🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. بَابُ: صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ
باب: ماہ شوال کے چھ روزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ".
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کا روزہ رکھا، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو وہ پورے سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1716]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھ لیے تو اس نے گویا زمانے بھر روزے رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 29 (1164)، سنن ابی داود/الصوم 58 (2433)، سنن الترمذی/الصوم 53 (759)، (تحفة الأشراف: 3482)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/417، 419)، سنن الدارمی/الصوم 44 (1795) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابٌ في صِيَامِ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: (فی سبیل اللہ) جہاد میں روزے رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1717
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد کے سفر میں ایک روز بھی روزہ رکھا، تو اللہ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1717]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے سے جہنم کو ستر سال کے فاصلے تک دور کر دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجہاد 36 (2840)، صحیح مسلم/الصوم 31 (1153)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 3 (1623)، سنن النسائی/الصیام 24 (2247، 2248)، (تحفة الأشراف: 4388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 26، 45، 59، 83)، سنن الدارمی/الجہاد 10 (2444) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «خریف» کی تفسیر میں اختلاف ہے اور دوسری روایت میں ستر سال کا ذکر ہے تو «خریف» سے وہی سال مراد ہوں گے یعنی جہنم سے وہ شخص ستر برس کے راستے کے بقدر دور ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1718
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد کے سفر میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1718]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کے فاصلے تک دور کر دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/فضائل الجہاد 3 (1622)، سنن النسائی/الصیام 24 (2246)، (تحفة الأشراف: 12970، ومصباح الزجاجة: 618)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/300، 357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن عبدالعزيز الليثي ضعيف واختلط بأخرة (تقريب:3444)
و قال الھيثمي: وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 89/7،362/9)
والحديث السابق (الأصل: 1717) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منیٰ کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1719]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منیٰ کے ایام کھانے پینے کے دن ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15044، ومصباح الزجاجة: 619)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 387) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (نیزملاحظہ ہو: الإرواء: 4/129)
وضاحت: ۱؎: منیٰ کے دن سے مراد تشریق کے دن یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ ہے، ایک روایت میں ہے کہ ان دنوں میں روزے مت رکھو، یہ دن کھانے پینے اور جماع کے ہیں، قرآن میں ایام معدودات سے یہی دن مراد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا، اور یہ (ایام تشریق) کھانے اور پینے کے دن ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1720]
حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ تشریق میں خطبہ ارشاد فرمایا، (اس خطبے کے دوران میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہو گی اور یہ ایام کھانے پینے کے دن ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2019، ومصباح الزجاجة: 620)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ 7 (4997)، مسند احمد (3/415، 4/335)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1807) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابٌ في النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کو روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1721]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 66 (1995)، صحیح مسلم/الصوم 22 (827)، (تحفة الأشراف: 4279)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 48 (2417)، سنن الترمذی/الصوم 58 (772)، مسند احمد (3/ 7، 34، 45، 51، 59، 62، 71، 77)، سنن الدارمی/الصوم 43 (194) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَيَوْمُ الْأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ".
ابوعبید (سعد بن عبید الزہری) کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید شروع کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر، دوسرے عید الاضحی، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے روزے سے افطار کا دن ہے، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1722]
حضرت ابو عبید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر تھا۔ امیر المومنین نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور (نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، یعنی عید الفطر کے دن اور عید الاضحیٰ کے دن۔ عید الفطر کا دن تو تمہارا روزوں سے فارغ ہونے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ کے دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 66 (1990)، صحیح مسلم/الصوم 22 (1137)، سنن ابی داود/الصوم 48 (2416)، سنن الترمذی/الصوم 58 (771)، (تحفة الأشراف: 10330، 10662)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین 2 (5)، مسند احمد (1/24، 34، 40) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابٌ في صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن کا روزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا بِيَوْمٍ قَبْلَهُ، أَوْ يَوْمٍ بَعْدَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں رکھا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1723]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس صورت کے کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھ لیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث أبي بکر بن أبي شیبہ عن حفص أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 63 (1985)، صحیح مسلم/الصوم 24 (1144)، وحدیث أبي بکر بن أبي شیبہ عن أبي معاویہ قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 24 (1144)، سنن ابی داود/الصوم 50 (2420)، سنن الترمذی/الصوم 42 (743)، (تحفة الأشراف: 12503)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/458) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ، أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ".
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
حضرت محمد بن عباد بن جعفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اس دوران میں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، قسم ہے اس گھر کے رب کی! [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 63 (1984)، صحیح مسلم/الصوم 24 (1143)، (تحفة الأشراف: 2586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/296، 312)، سنن الدارمی/الصوم 39 (1789) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" قَلَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ۱؎ (جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1725]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعے کا روزہ کم ہی چھوڑتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 68 (2450)، سنن الترمذی/الصوم 41 (742)، سنن النسائی/الکبری/الصوم90 (2758)، (تحفة الأشراف: 9206)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/406) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اوپر کی روایتوں میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی صراحت سے ممانعت آئی ہے، اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن اکثر روزہ سے رہتے تھے، اس میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے، یا یہ کہا جائے کہ ایام بیض میں جمعہ آ پڑے تو آپ جمعہ کو بھی روزہ رکھ لیتے تھے، یا آپ جمعہ کو ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر روزہ رکھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں