت کی، تو اس وقت تیمم کی آیت نازل ہوئی، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کوئی مشکل پیش آئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نجات کا راستہ پیدا فرما دیا، اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 568]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتاً لیا (سفر کے دوران میں ایک مقام پر) وہ گم ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند افراد اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجے۔ (اس دوران میں) نماز کا وقت ہو گیا تو ان افراد نے وضو کیے بغیر نماز پڑھ لی (کیوں کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا)۔ جب وہ (ہار تلاش کر کے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اس چیز کی شکایت کی۔ تب تیمم کی آیت نازل ہو گئی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے! آپ پر جب بھی کوئی مشکل آئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو اس (مشکل) سے نجات دے دی اور اس میں مسلمانوں کے لیے کوئی برکت عنایت فرما دی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التیمم 2 (336)، فضائل الصحابة 30 (3773)، النکاح 66 (5164)، صحیح مسلم/التیمم 28 (367)، (تحفة الأشراف: 16802)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہا رة 123 (317)، سنن النسائی/الطہارة 197 (315)، موطا امام مالک/الطہارة 23 (89)، مسند احمد (6 /57)، سنن الدارمی/الطہارة 65 (771) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جیسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام تراشی اور بہتان کا نازیبا واقعہ پیش آیا تھا تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی عفت و پاکدامنی ظاہر کر دی، اور مومنات کے لئے احکام معلوم ہوئے، اسید رضی اللہ عنہ کا مقصد کلام یہ تھا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہمیشہ ہی رہی ہے، اور ہر تکلیف و آزمائش میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً
باب: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ" إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ".
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہیں پایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہ مل سکا تو آپ نے نماز نہیں پڑھی، اور میں مٹی میں لوٹا، اور نماز پڑھ لی، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا کافی تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان دونوں میں پھونک ماری، اور اپنے چہرے اور دونوں پہنچوں پر اسے مل لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 569]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اگر مجھے جنابت کی حالت پیش آ جائے اور پانی نہ ملے (تو کیا کروں؟) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز نہ پڑھ (جب پانی ملے گا تو غسل کر کے قضا نماز پڑھنا۔) حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ دونوں ایک لشکر میں تھے؟ ہمیں غسل کی حاجت پیش آئی اور پانی نہ ملا (اس وقت بھی) آپ نے تو نماز نہیں پڑھی تھی، میں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی۔ پھر جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو یہ واقعہ عرض کیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے تو اتنا ہی کافی تھا۔ اور (یہ کہہ کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری اور چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التیمم 4 (338)، 5 (339)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن ابی داود/الطہارة 123 (322، 323)، سنن الترمذی/الطہارة 110 (144)، سنن النسائی/الطہارة 196 (313)، 199 (317)، 200 (318)، 201 (319)، 202 (320)، (تحفة الأشراف: 10362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/263، 265، 319، 320، سنن الدارمی/الطہارة 66 (772) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تیمم یہی ہے کہ زمین پر ایک بار ہاتھ مار کر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرے، اور جنابت سے پاکی کا طریقہ حدث کے تیمم کی طرح ہے، اور عمر رضی اللہ عنہ کو باوصف اتنے علم کے اس مسئلہ کی خبر نہ تھی، اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو، یہ دونوں جلیل القدر صحابہ جنبی کے لئے تیمم جائز نہیں سمجھتے تھے، اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ کبھی بڑے عالم دین پر معمولی مسائل پوشیدہ رہ جاتے ہیں، ان دونوں کے تبحر علمی اور جلالت شان میں کسی کو کلام نہیں ہے، لیکن حدیث اور قرآن کے خلاف ان کا قول بھی ناقابل قبول ہے، پھر کتاب و سنت کے دلائل کے سامنے دوسرے علماء کے اقوال کی کیا حیثیت ہے، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے مطلب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ؟ فَقَالَ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ"، قَالَ الْحَكَمُ: وَيَدَيْهِ، وَقَالَ سَلَمَةُ: وَمِرْفَقَيْهِ.
حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ حکم کی روایت میں «يديه»  اور سلمہ کی روایت میں «مرفقيه»  کا لفظ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 570]
جناب حکم رحمہ اللہ اور سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کا مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر انہیں جھاڑا اور انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5160، ومصباح الزجاجة: 230) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف الحفظ ہیں، اصل حدیث شواہد و طرق سے ثابت ہے لیکن «مرفقیہ» کا لفظ منکر ہے)
وضاحت: ۱؎: «يديه» یعنی دونوں ہاتھوں پر مل لیا، اور سلمہ بن کہیل کی روایت میں «مرفقيه» یعنی کہنیوں تک مل لیا کا لفظ ہے، جو منکر اور ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے پتہ چلا «مرفقيه» کا لفظ منکر ہے، لہذا اس سے استدلال درست نہیں، اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنے میں احتیاط ہے بلکہ احتیاط اسی میں ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون رواية مرفقيه فإنها منكرة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد ابن أبي ليلي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. بَابٌ في التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ
باب: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) دو بار۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ " حِينَ تَيَمَّمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ التُّرَابَ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِوُجُوهِهِمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى، فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیمم کیا، تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا، تو انہوں نے اپنی ہتھیلیاں مٹی پر ماریں اور ہاتھ میں کچھ بھی مٹی نہ لی، پھر اپنے چہروں پر ایک بار مل لیا، پھر دوبارہ اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا، اور اپنے ہاتھوں پر مل لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 571]
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تیمم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا، تو انہوں نے مٹی پر ہاتھ مارے اور ہاتھ میں مٹی نہیں پکڑی، پھر ایک بار چہرے پر ہاتھ پھیر لیے، پھر دوبارہ زمین پر ہاتھ مارے اور ہاتھوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 123 (318، 319)، (تحفة الأشراف: 10363)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 196 (313)، مسند احمد (4/320، 321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض علماء نے اس حدیث سے دلیل لی ہے، اور تیمم میں دو بار ہتھیلی کو مٹی پر مار کر چہرے اور ہاتھوں پر ملنے کی بات کہی ہے، لیکن صحیحین میں اس کے خلاف مروی ہے، اور ایک ہی بار منقول ہے، اور امام احمد نے باسناد صحیح عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیمم ایک بار ہے چہرہ کے لئے اور دونوں ہتھیلیوں کے لئے۔ اور شاید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پہلی بار میں ہاتھ میں مٹی نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا، ورنہ عمار بن یاسر کی ایک ضربہ والی واضح حدیث کی بنا پر جمہور علماء اور عام اہل حدیث کا مذہب ایک ضربہ ہی ہے، جیسا کہ اوپر کی حدیث میں گزرا۔ (نیز ملاحظہ ہو: نیل الأوطار۱/۳۳۲)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. بَابٌ في الْمَجْرُوحِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ إِنِ اغْتَسَلَ
باب: غسل جنابت سے زخمی کو موت کا ڈر ہو تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ،" أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي رَأْسِهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَكُزَّ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَفَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ"، قَالَ عَطَاءٌ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجِرَاحُ".
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کے سر میں زخم ہو گیا، پھر اسے احتلام ہوا، تو لوگوں نے اسے غسل کا حکم دیا، اس نے غسل کر لیا جس سے اسے ٹھنڈ کی بیماری ہو گئی، اور وہ مر گیا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا عاجزی (لاعلمی کا علاج مسئلہ) پوچھ لینا نہ تھا۔ عطاء نے کہا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کاش وہ اپنا جسم دھو لیتا اور اپنے سر کا زخم والا حصہ چھوڑ دیتا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 572]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کا سر زخمی ہوگیا، اس کے بعد (ایک دن) اسے احتلام ہوگیا۔ (اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مسئلہ پوچھا) تو اسے نہانے کا حکم دیا گیا۔ اس نے غسل کیا تو (سردی کی شدت کی وجہ سے) بیمار ہوگیا اور (اسی بیماری سے) فوت ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو فرمایا: انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے۔ کیا پوچھ لینا لاعلمی کا علاج نہیں؟ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمیں روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کاش وہ باقی جسم دھو لیتا اور سر کو رہنے دیتا جہاں اسے زخم تھا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5904، ومصباح الزجاجة: 231)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 127 (337)، سنن الدارمی/الطہارة 70 (779) (حسن)» ‏‏‏‏ (عطاء کا قول: «وبلغنا أن النبي صلى الله عليه وسلم» ضعیف ہے کیونکہ انہوں نے واسطہ نہیں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 364)
وضاحت: ۱؎: مصباح الزجاجۃ (ط۔ مصریہ) میں آخر متن میں «لأجزه» ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون بلاغ عطاء
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (336)
السند مرسل: وأما حديث ابن عباس فصحيح،أخرجه أبو داود (337)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت کا طریقہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا اور برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر انڈیلا، اور دونوں ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پہ پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور اپنا چہرہ اور بازو تین تین بار دھویا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر غسل کی جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 573]
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے غسل جنابت کیا، (پہلے) بائیں ہاتھ سے برتن کو جھکا کر دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا (اور استنجا کیا)، پھر زمین پر ہاتھ رگڑا (اور صاف کر لیا)، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار چہرہٴ مبارک دھویا اور تین بار بازو دھوئے، پھر باقی جسم پر پانی بہا لیا، پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھو لیے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطہارة 98 (245)، سنن الترمذی/الطہارة 76 (103)، سنن النسائی/الطہارة 161 (254)، الغسل 14 (408)، 15 (418، 419)، (تحفة الأشراف: 18064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/230، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (739)، 67 (774) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ غسل کا مسنون طریقہ ہے، اور اس کی روشنی میں ضروری ہے کہ سارے بدن پر پانی پہنچائے، یا پانی میں ڈوب جائے، کلی کرنی اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ضروری ہے، اور جس قدر ممکن ہو بدن کا ملنا بھی ضروری ہے، باقی امور آداب اور سنن سے متعلق ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهَا كَيْفَ" كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ غُسْلِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُفِيضُ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُدْخِلُهَا فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ"، وَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّا نَغْسِلُ رُؤْسَنَا خَمْسَ مِرَارٍ مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ.
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر انہیں برتن میں داخل کرتے، پھر اپنا سر تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے، لیکن ہم عورتیں تو اپنے سر کو چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار دھوتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 574]
حضرت جمیع بن عمیر تیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنی پھوپھی جان اور خالہ جان کے ہمراہ گیا، ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسلِ جنابت کے موقع پر کیا طریقہ اختیار کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بار ہاتھوں پر پانی ڈالتے تھے، اس کے بعد پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالتے، پھر تین بار اپنا سر مبارک دھوتے، پھر اپنے جسم مبارک پر پانی بہاتے۔ اس کے بعد نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ لیکن ہم بال گندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے پانچ بار سر دھوتی ہیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 98 (241)، (تحفةالأشراف: 16053)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 17 (67)، مسند احمد (6/273)، سنن الدارمی/الطہارة 67 (775) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں جمیع بن عمیر رافضی اور واضع حدیث ہے، نیز صدقہ بن سعید کے یہاں عجائب وغرائب ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (241)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں