🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الإِفْطَارِ
باب: افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1697
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، ہمیشہ خیر میں رہیں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1697]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک روزہ جلدی کھولتے رہیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 9 (1098)، (تحفة الأشراف: 4722)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 45 (1957)، سنن الترمذی/الصوم 13 (699)، موطا امام مالک/الصیام 3 (6)، سنن الدارمی/الصوم 11 (1741) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے میں دیر نہ کریں گے تو ہمیشہ خیر میں رہیں گے، یہ مطلب نہیں ہے کہ وقت سے پہلے ہی روزہ کھول دیں۔
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1698
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ، عَجِّلُوا الْفِطْرَ فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1698]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک روزہ جلدی کھولتے رہیں گے۔ روزہ جلدی کھولا کرو کیونکہ یہودی دیر کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15090، ومصباح الزجاجة: 614)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم20 (2353)، مسند احمد (2/450) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: مَا جَاءَ عَلَى مَا يُسْتَحَبُّ الْفِطْرُ
باب: کن چیزوں سے افطار مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ فَإِنَّهُ طَهُورٌ".
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے، اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1699]
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی روزہ کھولے تو اسے چاہیے کہ خشک کھجور سے روزہ کھولے، اگر (کھجور) نہ ملے تو پانی سے روزہ کھول لے، کیوں کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 21 (2355)، سنن الترمذی/الصوم 10 (695)، (تحفة الأشراف: 4486)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/18، 214)، سنن الدارمی/الصوم 12 (1743) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (رسول اکرم ﷺ کا عمل صحیح و ثابت ہے، اور قول ضعیف ہے، تراجع الألبانی: رقم: 132)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ وَالْخِيَارِ فِي الصَّوْمِ
باب: فرض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات سے روزے کا پختہ ارادہ نہ کرے، اس کا کوئی روزہ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 71 (2454)، سنن الترمذی/الصوم 33 (730)، سنن النسائی/الصیام 39 (2333،)، (تحفة الأشراف: 15802)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام2 (5)، مسند احمد (6/278)، سنن الدارمی/الصوم 10 (1740) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: روزہ دار کے لیے رات میں نیت کرنے کا یہ حکم فرض اور قضا و کفارہ کے روزے کے سلسلہ میں ہے، نفلی صیام کے لئے رات میں نیت ضروری نہیں جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے جو نیچے آگے رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333)
الزھري مدلس وعنعن
وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر ‘‘ موقوف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟"، فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ:" إِنِّي صَائِمٌ" فَيُقِيمُ عَلَى صَوْمِهِ، ثُمَّ يُهْدَى لَنَا شَيْءٌ فَيُفْطِرُ، قَالَتْ: وَرُبَّمَا صَامَ وَأَفْطَرَ، قُلْتُ: كَيْفَ ذَا؟، قَالَتْ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا، مَثَلُ الَّذِي يَخْرُجُ بِصَدَقَةٍ فَيُعْطِي بَعْضًا وَيُمْسِكُ بَعْضًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور پوچھتے: کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ ہم کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے: میں روزے سے ہوں، اور اپنے روزے پر قائم رہتے، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے، اور کبھی کھول دیتے، میں نے پوچھا: یہ کیسے؟ تو کہا: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1701]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے اور فرماتے: کیا آپ لوگوں کے پاس کوئی (کھانے کی) چیز ہے؟ ہم کہتے: نہیں، تو فرماتے: میرا روزہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھے رہتے۔ پھر ہمیں ہدیہ کے طور پر کوئی چیز مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑ دیتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات روزہ رکھتے اور (بعض اوقات) کھول دیتے۔ (مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا:) میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص صدقہ (دینے کے لیے رقم) نکالتا ہے، پھر (اس میں سے) کچھ (کسی مستحق کو) دے دیتا ہے اور کچھ اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17578)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 32 (1154)، سنن ابی داود/الصوم 72 (2455)، سنن الترمذی/الصوم 35 (734)، سنن النسائی/الصوم 39 (2327)، مسند احمد (6/49، 207) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر دعوت ہو یا عمدہ کھانا سامنے آ جائے، یا کوئی دوست کھانے کے لئے اصرار کرے تو نفلی روزہ توڑ ڈالے، یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ
باب: روزے کا ارادہ رکھتے ہوئے صبح تک جنبی رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1702
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، مَا أَنَا قُلْتُ: مَنْ أَصْبَحَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيُفْطِرْ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رب کعبہ کی قسم! یہ بات کہ کوئی جنابت کی حالت میں صبح کرے تو روزہ توڑ دے، میں نے نہیں کہی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1702]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! یہ بات میں (اپنی طرف سے) نہیں کہتا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: جسے جنابت کی حالت میں صبح ہو جائے، وہ روزہ چھوڑ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13583، ومصباح الزجاجة: 1702)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 22 (1926)، صحیح مسلم/الصیام 13 (1109)، موطا امام مالک/الصیام 4 (9)، مسند احمد (2/248، 286) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حکم یا تو منسوخ ہے یا مرجوح کیونکہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فجر پا لیتی اور آپ اپنی بیوی سے جماع کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے نہ کہ احتلام کی وجہ سے، پھر طلوع فجر کے بعد غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے، اور صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو انھوں نے اس سے رجوع کر لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1703
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ جُنُبًا، فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ، فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَدُّرِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ"، قَالَ مُطَرِّفٌ: فَقُلْتُ لِعَامِرٍ: أَفِي رَمَضَانَ؟، قَالَ: رَمَضَانُ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی۔ مطرف کہتے ہیں: میں نے عامر سے پوچھا: کیا ایسا رمضان میں ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1703]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت جنابت کی حالت پیش آ جاتی تھی، (صبح ہونے پر) حضرت بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہو کر نماز کا وقت ہو جانے کی اطلاع دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل فرما لیتے (غسل سے فارغ ہونے پر) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی ٹپکتا دیکھتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جاتے اور میں فجر کی نماز میں آپ کی (تلاوت کی) آواز سنتی۔ (سند کے ایک راوی) مطرف رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام عامر شعبی رحمہ اللہ سے کہا: کیا رمضان میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے؟) انہوں نے فرمایا: رمضان اور غیر رمضان برابر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17622)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 22 (1925)، صحیح مسلم/الصوم 13 (1109)، سنن ابی داود/الصوم 36 (2388)، سنن الترمذی/الصوم 63 (779)، موطا امام مالک/الصیام 4 (11)، مسند احمد (1/211، 6/34، 36، 38، 203، 213، 216، 229، 266، 278، 289، 290، 308)، سنن الدارمی/الصوم 22 (1766) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1704
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ يُرِيدُ الصَّوْمَ؟، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنَ الْوِقَاعِ لَا مِنِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صَوْمَهُ".
نافع کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو جنابت کی حالت میں صبح کرے، اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے، اور آپ کی جنابت جماع سے ہوتی نہ کہ احتلام سے، پھر غسل کرتے اور اپنا روزہ پورا کرتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1704]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اگر آدمی کو جنابت کی حالت میں صبح ہو جائے اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو (تو کیا حکم ہے؟) ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس حال میں صبح ہو جاتی تھی کہ آپ کو خواب کی وجہ سے نہیں، بلکہ مباشرت کی وجہ سے غسل کی حاجت ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے اپنا روزہ مکمل فرما لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18218) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ الدَّهْرِ
باب: ہمیشہ روزے رکھنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1705
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے نہ تو روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1705]
حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصیام 42 (2382)، (تحفة الأشراف: 5350)، مسند احمد (4/25)، سنن الدارمی/الصوم 37 (1785) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1706
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس کا روزہ ہی نہیں ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1706]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ رکھا ہی نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التہجد 20 (1153)، الصیام 57 (1977)، 59 (1979)، أحادیث الأنبیاء 35 (3419)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، سنن الترمذی/الصیام 57 (770)، سنن النسائی/الصیام 41 (2379)، (تحفة الأشراف: 8635)، وقد أخرجہ: 2/164، 188، 190، 195، 212، 321) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں