سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
باب: ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ، وَيَقُولُ: هُوَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ، أَوْ كَهَيْئَةِ صَوْمِ الدَّهْرِ".
منہال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزہ کے رکھنے کا حکم دیتے تھے یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں تاریخ کے روزے کا، اور فرماتے: ”یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مثل ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1707]
حضرت منہال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایامِ بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو اور فرماتے تھے: ”یہ ہمیشہ کے روزوں کی طرح ہے، یا ہمیشہ کے روزوں کی سی کیفیت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 68 (2449)، سنن النسائی/الصیام 51 (2432، 2433، 2434)، (تحفة الأشراف: 11071)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/165، 5/27، 28) (صحیح لغیرہ)»
وضاحت: ۱؎: ایام بیض کے روزے سے مراد ہجری مہینوں کی تیرھویں چودھویں اور پندرہویں تاریخ کے روزے ہیں انھیں ایام بیض اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان تاریخوں کی راتیں روشن ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2449) نسائي (2432-2434)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2449) نسائي (2432-2434)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
حدیث نمبر: 1707M
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَتَادَةَ بْنِ مَلْحَانَ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: أَخْطَأَ شُعْبَةُ، وَأَصَابَ هَمَّامٌ.
اس سند سے بھی قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں شعبہ نے غلطی کی ہے، اور ہمام نے صحیح طرح سے روایت کی ہے، ”عبدالملک بن منہال“ کے بجائے صحیح عبدالملک بن قتادہ بن ملحان ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1707M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160 فَالْيَوْمُ بِعَشْرَةِ أَيَّامٍ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہر مہینہ تین دن روزہ رکھا تو گویا اس نے ہمیشہ روزہ رکھا“ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی تصدیق نازل فرمائی: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» (جو کوئی ایک نیکی کرے اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی) تو ایک روزے کے دس روزے ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1708]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھے تو یہی ہمیشہ کے روزے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی تائید نازل فرما دی: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوا، اس کے لیے اس کا دس گنا (ثواب) ہے۔“ چنانچہ ایک دن (کے روزے) سے دس دن کا ثواب ملتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 54 (762)، سنن النسائی/الصیام 50 (2411)، (تحفة الأشراف: 11967)، مسند احمد (5/145) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (762) نسائي (2411)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
إسناده ضعيف
ترمذي (762) نسائي (2411)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے، معاذہ عدویہ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: کون سے تین دنوں میں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروا نہیں کرتے تھے جو بھی تین دن ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1709]
حضرت معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین روزے رکھتے تھے۔“ (معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا) میں نے کہا: ”مہینے کے کس حصے میں؟“ انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سے حصے میں (روزے رکھے) ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 36 (1160)، سنن ابی داود/الصوم 70 (2453)، سنن الترمذی/الصوم 54 (763)، سنن النسائی/الصوم 51 (2417)، (تحفة الأشراف: 17966) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
30. بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1710
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَامَ مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے جائیں گے، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھیں گے ہی نہیں، اور میں نے آپ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ سوائے چند روز کے پورے شعبان روزے رکھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1710]
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے کہ اب تو آپ روزے ہی رکھتے جائیں گے، اور روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب تو آپ نے روزے چھوڑ ہی دیے ہیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ آپ (تقریباً) پورا شعبان ہی روزے رکھ لیتے تھے۔ آپ چند دن کے سوا ماہ شعبان کے (سارے) روزے رکھ لیتے تھے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، سنن النسائی/الصوم 19 (2179)، (تحفة الأشراف: 17729)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 52 (1969)، سنن ابی داود/الصوم 59 (2434)، سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، موطا امام مالک/الصیام 22 (56)، مسند احمد (6/39، 80، 84، 89، 107، 128، 143، 153، 165، 179، 233، 242، 249، 268) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شعبان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کثرت سے روزے رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اس مہینے میں انسان کے اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں، تو آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آپ کے اعمال اللہ کے پاس حالت روزے میں پیش ہوں، اور چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے یہ روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتے تھے اس لیے پندرہویں شعبان کے بعد بھی آپ کے لیے روزہ رکھنا جائز تھا، اس کے برخلاف امت کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزے نہ رکھے تاکہ رمضان کے روزوں کے لیے قوت و توانائی برقرار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے چھوڑیں گے ہی نہیں، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے رکھیں گے ہی نہیں، اور جب سے آپ مدینہ آئے آپ نے رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کا روزہ لگاتار نہیں رکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1711]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے حتی کہ ہم کہتے: ”آپ افطار نہیں کریں گے۔“ اور افطار کرتے حتی کہ ہم کہتے: ”آپ روزے نہیں رکھیں گے،“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ تشریف لائے، آپ نے رمضان کے سوا کبھی مسلسل ایک مہینہ روزے نہیں رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 53 (1971)، صحیح مسلم/الصوم 34 (1157)، سنن الترمذی/الشمائل 42 (283)، سنن النسائی/الصیام 41 (2348)، (تحفة الأشراف: 5447)، مسند احمد (1/227، 231، 241، 301، 321)، سنن الدارمی/الصوم 36 (1784) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
31. بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: داود علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1712
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيُصَلِّي ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ".
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، آپ آدھی رات سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1712]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلام والا روزہ ہے۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو نماز پسند ہے وہ داؤد علیہ السلام کی نماز ہے۔ آپ آدھی رات تک سوتے اور تہائی رات میں نماز پڑھتے اور رات کا چھٹا حصہ سو رہتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 7 (1131)، أحادیث الأنبیاء 38 (3420)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن ابی داود/الصیام 67 (2448)، سنن النسائی/قیام اللیل 13 (1631)، الصیام 40 (2346)، (تحفة الأشراف: 8897)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 57 (770)، سنن الدارمی/الصوم 42 (1793) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1713
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ:" وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ:" ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ"، قَالَ: كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟، قَالَ:" وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، پھر انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1713]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزے رکھے اور ایک دن چھوڑ دے تو اس کا یہ معمول کیسا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! جو شخص ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن چھوڑے اس کا یہ معمول کیسا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ انہوں نے کہا: ”جو شخص ایک دن روزہ رکھے اور دو دن چھوڑے اس کا یہ معمول کیسا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا جی چاہتا ہے کہ میں یہ معمول اختیار کر سکوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 36 (1162)، سنن ابی داود/الصوم 53 (2425، 2426)، سنن الترمذی/الصوم 46 (749)، 48 (752)، 56 (767)، سنن النسائی/الصیام 42 (2385)، (تحفة الأشراف: 12117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/295، 296، 299، 303، 308، 310) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک دن روزہ، اور دو دن افطار کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پسند کیا کیونکہ اس میں افطار غالب اور روزہ کم ہے، تو کمزوری لاحق ہونے کا بھی ڈر نہیں ہے، اور یہ فرمایا: ”مجھے یہ پسند ہے کہ مجھ کو اس کی طاقت ہوتی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ کی طاقت تھی، آپ صوم وصال رکھا کرتے تھے، مگر آپ کو اپنی بیویوں کے حقوق کا بھی خیال تھا، اور دوسرے کاموں کا بھی، اس لحاظ سے زیادہ روزے نہیں رکھ سکتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
32. بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: نوح علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1714
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" صَامَ نُوحٌ الدَّهْرَ إِلَّا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ الْأَضْحَى".
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ ہمیشہ روزہ رکھا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1714]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”نوح علیہ السلام عید الفطر کا دن اور عید الاضحیٰ کا دن چھوڑ کر ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8949، ومصباح الزجاجة: 616)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/280) (ضعیف)» (اس میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی 459)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لضعف ابن لهيعة ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لضعف ابن لهيعة ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
33. بَابُ: صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ
باب: ماہ شوال کے چھ روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1715
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذَّمَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، كَانَ تَمَامَ السَّنَةِ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ، فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا“ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» یعنی ”جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1715]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے، اس کے پورے سال کے روزے ہو گئے۔ ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جو شخص نیکی کرے، اس کے لیے اس کا دس گنا ثواب ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2107، ومصباح الزجاجة: 617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/280)، سنن الدارمی/الصوم 44 (1796) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو رمضان کے تیس روزے اور ۶ عید کے کل ۳۶ ہوئے، دس سے ضرب دینے میں ۳۶۰ روزے ہوتے ہیں، اور سال کے اتنے ہی دن ہیں، پس گویا اس نے سال بھر روزے رکھے، سبحان اللہ حق تعالی کی اپنے ناتواں بندوں پر کیا عنایت ہے، اب اختلاف ہے کہ یہ روزے عید کے بعد ہی رکھنا شروع کرے اور شوال کی سات تاریخ تک پورے کرلے، یا شوال کے مہینہ میں جب چاہے رکھ لے؟ مسلسل یا الگ الگ دن میں، ہر طرح جائز ہے، ہر حال میں سال بھر کے روزوں کا ثواب حاصل ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح