🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجِهَادِ
باب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2763
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ هُوَ إِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَلَيْسَ لَهُ أَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس پر جہاد فی سبیل اللہ کا کوئی نشان نہ ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس میں نقصان ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2763]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کا اللہ کی راہ (جہاد) میں کوئی اثر (یا حصہ) نہیں تو وہ اللہ سے عیب دار ہو کر ملتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1666)، (تحفة الأشراف: 12554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/160، 214) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو رافع ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1666)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْجِهَادِ
باب: جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ:" وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے لوٹے، اور مدینہ کے نزدیک پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جس راہ پر تم چلے اور جس وادی سے بھی تم گزرے وہ تمہارے ہمراہ رہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: مدینہ میں رہ کر بھی وہ ہمارے ساتھ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مدینہ میں رہ کر بھی، عذر نے انہیں روک رکھا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2764]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: مدینہ میں کچھ افراد ہیں کہ تم نے جو بھی سفر کیا، اور جو بھی وادی طے کی، وہ اس میں تمہارے ساتھ تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور وہ مدینہ میں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں) وہ مدینہ میں ہیں۔ انہیں کسی عذر نے روک لیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 758)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 35 (2839)، صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، سنن ابی داود/الجہاد 20 (2508) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلاً بیماری وغیرہ تو ایسے شخص کو جہاد کا ثواب ملے گا جب اس کی نیت جہاد کی ہو، لیکن عذر کی وجہ سے مجبور ہو کر رک جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ كَمَا قَالَ: كَتَبْتُهُ لَفْظًا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے، انہیں عذر نے روک رکھا تھا۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2765]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں کچھ افراد ہیں، تم نے جو وادی طے کی اور جس راستے پر چلے (ان سب میں) وہ تمہارے ساتھ ثواب میں شریک رہے (کیونکہ) انہیں عذر نے (جہاد میں جانے سے) روک دیا تھا۔ امام ابوعبداللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: یا جس طرح شیخ (احمد بن سنان) نے کہا: میں نے اس حدیث کو ویسے ہی لفظ بلفظ لکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، (تحفة الأشراف: 2304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/300) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2766
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: خَطَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكَمْ وَبِصَحَابَتِكُمْ فَلْيَخْتَرْ مُخْتَارٌ لِنَفْسِهِ أَوْ لِيَدَعْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَابَطَ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ كَانَتْ كَأَلْفِ لَيْلَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے تم سے صرف اس لیے نہیں بیان کی کہ میں تمہارا اور تمہارے ساتھ رہنے کا بہت حریص ہوں ۱؎، اب اس پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں ایک رات بھی سرحد پر پڑاؤ ڈالا، تو اسے ہزار راتوں کے صیام و قیام کے مثل ثواب ملے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2766]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جو تم سے صرف اس لیے بیان نہیں کی تھی کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کی شدید خواہش رکھتا تھا۔ اب (یہ حدیث سن کر) ہر شخص کو اختیار ہے، چاہے اپنی ذات کے لیے (اس عظیم عمل کا) انتخاب کرے یا نہ کرے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات محاذ پر رہتا ہے تو اسے ایک ہزار رات کے قیام و صیام کا ثواب ملتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9816، ومصباح الزجاجة: 976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/61، 64) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں، ترمذی اور نسائی کے یہاں یہ روایت «صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا» کے بغیر موجود ہے)
وضاحت: ۱؎: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حدیث سنتے ہی تم جہاد کے لئے نکل جاؤ اور میں اکیلا رہ جاؤں۔
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم ضعيف
وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (2/ 81)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2767
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَجْرَى عَلَيْهِ أَجْرَ عَمَلِهِ الصَّالِحِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأَجْرَى عَلَيْهِ رِزْقَهُ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ، وَبَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں «رباط» (سرحد پر پڑاؤ ڈالے ہوئے) مر جائے، تو جو وہ نیک عمل کرتا تھا اس کا ثواب اس کے لیے جاری رہے گا، جنت میں سے اس کا رزق مقرر ہو گا، قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ہر ڈر اور گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2767]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں محاذ جنگ پر جہاد کے لیے تیار ہونے کی حالت میں فوت ہوا تو وہ جو نیک عمل کرتا تھا اللہ اس کے لیے اس عمل کا ثواب جاری فرما دیتا ہے، اور اس کا رزق جاری فرما دیتا ہے، اسے آزمانے والوں (منکر نکیر) کا خوف نہیں ہوتا، اور اللہ اسے قیامت کے دن خوف سے محفوظ اٹھائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14617، ومصباح الزجاجة: 978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/404) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ عِبَادَةِ مِائَةِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، وَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْظَمُ أَجْرًا، أُرَاهُ قَالَ: مِنْ عِبَادَةِ أَلْفِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، فَإِنْ رَدَّهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِهِ سَالِمًا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ أَلْفَ سَنَةٍ، وَتُكْتَبُ لَهُ الْحَسَنَاتُ، وَيُجْرَى لَهُ أَجْرُ الرِّبَاطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثواب کی نیت سے مسلمانوں کے ناکے پر (جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو) اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پڑاؤ کی حفاظت کا ثواب غیر رمضان میں سو سال کے روزوں، اور ان کے قیام اللیل صیام سے بڑھ کر ہے، اور اللہ کے راستے میں مسلمانوں کے ناکے پر ثواب کی نیت سے رمضان میں ایک دن کی سرحد کی نگرانی کا ثواب ہزار سال کے نماز سے بڑھ کر ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم گھر لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس کی برائیاں نہیں لکھی جائیں گی، نیکیاں لکھی جائیں گی، اور قیامت تک «رباط» کا ثواب جاری رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2768]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے سوا کسی اور مہینے میں مسلمانوں کی سرحد پر خطرے کی جگہ ایک دن ثواب کی نیت سے اللہ کی راہ میں ٹھہرنا سو سال کی عبادت، یعنی اتنے عرصے کے روزوں اور تہجد سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اور رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کی سرحد پر خطرے کی جگہ اللہ کی راہ میں ایک دن ثواب کی نیت سے ٹھہرنا ایک ہزار سال کی عبادت، یعنی اتنے عرصے کے روزوں اور تہجد سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس (نیک عمل کے فاعل) کو صحیح سلامت اس کے گھر لے آیا تو ہزار سال تک اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے اور نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اسے قیامت تک سرحد کی رکھوالی کا ثواب ملتا رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 75، ومصباح الزجاجة: 979) (موضوع)» ‏‏‏‏ (سند میں عمر بن صبح ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز محمد بن یعلی ضعیف راوی ہے، اور مکحول کی أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
عمر بن صبح: متروك كذبه ابن راھويه
ومحمد بن يعلي السلمي: ضعيف
وقال المنذري: ’’ وآثار الوضع ظاهرة عليه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: فَضْلِ الْحَرْسِ وَالتَّكْبِيرِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور تکبیر کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ حَارِسَ الْحَرَسِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لشکر کے پہرہ دار پر رحم فرمائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2769]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ محافظوں (مسلمانوں کا دفاع کرنے والے مجاہدین) کا پہرہ دینے والے پر رحمت فرمائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9945، ومصباح الزجاجة: 980)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد 11 (2445) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں صالح بن محمد بن زائدہ ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن محمدبن زائدة: ضعيف
و عمر بن عبدالعزيز لم يلق عقبة بن عامر رضي اللّٰه عنه
وللحديث لون آخر ضعيف عند الحاكم (86/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2770
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَبِي الطَّوِيلِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ رَجُلٍ وَقِيَامِهِ فِي أَهْلِهِ أَلْفَ سَنَةٍ، السَّنَةُ ثَلاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا وَالْيَوْمُ كَأَلْفِ سَنَةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا: اللہ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا، کسی آدمی کے اپنے گھر میں رہ کر ایک ہزار سال کے صوم و صلاۃ سے بڑھ کر ہے، سال تین سو ساٹھ دن کا ہوتا ہے، جس کا ہر دن ہزار سال کے برابر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2770]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا گھر میں ایک ہزار سال تک روزے رکھنے اور قیام کرنے سے افضل ہے جب کہ ہر سال تین سو ساٹھ دن کا ہو اور ہر دن ہزار سال کے برابر ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 860، ومصباح الزجاجة: 981) (موضوع)» ‏‏‏‏ (سند میں سعید بن خالد الطویل ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1234، اس موضوع پر صحیح حدیث کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1866)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
سعيد بن خالد: منكر الحديث (تقريب: 2290) وقال الھيثمي: ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 14/10)
وقال الحاكم: روي عن أنس بن مالك أحاديث موضوعة (المدخل إلي الصحيح ص 141)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2771
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے، اور ہر اونچی زمین پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2771]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلند جگہ تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 46 (3445)، (تحفة الأشراف: 12946)، وقد أخرجہ: 2/325، 331، 443، 476) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: الْخُرُوجِ فِي النَّفِيرِ
باب: عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: ذُكِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَانْطَلَقُوا قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَنْ تُرَاعُوا" يَرُدُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ لِلْفَرَسِ:" وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ". قَالَ حَمَّادٌ، وَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ، أَوْ غَيْرُهُ قَالَ: كَانَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُبَطَّأُ فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا اٹھے، اور سب لوگ آواز کی جانب نکل پڑے تو راستے ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، آپ ان سے پہلے اکیلے ہی آواز کی طرف چل پڑے تھے ۱؎، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ننگی پیٹھ اور بغیر زین والے گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنی گردن میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: لوگو! ڈر کی کوئی بات نہیں ہے، یہ کہہ کر آپ لوگوں کو واپس لوٹا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے متعلق فرمایا: ہم نے اسے سمندر پایا، یا واقعی یہ تو سمندر ہے۔ حماد کہتے ہیں: مجھ سے ثابت نے یا کسی اور نے بیان کیا کہ وہ گھوڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا تھا، جو سست رفتار تھا لیکن اس دن کے بعد سے وہ کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہیں رہا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2772]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوا تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ حسین، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینے والوں کو (دشمن کے حملے کا) خطرہ محسوس ہوا، چنانچہ وہ لوگ آواز کی طرف گئے تو (راستے میں) انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے آواز کی طرف تشریف لے گئے تھے (اور حالات کا جائزہ لے کر واپس تشریف لا رہے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے جس پر کاٹھی نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں تلوار (لٹک رہی) تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: لوگو! مت گھبراؤ۔ آپ انہیں واپس جانے کو کہہ رہے تھے، پھر گھوڑے کے بارے میں فرمایا: ہم نے اسے «بَحْرًا» سمندر (کی طرح سبک رفتار) پایا۔ یا فرمایا: یہ تو سمندر ہے۔ (حدیث کے راوی) حماد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے یا (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے) کسی اور شاگرد نے فرمایا: یہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا تھا جو بہت سست رفتار تھا، اس دن کے بعد کبھی کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں گزر سکا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الجہاد 42 (2820)، 54 (2866)، 82 (2908)، الأدب 39 (6033)، صحیح مسلم/الفضائل 11 (2307)، سنن الترمذی/الجہاد 14 (1687)، (تحفة الأشراف: 289)، وقد أخرجہ: مسند احمد3/147، 163، 185، 271) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جب امام یا حاکم جہاد کے لئے نکلنے کا اعلان عام کر دے تو ہر ایک مسلمان جس کو کوئی عذر نہ ہو، کا جہادکے لیے نکلنا واجب ہے۔
۲؎: یہ برکت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو نکلا حق تعالیٰ ویسا ہی کر دیا ایک سست رفتار اور خراب گھوڑا دم بھر میں عمدہ گھوڑوں سے زیادہ تیز اور چالاک ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں