🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. بَابُ: الْعُمْرَةِ فِي رَجَبٍ
باب: ماہ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ : فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَطُّ، وَمَا اعْتَمَرَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ" تَعْنِي: ابْنَ عُمَرَ.
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2998]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا؟ انہوں نے فرمایا: رجب میں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی رجب میں عمرہ نہیں کیا اور جب بھی عمرہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث ابن عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 35 (1255)، سنن الترمذی/الحج 93 (936)، (تحفة الأشراف: 7321)، حدیث عائشہ أخرجہ: سنن الترمذی/ الحج 93 (936)، (تحفة الأشراف: 17373)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة 3 (1777)، سنن ابی داود/الحج 80 (1994)، مسند احمد (1/246) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ بھول گئے ہیں اور غلطی سے رجب کہہ دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ: الْعُمْرَةِ مِنَ التَّنْعِيمِ
باب: تنعیم سے عمرہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ، فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کر کے لے جائیں، اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2999]
حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر تنعیم سے عمرہ کرا دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 6 (1784)، الجہاد 125 (2985)، صحیح مسلم/الحج 17 (1212)، سنن الترمذی/الحج 91 (934)، (تحفة الأشراف: 9687)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 81 (1995)، مسند احمد (1/197)، سنن الدارمی/المناسک 41 (1904) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: تنعیم: مسجد الحرام سے تین میل (۵ کلومیٹر) کے فاصلہ پر ایک مقام ہے، جہاں پر اس وقت مسجد عائشہ کے نام سے مسجد تعمیر ہے۔
۲؎: محرم سے مراد شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی چچا ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار، عمرے کا احرام حرم سے نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت اور مقاموں کے قریب ہے، اس لئے آپ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ نُوَافِي هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ، لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ"، قَالَتْ: فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ: فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ، وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات (بارہویں ذی الحجہ کی رات) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا (اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ «هدي» (قربانی) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3000]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور ذوالحجہ کا چاند چڑھنے ہی والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھنا چاہے باندھ لے۔ اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں عمرے کی نیت سے پکارتا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو لوگوں میں سے کسی نے عمرے کا احرام باندھا، اور کسی نے حج کا احرام باندھا۔ میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں شامل تھی۔ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ روانہ ہوئے حتیٰ کہ مکہ شریف پہنچ گئے۔ ابھی میں حیض سے تھی کہ عرفہ کا دن آ پہنچا، اور میں نے ابھی عمرے کا احرام نہیں کھولا تھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ رہنے دو، سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے ایسے ہی کیا۔ جب حصبہ کی رات آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ وہ مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر تنعیم لے گئے۔ (اور میں نے وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔) چنانچہ میں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج اور عمرہ دونوں پورے کر دیے اور اس میں نہ قربانی تھی، نہ صدقہ اور نہ روزے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 5 (1783)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف: 17048) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ «هدي» حج تمتع کرنے والے پر واجب ہوتی ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج حج افراد تھا کیونکہ حیض آ جانے کی وجہ سے انہیں عمرہ چھوڑ دینا پڑا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ: مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
باب: جس نے بیت المقدس سے عمرے کا تلبیہ پکارا اس کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، غُفِرَ لَهُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا اس کو بخش دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3001]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا اس کو بخش دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 9 (1741)، (تحفة الأشراف: 18253)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/299) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ام حکیم کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور یہ مشہور نہیں ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 211)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[3001۔3002] إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1741)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3002
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، كَانَتْ لَهُ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ"، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ أَيْ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہو گا، تو میں بیت المقدس سے عمرہ کے لیے نکلی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3002]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے احرام باندھ کر عمرہ کیا وہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: چنانچہ میں (بیت المقدس سے) عمرے کے لیے روانہ ہوئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
۔3002] إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1741)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ: كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ، وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3003]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: حدیبیہ کا عمرہ، اگلے سال عمرۃ القضاء، تیسرا جعرانہ سے اور چوتھا وہ جو آپ نے حج کے ساتھ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 80 (1993)، سنن الترمذی/الحج 7 (816)، (تحفة الأشراف: 6168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/246، 321)، سنن الدارمی/المناسک 39 (1900) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی میں ایک حج اور تین عمرے ادا کئے، اس لیے کہ حدیبیہ کا عمرہ پورا نہیں ہوا تھا، چنانچہ دوسرے سال آپ نے اسی عمرے کی قضا کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ: الْخُرُوجِ إِلَى مِنًى
باب: (آٹھویں ذی الحجہ کو) منیٰ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں (ذی الحجہ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3004]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترویہ کے دن (8 ذوالحجہ کو) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر (9 ذوالحجہ کو) منیٰ میں ادا کیں پھر عرفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 50 (879)، (تحفة الأشراف: 5881) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِمِنًى، ثُمَّ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ پانچ وقت کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3005]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھتے تھے، پھر لوگوں کو بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7737، ومصباح الزجاجة: 1051)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 64 (195) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: آٹھویں ذی الحجہ کی ظہر، عصر مغرب اور عشاء اور نویں ذی الحجہ کی فجر۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ولحديثه شواهد عند مسلم (۱۲۱۸) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ: النُّزُولِ بِمِنًى
باب: منیٰ میں قیام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا؟، قَالَ:" لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3006]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منیٰ میں ایک گھر نہ بنا دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس شخص کے لیے اونٹ بٹھانے (اور قیام کرنے) کی جگہ ہے جو پہلے (وہاں) پہنچ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 89 (2019)، سنن الترمذی/الحج 51 (881)، (تحفة الأشراف: 17963)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/187ٕ 206)، سنن الدارمی/المناسک 87 (1980) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ام یوسف مسیکہ مجہول العین ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 345)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3007
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بُنْيَانًا يُظِلُّكَ؟، قَالَ:" لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3007]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر نہ بنا دیں جہاں آپ کو سایہ حاصل ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس شخص کے لیے اونٹ بٹھانے (اور قیام کرنے) کی جگہ ہے جو پہلے (وہاں) پہنچ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی منیٰ کا میدان حاجیوں کے لئے وقف ہے، وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے، اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے، تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ گھر بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں