سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: هَلْ يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ
باب: کیا آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 2663
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے، اور جس نے اس کی ناک کاٹی ہم اس کی ناک کاٹیں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2663]
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام کو قتل کیا، ہم اسے قتل کر دیں گے، اور جس نے غلام کے ناک کان کاٹے، ہم بھی اس کے ناک کان کاٹ دیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 7 (4515، 4516، 4517)، سنن الترمذی/الدیات 18 (1414)، سنن النسائی/القسامة 6 (4740)، 7 (4743)، 12 (4757)، (تحفة الأشراف: 4586، ومصباح الزجاجة: 936)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/10، 11، 12)، سنن الدارمی/الدیات 7 (2403) (ضعیف)» (حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نہیں سنی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَا:" قَتَلَ رَجُلٌ عَبْدَهُ عَمْدًا مُتَعَمِّدًا، فَجَلَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، وَنَفَاهُ سَنَةً وَمَحَا سَهْمَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے مارے، ایک سال کے لیے جلا وطن کیا، اور مسلمانوں کے حصوں میں سے اس کا حصہ ختم کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2664]
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک آدمی نے جان بوجھ کر اپنے غلام کو عمداً قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سو کوڑے لگوائے، اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا اور مسلمانوں (کے مال غنیمت) میں سے اس کا حصہ ختم کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8663، 10022، ومصباح الزجاجة: 938) (ضعیف جدا)» (سند میں اسحاق بن عبد اللہ متروک راوی ہے، اور اسماعیل بن عیاش غیر شامیوں سے روایت میں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
إسحاق بن أبي فروة: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
إسناده ضعيف جدًا
إسحاق بن أبي فروة: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
24. بَابُ: يُقْتَادُ مِنَ الْقَاتِلِ كَمَا قَتَلَ
باب: قاتل سے قصاص اسی طرح لیا جائے گا جس طرح اس نے قتل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2665
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقَتَلَهَا، فَرَضَخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2665]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک یہودی نے ایک عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل کر اسے قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس (قاتل) کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، الطلاق 24 (تعلیقاً)، الدیات 4 (6876)، 5 (6877)، 12 (6884)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4527 مختصراً)، سنن الترمذی/الدیات 6 (1394)، سنن النسائی/المحاربة 7 (4049)، (تحفة الأشرا ف: 1391)، القسامة 8 (4746)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163، 183، 203، 267)، سنن الدارمی/الدیات 4 (2400) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بڑے پتھر سے اگر کوئی مارے جس سے آدمی مر جاتا ہے تو اس میں قصاص واجب ہوتا ہے اس لیے کہ وہ قتل عمد ہے، اس میں قصاص واجب ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر مار ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی سے (اس کی موت سے پہلے) پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کے متعلق پوچھا: (کیا فلاں نے مارا ہے؟) دوبارہ بھی اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کے متعلق پوچھا: تو اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر قتل کر دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2666]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیوروں کے لیے قتل کر دیا۔ (ابھی فوت نہیں ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر دی گئی۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تجھے فلاں آدمی نے قتل کیا ہے؟“ اس نے سر سے اشارہ کیا کہ نہیں، پھر دوبارہ (کسی اور کا نام لے کر) پوچھا تو اس نے اشارہ کیا کہ نہیں۔ تیسری بار (اس یہودی کا نام لے کر) پوچھا تو اس نے اشارہ کیا کہ ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مجرم) کو دو پتھروں کے درمیان (سر کچل کر) قتل کروا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 24 (5295)، تعلیقاً، الدیات 4 (6877)، 5 (6879)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4529)، سنن النسائی/القسامة 8 (4746)، (تحفة الأشراف: 1631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/171، 203) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس وجہ سے کہ یہودی نے جرم کا اقرار کیا جب پکڑا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
25. بَابُ: لاَ قَوَدَ إِلاَّ بِالسَّيْفِ
باب: صرف تلوار سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص صرف تلوار سے ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2667]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص صرف تلوار سے ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11646، ومصباح الزجاجة: 940) (ضعیف جدا)» (سند میں جابر الجعفی ضعیف ہے، بلکہ کذاب ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإروا: 7/287)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
وأبو عازب:مستور (تقريب: 8194)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475
إسناده ضعيف جدًا
جابر الجعفي: ضعيف رافضي
وأبو عازب:مستور (تقريب: 8194)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475
حدیث نمبر: 2668
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، حَدَّثَنَا الْحُرُّ بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص صرف تلوار سے ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2668]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص صرف تلوار سے ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشر اف: 11669، ومصباح الزجاجة: 939) (ضعیف)» (سند میں مبارک بن فضالہ اور حسن بصری مدلس ہیں، اور دونوں نے روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز حسن بصری نے ابوبکرة رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نہیں سنی، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2229)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن عنعن
وللحديث طريق معلول عند الدار قطني (106/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475
إسناده ضعيف
الحسن عنعن
وللحديث طريق معلول عند الدار قطني (106/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475
26. بَابُ: لاَ يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ
باب: دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2669
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ".
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2669]
حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”سنو! کوئی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی پر جرم نہیں کرتا۔ نہ باپ کے جرم کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر ہے، نہ بیٹے کے جرم کی ذمہ داری اس کے باپ پر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10694)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن 2 (2159) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کی شرح میں ابن الأثیر فرماتے ہیں: «جنایہ» : گناہ اور جرم انسان کے اس کام کا نام ہے جس پر دنیا یا آخرت میں وہ عذاب یا قصاص کا مستحق ہوتا ہے، یعنی کسی رشتہ دار یا دوسرے آدمی کو غیر کے گناہ اور جرم پر نہیں پکڑا جائے گا، تو جب کوئی جرم کرے گا تو اس پر دوسرے کو سزا نہ دی جائے گی، جیسا کہ ارشادہے: «لا تزر وازرة وزر أخرى» (سورة الأنعام: 164) ”کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا“ یعنی اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا پورا اہتمام فرمائے گا، اور جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا ہو گا، اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، نیکی کا اچھا بدلہ اور برے کاموں پر سزا دے گا، اور ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2670
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ" يَقُولُ:" أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ أَلَا لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ".
طارق محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی، خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2670]
طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے حتیٰ کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کسی ماں کے جرم کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر نہیں۔ سنو! کسی ماں کے جرم کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4990، ومصباح الزجاجة: 941)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 35 (4837) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2671
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ ابْنِي فَقَالَ:" لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ".
خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری اس کے جرم پر اور اس کی تیرے جرم پر گرفت نہیں ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2671]
حضرت خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ میرا بیٹا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے جرم کی پرسش اس سے نہیں ہوگی اور اس کے جرم کی پرسش تجھ سے نہیں ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3534، ومصباح الزجاجة: 942)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345، 5/81) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2672]
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی جان کے جرم کی ذمے داری دوسری جان پر نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 130، ومصباح الزجاجة: 943) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن