🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کی محافظت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْس، فَقَالَ:" حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 686]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز نہ پڑھنے دی، حتی کہ سورج غروب ہو گیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے روک دیا، «مَلَأَ اللّٰهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا» اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 36 (628)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة البقرة 3 (2985)، (تحفة الأشراف: 9549) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/392، 403، 456) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: نماز مغرب کا وقت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 687
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ:" كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا، وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر واپس ہوتا، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 687]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم لوگ مغرب کی نماز پڑھ کر ایسے وقت میں فارغ ہو جاتے تھے کہ آدمی اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 18 (559)، صحیح مسلم/المساجد 38 (637)، (تحفة الأشراف: 3572)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلا ة 6 (416)، سنن النسائی/المواقیت 13 (521)، مسند احمد (3/370، 4/141) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی سورج ڈوبتے ہی نماز پڑھ لیا کرتے تھے، بلاوجہ احتیاط کے نام پر تاخیر نہیں کرتے تھے، اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 687M
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 687M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 688]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ مغرب اس وقت ادا کرتے تھے، جب سورج اوٹ میں چھپ جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 18 (561)، صحیح مسلم/المساجد 38 (636)، سنن ابی داود/الصلاة 6 (417)، سنن الترمذی/الصلاة 8 (164)، (تحفة الأشراف: 4535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 15، 54)، سنن الدارمی/الصلاة 16 (1245) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: اضْطَرَبَ النَّاسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِبَغْدَادَ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ الْأَعْيَنُ، إِلَى الْعَوَّامِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا أَصْلَ أَبِيهِ، فَإِذَا الْحَدِيثُ فِيهِ.
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت (دین اسلام) پر رہے گی، جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا: اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا، چنانچہ میں اور ابوبکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 689]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک دینِ فطرت (دینِ اسلام) پر قائم رہے گی، جب تک مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے کہ ستارے خوب نکل آئیں۔ امام ابو عبداللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے محمد بن یحییٰ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ لوگ بغداد میں اس حدیث کے بارے میں مضطرب ہوئے تو میں اور ابوبکر الاعین، عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے تو وہ اپنے باپ کی اصل (کتاب) ہمارے پاس لائے، تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5125، ومصباح الزجاجة: 257)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 6 (418) مسند احمد (4/147، 5/417، 422)، سنن الدارمی/الصلاة 17 (1246) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شرح السنہ میں ہے کہ اہل علم (صحابہ اور تابعین) نے اختیار کیا ہے کہ مغرب کی نماز جلدی پڑھی جائے، اور جس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کی تاخیر منقول ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ
باب: نماز عشاء کا وقت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو میں انہیں عشاء کی نماز میں دیر کرنے کا حکم دیتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 690]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت پر مشقت ہوگی، تو میں انہیں عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنے کا حکم دیتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 15 (252)، سنن ابی داود/الطہارة 25 (46)، سنن النسائی/المواقیت 19 (535)، (تحفة الأشراف: 13673)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 10 (167)، مسند احمد (2/245)، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1250) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو میں عشاء کی نماز تہائی یا آدھی رات تک مؤخر کرتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 691]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کو تہائی رات یا نصف رات تک مؤخر کرتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 10 (167)، (تحفة الأشراف: 12988)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/245، 250، 433) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ راوی کا شک ہے اور دوسری حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عشاء کی تاخیر تہائی رات تک بہتر ہے، گو دوسری روایات کے مطابق عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةَ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ"، قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ.
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ایک رات آپ نے عشاء کی نماز آدھی رات کے قریب مؤخر کی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم لوگ برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 692]
جناب حمید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو آدھی رات کے قریب تک مؤخر کیا۔ جب نماز پڑھ چکے تو چہرہ مبارک ہماری طرف کر کے فرمایا: لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم جب تک نماز کے انتظار میں رہو گے (ثواب کے اعتبار سے) نماز ہی میں (شمار) ہو گے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (مجھے اب بھی وہ منظر یاد ہے) گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک میری نظروں کے سامنے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الموا قیت 20 (540)، (تحفة الأشراف: 635)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الموا قیت 25 (572)، اللباس 48 (5869)، صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، حم3/182، 189، 200، 267) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692M
قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حمید، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 692M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏(یہ سند مشہور حسن سلمان کے نسخہ میں موجود نہیں ہے، بلکہ یہ علی بن حسن عبدالحمید کے نسخہ میں صفحہ نمبر 333 پر موجود ہے)» ‏‏‏‏

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا الضَّعِيفُ وَالسَّقِيمُ، أَحْبَبْتُ أَنْ أُؤَخِّرَ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر آدھی رات تک (حجرہ سے) باہر نہ آئے، پھر نکلے اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا: اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، اگر مجھے کمزوروں اور بیماروں کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنا پسند کرتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 693]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی (عشاء کی نماز کے لیے) باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا: لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، نماز ہی میں رہے۔ اگر کمزور اور بیمار افراد نہ ہوتے تو مجھے یہی پسند تھا کہ اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کروں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 7 (422)، سنن النسائی/المواقیت 20 (539)، (تحفة الأشراف: 4314) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں