سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: مَنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ
باب: چھڑی سے حجر اسود کے استلام (چھونے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2949
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ح وحَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ، وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ".
ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام چھڑی سے کر رہے تھے، اور چھڑی کا بوسہ لے رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2949]
حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ”چھڑی کے ساتھ حجرِ اسود کا استلام کرتے اور چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 39 (1265)، سنن ابی داود/الحج 49 (1879)، (تحفة الأشراف: 5051)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/454) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
29. بَابُ: الرَّمَلِ حَوْلَ الْبَيْتِ
باب: بیت اللہ کے طواف میں رمل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ رَمَلَ ثَلَاثَةً، وَمَشَى أَرْبَعَةً، مِنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجْرِ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف (طواف قدوم) کرتے تو تین چکروں میں رمل کرتے (یعنی طواف میں قریب قریب قدم رکھ کے تیز چلتے) اور چار چکروں میں عام چال چلتے اور یہ چکر حجر اسود پر شروع کر کے حجر اسود پر ہی ختم کرتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2950]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”جب پہلی بار بیت اللہ کا طواف کرتے تو تین چکروں میں «الرَّمَلُ» ”رمل“ کرتے اور چار چکروں میں (عام رفتار سے) چلتے، حجر سے حجر تک۔“ (نافع نے فرمایا) ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7797، 8117، ومصباح الزجاجة: 1037)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 63 (1616)، صحیح مسلم/الحج 39 (1262)، سنن ابی داود/الحج 51 (1891)، سنن النسائی/الحج 150 (2943)، موطا امام مالک/الحج 34 (80)، مسند احمد (3/13)، سنن الدارمی/المناسک 27 (1883، 1884) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رمل: ذرا دوڑ کر مونڈ ھے ہلاتے ہوئے چلنے کو رمل کہتے ہیں جیسے بہادر اور زور آور سپاہی چلتے ہیں، یہ طواف کے ابتدائی تین پھیروں میں کرتے ہیں، اوراس کا سبب صحیحین کی روایت میں مذکور ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب مکہ میں آئے تو مشرکین نے کہا کہ یہ لوگ مدینہ کے بخار سے کمزور ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تین پھیروں میں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو یہ معلوم کرائیں کہ مسلمان ناتوان اور کمزور نہیں ہوئے بلکہ طاقتور ہیں، پھر یہ سنت اسلام کی ترقی کے بعد بھی قائم رہی اور قیامت تک قائم رہے گی، پس رمل کی مشروعیت اصل میں مشرکوں کو ڈرانے کے لیے ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2951
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجْرِ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے شروع کر کے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2951]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین چکروں میں حجر سے حجر تک رمل کیا اور چار چکروں میں (عام رفتار سے) چلے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 39 (1663)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، سنن النسائی/الحج 154 (2947)، (تحفة الأشراف: 2594)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 51 (1891)، مسند احمد (3/320، 340، 394)، سنن الدارمی/المناسک 27 (1882) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2952
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ:" فِيمَ الرَّمَلَانُ الْآنَ؟ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ، وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَايْمُ اللَّهِ مَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ اب دونوں رمل (ایک طواف کا، دوسرا سعی کا) کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مضبوط کر دیا، اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے، لیکن قسم اللہ کی! ہم تو کوئی ایسی بات چھوڑنے والے نہیں جس پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عمل کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2952]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اب «الرَّمَلُ» (رمل) کا کیا فائدہ ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مستحکم کر دیا ہے اور کفر و اہل کفر کو ملک (عرب) سے نکال دیا ہے؟ اور قسم ہے اس اللہ کی! ہم وہ کام نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 51 (1887)، (تحفة الأشراف: 10391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/45) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت کے جس حکم کی علت و حکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو ویسے ہی چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی ہو بہو تابعداری کی جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ:" إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ فَلَيَرَوُنَّكُمْ جُلْدًا"، فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ، وَرَمَلُوا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، ثُمَّ رَمَلُوا، حَتَّى بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، ثُمَّ مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَشَى الْأَرْبَعَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کے بعد دوسرے سال عمرہ کی غرض سے مکہ میں داخل ہونا چاہا، تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کل تم کو تمہاری قوم کے لوگ دیکھیں گے لہٰذا چاہیئے کہ وہ تمہیں توانا اور مضبوط دیکھیں، چنانچہ جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے تو حجر اسود کا استلام کیا، اور رمل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ رکن یمانی کے پاس پہنچے، تو وہاں سے حجر اسود تک عام چال چلے، وہاں سے رکن یمانی تک پھر رمل کیا، اور پھر وہاں سے حجر اسود تک عام چال چلے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار کیا، پھر چار مرتبہ عام چال چلے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2953]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب عمرہ کے موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کل تمہاری قوم کے لوگ تمہیں دیکھیں گے، لہٰذا ضروری ہے کہ تم انھیں مضبوط نظر آؤ۔“ چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد حرام میں داخل ہوئے تو انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور رمل کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ حضرات رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود تک (عام چال سے) چل کر گئے۔ پھر رمل کیا حتیٰ کہ رکن یمانی تک پہنچ گئے۔ پھر حجر اسود تک چل کر گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تین بار اسی طرح (رمل) کیا، پھر چار بار (دوڑے بغیر) چل کر طواف کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 51 (1890)، سنن الترمذی/الحج 39 (863)، سنن النسائی/الحج 176 (2982)، (تحفة الأشراف: 5777)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 80 (1649)، المغازي 43 (4257)، صحیح مسلم/الحج 39 (1266)، مسند احمد (1/221، 255، 306، 310، 311، 373) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
30. بَابُ: الاِضْطِبَاعِ
باب: طواف کے دوران اضطباع کا بیان۔
حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، وَقَبِيصَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ مُضْطَبِعًا"، قَالَ قَبِيصَةُ: وَعَلَيْهِ بُرْدٌ.
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کر کے طواف کیا، قبیصہ کے الفاظ اس طرح ہیں: «وعليه برد» اور آپ کے جسم پر چادر تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2954]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اضطباع کی حالت میں طواف کیا۔“ (راویِ حدیث) قبیصہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 50 (1883)، سنن الترمذی/الحج 36 (859)، (تحفة الأشراف: 11839)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 223، 224)، سنن الدارمی/المناسک 28 (1885) (حسن)»
وضاحت: اضطباع: اس کی شکل یہ ہے کہ محرم چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈال دے اور دایاں کندھا کھلا رکھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1883) ترمذي (859)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1883) ترمذي (859)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
31. بَابُ: الطَّوَافِ بِالْحِجْرِ
باب: طواف کعبہ حطیم سمیت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2955
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجْرِ، فَقَالَ:" هُوَ مِنْ الْبَيْتِ"، قُلْتُ: مَا مَنَعَهُمْ أَنْ يُدْخِلُوهُ فِيهِ؟، فَقَالَ:" عَجَزَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ"، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا، لَا يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلَّا بِسُلَّمٍ؟، قَالَ:" ذَلِكَ فِعْلُ قَوْمِكِ لِيُدْخِلُوهُ مَنْ شَاءُوا، وَيَمْنَعُوهُ مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ، لَنَظَرْتُ هَلْ أُغَيِّرُهُ فَأُدْخِلَ فِيهِ مَا انْتَقَصَ مِنْهُ، وَجَعَلْتُ بَابَهُ بِالْأَرْضِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کعبہ ہی کا ایک حصہ ہے“ میں نے پوچھا: پھر لوگوں (کفار) نے اس کو داخل کیوں نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس خرچ نہیں رہ گیا تھا“ میں نے کہا: اس کا دروازہ اتنا اونچا کیوں رکھا کہ بغیر سیڑھی کے اس پر چڑھا نہیں جاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا تمہاری قوم کے لوگوں نے کیا تھا، تاکہ وہ جس کو چاہیں اندر جانے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں، اور اگر تمہاری قوم کا زمانہ ابھی کفر سے قریب نہ گزرا ہوتا اور (اسلام سے) ان کے دلوں کے متنفر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں سوچتا کہ میں اس کو بدل دوں، جو حصہ رہ گیا ہے اس کو اس میں داخل کر دوں، اور اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2955]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجر (حطیم) کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی کعبہ میں شامل ہے۔“ میں نے کہا: ”پھر انہوں نے کس رکاوٹ کی وجہ سے اسے کعبہ (کی عمارت) میں شامل نہیں کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس (حلال مال سے) خرچ ختم ہو گیا تھا۔“ میں نے کہا: ”اس کا دروازہ بلند کیوں ہے کہ سیڑھی کے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری قوم کا کام ہے (ان کا مقصد تھا) کہ جسے چاہیں روک دیں۔ اگر تیری قوم کا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا اور یہ خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل متنفر ہو جائیں گے تو میں غور کرتا کہ آیا اسے تبدیل کر کے اس کا حصہ بھی اس میں شامل کر دوں جو کم کر دیا گیا ہے، اور میں اس کا دروازہ زمین پر (سطح کے برابر) بناتا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 42 (1584)، أحادیث الأنبیاء 10 (3368)، تفسیر البقرة 10 (4484)، صحیح مسلم/الحج 69 (1333)، سنن النسائی/الحج 128 (2913)، (تحفة الأشراف: 16005)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 33 (104)، سنن الدارمی/المناسک 44 (1911) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حطیم کعبے کا ایک طرف چھوٹا ہوا حصہ ہے جو گول دائرے میں دیوار سے گھیر دیا گیا ہے یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے اس لیے طواف اس کے باہر سے کرنا چاہئے اگر کوئی طواف میں حطیم کو چھوڑ دے تو طواف درست نہ ہو گا۔
اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دوں یعنی نیچا کر دوں کہ جس کا جی چاہے بغیر سیڑھی کے اندر چلا جائے دوسری روایت میں ہے کہ میں اس کے دو دروازے کرتا ایک پورب ایک پچھم، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض کام مصلحت کے ہوتے ہیں، لیکن اس میں فتنہ کا خوف ہو تو اس کو ترک کرنا جائز ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے عہد میں کعبہ ایسا ہی رہا اور جیسا آپ چاہتے تھے ویسا بنانے کی فرصت نہیں ہوئی، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے عہد میں کعبہ کو اسی طرح بنایا جیسا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنانا چاہا تھا، لیکن حجاج نے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ضد سے پھر کعبہ کو توڑ کر ویسا ہی کر دیا جیسا جاہلیت کے زمانے میں تھا، خیر پھر اس کے بعد خلیفہ ہارون رشید نے اپنی خلافت میں امام مالک سے سوال کیا کہ اگر آپ کہیں تو میں کعبہ کو پھر توڑ کر جیسا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بنایا تھا، ویسا ہی کر دوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اب کعبہ کو ہاتھ نہ لگائیں ورنہ اس کی وقعت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہے گی۔
اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دوں یعنی نیچا کر دوں کہ جس کا جی چاہے بغیر سیڑھی کے اندر چلا جائے دوسری روایت میں ہے کہ میں اس کے دو دروازے کرتا ایک پورب ایک پچھم، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض کام مصلحت کے ہوتے ہیں، لیکن اس میں فتنہ کا خوف ہو تو اس کو ترک کرنا جائز ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے عہد میں کعبہ ایسا ہی رہا اور جیسا آپ چاہتے تھے ویسا بنانے کی فرصت نہیں ہوئی، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے عہد میں کعبہ کو اسی طرح بنایا جیسا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنانا چاہا تھا، لیکن حجاج نے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ضد سے پھر کعبہ کو توڑ کر ویسا ہی کر دیا جیسا جاہلیت کے زمانے میں تھا، خیر پھر اس کے بعد خلیفہ ہارون رشید نے اپنی خلافت میں امام مالک سے سوال کیا کہ اگر آپ کہیں تو میں کعبہ کو پھر توڑ کر جیسا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بنایا تھا، ویسا ہی کر دوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اب کعبہ کو ہاتھ نہ لگائیں ورنہ اس کی وقعت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
32. بَابُ: فَضْلِ الطَّوَافِ
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی بیت اللہ کا طواف کرے، اور دو رکعتیں پڑھے تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے مانند ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2956]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا: ”جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، (اس کا) یہ (عمل) ایک انسان آزاد کرنے کی طرح ہے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7331، ومصباح الزجاجة: 1039)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 111 (959)، سنن النسائی/الحج 134 (2922)، مسند احمد (2/3، 11، 95) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي سَوِيَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ هِشَامٍ، يَسْأَلُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ الرُّكْنِ الْيَمَانِي، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ؟، فَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وُكِلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا، فَمَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، قَالُوا: آمِينَ".
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا بَلَغَ فَلَمَّا بَلَغَ الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مَا بَلَغَكَ فِي هَذَا الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ؟، فَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ فَاوَضَهُ، فَإِنَّمَا يُفَاوِضُ يَدَ الرَّحْمَنِ".
(حديث موقوف) قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَالطَّوَافُ، قَالَ قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَالطَّوَافُ، قَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا عَشْرَةُ دَرَجَاتٍ، وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ، وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ، كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ".
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا بَلَغَ فَلَمَّا بَلَغَ الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مَا بَلَغَكَ فِي هَذَا الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ؟، فَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ فَاوَضَهُ، فَإِنَّمَا يُفَاوِضُ يَدَ الرَّحْمَنِ".
(حديث موقوف) قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَالطَّوَافُ، قَالَ قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَالطَّوَافُ، قَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا عَشْرَةُ دَرَجَاتٍ، وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ، وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ، كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ".
حمید بن ابی سویہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ہشام کو عطاء بن ابی رباح سے رکن یمانی کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا، اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، تو عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکن یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں جو کوئی «اللهم إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں مغفرت اور عافیت طلب کرتا ہوں، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی سے نواز، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا“ کہتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں، پھر جب عطاء حجر اسود کے پاس پہنچے تو ابن ہشام نے کہا: ابو محمد! اس حجر اسود کے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اس کو چھوتا ہے وہ گویا رحمن کا ہاتھ چھو رہا ہے۔“ ابن ہشام نے ان سے کہا: ابو محمد! طواف یعنی اس کے متعلق آپ کو کیا معلوم ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ماتے سنا ہے: جو خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے اور «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولاقوة إلا بالله» کے علاوہ کوئی بات نہ کرے، تو اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جائیں گے، اور جو طواف کرے اور بات کرے تو اس کے پاؤں رحمت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، جیسے پانی میں داخل ہونے والے کے پاؤں پانی میں ڈوبے رہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2957]
حضرت حمید بن ابو سویہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے ابن ہشام رحمہ اللہ کو سنا کہ وہ حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے رکن یمانی کے بارے میں سوال کر رہے تھے جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔“ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر ستر فرشتے مقرر ہیں، جو شخص یہ دعا پڑھتا ہے فرشتے (اس کی دعا پر) آمین کہتے ہیں (دعا یہ ہے): «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“ ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [سورة البقرة: 201] ”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ جب آپ حجرِ اسود پر پہنچے تو (ابن ہشام رحمہ اللہ نے) کہا: ”اے ابو محمد! آپ کو اس حجرِ اسود کے بارے میں کیا حدیث پہنچی ہے؟“ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: ”جو شخص اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ رحمان کے ہاتھ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔“ ابن ہشام رحمہ اللہ نے کہا: ”اے ابو محمد! اور طواف؟“ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کعبہ کے سات چکر لگاتا ہے اور (اس دوران میں) صرف یہی کہتا ہے: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کی توفیق کے بغیر کوئی بچاؤ اور طاقت نہیں۔“ اس کے دس گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی وجہ سے اس کے دس درجے بلند ہو جاتے ہیں، اور جو شخص طواف کرتا ہے اور اس حال میں بات چیت کرتا ہے، وہ رحمت میں اپنے قدم داخل کرتا ہے جیسے کوئی پایاب پانی میں پاؤں داخل کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14174، ومصباح الزجاجة: 1038) (ضعیف)» (سند میں حمید مجہول، اور اسماعیل بن عیاش غیر شامی رواة سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 2590)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،حميد (بن أبي سوية) قال فيه ابن عدي: أحاديثه غير محفوظة وقال الذهبي: مجهول ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،حميد (بن أبي سوية) قال فيه ابن عدي: أحاديثه غير محفوظة وقال الذهبي: مجهول ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
33. بَابُ: الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الطَّوَافِ
باب: طواف کے بعد کی دو رکعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ سَبْعِهِ، جَاءَ حَتَّى يُحَاذِيَ بِالرُّكْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي حَاشِيَةِ الْمَطَافِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطُّوَّافِ أَحَدٌ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا بِمَكَّةَ خَاصَّةً.
مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ اپنے ساتوں پھیروں سے فارغ ہوئے حجر اسود کے بالمقابل آ کر کھڑے ہوئے، پھر مطاف کے کنارے میں دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے بیچ میں کوئی آڑ نہ تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ (بغیر سترہ کے نماز پڑھنا) مکہ کے ساتھ خاص ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2958]
حضرت مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سات چکروں سے فارغ ہوئے تو تشریف لے آئے حتیٰ کہ حجر اسود کے برابر آگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطاف (طواف کی جگہ) کے کنارے پر دو رکعتیں پڑھیں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی (سترہ) نہ تھا۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حکم (لوگوں کے نمازی کے آگے سے گزرتے رہنے کے باوجود نماز پڑھتے رہنا) صرف مکہ کے ساتھ خاص ہے (مسجد حرام میں یہ اجازت ہے اور کہیں نہیں)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 89 (2016)، سنن النسائی/القبلة 9 (759)، الحج 162 (2962)، (تحفة الأشراف: 11285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/399) (ضعیف)» (سند میں کثیر بن مطلب مجہول راوی ہیں، نیز سند میں بھی اختلاف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 928)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2016) نسائي (759،2962)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2016) نسائي (759،2962)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484