🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاَثٍ
باب: مقتول کے ورثاء کو تین باتوں میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2624
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی شخص قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، یا تو وہ قاتل کو قصاص میں قتل کر دے، یا فدیہ لے لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2624]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی (قریبی رشتے دار) آدمی قتل ہو جائے تو اسے دو ایک جیسی چیزوں میں سے ایک کے انتخاب کا حق حاصل ہے: یا (قاتل کو) قتل کر لے، یا فدیہ (دیت) لے لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 39 (112)، اللقطة 7 (2434)، الدیات 8 (6880)، صحیح مسلم/الحج 82 (1355)، سنن ابی داود/الدیات 4 (4505)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1405)، سنن النسائی/القسامة 24 (4789، 4790)، (تحفة الأشراف: 15383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/238) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک تیسری بات یہ ہے کہ معاف کر دے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اسرائیل میں قصاص تھا لیکن دیت نہ تھی، تو اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری: «كتب عليكم القصاص في القتلى» (سورة البقرة: 178) مسلمانوں قتل میں تمہارے اوپر قصاص فرض کیا گیا ہے اور قصاص کے بارے میں فرمایا: «ولكم في القصاص حياة» (سورة البقرة: 179) تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے غرض ان آیات و احادیث سے قصاص ثابت ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: مَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَرَضُوا بِالدِّيَةِ
باب: قتل عمد میں مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2625
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي وَعَمِّي وَكَانَا شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَهُوَ سَيِّدُ خِنْدِفٍ يَرُدُّ عَنْ دَمِ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ وَقَامَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ يَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ وَكَانَ أَشْجَعِيًّا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَقْبَلُونَ الدِّيَةَ"، فَأَبَوْا، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ: مُكَيْتِلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا شَبَّهْتُ هَذَا الْقَتِيلَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَغَنَمٍ وَرَدَتْ، فَرُمِيَتْ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ خَمْسُونَ فِي سَفَرِنَا، وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا" فَقَبِلُوا الدِّيَةَ.
زید بن ضمیرہ کہتے ہیں کہ میرے والد اور چچا دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ان دونوں کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے، تو قبیلہ خندف کے سردار اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، وہ محکلم بن جثامہ سے قصاص لینے کو روک رہے تھے، عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ اٹھے، وہ عامر بن اضبط اشجعی کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے ۱؎، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم دیت (خون بہا) قبول کرتے ہو؟ انہوں نے انکار کیا، پھر بنی لیث کا مکیتل نامی شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! اسلام کے شروع زمانے میں یہ قتل میں ان بکریوں کے مشابہ سمجھتا تھا جو پانی پینے آتی ہیں، پھر جب آگے والی بکریوں کو تیر مارا جاتا ہے تو پیچھے والی اپنے آپ بھاگ جاتی ہیں، ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پچاس اونٹ (دیت کے) ابھی لے لو، اور بقیہ پچاس مدینہ لوٹنے پر لے لینا، لہٰذا انہوں نے دیت قبول کر لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2625]
زیاد بن سعد بن ضمیرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد (سعد بن ضمیرہ رضی اللہ عنہ) اور میرے چچا نے حدیث سنائی۔ یہ دونوں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے، ان دونوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ قبیلہ خندف کے سردار اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور محلم بن جثامہ کے قتل کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ بھی حاضر خدمت ہو کر قبیلہ اشجع کے فرد عامر بن اضبط کے قصاص کا مطالبہ کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: کیا تم دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہو؟ انہوں نے انکار کیا۔ قبیلہ بنو لیث کا ایک آدمی جسے مکیتل کہتے تھے، اس نے اٹھ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم میں تو اسلام کے شروع زمانے کے اس مقتول کی مثال اس طرح سمجھتا ہوں جیسے بکریوں کا ریوڑ پانی پینے آیا، اس کو کنکر مارا گیا تو ریوڑ کا پچھلا حصہ بھاگ اٹھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ہمارے اس سفر میں پچاس اونٹ مل جائیں گے اور پچاس واپسی پر مل جائیں گے۔ اس پر ان لوگوں نے دیت لینا منظور کر لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4503)، (تحفة الأشراف: 3824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/112، 6/10) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں زید بن ضمیرہ مقبول ہیں، لیکن متابعت نہ ہونے سے سند ضعیف ہے)
وضاحت: ۱؎: محلم بن جثامہ نے قبیلہ اشجع کے عامر بن اضبط کو مار ڈالا تھا، تو اقرع رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ محلم سے قصاص نہ لیا جائے اور عیینہ رضی اللہ عنہ قصاص پر زور دیتے تھے۔
۲؎: اس تشبیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر (بشرط صحت حدیث) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو اس سے بہت بڑا دوسرا فساد اٹھ کھڑا ہوتا، مسلمان آپس میں لڑنے لگتے تو اس کا بندوبست ایسا ہوا جیسے بکریوں کا گلہ پانی پینے کو چلا لیکن آگے کی بکریوں کو مار کر وہاں سے ہٹا دیا گیا تو پیچھے کی بھی بکریاں بھاگ گئیں، اگر نہ مارتا تو پھر سب چلی آتیں، اسی طرح اگر آپ اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہو جاتے اور فساد عظیم ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ عَمْدًا، دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَذَلِكَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً کسی کو قتل کر دیا، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں، اور چاہیں تو دیت لے لیں، دیت (خوں بہا) میں تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، قتل عمد کی دیت یہی ہے، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا، اور سخت دیت یہی ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2626]
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر قتل کیا، اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو (قصاص کے طور پر) قتل کر دیں، چاہیں تو دیت لے لیں۔ اور دیت کی مقدار تین سالہ تیس اونٹنیاں، اور چار سالہ تیس اونٹنیاں اور چالیس حاملہ اونٹنیاں (کل تعداد سو) ہے۔ یہ قتلِ عمد کی دیت ہے۔ اگر (اس سے کم) کسی مقدار پر صلح ہو جائے تو انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ اور یہ سخت (مغلظہ) دیت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1387)، (تحفة الأشراف: 8708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 182، 183، 184، 185، 186) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «حقہ» یعنی وہ اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں داخل ہو گئی ہو۔ «جذعہ» : یعنی وہ اونٹنی جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں داخل ہو گئی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: دِيَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةً
باب: قتل عمد کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل میں دیت سخت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2627
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَرْبَعُونَ مِنْهَا خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمداً و قصداً قتل کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل کیا جانے والا وہ ہے جو کوڑے یا ڈنڈے سے مر جائے، اس میں سو اونٹ دیت (خون بہا) کے ہیں جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2627]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلطی سے ہو جانے والا جو قتل ارادتاً کیے جانے والے قتل کے مشابہ ہو، یعنی کوڑے یا ڈنڈے (کی ضرب) سے قتل ہو جائے (اس کی دیت) سو اونٹ ہیں۔ ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 27 (4795)، (تحفة الأشراف: 8911)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات 19 (4547، 4548)، مسند احمد (1/164، 166)، سنن الدارمی/الدیات 22 (2428) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اصل دیت سو اونٹ، یا سو گائے، یا دو ہزار بکریاں، یا ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم، یا دو سو جوڑے کپڑے ہیں، لیکن بعض جرائم میں یہ دیت سخت کی جاتی ہے، اسی کو دیت مغلظہ کہتے ہیں، وہ یہ کہ مثلاً سو اونٹوں میں چالیس حاملہ اونٹیاں ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2627M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2627M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 19 (4547)، سنن النسائی/القسامة 27 (4797)، (تحفة الأشراف: 8889)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2628
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ سَمِعَهُ مِنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا: فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَدَمٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ، أَلَا إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهُمَا لِأَهْلِهِمَا كَمَا كَانَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوئے، اللہ کی تعریف کی، اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور کفار کے گروہوں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی، آگاہ رہو! غلطی سے قتل ہونے والا وہ ہے جو کوڑے اور لاٹھی سے مارا جائے، اس میں (دیت کے) سو اونٹ لازم ہیں، جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ان کے پیٹ میں بچے ہوں، خبردار! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور اس میں جو بھی خون ہوا ہو سب میرے ان پیروں کے تلے ہیں ۱؎ سوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے، سن لو! میں نے ان دونوں چیزوں کو انہیں کے پاس رہنے دیا ہے جن کے پاس وہ پہلے تھے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2628]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اسی اکیلے نے (دشمنوں کی) تمام جماعتوں کو شکست دی۔ سنو! قتلِ خطا کی صورت میں، یعنی کوڑے اور لاٹھی سے مرنے والے کی دیت (خون بہا) سو اونٹ ہیں۔ ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔ سنو! دورِ جاہلیت میں جو بھی چیزیں قابلِ فخر سمجھی جاتی تھیں اور جاہلیت میں واقع ہونے والے خون (وہ سب) میرے ان دو قدموں کے نیچے ہیں، سوائے کعبہ شریف کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے منصب کے۔ میں انہیں ان کے ذمہ داروں کے لیے اسی طرح قائم رکھتا ہوں جس طرح وہ پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 19 (4549)، سنن النسائی/القسامة 27 (4797)، (تحفة الأشراف: 7372) (حسن)» ‏‏‏‏ (ابن جدعان ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 7/257)
وضاحت: ۱؎: یعنی لغو ہیں اور ان کا کوئی اعتبار نہیں۔
۲؎: چنانچہ کعبہ کی کلید برداری بنی شیبہ کے پاس اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمے داری بنی عباس کے پاس حسب سابق رہے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4549) نسائي (4803)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2629
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے بارہ ہزار درہم مقرر کئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2629]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی مقدار بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4546)، سنن النسائی/القسامة 29 (4807)، سنن الترمذی/الدیات 2 (1388، 1389)، (تحفة الأشراف: 6165)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات 11 (4808) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2245)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: دِيَةِ الْخَطَإِ
باب: قتل خطا کی دیت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2630
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قُتِلَ خَطَأً، فَدِيَتُهُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَثَلَاثُونَ حِقَّةً وَعَشَرَةٌ بَنِي لَبُونٍ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ، وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَزْمَانِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ ثَمَنَهَا، وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ، فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاءِ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے مارا جائے اس کا خون بہا تیس اونٹنیاں ہیں، جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں، اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گاؤں والوں پر دیت (خون بہا) کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی، اور چاندی کے حساب سے آٹھ ہزار درہم ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں (دیت میں) لی جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2630]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے قتل ہو جائے اس کی دیت تیس «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنیاں)، تیس «بِنْتُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹنیاں)، تیس «حِقَّةٌ» (تین سالہ اونٹنیاں) اور دس «ابْنُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹ) ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر والوں کے لیے اس کا اندازہ چار سو دینار یا اس کی ہم قیمت چاندی مقرر فرماتے تھے۔ نقد رقم کا یہ تعین اونٹوں (کے مہنگے یا سستے ہونے) کے زمانے کے مطابق ہوتا تھا۔ جب اونٹ مہنگے ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیمت (دیت کی نقد رقم) میں اضافہ فرما دیتے۔ اور جب سستے ہو جاتے تو ان کی قیمت (کی مقرر مقدار) میں کمی کر دیتے، اس وقت جیسی بھی کیفیت ہوتی (اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کی قیمت چار سو اور آٹھ سو دینار کے درمیان رہی یا اس کے برابر چاندی، یعنی آٹھ ہزار درہم، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جس شخص کی دیت گایوں والے کے ذمے گایوں میں (واجب الادا) ہو تو دو سو گائیں (ادا کی جائیں) اور جس شخص کی دیت بکریوں والوں کے ذمے بکریوں میں (واجب الادا) ہو تو (اس کی دیت کے طور پر) دو ہزار بکریاں ادا کی جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 4 (4506)، سنن النسائی/القسامة 27 (4805)، (تحفة الأشراف: 8709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2631
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل (غلطی سے قتل) کی دیت بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے سال میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے سال میں لگ گئی ہوں، اور بیس اونٹ ہیں جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے سال میں لگ گئے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2631]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتلِ خطا کی دیت بیس «حِقَّے» (تین سالہ اونٹنیاں)، بیس «جَذَعے» (چار سالہ اونٹنیاں)، بیس «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنیاں)، بیس «بِنْتُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹنیاں) اور بیس مذکر «اِبْنُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹ) ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4545)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1386)، سنن النسائی/القسامة 28 (4806)، (تحفة الأشراف: 9198)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 450)، سنن الدارمی/الدیات 13 (2412) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور زید بن جبیر متکلم فیہ راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4545) ترمذي (1386) نسائي (4806)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2632
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ وَمَا نَقَمُوا إِلا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة التوبة آية 74 قَالَ: بِأَخْذِهِمُ الدِّيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر فرمائی، اور فرمان الٰہی «وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله» (سورۃ التوبہ: ۷۴) کفار اسی بات سے غصہ ہوئے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے انہیں مالدار کر دیا کا یہی مطلب ہے کہ دیت لینے سے ان (مسلمانوں) کو مالدار کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2632]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی مقدار بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [سورة التوبة: 74] کا یہی مطلب ہے: یہ صرف اس بات سے ناراض ہو رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے دولت مند کر دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یعنی انہوں نے دیت وصول کی (اور اس طرح دولت مند ہو گئے اس کے بعد بجائے شکر گزاری کا راستہ اختیار کرنے کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا راستہ اختیار کیا۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر رقم: (2629) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں