🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. بَابُ: مَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ
باب: حج قِران کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2969
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحِجَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لبيك بعمرة وحجة» حاضر ہوں عمرہ اور حج کے ساتھ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2969]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ» اے اللہ! میں عمرہ اور حج کی لبیک کہتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 724) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ نے عمرہ اور حج کا تلبیہ ایک ساتھ پکارا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ ، يَقُولُ:" كُنْتُ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ، فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا بِالْفَارِسِيَّةِ، فَقَالَا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِهِ، فَكَأَنَّمَا حَمَلَا عَلَيَّ جَبَلًا بِكَلِمَتِهِمَا فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلَامَهُمَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ شَقِيقٌ: فَكَثِيرًا مَا ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ نَسْأَلُهُ عَنْهُ.
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں نصرانی تھا، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا، تو دونوں نے کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا، میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا، تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا ۱؎۔ ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ شقیق کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں صبی بن معبد کے پاس اس حدیث کے متعلق پوچھنے باربار گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2970]
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں تھوڑی دیر پہلے ہی عیسائی مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوا تھا۔ میں نے (زیادہ سے زیادہ اور بہتر عبادت کی) پوری کوشش کی، چنانچہ میں نے حج اور عمرے کا احرام باندھا ……… پھر مذکورہ بالا (حدیث) کی طرح بیان کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 24 (1798، 1799)، سنن النسائی/الحج 49 (2720، 2771، 2722)، (تحفة الأشراف: 10466)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/14، 25، 34، 37، 53) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا اس بنا پر تھا کہ سلمان اور زید رضی اللہ عنہما حج قران کو مکروہ سمجھ رہے تھے جب کہ وہ سنت رسول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2970M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَخَالِي يَعْلَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ: كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِنَصْرَانِيَّةٍ فَأَسْلَمْتُ، فَلَمْ آلُ أَنْ أَجْتَهِدَ، فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
صبی بن معبد نے کہا: مجھے نصرانیت سے اسلام قبول کیے ہوئے تھوڑی ہی مدت گزری تھی، میں نے عبادت کو بجا لانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، میں نے حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، پھر انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے جیسے اوپر گزری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2970M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2971
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ملایا یعنی قران کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2971]
حضرت ابو طلحہ (زید سہل انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ملا کر (حج قران) کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3780، ومصباح الزجاجة: 1042)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/28، 29) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1575، 1576)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس
و الحديث السابق (الأصل: 2968) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: طَوَافِ الْقَارِنِ
باب: قارن کے طواف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ حَارِثٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وابن عباس " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَطُفْ هُوَ وَأَصْحَابُهُ لِعُمْرَتِهِمْ وَحَجَّتِهِمْ حِينَ قَدِمُوا، إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا".
جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2972]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو انہوں نے اپنے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے صرف ایک ہی طواف کیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2479، ومصباح الزجاجة: 1043) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں میں لیث بن أبی سلیم ضعیف اور مدلس ہیں، لیکن آگے کی حدیثوں سے یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہاں طواف سے مراد سعی ہے، متمتع پر صفا و مروہ کی دو سعی واجب ہیں جب کہ قارن کے لیے صرف ایک سعی کافی ہے خواہ طواف قدوم (زیارت) کے بعد کرے یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لیے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں سعی کے لیے بھی طواف کا لفظ وارد ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَافَ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ طَوَافًا وَاحِدًا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2973]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/387) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2974
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ قَدِمَ قَارِنًا فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حج قران کا احرام باندھ کر آئے، اور خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2974]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجِ قران کی نیت سے تشریف لائے تو انہوں نے بیت اللہ کے طواف کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8118، ومصباح الزجاجة: 1044) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم بن خالد الزنجي ضعيف
و حديث البخاري (1640) و مسلم (1230) و النسائي (5/ 225۔226ح 2935) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَى لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تو ان دونوں کے لیے اسے ایک ہی سعی کافی ہے، اور وہ احرام نہ کھولے جب تک حج کو پورا نہ کر لے، اور اس وقت ان دونوں سے ایک ساتھ احرام کھولے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2975]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا، اسے ان دونوں کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے، اور وہ احرام نہیں کھولے گا حتی کہ حج پورا کر لے اور دونوں سے اکٹھا احرام کھولے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 102 (948)، (تحفة الأشراف: 8029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/67)، سنن الدارمی/النسک 29 (1886) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ: التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
باب: حج تمتع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ يَعْنِي دُحَيْمًا ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ:" أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ" وَاللَّفْظُ لِدُحَيْمٍ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی عقیق ۱؎ میں فرماتے سنا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: یہ عمرہ ہے حج میں (یہ الفاظ دحیم کے ہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2976]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ عقیق پر یہ فرماتے سنا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز ادا کیجیے اور کہیے: عمرہ حج میں داخل ہے۔ اس روایت کے الفاظ امام ابن ماجہ کے استاذ دحیم (عبدالرحمن بن ابراہیم دمشقی) کے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 16 (1534)، سنن ابی داود/الحج 24 (1800)، (تحفة الأشراف: 10513)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/24) صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عقیق: مسجد نبوی سے چار میل (تقریباً ساڑھے چھ کلو) کی دوری پر ایک وادی ہے اور اب شہر کا ایک حصہ ہے۔ یہ جملہ «وقل: عمرة في حجة» احادیث میں تین طرح سے وارد ہے، مسکین کی روایت میں جسے انہوں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے «قال: عمرة في حجة» ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور ولید بن مسلم اور عبدالواحد کی روایت میں «وقل: عمرة في حجة» امر کے صیغے کے ساتھ ہے اور بخاری کی روایت میں «وقل: عمرة و حجة» ہے «عمرة» اور «حجة» کے درمیان واو عاطفہ کے ساتھ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2977
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فِي هَذَا الْوَادِي، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: آگاہ رہو، عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2977]
حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا: سنو! عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3815، ومصباح الزجاجة: 1045)، سنن النسائی/الحج 77 (2808)، مسند احمد (4/175) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں