🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ: مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ وَالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار کے مسواک کرنے اور سرمہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1677
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل الْمُؤَدِّبُ ، عَنِ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1677]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل مسواک بھی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17630، ومصباح الزجاجة: 607) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں مجالد ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: روزے دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے، کسی بھی وقت میں ہو، شروع دن میں یا اخیر دن میں، بلکہ سنت ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، بعض لوگوں نے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ سمجھا ہے اس وجہ سے کہ اس کے ذریعہ منہ کی بو ختم ہو جائے گی، جس کی فضیلت حدیث میں آئی ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ اس بو کا تعلق منہ سے نہیں، بلکہ معدہ سے ہے، جو معدہ کے خالی ہونے کی حالت میں پیدا ہوتی ہے اسی کو عربی میں «خلوف» کہتے ہیں جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مجالد: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1678
حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" اكْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1678]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں سرمہ لگایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16906، ومصباح الزجاجة: 608) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن عبد الجبار الزبيدي: ضعيف،كا ن جرير يكذبه (تقريب: 2343)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار کے پچھنا لگوانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1679
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، وَدَاوُدُ بْنُ رَشِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1679]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے نے روزہ کھول دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12417، ومصباح الزجاجة: 609) (صحیح)» ‏‏‏‏ (عبد اللہ بن بشر کا سماع اعمش سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث تواتر کے درجے کو پہنچی ہوئی ہے، اور اس بارے میں نص ہے کہ پچھنا (سینگی) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اکثر فقہائے حدیث جیسے احمد، اسحاق بن راہویہ، ابن خزیمہ اور ابن المنذر کا یہی مذہب ہے، اور اسی کو محققین علماء جیسے شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم نے اختیار کیا ہے، اور یہ مذہب صحیح اور قیاس کے موافق ہے، حجامت قے کی طرح ہے، اور جب کوئی عمداً قے کرے تو قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور جمہور علماء اس کے جواز کے قائل ہیں اور اس حدیث کی تاویل میں ان کے مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ «أفطر الحاجم والمحجوم» کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو افطار کے لیے پیش کر دیا ہے بلکہ قریب پہنچ گئے ہیں، جسے سینگی لگائی گئی وہ ضعف و کمزوری کی وجہ سے اور سینگی لگانے والا اس لیے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کہ جب وہ خون چوس رہا ہو تو خون کا قطرہ حلق میں چلا جائے اور روزہ ٹوٹ جائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ناسخ انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جسے دارقطنی نے روایت کیا ہے: «رخص النبي بعد في الحجامة للصائم وكان أنس يحتجم وهو صائم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1680
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1680]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے نے روزہ کھول دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 28 (2367)، (تحفة الأشراف: 2104)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/277، 280، 282، 283)، سنن الدارمی/الصیام 36 (1774) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1681
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ، فَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ".
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1681]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام بقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو سینگی لگوا رہا تھا، اس وقت رمضان کی اٹھارہ راتیں گزر چکی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے نے روزہ کھول دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 28 (2368)، (تحفة الأشراف: 4823)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/123، 124، 125)، سنن الدارمی/الصوم 26 (1771) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں یحییٰ بن أبی کثیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن سابقہ حدیث تقویت پاکر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 4/68/70 و صحیح أبی داود: 2050- 2051)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1682
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ روزے سے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1682]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الحج 36 (1835)، سنن الترمذی/الحج 22 (839)، (تحفة الأشراف: 6495)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1835)، الصوم 32 (1938)، الطب 12 (5695)، 15 (5700)، صحیح مسلم/الحج 11 (1202)، سنن النسائی/الحج 92 (2849)، مسند احمد (1/215، 221، 236، 248، 249، 260، 283، 286، 292، 306، 315، 333، 346، 351، 372، 374)، سنن الدارمی/المناسک 20 (1860)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3081) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صوم اور احرام دونوں حالتوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بچھنا لگوانا ثابت ہے،صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: «'احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ وَاحْتَجَمَ وَ هُوَ محْرِمٌ» (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ واحتجم وهو محرم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2373) ترمذي (777) والحديث الآتي (3081)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1683
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1683]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان میں (روزے کی حالت میں) بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، سنن ابی داود/الصوم 33 (2383)، سنن الترمذی/الصوم 31 (727)، الصوم 21 (1763)، (تحفة الأشراف: 17423)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 24 (1928)، موطا امام مالک/الصیام 6 (18)، مسند احمد (6/30)، سنن الدارمی/المقدمة 53 (698) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے لیکن یہ ایسے شخص کے لیے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور جسے اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس کے لیے یہ رعایت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1684
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1684]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے، اور تم میں سے کسے اپنی خواہش پر اتنا قابو ہو سکتا ہے جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر قابو حاصل تھا؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، الصوم 21 (1763)، (تحفة الأشراف: 17540)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 23 (1927)، سنن ابی داود/الصوم 33 (2383)، سنن الترمذی/الصوم32 (729)، موطا امام مالک/الصیام 6 (18)، مسند احمد (6/44)، سنن الدارمی/المقدمہ 53 (698) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
حضرت ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1107)، (تحفة الأشراف: 15798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/286) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1686
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضِّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا صَائِمَانِ؟، قَالَ: قَدْ أَفْطَرَا".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1686]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی سیدتنا میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اگر مرد اپنی بیوی کا بوسہ لے لے جبکہ ان دونوں کا روزہ ہو (تو کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں نے روزہ کھول دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18090، ومصباح الزجاجة: 610) وقد أخرجہ: مسند احمد (6/463) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں زید بن جبیر ضعیف اور ان کے شیخ ابو یزید الضنی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو يزيد: مجهول (تقريب: 8451)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں