🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. بَابٌ في الأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ
باب: عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1755
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يُغَذِّيَ أَصْحَابَهُ مِنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے (مساکین) صحابہ کو اس صدقہ فطر میں سے کھلا نہ دیتے (جو آپ کے پاس جمع ہوتا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1755]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلنے سے پہلے صحابہ کرام کو صدقہ فطر میں سے کچھ کھلا لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8234، ومصباح الزجاجة: 631) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (جبارہ، مندل اور عمر بن صہبان ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4248)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جبارة و مندل: مجروحان
وعمر بن صھبان: ضعيف (تقريب: 4923)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1756]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر (عید کے لیے) نہیں نکلتے تھے اور قربانی کے دن (نماز عید سے) واپسی تک نہیں کھاتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 273 (542)، (تحفة الأشراف: 1954)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/252، 360)، سنن الدارمی/الصلاة 217 (1641) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے کچھ کھانا، اور عیدالاضحی کے دن بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے، البتہ کھجور یا چھوہارے کھا کر جانا مسنون ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن طاق کھجوریں کھا کر عیدگاہ جایا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ رَمَضَانَ قَدْ فَرَّطَ فِيهِ
باب: کوتاہی سے میت کے رہ جانے والے روزوں کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1757]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمے ماہ رمضان کے روزے ہوں، تو اس کی طرف سے ہر دن (کے روزے) کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 23 (718)، (تحفة الأشراف: 8423) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں محمد بن سیرین کا ذکر وہم ہے، سنن ترمذی میں صرف ”محمد“ کا ذکر بغیر کسی نسبت کے ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ محمد سے میرے نزدیک ابن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں، اور اس حدیث کو ہم مرفوعاً اسی طریق سے جانتے ہیں، اور صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ 2056، وکامل ابن عدی 1؍365، اور محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں، حافظ ابن حجر کہتے ہیں: «صدوق سئی الحفظ جداً» ، صدوق ہیں، اور حافظہ بہت برا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (718)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ مِنْ نَذْرٍ
باب: میت کے نذر والے روزے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1758
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، وَالْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ:" أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟"، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ:" فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بہن کا انتقال ہو گیا، اور اس پہ مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ اگر تمہاری بہن پہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ادا کرتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا زیادہ اہم ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1758]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میری ہمشیرہ فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمے مسلسل دو ماہ کے روزے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: جی ہاں (ضرور ادا کرتی۔) آپ نے فرمایا: پھر اللہ کا حق (ادائیگی کا) زیادہ مستحق ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 42 (1953)، صحیح مسلم/الصیام 27 (1148)، سنن ابی داود/الأیمان 26 (3310)، سنن الترمذی/الصوم 22 (716)، (تحفة الأشراف: 5612، 5395، 5513، 9852، 5895، 9561، 6385، 6396، 6322)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 227، 258، 362)، سنن الدارمی/الصوم 49 (1809) لکن عندھم: أن أمي ماتت (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1759
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور اس پر روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1759]
حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک خاتون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہوگئی اور ان کے ذمے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 27 (1149)، سنن ابی داود/الزکاة 31 (1656)، الوصایا 12 (2877)، الإیمان 25 (3309)، سنن الترمذی/ الزکاة 31 (667)، (تحفة الأشراف: 1980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/351، 361) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علامہ ابن القیم فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے نذر کا روزہ رکھنا جائز ہے، اور فرض اصلی یعنی رمضان کا جائز نہیں، عبداللہ بن عباس اور ان کے اصحاب اور امام احمد کا یہی قول ہے اور یہ صحیح ہے کیونکہ فرض روزہ مثل نماز کے ہے، اور نماز کوئی دوسرے کی طرف سے نہیں پڑھ سکتا، اور نذر مثل قرض کے ہے تو میت کی طرف سے وارث کا ادا کرنا کافی ہو گا، جیسے اس کی طرف سے قرض ادا کرنا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ میت کی طرف سے ولی کا روزہ رکھنا اس وقت کافی ہو گا جب اس نے عذر سے صیام رمضان نہ رکھے ہوں، لیکن اگر بلا عذر کسی نے صیام رمضان نہ رکھے تو اس کی طرف سے ولی کا روزے رکھنا کافی نہ ہو گا جیسے میت کی طرف سے توبہ کرنا، یا اسلام لانا یا نماز ادا کرنا کافی نہیں ہے، اور ظاہر مضمون حدیث کا یہ ہے کہ ولی پر میت کی طرف سے روزہ رکھنا یا کھانا کھلانا واجب ہے خواہ میت نے وصیت کی ہو اس کی یا نہ کی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ: فِيمَنْ أَسْلَمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: جو رمضان میں اسلام لائے اس کے روزے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ /a>، قَالَ: حَدَّثَنَا وَفْدُنَا الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِ ثَقِيفٍ، قَالَ: وَقَدِمُوا عَلَيْهِ فِي رَمَضَانَ، فَضَرَبَ عَلَيْهِمْ قُبَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا صَامُوا مَا بَقِيَ عَلَيْهِمْ مِنَ الشَّهْرِ".
عطیہ بن سفیان کہتے ہیں کہ ہمارے اس وفد نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا، ہم سے بنو ثقیف کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا کہ بنو ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا، جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، تو رمضان کے جو دن باقی رہ گئے تھے، ان میں انہوں نے روزے رکھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1760]
حضرت عطیہ بن سفیان بن عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارا جو وفد بنو ثقیف کے اسلام لانے کی خبر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ لوگ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوا دیا، جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے ماہ رمضان کے باقی ایام کے روزے رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15644، ومصباح الزجاجة: 632) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عیسیٰ بن عبد اللہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس پر اتفاق ہے کہ کافر اگر رمضان میں مسلمان ہو تو جتنے دن رمضان کے باقی ہوں ان میں روزے رکھے، لیکن اگلے روزوں کی قضا اس پر لازم نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عيسي بن عبد اللّٰه: مقبول (تقريب: 5304) أي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده فيما أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت نفلی روزہ رکھے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1761
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر عورت رمضان کے علاوہ کسی دن (نفلی روزہ) نہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1761]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر رمضان کے علاوہ کسی دن کا روزہ نہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 65 (782)، (تحفة الأشراف: 13680)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 84 (5192)، صحیح مسلم/الزکاة 26 (1026)، سنن ابی داود/الصوم 74 (2458)، مسند احمد (2/245، 361)، سنن الدارمی/الصوم 20 (1761) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ أَنْ يَصُمْنَ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو منع فرمایا کہ وہ اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1762]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اپنے خاوندوں کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 4020، ومصباح الزجاجة: 633)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 74 (2459)، مسند احمد (3/80، 84)، سنن الدارمی/الصوم 20 (1760) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2459)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ: فِيمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلاَ يَصُومُ إِلاَّ بِإِذْنِهِمْ
باب: مہمان میزبان کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا نَزَلَ الرَّجُلُ بِقَوْمٍ، فَلَا يَصُومُ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی قوم کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1763]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کچھ لوگوں کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17341)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 70 (789) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (789)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ: فِيمَنْ قَالَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ
باب: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا ثواب میں صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1764
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأُمَوِيِّ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1764]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے والا شکر گزار، صبر کرنے والے روزے دار کے درجے میں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12294)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة 43 (2486) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں